عید پرکھلونا اسلحے کی کھلے عام فروخت سے بچوں میں شدت پسندی بڑھنے کا امکان ۔۔۔…رپورٹ :اصغر علی مبارک سے
راولپنڈی میں عید الفطر کےموقع پر کھلونا نما اسلحے کی فروخت عروج پر رہی،ھمسایہ ممالک سے کھلونوں کے نام اس زھر قاتل سے بچوں میں شدت پسندی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق اس بار صرف راولپنڈی شہر کے مختلف علاقوں میں چین سے کھلونا اسلحہ کی کروڑوں روپے کی تجارت کی۔ کروناوائرس کے وبائی امراض میں عید کے دوران ضروریات تو اس بات کی ھونی چاھیے تھی کہ اسلام کے زریں اصولوں کے تحت مستقبل کے معماروں کو اسلامی اقدار سے متحد رہنے کی ہدایت کی جاتی مگر افسوس معاشرے کے تمام ذمہ داران اور بالخصوص والدین نے رواداری ، اتحاد ، ہمدردی اور خدمت کا جذبے کا درس دینے کےبجائے کم سن بچوں کے معصوم ھاتھوں میں کھلونا اسلحہ تھما دیا جس کے مضر اثرات عرصہ دراز تک ھمیں بگتھنا پڑیں گے پہلے ہی ھمارا نوجوان حکومت کے زیر سرپرستی سرکاری ٹی وی چینل پر ترکی کے ڈرامے ارطغرل کی وجہ سے پر تشدد ذہنیت کا شکار ہو رہے ہیں اور معاشرے سے امن و محبت کا پیغام اٹھ رہا ایسے میں اہم تہوار پر مستقبل کے معماروں کے ھاتھوں میں اسلحہ تھما دینا ایک لمحہ فکریہ ھے۔راولپنڈی بھر میں عید الفطر کےتین دنوں میں کھلونا نما اسلحہ کی فروخت و نمائش عروج پر رہی ،بچے گروپ بنا کر ایک دوسرے پر فائرنگ کرتے اور مقابلہ بازی کرتے نظر آئے ۔ کھلونا بندوقوں کے چھرے لگنے سے عید کے تین دنوں میں متعدد بچے زخمی ہوئے ،پستول، کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ عید الفطر پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کھلونے بنےرہے،عیدالفطر کے موقع پر اکثر بچے گلی ،محلوں میں اپنی کھلونا بندوقوں سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے بھی نظر آئے۔عوام علاقہ کے مطابق اس طرز عمل سے بچوں میں اسلحہ کی جانب رغبت پیدا ہو چکی ہے،جس سے سٹریٹ کرائم میں بےتحاشہ اضافہ ہوگا جبکہ کسی کو بھی گولی مار دینا ان کیلئے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ راولپنڈی سمیت ملک بھر میں کھلونا اسلحے پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے ۔عید پر کھلونا نمااسلحہ کھلونوں کی فروخت میں اضافہ لمحہ فکریہ ھے,کھلونا اسلحے کی بھرمار سے بچوں کے ذہنوں شدت پسندی بڑھنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے،۔ عیدالفطر کے موقع پر راولپنڈی کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں بچوں کیلئے کھلونا اسلحہ کے بھر مار دیکھی گئی۔ بازار میں فروخت ہونے والا اسلحہ بالکل اصلی اسلحہ کی مانند چلتا ہے جبکہ اس میں گولی کی جگہ پلاسٹک کے چھرے استعمال ہوتے ہیں۔ عوام علاقہ کےمطابق بچوں کے مختلف خطرناک ہتھیار نما کھلونے کسی بھی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں، بچے کھلونا پستول، بندوق میں دلچسپی لے رہے ہیں، لیزر کھلونا بندوق، چھرے والی پستول انتہائی خطرناک ہیں، بچے ایک دوسرے پر یہ چھرے فائر کرتے ہیں جس سے انکی آنکھیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں کھلونوں کی دکانوں اور جگہ جگہ لگے سٹالز پر کئی اقسام کے کھلونا پستول، بندوقیں، لائٹس والی اور چھرے والی چھوٹی اور بڑی بندوقیں فروخت کی جا رہی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اسلحہ کھلونے کی خرید و فروخت کیخلاف کارروائی بھی نہیں کی جا رہی، اس سے یہ نقصان ہے کہ بچوں میں شدت پسندی کا عنصر بڑھ جائےگا ، بچے ایک دوسرے کیساتھ اس طرح کھیل رہے ہیں جیسے وہ دو مخالف دھڑے ہوں۔عوامی حلقوں کے مطابق اس طرز عمل سے بچوں میں اسلحہ کی جانب رغبت پیدا ہو گی جس سے سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوگا جبکہ کسی کو بھی گولی مار دینا اب کوئی مسئلہ نظر نہیں آہے گا۔ اس بارعید پر بچوں کو جرائم کی راہ دکھانے میں والدین کا بھی اہم کردار بھی نمایاں نظر آیا کئی واقعات میں والدین خود بچوں کو کھلونا اسلحہ خرید کر دیتے نظر آئے ۔ والدین کے بے جا لاڈ وپیار نے کمسن بچوں کے ہاتھوں میں بھی گن کلاشنکوف ,بندوقیں تھمادیں اس سے اب معاشرے میں تشدد کو پروان چڑھا نے میں مدد ملے گی ۔ کھلونا بندوق تھامے بچوں کی بڑی تعداد ایک تشدد پسند معاشرے کی نشاندہی کرتی ہے ۔ملک بھر میں پستول، کلاشنکوف سمیت دیگر اسلحہ عید الفطر پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے کھلونے اسلحہ بنا رہا اس بار بچوں نے گاڑیوں، موٹر سائیکلیں اور روایتی کھلونے خریدنے کے بجائے اسلحہ نما کھلونوں کو خریدنے میں ترجیح دی۔ جس سے بچوں کے ذہنوں سے اسلحہ کے خطرات بھی ختم ہوتے جارہے ہیں۔ عید الفطر کے موقع پر کھلونا پستول سے ایک دوسرے پر گولیاں چلانا اور مرنے مارنے کی شوٹنگ کرنا بچوں کو تشدد پسندی کی طرف مائل کرنے کی کوشش ھے کیونکہ ان کھلونا ہتھیاروں کے تمام فنکشنز اصل بندوقوں کی طرح کام کرتے ہیں اور بعض کھلونا بندوقوں میں لیزر لائٹس بھی نصب ہیں، جس سے رات میں بھی درست نشانہ لگایا جاسکتا ہے ۔ مختلف سائز کی یہ بندوقیں150 روپے سے3 ہزار روپے میں شہر کی بڑی مارکیٹوں سے عام دنوں میں بھی باآسانی مل جاتی ہیں جبکہ عید پر گلی گلی ان کی فروخت ہوتی ہے ۔ عیدالفطر کے موقع پر کھلونا بندوقوں کی فروخت میں 90فیصد اضافہ ہوا ہے اور روایتی کھلونوں کے بجائے بچوں میں کھلونا بندوقوں کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، اس مرتبہ کروڑوں روپے کی کھلونا بندوقیں چین سے درآمد کی گئی ہیں۔ شہرکے تاجر وں نے چین سے خصوصی آرڈر پر کھلونا بندوقیں درآمد کرکے مارکیٹ میں مہیا کیں،کھلونا اسلحہ کی مانگ میں اضافے کے باعث مقامی طور پر بھی اس کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ان بندوقوں میں بچوں میں سب سے زیادہ مقبول گن کلاشنکوف ہے۔ مارکیٹ میں مختلف سائز کی یہ بندوقیں 150روپے سے 1200 روپے تک میں دستیاب ہیں۔عوامی حلقوں کے مطابق مانگ میں اضافے کے باعث اس کی قیمت700 روپے سے بڑھاکر1100 روپے کردی گئی ہے،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نقلی ہتھیاروں سے کھیلنے والے یہ بچے جب بڑے ہوں گے اور ان کو روزگار نہیں ملے گا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان میں سے اکثر جرائم کی راہ اختیار کرلیں گے ۔ اگر آج والدین بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا بندوقیں تھمائیں گے تو مستقبل میں انارکی اور انتشار کے سوا اور کیا ملے گا۔اسلحہ نما کھلونوں کی فروخت میں بے تحاشہ اضافہ کوئی نیک شگون نہیں۔ ملک سے دہشتگردی کے خاتمہ کی خواہش تو ہر پاکستانی کی ہے لیکن بچوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے والے اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی کے حوالے سے آج تک کوئی کوشش نہ ہوسکی۔ کھلونا پستول سمیت دیگر اسلحہ نما کھلونے ہر بچے کی پسند بن چکے ہیں اور کھلونا پستول سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانا بچوں کا من پسند کھیل بن چکا دیگر کھلونوں کی نسبت اسلحہ نما کھلونوں کی فروخت 100 فیصد رہی۔ کھلونا ہتھیاروں میں فروخت ہونے والی مصنوعات میں ٹی ٹی پستول، ریوالور، ماؤزر، کلاشنکوف، ایم پی فائیو، ایس ایم جی، ایل ایم جی، رپیٹر اور دیگر ہتھیار بھی شامل تھے عوامی حلقوں کا کہناہے کہ اسلحہ نما کھلونوں پر پابندی ہونی چاہے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں کھلونا اسلحے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ تاکہ قوم کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے
۔۔۔