13 جولائی تحریک آزادی کشمیر کا تاریخی دن اور وزیراعظم عمران خان امید آزادی کشمیر۔۔ ؛ “اندر کی بات” کالم نگار ؛اصغرعلی مبارک ” امید آزادی کشمیر وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی تو ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کروں گا، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز اور میڈیا پر آواز اٹھاؤں گا، جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو گا، اس وقت تک سب جگہ آپ کی آواز بلند کروں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت بے شک 9 لاکھ سے زیادہ فوج لے آئے لیکن کشمیر کی آبادی آپ کی غلامی قبول نہیں کرے گی، کشمیر میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے دل میں سب سے پہلے آزادی کا جذبہ جاگتا ہے۔ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے لوگ جب اپنے مستقبل کا پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے تو پاکستان کشمیر کے لوگوں کو حق دے گا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں . وزیراعظم نے بھارتی وزیر اعظم کے نام پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو وہ حق دیں جو عالمی برادری نے حق دیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حق ملنا تھا تو آج میں سب سے پہلے دنیا کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ جو حق دیا گیا تھا کشمیر کے لوگوں کو وہ پورا نہیں ہو سکا جبکہ اسی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے مشرقی تیمور، انڈونیشیا جیسے مسلمان ملک میں، جہاں ایک جزیرہ تھا اور وہاں عیسائی زیادہ تھے، مشرقی تیمور کو وہ حق دیا اور وعدہ جلدی پورا کیا گیا، ریفرنڈم کرا کر ان کو آزاد کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں اقوام متحدہ کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ آپ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور کشمیر کے لوگوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کو یہ حق ملے گا اور مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے لوگ جب اپنے مستقبل کا پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے تو اس کے بعد پاکستان کشمیر کے لوگوں کو حق دے گا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں، آج صرف سارا پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑا بلکہ مسلمان دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اگر مسلمان ملکوں کی حکومتیں کسی بھی وجہ سے آپ کو سپورٹ نہیں کررہیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ساری مسلمان دنیا کی عوام مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط تحریر کیا ہے جس مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے,وزیر خارجہ نے یہ خط ایسے موقع پر لکھا جب دنیا بھر کشمیری 13 جولائی 1931 کا دن منا رہے ہیں حالات آج بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے قانونی اور اخلاقی اختیار کا استعمال کرے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر بھارتی قابض کشمیر میں جاری ‘سنگین صورتحال’ اور سیز فائر کی خلاف ورزیوں سمیت بھارت کے ‘پاکستان کے خلاف دشمنانہ اقدامات’ سے آگاہ کیاہے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں، مقبوضہ علاقے کو کالونی بنانے کی بھارت کی غیر قانونی مہم، اور سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں سمیت، پاکستان کے خلاف بھارت کے امن و سلامتی کے لیے خطرناک متشدد اور دشمنانہ اقدامات کی طرف مبذول کروائی ہے۔.تحریک آزادی کشمیرمیں13جولائی1931ء وہ دن ہے. جب 22کشمیری اذان کی تکمیل کرتے کرتے جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ بلاشبہ تاریخ میں شعائراسلام کے ساتھ محبت کایہ اپنی نوعیت کامنفردواقعہ ہے۔ 13 جولائی کے دن سری نگرجیل کے سامنے لاکھوں کامجمع تھااتنے میں اذان کاوقت ہوگیاایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوار پر چڑھا ابھی اس نے اذان کاپہلا کلمہ… اللہ اکبر… اداکیا تھا .