جموں و کشمیرمیں مودی سرکار نےعوام کو مایوس کیا…. ۔۔اندر کی بات ۔۔اصغر علی مبارک (کالم نگار )۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ہندوتوا نظریہ کےپرچار سےبھارتی عوام مایوس اورمعاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے, 5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئین میں تبدیلی کرکے آرٹیکل 370 ختم کرتے ہوئے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی نیم خودمختار حیثیت کردی اور وہاں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رکھا۔ اس فیصلے کو 2 سال ہوچکے ہیں, جموں و کشمیرمیں تکالیف اور مایوسی کا راج ہے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کا ایک مقصد منتازع خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا بھی تھا لیکن نئی دہلی کے اس اقدام سے علاقائی معیشت تباہی اور لوگ مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ 74 سالوں سے حل طلب ہے ۔کشمیریوں کی تین نسلیں آزادی کیلئے قربان ہو چکی ہیں ، کشمیر کی آزادی کیلئے لاکھوں کشمیری مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا ، جو کہ عالمی برادری کیلئے سوالیہ نشان ہے ۔ کشمیری مسلمان اپنے وطن اور اپنی سرزمین کیلئے مسلسل قربانیاں دیتے آ رہے ہیں ، بھارت کی ہٹ دھرمی نے مسئلہ کشمیر کو گھمبیر بنا دیا ہے ۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد تو یہ مسئلہ عالمی امن کیلئے خطرناک حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی برادری کو ہمدردی کے بیانات سے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانا ہونگے کہ کشمیریوں کی اپنی سرزمین ہے ، اپنا وطن ، تہذیب و ثقافت ہے ۔ وہ خیرات نہیں اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی حکومت کی کوششوں سے کشمیر کا مسئلہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور پوری دنیا مقبوضہ وادی میں ہونے والے بھارتی مظالم سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے اور اس پر اپنی آواز بھی اٹھا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے پوری دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور اس مسئلے کے حل کی جانب دلائی تھی ، انہوں نے ایران اور ترکی کے حکمرانوں سے بھی الگ الگ ملاقات کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں فوری طور پر ہٹا لے ۔ یورپی یونین اور کئی ملکوں کے سفیروں کے حالیہ دورہ مقبوضہ کشمیر کے بعد یونین کے ترجمان برائے امور خارجہ اور سلامتی پالیسی نے کہا کہ کشمیر میں نافذ پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا ناگزیر ہے۔ کشمیر میں ابھی تک پابندیاں عائد ہیں جن پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ پوری طرح بحال نہیں اور سیاسی قیدی ابھی تک نظر بند ہیں ۔ پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر ، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف بھارتی فوج کی جارحیت، لائن آف کنٹرول پر بھارت کی اشتعال انگیز گولہ باری ، سول شہریوں کا جانی و مالی نقصان ، بھارت کی آبی جارحیت سمیت بہت سے مسائل اجاگر کررہا ہے۔مسئلہ کشمیرکا اقوام متحدہ نے حل پیش کیا مگر بھارت کی ہٹ دھرمی سے اس پر آج تک پیش رفت نہ ہو سکی ۔بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کا ایک مقصد منتازع خطے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا بھی تھا لیکن نئی دہلی کے اس اقدام سے علاقائی معیشت تباہی اور لوگ مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں۔ بھارتی فوج کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے بعد اس سال اس وقت صورت حال مزید بگڑ گئی جب کرونا (کورونا) وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پابندیوں میں اضافہ کیا گیا۔ خارداروں تاروں سے سڑکوں کی بندش سے مسلم اکثریتی علاقے میں معمولات زندگی معطل ہو کر رہ گئے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔صحت کے شعبے کے کارکن کہتے ہیں کہ مسلسل پابندیوں نے کشمیریوں کی ذہنی صحت کے بحران کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے جب کہ کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مسائل کا شکار تھے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتیں 11 برس میں سب سے زیادہ ہونے جا رہی ہیں,ہمالیائی خطہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے ایک فلیش پوائنٹ چلا آ رہا ہے۔مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کیا گیا اور بڑی تعداد میں فوج نے سری نگر شہر کی سڑکوں پر گشت شروع کردیا۔ انٹرنیٹ سروس بند اور سینکڑوں سیاست دانوں اور کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔اس سب سے کشمیر کی پہلے سے کمزور معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہوئے۔ دکانوں اور چھوٹے کاروبار کی بندش کے نتائج بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید سنگین ہوئے۔کشمیر ایوان صنعت و تجارت کے مطابق بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 2020 کے اختتام تک 8 لاکھ افراد بے روزگار ہو چکے تھے۔علیحدگی پسند جنگجوؤں نے 1989 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی حکمرانی کے خلاف ایک ہمہ گیر تحریک شروع کی تھی۔ اس لڑائی میں ہزاروں کشمیری مارے جا چکے ہیں۔ تحریک شروع ہونے کے بعد علاقے میں لاکھوں کی تعداد فوج تعینات کر دی گئی.مودی سرکار کا اصرار ہے کہ 5 اگست 2019 کواٹھائے جانے والے قدم کا مقصد لڑائی ختم کروانا، ترقی کا عمل تیز کرنا اور ان اقلیتوں کو حقوق دینا تھا کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انہیں بھارتی حکمرانی کو چیلنج کرنے اور ان علیحدگی پسندوں کی بڑے پیمانے پر حمائت کی سزا دی جا رہی ہے جو آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں,جائزوں کے مطابق تقریباً آدھے کشمیری نوجوانوں کو کسی نہ کسی دماغی بیماری کا سامنا ہے اور ڈاکٹر جنہیں کھلے عام بات کرنے سے روک دیا گیا ہے ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اگست کے بعد سے صورت حال بہت خراب ہوئی ہے جس کی وجہ سے کریک ڈاؤن اور کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والا لاک ڈاؤن ہے,حالیہ مہینوں میں بھارتی فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے اور سال کے پہلے چھ ماہ میں ہونے والی جھڑپوں میں 229 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں 32 شہری بھی شامل ہیں۔ولیس نے شہید ہونے والے جنگجوؤں کی لاشیں ورثا کے حوالے کرنا بند کردیں ہیں۔ بڑے جنازوں سے بچنے کے لیےشہیدوں کےلاشوں کو دور دراز کے علاقوں میں دفن کر دیا جاتا ہے۔کشمیری تجزیہ کار صدیق واحد کہتے ہیں پانچ اگست کو جو دھچکہ لگا اس کے اثرات ابھی کم نہیں ہوئے۔ کشمیری عوام کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ وہ ہمیشہ خاموش نہیں رہیں گے