جنوبی ایشیائی کھیل ; وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنےکیلئے کوشاں
( اصغر علی مبارک)کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور اس کے معاشرے کی ذہنی و جسمانی صحت کا اندازہ اس کے کھیلوں کے میدانوں کی رونق سے لگایا جا سکتا ہے
کھیل صرف تفریح کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا عالمی سفارتی اور سماجی ہتھیار ہے جو جنگ و جدل کے ماحول کو امن میں بدلنے، قوموں کے درمیان دوریاں مٹانے اور نوجوان نسل کی توانائیوں کو مثبت سمت دینے کی طاقت رکھتا ہے۔
پاکستان، جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے نوجوان ترین ممالک میں سے ایک ہے جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس وقت کھیلوں کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے۔وزیرِاعظم آفس اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ اہم ملاقات، جس میں وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کے صدر عارف سعید سے ملاقات کی، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں کھیلوں کی بحالی اور بالادستی کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ میدان میں اتر چکا ہے۔ اس ملاقات میں یہ باضابطہ اور تاریخی اعلان کیا گیا کہ 14ویں جنوبی ایشیائی کھیل 3 سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان میں منعقد ہوں گے۔ یہ ایونٹ پاکستان کے لیے صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا کے سامنے ملک کا پرامن، ترقی پسند اور کھیلوں سے محبت کرنے والا چہرہ پیش کرنے کا ایک شاندار اور تاریخی موقع ہے۔
وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے اعلان کیا ہے کہ 14ویں جنوبی ایشیائی کھیل پاکستان کے شہروں اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد ہوں گے۔ ان کھیلوں میں 28 کھیلوں کے 346 مقابلوں میں خطے کے 3,200 کھلاڑی شرکت کریں گے، جس کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور علاقائی دوستی کو فروغ دینا ہے۔ چیئرمین وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی کھیل ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں دنیا کے سامنے لانے کا ایک بہترین اور تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں, نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت پاکستان اس مقصد کے لیے تمام تر ضروری اور بھرپور اقدامات کر رہی ہے جنوبی ایشیائی کھیل کیلئےوزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو مواقع کرنےکیلئے کوشاں ہے، کیونکہ یہ کھیل خطے کے ممالک کے درمیان دوستی، باہمی تعاون اور کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینے کا ایک اہم ترین ذریعہ ہیں وزیرِاعظم آفس میں ساؤتھ ایشین گیمز کے وفد اور صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن و ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل عارف سعید سے اہم ملاقات میں پاکستان میں کھیلوں کے فروغ اور آئندہ سال ہونے والے علاقائی مقابلوں کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران چیئرمین رانا مشہود احمد خاں نے باضابطہ اعلان کیا کہ 14ویں جنوبی ایشیائی کھیل پاکستان میں 3 سے 11 اپریل 2027 تک منعقد ہوں گے, ان کھیلوں میں 28 مختلف کھیلوں کے 346 میڈل مقابلے شامل ہوں گے، جن میں خطے کے تقریباً 3,200 کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ کھیلوں کے یہ مقابلے مشترکہ طور پر اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں منعقد کیے جائیں گے۔ جنوبی ایشیائی کھیل ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی چھپی ہوئی صلاحیتیں دنیا کے سامنے لانے کا ایک بہترین اور تاریخی موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور حکومت پاکستان اس مقصد کے لیے تمام تر ضروری اور بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ اس موقع پر صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن عارف سعید نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ان کھیلوں کی میزبانی کو یادگار بنانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا۔جنوبی ایشیائی کھیل (جیسے ماضی میں سیف گیمز یا SAF Games بھی کہا جاتا تھا) کا آغاز 1984 میں کاٹھمنڈو، نیپال سے ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سارک (SAARC) ممالک یعنی پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے درمیان کھیلوں کے ذریعے امن، دوستی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔پاکستان نے اس سے قبل 1989 اور 2004 میں ان کھیلوں کی کامیاب میزبانی کی تھی۔ 2004 کے بعد، یعنی تقریباً دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد، یہ میگا ایونٹ ایک بار پھر پاکستان کی دھرتی پر سجنے جا رہا ہے۔ 2027 کے یہ کھیل پاکستان کے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ تمام تر علاقائی اور جیو پولیٹیکل چیلنجز کے باوجود، پاکستان کھیلوں کے ذریعے خطے میں امن کا سفیر بننے کے لیے تیار ہے