کہ فوجی نے بغیر کسی انتباہ کے نشانہ باندھ کر اس کے سینے پرگولی ماری۔ جوان گولی کھاکرنیچے گرپڑاتڑپنے لگااورجام شہادت نوش کرگیا۔پھراسی دیوار پر ایک دوسرا نوجوان اچھل کر کھڑا ہو اور پہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی اس سے آگے شروع کردی۔ فوجی نے اسے بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا اور وہ بھی شہید ہو گیا۔چنانچہ یکے بعددیگرے22لوگ شہیدہوئے لیکن برستی گولیوں اورمیدان کارزار میں بھی اذان مکمل کی۔اذان کی تکمیل کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوںمیں19سال کے بچے سے لے کر75سال کے بزرگ شامل تھے.حالات آج بھی کچھ مختلف نہیں کشمیریوں کو روزانہ شہید کیا جارہا ہے اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کہنے والوں پرگولیاں برسائی جاتی ہیں.خط میں نشاندہی کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھائے گئے تمام یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور چوتھے جنیوا کنونشن کی متعلقہ قراردادیں شامل ہیں، مثلاً ڈیموگرافک تبدیلی، اراضی پر قبضہ اور فرضی انتخابات جیسے اقدامات ناقابل قبول ہیں’۔وزیر خارجہ نے بھارت اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے گروپ کی واضح طور پر نشان زدہ گاڑی پر فائرنگ کے واقعے سے بھی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا جس سے اقوام متحدہ کے امن پسندوں کی حفاظت اور سلامتی کو خطرہ ہے اور ان کے مینڈیٹ کی تکمیل میں رکاوٹ ہے۔مہاراجہ ہری سنگھ کے وزیراعظم ویک فیلڈ نے اس واقعہ کے متعلق اپنی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ 13 جولائی کو جتنے بھی کشمیری مسلمان شہید ہوئے سب کی چھاتیوں پر زخم تھے ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا کہ جس کی پشت پر گولی لگی ہو۔امرواقع یہ ہے کہ ہماری آزادی میں اہل کشمیر کی قربانیاں بھی تاریخ سازہیں اب ہوایہ ہم تو 1947ء کے وقت آزادی کی نعمت سے ہمکنارہوگئے لیکن کشمیری ابھی تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں بلکہ یہ کہاجائے توبے جانہ ہوگا کہ مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی قبضہ ڈوگرہ راج کا تسلسل ہے۔ڈوگرہ راج کی ابتدا 16 مارچ 1846ء کو اس وقت ہوئی تھی جب جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرہ نے انگریزوں سے ساز باز کر کے تاوان جنگ کے طور پر کشمیر کو اس کے باشندوں اور وسائل سمیت صرف 75 لاکھ نانک شاہی روپوں،چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض خرید لیا تھا۔ توہین قرآن مجید کے واقعہ اور گرفتاری کے بعد بغاوت سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی جموں کی ا س تحریک کے روح رواں چوہدری غلام عباس تھے تو وادی کشمیر میں اس تحریک کی قیادت میر واعظ مولانا محمد یوسف اور شیخ عبداللہ کے ہاتھ میں تھی۔ وادی کشمیر میں اس تحریک کے دوبڑے مرکز تھے یعنی جامع مسجد سری نگر اور خانقاہ معلی۔ سری نگرکی جامع مسجد کا منبر میر واعظ خاندان کے پاس تھا۔جب احتجاج اپنے عروج پر پہنچا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے توہین قرآن کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا اور مہاراجہ کا وزیر اعظم بذات خود تحقیقات کیلئے جموں آیا۔ ویکیفلڈ نے بعد از تحقیق یہ بات تسلیم کر لی کہ قرآن مجید کی توہین ہوئی ہے لیکن ویکیفیلڈ نے یہ بھی ساتھ کہہ دیاکہ قرآن مجید کی توہین کا ارتکاب دانستہ نہیں کیا گیا۔ویکفیلڈ نے ایک طرف مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ وفد کی صورت میں مہاراجہ سے ملیں اور اپنے مطالبات پیش کریں دوسری طرف ویکفیلڈ نے یہ عیاری کی کہ ہندئووں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کر کے فرقہ وارانہ فسادات شروع کروادیئے۔ بعد ازاں مہاراجہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے غیر جانبدار رہنے کا مصنوعی بھرم قائم کرنے کے لئے اعلان کردیں کہ مہاراجہ نے جس طرح ہندئووں کے وفد سے ملنے سے انکار کر دیا ہے ایسے ہی وہ مسلمانوں کے وفد سے ملنا نہیں چاہتے یہ اعلان مہاراجہ کی صریحاََ جانبداری تھی۔بہرحال مہاراجہ کے اس اعلان نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ خانقاہ معلی میں ایک وسیع جلسے کا اہتمام کیا گیا اس جلسہ میں ایک غیر ریاستی باشندہ عبدالقدیر خان بھی موجود تھا۔عبدالقدیرخان نے سٹیج پر کھڑے ہو کر نہایت ہی غضبناک پرجوش اور مدلل قسم کی تقریر کی اس کی تقریر نے مجمع میں آگ لگادی۔جلسہ کے اختتام پر ریاستی پولیس نے عبدالقدیر خان کو گرفتار کر لیا وہ چونکہ کشمیری عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی وجہ سے گرفتار ہواتھالہذا کشمیری عوام کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ عبدالقدیر پر مقدمہ چلا تو کشمیری عوام ہزاروں کی تعداد میں کاروائی سننے کے لئے جمع ہوگئے۔اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیاجس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔ ایک وقت میں 22 افراد کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی,13 جولائی کی بازگشت ریاست جموں کشمیر کے علاوہ پورے ہندوستان میں سنائی دینے لگی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب ہندوستان بھر کے مسلمان اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چنانچہ 25 جولائی 1931ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کانفرنس طلب کی گئی جس میں حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمداقبال، خواجہ سلیم اللہ، نواب آف ڈھاکہ، مولانا ابوالکلام آزاد، خواجہ حسن نظامی، نواب سر ذولفقار علی خان،میاں نظام الدین، مولانا شوکت علی خان، مولانا عبدالمجید سالک، سید حبیب شاہ، مولانا اسماعیل غزنوی، مرزا بشیر الدین، اے آر ساغر، مولانا عبدالرحیم درد ؔاوران جیسے بیسیوں زعماء نے شرکت کی۔ اس موقع پر کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا اور 14 اگست 1931ء کو اظہار یکجہتی کشمیر کادن منایا گیا۔ گو کہ مرزا بشیرالدین محمود کی وجہ سے کشمیر کمیٹی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت ہوئے اور پورے ہندوستان کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ ڈاکٹراسلام الدین نیاز کے بقول’’اظہار یکجہتی کشمیر کی ہمہ گیری نے تحریک حریت کشمیر میں اتنی حرار ت پیدا کردی کہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی داستانِ مظلومیت ہر ذی شعور کی زبان پر آگئی۔‘‘ 13 جولائی کے شہدا کی قربانیوں نے پہلی دفعہ مہاراجہ کو مسلمانوں کے سامنے جھکنے اور دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا اس سے پہلے ریاست میں کشمیریوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر تھی 13 جولائی کی قربانیوں کی وجہ سے انہیں زندہ انسان تسلیم کیا گیا اور ان کے حقوق کی بات کی گئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ڈوگرہ راج کے ظلم کا سیاہ دور 13 جولائی کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت غروب ہوا اورپاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کا خطہ بھی اس دن کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کشمیری قوم 13جولائی کا دن آج بھی پورے جوش وخروش سے مناتی ہے۔اس لئے کہ ان کی آزادی کا سفر ابھی ادھورا ہے ڈوگروں کے بعد بھارتی استعمار مقبوضہ جموں کشمیر پر قابض ہے 13 جولائی کادن کشمیری قوم کے لئے سنگ میل اور مشعل راہ کی حیثیت رکھتاہے۔ 13 جولائی کا تاریخی دن تحریک آزادی کشمیر کے ہیروز کو یاد رکھنے کیلئے منایا جاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے بھارتی افواج کے خلاف دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں.بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ,تمام یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات، ڈیموگرافک تبدیلی، اراضی پر قبضہ اور فرضی انتخابات جیسے اقدامات کشمیری عوام کیلئے ناقابل قبول ہیں۔






