دو ہزار تئیس 2023 سے نئے ترکی کا آغاز” ارطغرل غازی ڈرامہ” نوجوان نسل کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کر ےگا۔
تحریر وتحقیق:اصغر علی مبارک سے ۔; پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ھے کہ ایک ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی نے اپنی مقبولیت کی سرحدوں کو اتنا چھو لیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں شائد ہی ہی کسی ڈرامہ سیریز کو اتنی پزیرائی حاصل ھو سکے۔یہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا آئیڈیا تھا کہ تیرہویں صدی کے شاندار مسلم دور کی عکاسی کرنے والے ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کو پاکستانی نوجوان دیکھیں اور اس سے اسلامی تاریخ اور اقدار کے بارے میں ان کے علم میں اضافہ ہو۔ اسی ارادے سے انھوں نے پی ٹی وی کو مشورہ دیا کہ اس ڈرامے کو اردو زبان میں پاکستان میں نشر کرنے کا انتظام کیا جائے۔ ترکی نے 1923 میں لوزان میں ایک معائدہ کیا تھا اسے معائدے کی وجہ سے ترکی عملی طور پر اپاہج کی حیثیت سے زندہ تھا۔ لیکن مفلوج ہونے کے باوجود ترکی نے گزشتہ چند سالوں میں بہت ترقی کی ہے۔ایک مقروض ملک اب سو بلین ڈالرز سے زیادہ ریزرو رکھتا ہے۔ترکی کے مستقبل کے ارادے انکے اس تاریخی ڈرامے”ڈریلیز ارطغرل”کو دیکھ کر بھانپے جاسکتے ہیں۔ یہ ڈرامہ ترک حکومت کی زیر سرپرستی تیار ہوا ہے۔ اس میں سلطنت عثمانیہ کے بانی سلطان عثمان غازی کے والد ارطغرل کی انگریزوں کے خلاف کی جانیوالی جدوجہد کو دیکھایا گیا ہے۔ اور یقیناً انگریز ایسے ڈراموں سے خطرے کی بُو سونگ ریے ہیں۔
اسکے علاوہ جرمنی، برطانیہ، سکاٹ لینڈ اور امریکہ کے ساتھ منہ ماری دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترکی 2023 سے کیا بننے کے لیے جدوجہد کریگا۔اسکا ایک جلوہ افرین میں دیکھا جاسکتا ہے۔ عرب ممالک کی چیخیں بلاوجہ نہیں نکل رہی ہیں۔یورپ و امریکہ بلاوجہ ترکی سے خائف نہیں ہیں۔ معاہدہ لوزان کیا ہے اور اس نے ترکی کے ہاتھ کیسے باندھے ہوئے ہیں۔
معاہدہ لوزان 24 جولائی1923ءکوسوئٹزرلینڈکے شہرلوزان میں جنگ عظیم اول کے اتحادیوں اورترکی کے درمیان طے پایا۔ معاہدے کے تحت یونان،بلغاریہ اورترکی کی سرحدیں متعین کی گئیں اورقبرص،عراق اورشام پر ترکی کا دعویٰ ختم کرکے آخر الذکر دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔اس معاہدے کے تحت جمہوریہ ترکی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔معاہدہ لوزان لوزان کے مقام پر ترکی سے ہونے والا معاہدہ ہے۔
معاہدہ لوزان کی شرائط…….اس معاہدے کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی تھی اور ترکی نے تینوں براعظموں میں موجود خلافت کے اثاثوں اور املاک سے بھی دستبرداری اختیار کر لی تھی ’’معاہدہ لوزان‘‘ 100سال پر محیط تھا جو دراصل ترک عوام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کا ایک ایسا پھندا تھا جس نے ترکی کو ہاتھوں پائوں باندھ کر چاروں شانے چت کر دیا۔2023 میں معاہدہ اپنی مدت پوری کر کے غیر مؤثر ہو جائے گا معاہدہ لوزان جنگ عظیم اول کی فاتح قوتوں کے درمیان طے پایا تھا ۔اس وقت صورت حال یہ تھی کہ فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصوں پر قابض ہو چکی تھیں۔
ان قوتوں میں سے برطانیہ نے وہ خطرناک اور ظالمانہ شرائط معاہدہ لوزان میں شامل کروائی تھیں جن کی رو سے ترکی کے ہاتھ پائوں باندھ دیے گئے تھے اور ترکی اگلے سو برس تک اس معاہدہ پر عملدرآمد کا پابند قرار پایا تھا
(1).معاہدہ لوزان کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم اور سلطان کو ان کے خاندان سمیت ترکی سے جلاوطن کر دیا گیا تھا….(.2).خلافت کی تمام مملوکات ضبط کرلی گئی تھیں
جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل تھیں(3).ترکی کو ایک سیکولر سٹیٹ قرار دیتے ہوئے دین اسلام اورخلافت سے اس کے تعلق پر قدغن لگا دی گئی اوراسکا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا, ترکی پٹرول کے لیے نہ اپنی سرزمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا اور اپنی ضرورت کا سارا پٹرو ل امپورٹ کرنے کا پابند ہو گا(4)
.باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کر سکے گا )واضح رہے کہ باسفورس کی سمندری کھاڑی بحر اسود، بحر مرمرہ اور بحر متوسط کا لنک ہے اوراس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے ترک ڈرامے ارطغرل میں انگریزوں کے خلاف کی جانیوالی جدوجہد کو دیکھایا گیا ہے۔ ترک ڈرامے گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں ٹیلی ویژن ناظرین میں مقبول رہے ہیں۔ پاکستان کی قومی ٹی وی چینل پی ٹی وی پر دکھایا جانے والا ترک ڈرامہ ارطغرل بھی آج کل مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا نجی محفلیں آپ کو نوجوان سی متعلق بات کرتے نظر آئیں گے۔یک طویل اور تفصیلی عمل کے بعد پی ٹی وی نے اس کام کے لیے نجی شعبے سے ایک ڈبنگ ایجنسی کا انتخاب کیا۔ آرٹسٹوں کے انتخاب کی ذمہ داری ایجنسی کی تھی، تاہم حتمی فیصلہ پی ٹی وی نے ڈبنگ آرٹسٹوں کی آواز اور ڈرامے کے پلاٹ کے حساب سے کردار نبھانے کی ان کی قابلیت کی بنا پر کیا۔ ارطغرل کو اعتصام الحق نے آواز دی ہے اور حلیمہ سلطان کے کردار پر رابعہ کرن راجپوت نے ڈبنگ کی۔اردو میں ڈب کیے گئے ارطغرل کو کتنا اچھا ریسپانس ملا ہے یہ بیان کرنا مشکل ہے، ٹی وی پر بھی اور اس کے خصوصی یو ٹیوب چینل ’ٹی آر ٹی ارطغرل بائی پی ٹی وی‘ پر بھی۔ اردو ارطغرل نے تو ترک ارطغرل کا بھی ریکارڈ توڑ دیا۔ پاکستان میں اس ڈرامے کی پہلی قسط کو یوٹیوب پر صرف پندرہ دن میں 16 ملین سے زیادہ بار دیکھا گیا، جبکہ ترک ارطغرل کی پہلی قسط کو پانچ سال میں تیرہ ملین بار دیکھا گیا ہے,ماضی میں پاکستان میں عید کے موقع پر فلم بین سینماؤں کا رخ کرتے تھےکوروناوائرس کے لاک ڈاون میں پاکستانی عوام کے لئے عید کے تینوں روز ایک سے لے کر تیس تک کی اقساط کو عوام الناس نے بڑی دل جمی کے ساتھ جوش و خروش سے دیکھا اور سچ تو یہ ہے کہ عید الفطر کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں مجھے بھی پہلی بار تمام اقساط کے دیکھنے کے بعد کچھ لکھنے پر مجبور ہونا پڑا اس ڈرامے کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا مگر تاریخ کے کرداروں کو جس طرح حققت کے قریب تر دکھایا گیا ہے اس پر ترک ٹی وی کی پروڈکشن ٹیم خراج تحسین کی مستحق ھے اور اس کے بعد تاریخ کے اوراق سے دیگر اسلامی ممالک کی نادر کارنامے کو دیکھا جاسکےگا مغل سلطنت حکومت ۔سلاطین دھلی اور افغان سورماؤں کی لازوال داستانیں عظیم کارناموں سے مزین ہیں ۔خیر یہ تو آنے والے وقت میں معلوم ہو جائے گا کہ اس ڈرامے کے درپردہ کیا مقاصد ہیں اور اتنا سرمایہ کیوں لگایا جا رہا ہے دنیا میں اس جنگجوؤں کو پذیرائی حاصل ھوگی یا آزادی کی تحریکوں کو دوام ملےگا اس ڈرامے ارطغرل غازیپر بعض اسلامی ممالک میں پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن پاکستان میں سرکاری سطح پر اس کو فروغ دینے کی کوشش عروج پر ہے تاکہ اسلامک فوبیا کا خاتمہ ممکن ھوسکے جس انداز میں ڈرامے ھیرو ارطغرل غازی نے عید الفطر پر مبارکباد کا پیغام اردو زبان میں جاری کرکے پاکستانی عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا اس یوٹیوب پر پسندیدگی کے ماضی تمام ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے ہیں مجھے جب اس ڈرامے کو دیکھنے کا مشورہ دیا گیا تو میں اس کو پاکستان کے تمام چینلز پر ڈراموں کی خیال کیا جس میں عورت کی تذلیل دِکھائی جاتی رہی ہے یا عورت کو شوپیس بناکر پیش کیا گیا لیکن ارطغرل ڈرامہ میں عورت کی عظمت ۔ عزت، توقیر اور عفت کو جس شاندار انداز میں فلم بند کیا گیا اس پر دل عش عش کر اٹھا ۔حقیقت میں یہ سب کچھ ہی ھماری اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔پچھلے سال2019 اکتوبر میں پاکستانی وزیر اعظم جناب عمران خان نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخی ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کو ضرور دیکھا جائے تاکہ ھماری نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہی حاصل ھو۔اس وقت متحرک شوشل میڈیا کی متعدد میں کسی غیر ملکی ڈرامہ سیریز کی پاکستان میں پسندیدگی کا ریکارڈ بنانا ایک انہونی بات ضرور ہے ۔ نیٹ پر ترک ڈرامہ سیریز بین الاقوامی ناظرین کا سب سے زیادہ پسند اور دیکھا جانے والا ڈرامہ سیریز ھے جس میں روز بروز اضافہ ھو رہاھے پاکستانیوں میں ارطغرل غازی سے محبت ناقابل تصور بلندیوں کوجا پہنچا ھے اور دیگر کردار بھی نوجوان نسل کو ازبر یاد ہیں اگرچہ ترکی میں ڈرامہ سیریز پاکستان میں پہلے بھی نشر کی جا چکی ہے ، لیکن ارطغرل غازی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ، گزشتہ ماہ میں لگ بھگ 195 ملین افراد نے اسے دیکھا اور پسند کیا ۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ارطغرل غازی کواردو میں ڈب کیا گیا اور سرکاری چینل پی ٹی وی ہوم پر نشر کیاجارھاھے پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کی ناظرین کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ سیریز کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
یہ یکسر مختلف بحث ہوگی اگر چہ پاکستان میں ارطغرل کو صرف ڈرامے کی طرح پیش کیا جاتا تو بہتر تھا تاہم اس کے ذریعہ اس امر کی وضاحت نہیں کی جاسکی پاکستان جیسے ملک میں پہلے ہی قومیت ۔زبان۔رنگ و نسل ۔مذہب اور فرقہ پرستی کے نام ماضی میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہی ہیں اور اس ڈرامے کے آفٹر شاکش کیا رنگ لائیں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ارطغرل ڈرامہ میں جس طرح گلے کاٹنے کے سین تسلسل سے دکھائے جاتے ہیں اس کے مضر اثرات ھماری نوجوان نسل کے ذہنوں پر پڑنا شروع ھوگئے ہیں اس سال عید پر بچوں کے لیے کھلونوں میں ارطغرل کی تلوار ۔ڈھال اور کلہاڑا مقبول ترین کھلونے رہے اور ظاہر مخالف گروپ بنا کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے والے ایکشن کیے جاتے رہے حقیقت میں ارطغرل ڈرامہ نے اسلامی پریشر گروپوں میں قوم پرستی کے مسئلے اجاگر کردیا ہے۔خیال رھے کہ اکتوبر 2019 میں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی ڈراموں کے مواد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا تو اس وقت کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا کہ ارطغرل ڈرامہ کے بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ھے کہ ایک ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی نے اپنی مقبولیت کی سرحدوں کو اتنا چھو لیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں شائد ہی ہی کسی ڈرامہ سیریز کو اتنی پزیرائی حاصل ھو سکے۔ماضی میں پاکستان میں عید کے موقع پر فلم بین سینماؤں کا رخ کرتے تھےکوروناوائرس کے لاک ڈاون میں پاکستانی عوام کے لئے عید کے تینوں روز ایک سے لے کر تیس تک کی اقساط کو عوام الناس نے بڑی دل جمی کے ساتھ جوش و خروش سے دیکھا اور سچ تو یہ ہے کہ عید الفطر کی خوشیاں دوبالا ہوگئیں مجھے بھی پہلی بار تمام اقساط کے دیکھنے کے بعد کچھ لکھنے پر مجبور ہونا پڑا اس ڈرامے کو مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا مگر تاریخ کے کرداروں کو جس طرح حققت کے قریب تر دکھایا گیا ہے اس پر ترک ٹی وی کی پروڈکشن ٹیم خراج تحسین کی مستحق ھے اور اس کے بعد تاریخ کے اوراق سے دیگر اسلامی ممالک کی نادر کارنامے کو دیکھا جاسکےگا مغل سلطنت حکومت ۔سلاطین دھلی اور افغان سورماؤں کی لازوال داستانیں عظیم کارناموں سے مزین ہیں ۔خیر یہ تو آنے والے وقت میں معلوم ہو جائے گا کہ اس ڈرامے کے درپردہ کیا مقاصد ہیں اور اتنا سرمایہ کیوں لگایا جا رہا ہے دنیا میں اس جنگجوؤں کو پذیرائی حاصل ھوگی یا آزادی کی تحریکوں کو دوام ملےگا اس ڈرامے ارطغرل غازیپر بعض اسلامی ممالک میں پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن پاکستان میں سرکاری سطح پر اس کو فروغ دینے کی کوشش عروج پر ہے تاکہ اسلامک فوبیا کا خاتمہ ممکن ھوسکے جس انداز میں ڈرامے ھیرو ارطغرل غازی نے عید الفطر پر مبارکباد کا پیغام اردو زبان میں جاری کرکے پاکستانی عوام کو اپنا گرویدہ بنا لیا اس یوٹیوب پر پسندیدگی کے ماضی تمام ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے ہیں مجھے جب اس ڈرامے کو دیکھنے کا مشورہ دیا گیا تو میں اس کو پاکستان کے تمام چینلز پر ڈراموں کی خیال کیا جس میں عورت کی تذلیل دِکھائی جاتی رہی ہے یا عورت کو شوپیس بناکر پیش کیا گیا لیکن ارطغرل ڈرامہ میں عورت کی عظمت ۔ عزت، توقیر اور عفت کو جس شاندار انداز میں فلم بند کیا گیا اس پر دل عش عش کر اٹھا ۔حقیقت میں یہ سب کچھ ہی ھماری اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔پچھلے سال2019 اکتوبر میں پاکستانی وزیر اعظم جناب عمران خان نے مشورہ دیا تھا کہ تاریخی ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی کو ضرور دیکھا جائے تاکہ ھماری نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہی حاصل ھو۔اس وقت متحرک شوشل میڈیا کی متعدد میں کسی غیر ملکی ڈرامہ سیریز کی پاکستان میں پسندیدگی کا ریکارڈ بنانا ایک انہونی بات ضرور ہے ۔ نیٹ پر ترک ڈرامہ سیریز بین الاقوامی ناظرین کا سب سے زیادہ پسند اور دیکھا جانے والا ڈرامہ سیریز ھے جس میں روز بروز اضافہ ھو رہاھے پاکستانیوں میں ارطغرل غازی سے محبت ناقابل تصور بلندیوں کوجا پہنچا ھے اور دیگر کردار بھی نوجوان نسل کو ازبر یاد ہیں اگرچہ ترکی میں ڈرامہ سیریز پاکستان میں پہلے بھی نشر کی جا چکی ہے ، لیکن ارطغرل غازی پچھلے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ، گزشتہ ماہ میں لگ بھگ 195 ملین افراد نے اسے دیکھا اور پسند کیا ۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ارطغرل غازی کواردو میں ڈب کیا گیا اور سرکاری چینل پی ٹی وی ہوم پر نشر کیاجارھاھے پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل کی ناظرین کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ سیریز کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
یہ یکسر مختلف بحث ہوگی اگر چہ پاکستان میں ارطغرل کو صرف ڈرامے کی طرح پیش کیا جاتا تو بہتر تھا تاہم اس کے ذریعہ اس امر کی وضاحت نہیں کی جاسکی پاکستان جیسے ملک میں پہلے ہی قومیت ۔زبان۔رنگ و نسل ۔مذہب اور فرقہ پرستی کے نام ماضی میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہی ہیں اور اس ڈرامے کے آفٹر شاکش کیا رنگ لائیں گے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ارطغرل ڈرامہ میں جس طرح گلے کاٹنے کے سین تسلسل سے دکھائے جاتے ہیں اس کے مضر اثرات ھماری نوجوان نسل کے ذہنوں پر پڑنا شروع ھوگئے ہیں اس سال عید پر بچوں کے لیے کھلونوں میں ارطغرل کی تلوار ۔ڈھال اور کلہاڑا مقبول ترین کھلونے رہے اور ظاہر مخالف گروپ بنا کر ایک دوسرے پر حملہ کرنے والے ایکشن کیے جاتے رہے حقیقت میں ارطغرل ڈرامہ نے اسلامی پریشر گروپوں میں قوم پرستی کے مسئلے اجاگر کردیا ہے۔خیال رھے کہ اکتوبر 2019 میں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی ڈراموں کے مواد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا تو اس وقت کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا کہ ارطغرل ڈرامہ کے بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ہندوستانی اور امریکی سنیما کی تقلید پر قومی فلمی صنعت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھااور عمران خان صاحب کے بقول ، ماضی کے اسلامی وقار کی بحالی ، مسلمان ہیروز کی یاد اور مغرب کی بجائے مسلم دنیا کے ذریعہ چلنے والے بیانیہ پیش کرنے سے ارطغرل کو نشر کرنے کی مجبوری وجوہات میں شامل تھیں۔