رانا مشہود احمد خاں کے مطابق، 14ویں جنوبی ایشیائی کھیل اپنی وسعت اور انتظامات کے لحاظ سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے ہوں گے۔ ان کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو درج ذیل اہم خصوصیات سامنے آتی ہیں:تاریخ اور دورانیہ: یہ کھیل 3 اپریل سے 11 اپریل 2027 تک جاری رہیں گے، جس کے دوران پورا ملک کھیلوں کے رنگ میں رنگا رہے گا , اس میگا ایونٹ میں 28 مختلف کھیلوں کو شامل کیا گیا ہے، جو روایتی اور جدید دونوں طرح کے کھیلوں کا بہترین امتزاج ہوں گے مجموعی طور پر 346 میڈل مقابلے منعقد ہوں گے، جو کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے اور تمغے جیتنے کے بھرپور مواقع فراہم کریں گے خطے کے 7 سے زائد ممالک سے تقریباً 3,200 کھلاڑی اور آفیشلز اس ایونٹ کا حصہ بننے کے لیے پاکستان آئیں گے۔اس ایونٹ کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں ہوگا۔پاکستان کے تین بڑے اور تاریخی شہر—اسلام آباد، لاہور اور پشاور—مشترکہ طور پر ان کھیلوں کی میزبانی کریں گے۔ کھیلوں کے مقابلوں کو تین مختلف شہروں میں تقسیم کرنا ایک انتہائی دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کو جدید بنانے کا موقع ملے گا بلکہ پاکستان کے متنوع ثقافتی رنگ بھی دنیا کے سامنے آئیں گے۔ اپنے شاندار اسپورٹس کمپلیکس اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات کے ساتھ، اسلام آباد افتتاحی اور اختتامی تقاریب کے ساتھ ساتھ بڑے ایتھلیٹکس اور انڈور کھیلوں کی میزبانی کے لیے مرکزِ نگاہ ہوگا۔ یہ شہر غیر ملکی وفود کو پاکستان کے پرامن اور منظم ہونے کا پیغام دے گا۔ پنجاب کا دارالحکومت لاہور، جو اپنے روایتی کھیلوں (جیسے کبڈی اور کشتی) اور کرکٹ و ہاکی کے شاندار اسٹیڈیمز کے لیے مشہور ہے، روایتی جوش و خروش کا مرکز بنے گا۔ لاہور کی ثقافت اور مہمان نوازی غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ثابت ہوگی۔
پشاور میں کھیلوں کا انعقاد اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کر امن قائم کر لیا ہے۔ پشاور کے باصلاحیت نوجوان اور وہاں کے اسٹیڈیمز جب بین الاقوامی کھلاڑیوں کا استقبال کریں گے، تو یہ عالمی میڈیا کے لیے پاکستان کے بدلتے ہوئے حالات کا سب سے بڑا ثبوت ہوگا۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا اہم منصوبہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، ہنر اور کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے وسائل فراہم کرنا ہے۔ رانا مشہود احمد خاں کی قیادت میں اس پروگرام نے کھیلوں کی ترقی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
چیئرمین یوتھ پروگرام کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ “نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے”۔
پاکستان کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں گلی محلوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن مناسب اسکولنگ، گراؤنڈز کی کمی اور اسپورٹس اکیڈمیز نہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹیلنٹ عالمی سطح پر سامنے نہیں آپاتا۔ ساؤتھ ایشین گیمز 2027 ان چھپے ہوئے ہیروں کو تراشنے اور انہیں دنیا کے سامنے لانے کا ایک “صدی کا سب سے بڑا موقع” (Opportunity of the Century) ثابت ہوگا۔
کھیل سے آگے کی سوچساؤتھ ایشین گیمز 2027 کے انعقاد سے پاکستان کو نہ صرف کھیلوں کے میدان میں فائدہ ہوگا، بلکہ اس کے ملکی معیشت اور خارجہ پالیسی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے
موجودہ دور میں کھیل سفارت کاری کا ایک بہترین ذریعہ ہیں, پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود، کھیلوں کے ایسے ایونٹس دونوں ممالک کے عوام اور کھلاڑیوں کو قریب لانے کا سبب بنتے ہیں۔ جب خطے کے تمام ممالک کے کھلاڑی پاکستان آئیں گے، تو اس سے علاقائی تعاون (Regional Cooperation) کو فروغ ملے گا اور سارک کے جمود کو توڑنے میں مدد ملے گی۔
