حکومت گرانے کی غیرملکی سازش بےبقاب ۔۔۔۔(اندر کی بات) کالم نگار ۔اصغرعلی مبارک۔۔۔ پاکستان میں حکومتوں کو گرانے کیلئے بیرون ملک سازشیں ہوتی رہیں لیکن ان کا پتا بہت دیر بعدچلتاتھالیکن موجودہ حکومت کے وزیر اعظم کا دعوئ ہے کہ ان کی حکومت کے خلاف سازشیں بیرون ملک میں بنائی گئی ہیں یہ سب تحریک عدم اعتماد کاڈرامہ این آر او کیلئے رچایاجارہاہے لیکن کسی کو این آر او نہیں ملےگا,سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے حکومت بچانے کے لیے شریف برادران کو این آر او دے کر قوم کے ساتھ ظلم کیا وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا ، اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے ،میری جان جاتی ہے تو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تین چوہے اکٹھے ہو کر ڈرامہ کر رہے ہیں کہ کسی طرح جنرل مشرف کی طرح عمران خان گھٹنے ٹیک کر ان کو این آر او دے دے ،انہیں جب موقع ملتا ہے ،حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں حکومت گرانے کی بات کرتے ہیں ۔جنرل مشرف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے جو جرم کیا اس کی وجہ سے انہوں نے دس سال لوٹ مار کی ۔امر بالمعروف جلسے سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ نظریہ پاکستان کے مطابق اپنی قوم کی تعمیر کرنی ہے، جب تک ہم اپنے نظریہ پرکھڑے نہیں ہوں گے تو ہم لوگوں کاہجوم توہوں گے لیکن ہم قوم نہیں بنیں گے ،ساراڈرامہ اسلئے ہورہاہے کہ عمران گھٹنے ٹیک کر انہیں این آراودے دے، ،جو مرضی کرلیں، حکومت جاتی ہے توجائے ، جان جائے توجائے لیکن میں کبھی بھی ان کومعاف نہیں کروں گا ۔سب سے پہلے وہ اپنی قوم کاشکریہ اداکرتے ہیں جو ملک کے کونے کونے سے یہاں آئے ، جس طرح ملک بھرسے لوگ آئے میں تہہ دل سے شکریہ اداکرتا ہوں۔وزیراعظم نے جلسہ عام میں موجودارکان قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کی اورکہاکہ انہیں معلوم ہے کہ ان ارکان کوجس طرح کی لالچ دی گئی۔ پیسے دینے کی کوششیں ہوئی ،ضمیرخریدنے کی کوشش کی گئی مجھے اپنے ان ارکان پرفخرہے۔پاکستان کی قوم کویادرکھنا چاہئیے کہ کہ ہماراملک ایک نظریہ کے تحت وجودمیں آیاتھا ۔ نظریہ پاکستان وہ نظریہ تھا کہ ہمیں اپنے ملک کوریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست کے طورپرکھڑا کرنا ہے ۔ان کا کہناھےکہجلسہ امربالمعروف کے عنوان کے تحت ہورہاہے ۔پاکستان کی قوم کویادرکھنا چاہئیے کہ کہ ہماراملک ایک نظریہ کے تحت وجودمیں آیاتھا ۔ نظریہ پاکستان وہ نظریہ تھا کہ ہمیں اپنے ملک کوریاست مدینہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست کے طورپرکھڑا کرنا ہے ۔ مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ میں دین کی بات کیوںکرتا ہوں،بعض کہتے ہیں کہ میں دین کوسیاست کیلئے استعمال کررہاہوں ۔وزیراعظم کا کہناھےکہ25 سال پہلے جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنائی توان کامقصدیہ تھا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے مطابق اپنی قوم کی تعمیر کرنی ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جب تک ہم اپنے نظریہ پرکھڑے نہیں ہوں گے تو ہم لوگوں کاہجوم توہوں گے لیکن ہم قوم نہیں بنیں گے ، نظریہ پرقوم بنتی ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ انہیں بڑی دیر سے دین کی سمجھ آئی ، 18 سال کی عمرمیں ، میں پاکستان سے باہرچلاگیا اورکرکٹ کھیلی جیسے جیسے مجھے دین کی سمجھ آنا شروع ہوئی تو ایک چیز واضح سمجھ میں آئی کہ ہمارے نبی ﷺ نے جو فلاحی ریاست بنائی وہ پاکستان میں نہیں البتہ دنیا کے بعض ممالک میں ہے، معروف اسلامی سکالرمحمدعبدہ جب پہلی باریورپ گئے تو انہوں نے ایک مشہورجملہ کہاتھا کہ انہیں یورپ میں مسلمان تونظرنہ آئے لیکن اسلام نظرآیا لیکن مصرمیں انہیں مسلمان نظرآئے لیکن اسلام نظرنہیں آیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ جب انہوں نے مغربی معاشرے کوسمجھا توپتہ چلا کہ فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے، میں پہلی باربرطانیہ گیا تووہاں دیکھا کہ ایک فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے وہاں پر لوگوں کا مفت علاج ہورہاتھا ،بچوں کیلئے مفت تعلیم تھی اور بے روزگاروں کوالاونس دیا جاتا۔ اسی طرح غریبوں کوانصاف کے حصول کیلئے عدالتوں میں مفت وکیل ملتے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے نبی ﷺ نے دنیا کی تاریخ میں پہلی باراسلامی فلاحی ریاست بنائی اور معاشرے کے غریب اورکمزورطبقات کواوپراٹھایا ، سکینڈے نیویا اور چین میں میں بھی انہی چیزوں کو دیکھا، چین نے 70 کروڑ لوگوں کوغربت سے نکالا ہے ، ہمارے نبی ﷺ رحمت للعالمین تھےیہ معاشرے ہمارتے نبیﷺ کے احکامات پرچل رہے تھے اسلئے اللہ تعالی نے اپنی رحمتیں اوربرکتیں نازل کیں۔وزیراعظم نے کہاکہ جوبھی معاشرہ نبی کریم ﷺ کے احکامات پر استوارہوگا ان پر برکتوں اوررحمتوں کانزول ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی فلاحی ریاست بنائی تو ان پررحمتیں آئی اور آئی دیکھتے ہی دیکھتے مسلمان دنیا کی امامت کرنے لگے ، صدیوں تک مسلمانوں نے دنیا کی قیادت کی ۔وزیراعظم نے کہاکہ نظریہ پاکستان کامطلب یہ تھا کہ ریاست کوکمزورطبقہ کااحساس ہوں اورمجھے فخرہ ے کہ ہم اس راستے پرنکل چکے ہیں، دنیا کے کسی ملک میں یونیورسل ہیلتھ سسٹم نہیں ہے ،ہماری حکومت نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہرخا ندان کو10 لاکھ روپے تک کی صحت کی انشورنس دی ہے ، مجھے فخر ہے کہ پاکستان میں ہم نے انشورنس متعارف کرائی جس کی وجہ سے غریب سے غریب آدمی بھی پرائیوٹ اسپتالوں سے اپنا علاج کراسکتا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ احساس راشن شروع کیاگیا ہے تاکہ معاشرے کے معاشی تاکہ معاشرے کے معاشی طورپرکمزورطبقات کومہگائی کے اثرات سے بچایا جاسکے ، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت 20 لاکھ خاندانوں کوسود کے بغیر قرضے دئیے جارہے ہیں ، انہیں گھروں کی تعمیرکیلئے بلاسود قرضے دئیے جارہے ہیں
، اسی خاندان کے ایک فرد کوتکنیکی تربیت دی جارہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے دورمیں ریکارڈ ٹیکس جمع ہوئے ، ہمارے پاس جب گنجائش پیداہوئی تو پیٹرول اورڈیزل پرفی لیٹر10،10 روپے کی سبسڈی دی گئی جس پر 250 ارب کی لاگت آئیگی ۔اسی طرح بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کی کمی کردی گئی ، ہمارے پاس جیسے جیسے پیسہ آئیگا وہ قوم پرخرچ ہوگا۔۔ وزیراعظم نے جلسہ عام میں موجودلاکھوں نوجوانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس جنون کو قابو کرکے پاکستان کودنیا کی عظیم قوم بنانا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ وہ 25 سال سے اس نظریہ پرکھڑے ہیں اور ان کااایمان ہے کہ ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ہم نبی کی سنت پرچلیں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ امیروں کوامیرترکرنے کی بجائے ان سے ٹیکس لیکر غریبوں پرخرچ کیاجائے ۔پانچ سال جب مکمل ہوں گے توقوم دیکھے گی کہ کسی بھی دورحکومت میں اتنی تیزی سے غربت ختم کم نہیں ہوئی جتنی ہمارے دورمیں ہوئی ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ مدینہ کی ریاست کا دوسرا اصول انصاف اورقانون کی حکمرانی تھا،نبی کریمﷺ کی تعلیمات یہی تھیں کہ ہم سے پہلی قومیں اسلئے تباہ ہوئیں کیونکہ چھوٹا چور جب چوری کرتا تواس کوسزا دی جاتی اور اگربڑا ڈاکوچوری کرتا تو اسے این ارآودے دیتے ۔
یہ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ سارے غریب اورترقی پذیرملکوں کی بدقسمتی ہے، غریب ممالک اسلئے غریب نہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں وائیٹ کرائم کرنے والوں کواین آراودیا جاتاہے ،ان ملکوں میں چوری کرکے آفشوراکاونٹ کھولے جاتے ہیں اوران سے بیرون ممالک بڑے بڑے محلات بنائے جاتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ یہ 30 سالوں سے اس ملک کاخون چوس رہے تھے ،ان کے آفشوربینک اکاونٹ ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ساراڈرامہ اسلئے ہورہاہے کہ مشرف کی طرح عمران گھٹنے ٹیک کر انہیں این آراودیدے ،ان کی پہلے دن سے یہ کوشش ہے کہ حکومت ختم ہوں، یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے خاص مخلوق ہیں اورہماری چوری کومعاف کیاجائے ۔وزیراعظم نے کہاکہ ،مشرف نے اس قوم پرظم کیا اورکرسی بچانے کیلئے ان چوروں کواین آر اودیدیا جس کے نتیجہ میں یہ 10 سال ملک لوٹتے رہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ جو مرضی کرلیں، حکومت جا تی ہے توجائے ، جان جائے توجائے لیکن میں کبھی بھی ان کومعاف نہیں کروں گا ۔ہمارے نبی ﷺنے قانون کی بالادستی قا ئم کی تھی، حضرت علی کا اونچا مقام ہے، وہ خلیفہ وقت ہوتے ہیں اورایک یہودی کاکیس لگتا ہے تو حضرت علی کیس ہارتا ہے کیونکہ قاضی ان کے بیٹے کی گواہی نہیں مانتا، اسلامی فلاحی ریاست میں خلیفہ وقت بھی قانون کاپابند ہوتا، نبیﷺ نے فرمایا کہ میری بیٹی اگرچوری کرے توانہیں بھی سزا ملیگی، مدینہ کی فلاحی ریاست میں اقلیتوں کوبھی برابرکاشہری مانا جاتا تھا اور ان کوبرابرکاانصاف دیا گیا ،آج کی دنیا میں ترقی یافتہ ملکوں میں بھی کسی اقلیت کوان کے وزیراعظم کے سامنے انصاف نہیں مل سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ نبیﷺ نفرت پھیلانے کیلئے نہیں بلکہ انسانوں کواکھٹاکرنے آئے تھے اورانہوں نے اقلیتوں کو برابری کے مواقع دئے ۔امر بالمعروف جلسے سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا ، اگر میری حکومت جاتی ہے تو جائے ،میری جان جاتی ہے تو جائے ۔ ان کا کہناھےکہ ہمیں پتہ ہے کہ باہر سے کہاں سے ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہمارے ملکی مفاد میں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزامات نہیں لگا رہا ہے، میرے پاس جو خط ہے یہ ثبوت ہے اور میں آج یہ سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی شک کر رہا ہے، ان کو دعوت دوں گا کہ آف دا ریکارڈ بات کریں گے اور آپ خود دیکھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش پر ایسی کئی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گے، قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ لندن میں بیٹھا ہوا کس کس سے ملتا ہے اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے کے اوپر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم کب تک ایسے چلیں گے کہ دھمکیاں مل رہی ہیں۔میرا وعدہ ہے کہ جب ہم 5 سال مکمل کریں گے تو سارا پاکستان دیکھے گا کہ کسی حکومت نے اتنی بڑی تیزی سے پاکستان کی غربت ختم نہیں کی۔ سب سے پہلے اپنی قوم کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ جس طرح میری کال پر پاکستان کے ہر کونے سے آج یہاں آئے اور آج میں آپ سے اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک ایک عظیم نظریے کے تحت بنا تھا، وہ نظریہ ایک فلاحی ریاست تھا جو کہ مدینہ کے اصولوں پر کھڑا کرنا تھا۔وزیراعظم نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہم فلاحی ریاست کی طرف نکل چکے ہیں، ہم وہ ملک ہے جو دنیا میں جو ترقی پذیر ممالک ہیں وہاں ہیلتھ انشورنس نہیں ہے لیکن ہم ہیلتھ انشورنس لے کر آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے بڑی دیر تک پاکستان کے نظریے کا پتا نہیں تھا لیکن اپنے ذاتی تجربے پر پتا چلا، جب مجھے دین کی سمجھ آئی تو وہ نظریہ مجھے مغرب میں نظر آیا اور پہلی دفعہ برطانیہ گیا تو سمجھ آیا فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا احساس کا پروگرام پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی کمزور طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے ایسا پروگرام شروع نہیں کیا گیا، نیا پاکستان میں 20 لاکھ روپے ایک خاندان کو بغیر سود کے کاروبار اور گھر بنانے کے لیے دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ٹیکس بڑھا تو 250 ارب کی سبسڈی دے کر پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے بجائے 10 روپے کم کی اور بجلی کی قیمت 5 روپے یونٹ کم کی، جیسے جیسے ٹیکس جمع کرتا جاؤں گا ایسے ہی اپنی قوم پر خرچ کرتا جاؤں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میری قوم کے اس جنون کے تحت پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنانا ہے، میں اپنے نظریے پر 25 سال سے کھڑا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ اگر نبی ﷺ کے راستے پر چلے تو ہمارا ملک عظیم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ میرا نبی کا فرمان ہے کہ تمھارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئی جہاں چھوٹے چور کو جیل میں ڈالتے تھے اور بڑا ڈاکو چوری کرتا تھا تو اس کو این آر او دیتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ جب موقع ملتا ہے تو حکومت گرانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ کوئی خاص مخلوق ہے کہ ان کو سب کچھ معاف کرنا چاہیے، پرویز مشرف نے اس ملک پر جرم کیا کہ اپنی حکومت بچانے کے لیے ان چوروں کو این آر او دیاانہوں نے کہا کہ جو مرضی یہ کرلیں، حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے تو جائے کبھی ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ قانون اور انصاف سے بالاتر ایک خلیفہ بھی نہیں ہوسکتا، آج دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ان کے وزیراعظم کے سامنے انصاف مل سکتا ہے، نہیں مل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وہ خارجہ پالیسی لانا چاہتے ہیں کہ ہم جنگ میں کسی ساتھ شریک نہیں ہوگا لیکن امن میں سب کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہماری حکومت گرانی ہے، میں دعویٰ کرتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سال میں اس طرح کی کارکردگی کسی نے نہیں دکھائی جو ہم نے دکھائی۔ان کا کہنا تھا کہ 100سال میں سب سے بڑا کورونا بحران آیا ساری دنیا بند کی گئی لیکن میں نے اپنے ملک کو بند نہیں کیا، لوگوں نے تنقید کی کہ عمران خان ملک کو تباہ کر رہا ہے لیکن آج دنیا کا سب سے بڑا بحران میں دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے قدم اٹھایا اور اپنی قوم اور غریبوں کو بچایا۔انہوں نے کہا کہ جب دنیا مشکل میں تھی تو پاکستان کی برآمدات ریکارڈ تھی، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا، بیرون ملک موجود پاکستانیوں کو مراعات دیں، انہوں نے سب سے زیادہ ڈالر بھیجے، تعمیراتی صنعت نے 1500 ارب کی دولت پیدا ہوئی، اسی لیے ہمارے ملک میں اتنی بے روزگاری نہیں ہوئی جتنی دنیا میں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں سب سے زیادہ پیسہ زراعت میں گیا اور ریکارڈ فصلیں ہوئیں کیونکہ ہم نے کسانوں کی مدد کی، شوگر مل مافیا پہلے کسانوں کو پیسے نہیں دیتا تھا ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور ان کو حقوق اور پیسہ دلوایا اور پاکستان کا فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ آج ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو مزدور نہیں مل رہے ہیں، ملک آگے بڑھ رہا ہے، پہلی دفعہ ایک حکومت اپنی صنعت کے ساتھ پوری طرح کھڑی ہے تاکہ ملک میں پیسہ بڑھے گا اور ٹیکس بڑھے، جب ٹیکس بڑھے گا تو ہم اپنی قوم پر پیسہ خرچ کروں گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج پہلی دفعہ بینک چھوٹے کاروباری لوگوں کو قرضے دے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کا نالہ لئی کا منصوبہ بن رہا ہے، شہروں کو روکیں گے، سارے بڑے شہروں کے ماسٹر پلان بنائیں گے، بجلی، سیوریج سمیت ماسٹر پلان دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج سے 11 سال پہلے بلوچستان کے ریکوڈک کے منصوبے پر 2 ہزار ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا، ان دونوں کی حکومتیں آئی اور گئیں کچھ نہیں کر سکے لیکن یہ میری حکومت اور میری ٹیم نے 3 سال مسلسل مذاکرات کیے اور ہم نے 2 ہزار ارب کا جرمانہ ختم کیا اور اس کمپنی کو واپس پاکستان لئے، جو پاکستان میں 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کے لوگوں کو ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں رینٹل کے منصوبے پر 200 ارب روپے کا جرمانہ ہوا تھا، ترک کمپنی تھی، میں نے صدر اردوان سے بات کی اور 200 ارب کا جرمانہ ختم کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) 2013 میں سڑکیں بنائی اور ہم نے 2021 میں بنائیں، جو 2013 میں فی کلومیٹر سڑک بنی اس سے 2021 میں 23 کروڑ سستی بنی، انہوں نے ایک ہزار ارب روپے کی ملک سے چوری کی۔انہوں نے کہا کہ میرے ماں باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے اور میری پہلی نسل ہے جو ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے، میرے ماں باپ نے جدوجہد پاکستان میں حصہ لیا اور جب میں بڑا ہو رہا تھا تو یہ بات یاد کروائی کہ تم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔وزیراعظم نے لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کو ہمارے پرانے لیڈر کے کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود اپنے لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی، ان کی خود داری ہمیشہ پسند تھی، تو فضل الرحمٰن اور بھگوڑا نواز شریف کی اس وقت کی پارٹیوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے ٰخلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنادیے گئے اور ان حالات کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔وزیر اعظم کے خطاب سے قبل وفاقی وزرا مراد سعید، اسد عمر اور شیخ رشید نے شرکا سے خطاب میں اپوزیشن بالخصوص شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپوزیشن رہنماؤں کو ’ڈاکو‘ قرار دیا۔’امر بالمعروف’ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اور وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وزیرِ اعظم حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف ’جنگ چھیڑ رہے ہیں‘ مخالفین اپنی ’ناجائز کمائی‘ کے ذریعے پاکستان میں سیاست کر رہے ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد ایک چھوٹی سی چیز ہے۔ میں وزیر اعظم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ پوری مسلم دنیا کے لیڈر ہیں اور وہ یہ جنگ جیتیں گے۔سد عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نئے انتخابات کرائیں تاکہ اپوزیشن کو پتا چلے کہ پاکستان کے عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف سارے چور اکھٹے ہیں، پی ٹی آئی سیاست میں حرام کا پیسہ لگانےوالوں کے خلاف کھڑی ہے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ فضل الرحمٰن امریکی صدر جوبائیڈن کو دنیا کا لیڈر کہتے ہیں، شہباز شریف بوٹ پالش کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہ جنگ عمران خان کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے۔پریڈ گراؤنڈ میں ‘امر بالمعروف’ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج پھر قوم جاگ چکی ہے، آج قوم جاگ چکی ہے تو بتاؤ کیا لٹیروں کو شکست ہوگی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوم تو بر صغیر کی تاریخ بدل گئی، 1947 میں جب قوم جاگی تو پاکستان بن گیا، 1965 میں قوم کھڑے ہوئی تو بھارت کو گھٹنئے ٹیکنے پر مجبور کردیا، پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد قوم جاگی تو دہشت گردوں کو شکست دی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیا ہے کہ این آر او دے دو، ہم تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں گے، کیا کرسی کی خاطر این آر او دے دیں، قوم فیصلہ کرچکی کہ چوروں، لٹیروں کو این آر ار نہیں دینا، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو این آر او نہیں ملےگا ا نہوں نے کہا کہ مخالفین کا ایجندڈا ایک نہیں، منشور ایک نہیں، منزل ایک نہیں، صرف بغض عمران میں سب ایک ہوچکے ہیں، آج پاکستان کے عوام نے وزیر اعظم عمران خان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر خارجہ ہوں، میرے سینے میں بہت سے راز ہیں، اگر راز کھول دوں تو مخالفین کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہونگے، ایک حلف کا پابند ہوں جس کے باعث ان رازوں سے پردہ نہیں ا ٹھا سکتا، میں جانتا ہوں کہ حکومت کے خلاف منصوبہ بندی کہاں ہو رہی ہے، کون منصوبہ بندی کر رہا ہے، مزید وضاحت نہیں کرنا چاہتا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا قوم عمران خان کو جھکنے نہیں دیں گے، وہ بولی لگاتے ہیں، لوگوں کے ضمیر خرید لیتے ہیں، وہ سب ایک ہو گئے ہیں، وزیراعظم ان کے خلاف تنہا کھڑے ہیں،ان کی نشست، ان کا ووٹ عمران خان کی امانت ہے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جاری امر بالمعروف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کا کرپٹ ٹولہ لیڈر نہیں ڈاکو ہے، عوام ان ڈاکوؤں سے نجات چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب، عوام کی خواہش ہے کہ نوازشریف، شہبازشریف ڈاکو، آصف زرداری جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔شیخ رشید نے کہا کہ ایک محبت وہ ہوتی ہے جو اقتدار کی ہوتی ہے، ایک محبت وہ ہوتی ہے جو غریب اور عوام کے سمندر کی ہوتی ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید نو اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مخالفین نے کرنل قذاتی، صدام حسین اور اسامہ بن لادن تک کا مال نہیں چھوڑا، یہ سازش کر کے شاہ عبداللہ کے ساتھ سعودی عرب گئے، انہوں نے پلیٹ لیٹس مینج کیے اور لندن گئے۔شیخ رشید نے کہا کہ قوم نے مہنگائی اور بیروزگاری، مہنگے بجلی اور گیس بل برداشت کیے ہیں اور اب عوام چاہتے ہیں کہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری لٹیرا جیل کے اندر ہوں، یہ کرپٹ ٹولہ لیڈر نہیں ڈاکو ہے۔نہوں نے مزید کہا کہ میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنے والا مقرر نہیں ہوں، شارٹ تقریر کرنے والا لیڈر ہوں، یہ اپوزیشن چور، ڈاکو گینگ آف تھری ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما وزیر دفاع پرویز خٹک نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سپورٹرز عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں، انہوں نے سپورٹروں کو یقین دلایا کہ ہمارا بہادر لیڈر کہیں نہیں جا رہا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عوام دیکھیں گے کہ اپوزیشن چار دن بعد روئے گی، جن قومی اسمبلی کے اراکین نے پی ٹی آئی کو چھوڑا وہ اصل میں پارٹی سے تعلق ہی نہیں رکھتے تھے، عوام دیکھیں گے کہ کچھ روز بعد منحرف اراکین بھی پچھتائیں گے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں سے اگلے انتخابات میں بھی وزیر اعظم کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ عوام آخری سانس تک عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔وفاقی وزیر برائے مواصلات اور پوسٹل سروسز مراد سعید نے جلسہ گاہ میں موجود پی ٹی آئی کے حامیوں سے پی ٹُی آئی کی سپورٹ کا وعدہ لیا۔مراد سعید نے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں سے حلف لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں، آئیے آج حلف اٹھائیں، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم قوم کی عزت، غیرت اور سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہم وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کریں گے۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے نہ صرف اپوزیشن کو بلکہ بیرونی طاقتوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس( جی ڈی اے) کی رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ سندھ میں بد ترین طرز حکمرانی ہے، صوبے میں ایک سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے، سندھ میں بلوچستان سے زیادہ احساس محرومی ہے۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو 14 سال ہوگئے، سندھ میں بد ترین طرز حکمرانی ہے، 14 سال حکومت کے دوران صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کیا گیا،سندھ کو ہیلتھ کارڈ کیوں فراہم نہیں کیا جاسکتا، سندھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سندھ حکومت کو سلیکٹڈ حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے، سندھ کے حکمران پنجاب جاکر کہتے ہیں کہ انصاف دیں گے، خیبرپختونخوا جا کر کہتے ہیں کہ ہم انصاف فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے، وہ پیپلزپارٹی کے ورکروں کو انصاف مہیا نہیں کرسکے وہ دوسرے صوبوں کو کیا انصاف فراہم کریں گے،انہوں نے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ ہیں، آج تک حکومت کے ساتھ تھے تو ہمیں اس وقت بھی حکومت کے ساتھ رہنا چاہیے اور اصولی طور پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ میں نے کیا، ہم اصولوں پر کھڑے ہیں، اصولوں کا راستہ آسان نہیں ہوتا، اصولوں پر چلنے کا راستہ بہت مشکل ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ میں جی ڈی اے کی نمائندتی کرتے ہوئے آج عوام کے سامنے کھڑی ہوں، ہم پارلیمنٹ میں ایک حلف لیکر آتے ہیں اور اگر ہم اس حلف کی پاسداری نہ کریں اور اچانک ضمیر بھائی جاگ اٹھے تو پاکستان کا مستقبل اور جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا۔جی ڈی اے کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ جب ہم پیپلپزپارٹی میں تھے تو ہم نے سندھ کے عوام کے لیے آواز اٹھائی اور جب ہم نے دیکھا کہ سندھ کے عوام انصاف نہیں ہو رہا تو ہم نے پیپلپزپارٹی کو چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔نہوں نے کہا کہ میں اداروں سے، پاکستان کی عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے بھی کہتی ہوں کہ اگر ہم نے اس لوٹا کریسی کو نہیں روکا، آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔انہوں نے منحرف اراکین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ضمیر تو بدنام ہوگیا، ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لوٹا کریسی بند ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ شاندار جلسے پر پی ٹی آئی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔ ہمارے ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہےواضع رہےکہ ماضی میں ہمارے ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہےجس بارے میں وزیراعظم نے ثبوت کے ساتھ انکشاف کرکے زمہ داروں کی آنکھیں کھول دیں ہیں