بہت سارے طریقوں سے بظاہر یہ سب درست معلوم ہوتا ہے ، لیکن جب ملک میں قوم پرستی کے نقوش کی تشکیل کی بات آتی ہے تو ، غیر ملکی نظریات ، ہیروز اور تاریخ کی درآمد کا یہ پاکستانی جنون ککو فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر علاقے اور خطے کی روایات مختلف دور میں مختلف رہی ہیں پاکستان میں سینیما گھر بند ہیں، تفریحی مقامات ویران پڑے ہیں مگر ارطغرل غازی ڈرامے کے یوٹیوب چینل پر ایک نظر ڈالنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو شاید ان مشکل حالات میں اپنی بوریت مارنے کا ساتھی مل گیا ہے۔ٹی آر ٹی ارطغرل پی ٹی وی‘ نامی یوٹیوب چینل پر اب تک 50 لاکھ کے قریب صارفین سبسکرائب کر چکے ہیں۔ یہ چینل 18 اپریل کو وجود میں آیا اور اب ارطغرل اور حلیمہ جیسے کرداروں کے مداحوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ارطغرل غازی (دیریلش: ارطغرل) جمہوریہ ترکی میں سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی پر پیش کیے گئے ڈرامےارطغرل غازی کا اردو ترجمہ ہے جس کا پہلا سیزن 2015ء کو پاکستان میں ہم نیٹ ورک کے چینل ہم ستارے پر پیش کیا جا چکا ہے اور دوسری بار نئی اردو ڈبنگ کے ساتھ اپریل 2020ء سے پی ٹی وی ہوم پہ چلایا جا رہا ہے۔ ترکی کی تاریخ میں ڈرامے کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے ترکی کے بنائے ہوئے کئی ڈرامے پاکستان میں اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیے گئے جن میں سے تاریخی موضوعات پر بنائے ہوئے ڈراموں نے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ اس ڈرامے کے اختتام کے بعد قوریلش: عثمان نے اس کی جگہ لی، جس کی کہانی عثمان اول کے گرد گھومتی ہے۔زیر نظر ڈراما سلطنت عثمانیہ (موجودہ ترکی) کی اس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے جو سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ان کا نام ارطغرل تھا اور انہيں غازی ارطغرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ 1230ء سے 1281ء تک کا تھا۔ اور یہ ایک خانہ بدوش قبیلہ قائی کے سردار تھے۔ ان کے والد سلیمان شاہ تھے۔ارطغرل غازی کے پانچ سیزن ہیں جس کی اقساط کی تعداد 157 ہے۔ ہر قسط کا دورانیہ دو گھنٹے ہے۔ ارطغرل اپنی کہانی، اپنی تیاری اور اداکاری کے اعتبار سے ایک شاہکار ہے۔ ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی ترکی کے خانہ بدوش قبیلے قائی کی کہانی ہے۔جس کے مطابق قائی قبیلہ ایک جنگجو قبیلہ ہے جو ایک طرف بے رحم موسموں کے نشانے پر ہے اور دوسری جانب منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہے۔ ہمت و جرات کی یہ عجیب داستان ہے کہ چرواہوں کا یہ خانہ بدوش قبیلہ جو جاڑے کے بے رحم موسم میں قحط سے بچنے کے لیے حلب کے امیر سے ایک زرخیز چراگاہ میں قیام پزیر ہونے کی اجازت مانگ رہا ہوتا ہے آگے چل کر ایک ایسی عظیم سلطنت کی بنیاد رکھ دیتا ہے جو آٹھ سو سال قائم رہتی ہے۔ ارطغرل قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کا بیٹا ہے۔ وہ منگولوں سے بھی لڑتا ہے اور صلیبیوں سے بھی۔ وہ اوغوز ترک قبائل کو یوں ایک لڑی میں سمو دیتا ہے کہ پھر چرواہوں کے اس قبیلے کی ایک اپنی سلطنت ہوتی ہے اور ارطغرل کا بیٹا عثمان اس سلطنت عثمانیہ کا پہلا بادشاہ ہوتا ہے۔کہانی کی شروعات اوغوز ترک نسل کے قائی قبیلہ کی ہجرت کے منظر سے ہوتی ہے جب یہ قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے دوران میں ہجرت پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ 400 خیموں سے آباد یہ بستی اپنی نئی منزل کی تلاش میں تھی۔ یہ تیرہویں صدی کا زمانہ تھا۔ قحط کے مشکل وقت سے گزرنے کے بعد وہ ایک بہتر جگہ کی طرف ہجرت کرنے کا عزم کرتے ہیں جہاں وہ نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ سلیمان شاہ قائی قبیلے کا سردار ہے۔ سلیمان شاہ کے چار بیٹے ہیں جن میں، گندوگدو (گلدارو)، سنگورتیکن (صارم)، ارتغل اور سب سے چھوٹا دوندار (ذوالجان) ہے۔ صارم کو منگولوں نے پکڑ لیا تھا اور وہ لاپتہ ہے، اسے مردہ سمجھا جاتا ہے، جس پر حائمہ خاتون (سلیمان شاہ کی بیوی) کو یقین نہیں ہے۔ اس کے دو بیٹے گلدارو اور ارتغل اس کے وفادار ہیں اور قبائلی امور میں حصہ لیتے ہیں۔ قبائلی امور میں بھر پور شرکت کے لیے ذوالجان کی ابھی عمر نہیں ہے۔ سلیمان شاہ کا ایک بیٹا ارتغل اکثر تین قریبی دوستوں بامسی (بابر)، دوہان (روشان) اور تورگت (نورگل) کے ساتھ شکار پر جاتا ہے۔ شکار کے دوران میں ان کا سامنا ٹیمپلرز سے ہوتا ہے جو تین قیدیوں کو لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ ارتغل اور اس کے دوست ٹیمپلرز کو مار دیتے ہیں اور ان تینوں قیدیوں ایک نوجوان لڑکی جس کا نام حلیمہ سلطان ہے، اس کے باپ شہزادہ نعمان اور اس کے بھائی لیعیت (شہیر) کی جانیں بچا لیتے ہیں جن کو پھانسی دی جانی تھی۔ ارتغل اور اس کے دوست ان بازیاب شدہ قیدیوں کی اصل شناخت (کہ ان کا تعلق سلجوقی سلطنت کے ایک عظیم گھرانے سے ہے) جانے بغیر انکو اپنے قبیلے لے آتے ہیں۔ ایک بار پھر پکڑے جانے کے خوف نے حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کو ان کی اصل شناخت ظاہر نہ کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ قبیلے میں حلیمہ اور اس کے اہل خانہ کی آمد سے قائی قبیلے کو نئی مشکلات آجاتی ہیں۔ سلجوق سلطنت حلیمہ اور اسکی فیملی کو واپس نہ کرنے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دیتی ہے اور ٹیمپلرز نے قیدیوں کو بچانے کا بدلہ لیا اور نورگل کو قید کر لیا جو بعد ازاں آزاد کروا لیا جاتا ہے۔ ان دھمکیوں کی وجہ سے کچھ خانہ بدوش افراد سلیمان شاہ کو ان مسائل سے بچنے میں ناقص قیادت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اس گروہ کی بدامنی سلیمان شاہ کے منہ بولے بھائی کردوغلو کی خواہش کے باعث ہے۔ کردوغلو کی خواہش سلیمان شاہ کو ہٹانے اور قائی قبیلے کے سردار کی حیثیت سے اپنا منصب سنبھالنا ہے۔ سلجان ہاتون (شہناز خاتون گلدارو کی بیوی) حلیمہ اور اسکی فیملی کے خلاف ہے لہٰذا وہ گوکچے ہاتون (روشنی خاتون)اور آئیکز (شاہینہ) سے سرگوشی کرتی ہے۔ بدامنی کو حل کرنے کی کوشش میں سلیمان شاہ ارتغل کو اپنے قبیلے کے لئے ایک نیا مقام تلاش کرنے کے مشن پر بھیجتا ہے۔ خاص طور پر وہ ارتغل اور اسکے تین ساتھیوں کو امیر حلب العزیز سے معاہدہ کرنے کے لیے حلب بھیجتا ہے جہاں اتغل کو پتہ چلتا ہے کہ امیر حلب کے محل میں صلیبی مسلمانوں کا روپ دھارے ہوئے کام کر رہے ہیں کو کہ اپنی چالوں سے ارتغل کو قید کروا دیتے ہیں لیکن وہ کچھ شیر دلوں کی مدد سے آزاد ہو جاتا ہے۔ شہزادہ نعمان اور اس کی بیٹی حلیمہ سلطان بھی حلب میں جاتے ہیں جہاں پر امیر حلب حلیمہ سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن حلیمہ سلطان عین نکاح کے وقت انکار کر دیتی ہے۔ بعد ازاں امیر حلب کو سچائی کا پتہ چل جاتا ہے اور وہ ارتغل سے معذرت کرتا ہے۔ کردوغلو کی غداری سامنے آ جاتی ہے اسکی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے۔ جبکہ شہناز خاتون بھی توبہ تائب ہو جاتی ہے۔دوسرے سیزن میں ارتغل کو بایجو نویان کی سربراہی میں منگولوں کے سپاہی اپنے سربراہ تنکوت سے مل کر قید کرلیتے ہیں۔ دریں اثناء حائمہ خاتون کی سربراہی میں قائی قبیلہ نے دودورگا قبیلہ سے پناہ مانگی ہے، جس کی سربراہی حائمہ خاتون کا بھائی کورکوت بے (سردار خوشنود) کر رہا ہوتا ہے۔ ارتغل کا منگولوں سے فرار اور اس کے نتیجے میں اس کے قبیلے میں واپسی اس کے اور اس کے کزن توتیکین (تیمور خوشنود کا بیٹا جو دودورگا کے سپاہیوں کا سربراہ ہے) کے درمیان میں اندرونی تنازعہ پیدا کرتی ہے۔ خوشنود کی دوسری بیوی ایتولن (عالیہ خاتون) اس کی پیٹھ کے پیچھے پلان بناتی ہے تاکہ اس کا بھائی گومیشتکین (مہر دین) امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے سردار بن سکے۔ بعدازاں جب وہ حلیمہ خاتون اور شہناز خاتون پر حملہ کر رہی ہوتی ہے تو قائی سپاہی عبدالرحمن اسے قتل کر دیتا ہے۔ ارتغل کے طویل گمشدہ بھائی صارم کی آمد سے تناؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سردار خوشنود کے قتل میں سہولت کار بننے کے جرم میں مہردین کی گردن ارتغل کی تلوار اڑا دیتی ہے ۔ نویان تیمور اور روشنی خاتون کو شہید کر دیتا ہے۔ شہزادہ شہیر اور ذوالجان نویان کی قید میں آ جاتے ہیں لیکن بعد میں آزاد کروا لیے جاتے ہیں۔ نویان کو شکست دینے کے بعد قائی قبیلہ اناطولیہ کی مغربی سرحد پر ارتغل کے ساتھ شامل ہونے یا گلدارو اور صارم کے ساتھ رہنے کے درمیان میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ آخر میں ارتغل اس کے بھائی ذوالجان، حلیمہ سلطان اور حائمہ خاتون کے ساتھ 400 دیگر افراد نے بھی اناطولیہ کے مغربی کنارے کا سفر کیا اور باقی قائی قبیلے کو پیچھے چھوڑ دیا۔ راستے میں شہزادہ شہیر شہید ہو جاتا ہےتیسرے سیزن میں ارتغل اناطولیہ کے مغربی خطے کے سب سے طاقتور چاوادر قبیلے کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتا ہے۔ کیندار بے (سردار جاندار چاودار قبیلے کا سردار) اور اس کے بچے اورال، اصلیہان اور آلیار کی سربراہی میں چاودار تجارت میں بہت ہنر مند ہیں۔ تاہم اورال شیطانی ذہن کا لالچی انسان ہے اور اپنے والد کی جگہ سرداری کی تلاش میں ہے اور اس کے حصول کے لئے کچھ بھی کرتا ہے۔ ہانلی بازار پر ارتغل کی فتح کے بعد اورال کو ارتغل کی قالینوں کو جلانے، اس کے سپاہیوں کو شہید کرنے اور کاراچائیسار ( عیسائیوں کا قلعہ) کے گورنر کے قتل کے جرم میں اس کے کردار پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ امیر سعدتین کوپیک کی مدد سے اورال کو رہا کیا گیا ہے اور وہ ترکوں کے ساتھ خونی جنگ کے خواہاں کاراچائیسار کے نئے کمانڈر وسیلوس سے مدد مانگ رہا ہے۔ ارتغل نے آلیار کے ساتھ مل کر اورال اور وسیلوس کو شکست دینے کا عزم کیا لیکن آلیار شہید ہو جاتا ہے۔ ارتغل کا بیٹا گوندوز پیدا ہوتا ہے اور بابر نے حیلینہ (مقتول گورنر کی بیٹی) سے شادی کی ہے جو بعد میں مسلمان ہوگئی اور اس کا نام حیلینہ سے تبدیل کر کے حفصہ خاتون رکھا جاتا ہے۔ چاودار کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے ارتغل نے نورگل سے درخواست کی کہ وہ اصلیہان سے شادی کرے جو وہ قبول کرتا ہے۔ ارتغل کو سلطان علاؤالدین نے سردارِ اعلیٰ کا خطاب دیا ہے جو سعدتین کوپیک کو غصے میں پاگل کر دیتا ہے اور وہ ارتغل کو تباہ کرنے کا عہد کرتا ہے۔ کاراچائیسار کے نئے کمانڈر آرس کے ساتھ مل کر کوپیک نے ارطغرل کے لئے ایک جال بچھایا اور بظاہر سیزن کے اختتام پر اسے شہید کردیا۔اینگن التن دزیتن ’دریلس ارطغرل‘ میں ارطغرل کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی پیدائش سنہ 1979 میں ترکی کے خطے ازمر میں ہوئی تھی۔
سکول کے دنوں سے ہی انھیں اداکاری کا شوق تھا اور پھر انھوں نے 2001 میں ازمر کی دوکز ایلول یونیورسٹی سے ڈرامے کے شعبے میں ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد 2001 میں ہی وہ کام کی تلاش میں استنبول آگئے۔
ترک ٹی وی کے لیے ان کا پہلا رول ڈرامہ سیریل ’روح سر‘ میں تھا جس کے بعد انھوں نے ’کوچم بنم‘ اور ’یدیپے استنبول‘ سمیت کئی ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔ 2005 میں انھوں نے فلموں میں کام کرنا شروع کیا، جن میں ہدایتکار مصطفیٰ التوکلیار کی فلم ’بیزانن کدنلری‘ شامل تھی۔انھوں نے کئی فلموں اور ڈراموں میں کام کیا ہے۔ ٹی وی ڈراموں کے علاوہ وہ تھیئٹر میں بھی کام کر چکے ہیں اور دیارباکر نیشنل تھیئٹر میں پیش کیے جانے والے ڈرامے ’در ایاکبی الے‘ کے ہدایت کار بھی تھے۔لیکن یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ ارطغرل ہی ان کا سب سے زیادہ مقبول کردار ہے۔2014 میں انھوں نے نسلشاہ الکوچلر سے شادی کی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ارطغرل کی محبوبہ اور پھر بیوی کا کردار ادا کرنے والی اسرا بِلگِچ نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ جلد ہی پاکستان آئیں گی۔انسٹاگرام پر ” ارطغرل ڈرامہ” اداکارہ نے ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا۔
ارطغرل ڈرامہ سیریز میں حلیم سلطان کا کردار ادا کرنے والی اسرا بِلگِچ نے کہا ہے کہ “میرے ملک اور پاکستان کے تمام دوستوں اور مداحوں کو خوبصورت پیغام ہےکہ”۔جلد ہی پاکستان کادورہ کریںگی” اسرا بِلگِچ کی پیدائش سنہ 1992 میں انقرہ میں ہوئی۔ ترک ڈرامے ارتغرل کی دھوم مچی ہوئی ہے ۔ترک ڈرامے میں کائی قبیلے کے سردار ” ارتغرل “ کی اہلیہ ” حلیمہ سلطان “ کی جاندار اداکاری اور ان کے خوبصورت چہرے نے پاکستانیوں کو ان کی محبت میں مبتلا کر دیاہے ۔آپ کو یہ جان کر بہت ہی حیرت ہو گی کہ اسرا بِلگِچ حقیقی زندگی میں طلاق شدہ ہیں ،وہ شادی کے معاملے میں اپنی قسمت آزما چکی ہیں اور اس حوالے سے ان کا پہلا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا۔” حلیمہ سلطان “ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اور ترکی کے فٹبالر ” گوخان طور “ کے درمیان دوستی سے محبت کا سفر 2014 میں شروع ہوا اور دونوں 2017 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے اور ایک دوسرے کو جیون ساتھی بنا لیا جبکہ ان کے اس یادگار لمحے کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے شرکت کر کے تاریخی بنا دیا لیکن یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور محض دو سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔یہ شادی نہایت ہی حیران کن انداز میں صرف 10 منٹ کے اندر ہی ختم ہو گئی ، اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسے ہوا ؟جب طلاق کا معاملہ عدالت میں پہنچا تو ”حلیمہ سلطان “ نے اپنے شوہر کے خلاف جائیداد میں حصے کے تمام دعوے واپس لے لیے اور فٹبالر ” گوخان طور “ نے بھی بیا ن دیا کہ انہیں اپنی بیوی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ترک اداکارہ کی شوہر کے ساتھ شادی دو سال میں ختم ہونے کی سب سے بڑی بے وفائی بنی، ” اسرا بلکک “ کو معلوم ہوگیا تھا کہ ان کے شوہر ” گوخان طور “ بے وفائی کر رہے ہیں اسرا بِلگِچ نے پہلے ہیجتیپ یونیورسٹی سے آثار قدیمہ میں ڈگری حاصل کی۔ پھر انھوں نے انقرہ کی بلکینت یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور میں ڈگری حاصل کی اور اب قانون کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ارطغرل میں حلیمے سلطان کا کردار ان کا پہلا رول تھا اور اس کی وجہ سے انہیں کافی مقبولیت ملیانھوں نے 2018 میں ارطغرل میں کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کے بعد انھوں نے ایک فلم حاصل کر لی تھی۔ آج کل وہ ’رامو‘ نامی کرائم ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔حلیمے سلطان کے کردار کو انھوں نے ایک مشکل رول اور ایک زبردست موقع قرار دیا تھا۔اسرا بلگچ نے 2017 میں ترکی کی قومی فٹ بال ٹیم میں کھیلنے والے فٹ بالر گوکھان تورے سے شادی کر لی تھی۔ تاہم دو سال بعد 2019 میں دونوں کا رشتہ ختم ہو گیا تھا۔ڈرامے میں ارطغرل کے سب سے قریبی ساتھی تورگت الپ کا کردار نبھانے والے جنگیز جاشکن کی پیدائش 1982 میں استنبول میں ہوئی۔وہ سپورٹس اکیڈمی کے گریجویٹ ہیں اور پیشہ ور باسکٹ بال کھلاڑی بھی ہیں۔ سنہ 2002 میں انھوں نے ماڈلنگ اور اداکاری شروع کی۔اور اگر ڈرامے میں ارطغرل کے بھائی گنگودو کی بیوی سیلجان کی سازشوں سے آپ بھی متاثر ہوئے ہیں سیلجان دیدم بالچن کی پیدائش 1982 میں انقرہ میں ہوئی۔ سیلجان نے انقرہ یونیورسٹی سے تھیئٹر میں ڈگری حاصل کی اور پھر استنبول چلی گئیں جہاں انھوں نے کئی فلموں اور ڈرامہ سیریز میں کام کیا۔ وہ تھیئٹر میں بھی کام کر چکی ہیں اور کئی انعامات بھی جیت چکی ہیں۔رواں ماہ مئی کی نو تاریخ کو انھوں نے اپنے منگیتر جان ایدین سے شادی کر لی ہے۔ ویسے تو شادی جون میں ہونے والی تھی لیکن کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر وہ ایک چھوٹی سی تقریب میں شادی کے بندھن میں بندھ گئےارطغرل غازی ڈرامہ پاکستانی نوجوان نسل کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کر ےگا۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم آنے والے سالوں میں اسلام دنیا بھر میں غلبہ حاصل کرنے والے مذہب کی حیثیت سے تیزی سے یورپ میں اپنے اثرات مرتب کر رہا ہے