ہزاروں غیر ملکی مہمانوں، صحافیوں اور شائقین کی آمد سے پاکستان میں اسپورٹس ٹورازم کو فروغ ملے گا۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، مقامی دستکاری اور کھانے پینے کے کاروبار چمک اٹھیں گے۔ اس کے علاوہ، اسٹیڈیمز کی تزئین و آرائش اور نئے اسپورٹس انفراسٹرکچر کی تعمیر سے مقامی سطح پر روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا جب اسلام آباد، لاہور اور پشاور کی سڑکوں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو ہنستے کھیلتے اور مہم جوئی کرتے دکھائے گا، تو پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوگا۔ یہ ایونٹ دنیا کو بتائے گا کہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور کھیلوں کے لیے موزوں ترین ملک ہے ,اتنے بڑے پیمانے پر ایونٹ کا انعقاد کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے سیکیورٹی، لاجسٹکس، کھلاڑیوں کی رہائش، بین الاقوامی معیار کے مطابق ٹریکس اور کورٹس کی تیاری، اور اینٹی ڈوپنگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عارف سعید کا یہ بیان کہ “نوجوان کھلاڑیوں کو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے” اور ان کا یہ عزم کہ “پاکستان ان کھیلوں کی میزبانی کو یادگار بنانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا”، انتہائی اطمینان بخش ہے۔ پاکستان کی کھیلوں کی فیڈریشنز اور حکومت کو مل کر ایک پیج پر آنا ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کی انتظامی کوتاہی سے بچا جا سکے۔
ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟2027 کے کھیلوں کو پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین ایونٹ بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کا فوری آغاز: اگلے چند مہینوں میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک گیر ٹیلنٹ ہنٹ کا آغاز کیا جائے تاکہ گراس روٹ لیول سے بہترین ایتھلیٹس کا انتخاب کر کے انہیں بین الاقوامی کوچز کی نگرانی میں ٹریننگ دی جا سکے۔
پاکستان کو صرف میزبانی نہیں کرنی، بلکہ میڈلز کی دوڑ میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنی ہے۔
اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے اسٹیڈیمز کو جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکور بورڈز اور بین الاقوامی معیار کے موافق بنایا جائے۔حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بڑے نجی اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر کو ان کھیلوں کو اسپانسر کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ فنڈز کی کمی کا سامنا نہ ہو۔ایک روشن اور اسپورٹنگ پاکستان کا خواب14ویں جنوبی ایشیائی کھیل 2027 پاکستان کے اسپورٹس کلچر میں ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ کھیل ہمارے نوجوانوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ ان کا مستقبل تاریک نہیں، بلکہ حکومت اور ریاستی ادارے ان کے خوابوں کو سچ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔جب اپریل 2027 میں جنوبی ایشیا کے 3,200 کھلاڑی پاکستان کی دھرتی پر امن اور دوستی کے پرچم تلے اکٹھے ہوں گے، تو وہ منظر دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ پاکستان کھیلوں کا گہوارہ ہے اور اس کے نوجوان دنیا کے کسی بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اس سے قبل انیس سو انواسی اور دو ہزار چار میں بھی ان کھیلوں کی کامیاب میزبانی کر چکا ہے، اور اب دو دہائیوں کے بعد اس میگا ایونٹ کا دوبارہ انعقاد اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستان کھیلوں کے میدان آباد کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ اسپورٹس فیڈریشنز اور ادارے مل کر گراس روٹ لیول سے ٹیلنٹ کو تلاش کریں اور انہیں جدید ترین ٹریننگ فراہم کریں تاکہ پاکستان نہ صرف بہترین میزبان کے طور پر سامنے آئے بلکہ میڈلز کی دوڑ میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کرے۔ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ اگلے برس 3 سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان میں سجے گا، جو بلا شبہ پاکستانی اسپورٹس ہسٹری کا ایک سنہرا باب ثابت ہوگا۔اس تاریخی موقع پر ساؤتھ ایشین سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (SASJA) کے بانی صدر اور سینئر جرنلسٹ اصغر علی مبارک نے کونسل کے فیصلوں کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک “کھیلوں کا انقلاب” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گیمز صرف تمغوں کی دوڑ نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے مابین ثقافتی، سفارتی اور عوامی روابط کو مضبوط کرنے کا ایک بے مثال ذریعہ بنیں گے
اب وقت آگیا ہے کہ پوری قوم، کھلاڑی، میڈیا اور حکومت مل کر اس تاریخی موقع کو کامیاب بنائیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ پاکستان بدل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے





