بھارت میں جاری علیحدگی پسند تحریکیں اور عالمی برادری کی خاموشی ۔۔۔۔اندر کی بات ۔۔اصغر علی مبارک (کالم نگار )…………..بھارت دنیا بھر جمہوریت کا چیمپئن بننے کا دعویدار ہے اور سیکولر ریاست کے طور پر منوانے کے لیے پروپیگنڈے کررہا ہے جبکہ حقیقت اس برعکس ہےبھارت میں انسانی حقوق کی پامالی صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں، پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بس بھارت سے آزادی کی تحریک صرف کشمیر میں چل رہی ہے مگر یہ درست نہیں۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب خالصتان,تامل ناؤ، آسام، ناگالینڈ، تری پورہ، منی پور، شمالی مشرقی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں بھی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں،ٹوٹ پھوٹ کےشکاربھارت میں 67 آزادی و علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں، جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ بھارت کے 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے ناگالینڈ ، مینر ورام ، منی پور اور آسام میں یہ تحریکیں جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک اور مقبوضہ کشمیرتحریک زوروں پرہے بھارت میں 1958 میں ”AFSPA” کے نام سے ایک قانون متعارف کرایا گیا جس کا مقصد فوج کو خصوصی اختیارات دے کر ملک بھر میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کو کچلنا تھا۔ اس قانون کے تحت ایک عام سپاہی کو بھی یہ اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ کسی بھی شخص کو غداری کے زمرے میں لاکر جیل بھجواسکتا تھا اور سر عام قتل بھی کرسکتا تھا۔ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوج نے علیحدگی پسندوں کے خون سے خوب ہولی کھیلی، اس قانون کا اطلاق سب سے پہلے کشمیر اور منی پورہ میں کیا گیا جو بھارتی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا۔بعد ازاں اسے پورے بھارت میں نافذ کردیاگیا، چنانچہ بھارت سے علیحدگی یا آزادی کی کوئی بھی تحریک سر اٹھاتی ہے تو بھارتی فوج تمام جائز و ناجائز ذرائع اور ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے اسے کچل دیتی ہے۔ لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، ان کی جائیداد و املاک نذر آتش کردی جاتی ہے، خواتین کی عصمتیں پامال کرنے میں کوئی شرم اور جھجھک محسوس نہیں کی جاتی، نوجوانوں کو گرفتار کرکے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیاجاتا ہے جہاں سے اکثر کبھی واپس نہیں آتے۔ اس سب کا مظاہرہ اکثر مقبوضہ کشمیر میں سامنے آتا ہے۔1970 میں بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اکالی دل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کا مقصد سکھوں کے حقوق کی پاس داری تھا۔ تنظیم کے تحت وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں سکھوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کو ختم کرے اور انھیں تمام شعبوں میں ہندو اکثریت کے مساوی حقوق دیے جائیں تاہم بھارت کی اس عرصے میں بننے والی کسی بھی حکومت نے سکھوں کے ان جائز مطالبات پر کان نہیں دھرا اور نسلی و مذہبی تعصب کی بنا پر امتیازی سلوک اور زیادتیاں جاری رکھیں۔ سکھوں نے ہندو حکمرانوں کے رویے سے مایوس مگر حکومت کی جانب سے اس مطالبے کے جواب میں قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ان پر اور ان کے حامیوں اور ہم دردوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا تو سکھوں نے 1980 میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا، بھارتی حکومت نے سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ سکھوں کی آبادیوں پر باقاعدہ فوج کشی کروائی گئی۔ خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے گھروں اور دفتروں پر چھاپے مارے گئے، انھیں پابند سلاسل کیا گیا، ان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا لیکن وہ تحریک کا زور نہیں توڑسکی، آخر کار 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر باقاعدہ حملہ کردیا، سکھوں کے اس مقدس مقام کی حرمت جوتوں تلے روند ڈالی گئی۔ قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ مذہبی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا۔اسی دوران اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے قتل کردیا جس سے صورت حال مزید خراب ہوگئی۔ حکومت کو بہانہ بھی ہاتھ آگیا اور اس کے حکم پر بھارتی فوج نے بڑا آپریشن کیا اور اکالی دل و خالصتان تحریک کی قیادت کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے تحریک کو دبادیا۔ 1990 تک یہ تحریک اپنی فعالیت کھوچکی تھی۔ تاہم خالصتان کا نظریہ آج بھی زندہ اور توانا ہے۔ تامل ناؤ: 1937 میں کانگریس کی صوبائی حکومت نے مدراس کے اسکولوں میں (موجودہ چنائے) میں جہاں تامل زبان بولنے والوں کی اکثریت تھی ہندی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا، اگرچہ وہ انگریز کا دور تھا مگر صوبوں میں کانگریس کے گورنر تھے جنھیں مکمل اختیارات حاصل تھے۔ تامل ہندو مذہب ہی کے ماننے والے ہیں، مگر انھوں نے ہندی زبان کا تسلط قبول نہیں کیا اور اپنے بچوں کو ہندی پڑھانے سے انکار کردیا۔ ریاست کی جانب سے اصرار کیا گیا تو انھوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندی بولنے والے حکمرانوں کے اس اقدام کا مقصد تامل بولنے والوں کو اپنا تابع بنانا ہے اور بڑی حد تک یہ بات درست بھی تھی۔1945 اور پھر 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950 کی دہائی میں تاملوں کا یہ احتجاج زور پکڑ گیا، ہڑتالیں کی گئیں، ریلیاں نکالی گئیں، اسکولوں اور حکومتی اداروں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کانگریس وزیروں کی مدراس آمد پر سیاہ پرچم لہرائے جاتے، لیکن بھارت کے متعصب حکمران اپنی ازلی ہٹ دھرمی چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ پولیس اور فوج نے تاملوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا، سیکڑوں لوگ جیلوں میں ڈالے گئے، تشدد کے واقعات میں بہت سے لوگ مارے گئے، بے شمار زخمی ہوئے، 1965 میں طلبہ نے اس تحریک کو عروج پر پہنچادیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس وقت تک تمام تامل بشمول طلبہ غیر مسلح تھے اور ان کی تحریک صرف ہندی بولنے والوں کے تسلط کے خلاف تھی۔جنھوں نے پہلے ہندی زبان ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی اور بعد میں لسانی منافرت پھیلائی اور لسانیت کی بنیاد پر تاملوں کے حقوق غصب کرنا شروع کیے۔ پر امن احتجاج کرنے والے تاملوں پر بھارتی حکمرانوں نے بہیمانہ تشدد کرایا۔ ایک ہفتے کے اندر سیکڑوں تامل پولیس کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہوئے۔ مرنے والوں کی تعداد کم ظاہر کرنے کے لیے خفیہ طور پر ان کی لاشیں جلادی گئیں۔یہ ایسی خوفناک صورت حال تھی جس پر اقوام متحدہ تک خاموشنہ رہ سکی اور اس نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا حالانکہ اقوام متحدہ کی پالیسی کے مطابق یہ عالمی ادارہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ مگر بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں نے تاملوں کے ساتھ اس قدر وحشیانہ سلوک کیا کہ اقوام متحدہ بھی چپ نہ رہ سکی۔بھارتی حکمران تاملوں کو خاموش نہ کراسکے تو انھوں نے وعدہ کیا کہ ہندی زبان زبردستی تاملوں پر مسلط نہیں کی جائے گی لیکن وہ بھارتی حکمران ہی کیا جو وعدہ وفا کر جائیں۔ یہ وعدہ بھی ان کی ایک روایتی چال تھی۔1968 میں تاملوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ ہندی بولنے والے حکمران کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کی تحریک نے ایک نیا موڑ لیا اور بجائے ’’ہندی زبان سے آزادی‘‘ حاصل کرنے کے انھوں نے بھارت سے ہی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کردی۔ اس کا عملی مظاہرہ انھوں نے اس وقت دیکھا جب حکومتی اور نجی اداروں میں تاملوں پر روز گار کے دروازے بند کیے گئے یعنی اگر کسی تامل کو ہندی نہیں آتی تو وہ کسی اچھے ادارے میں نوکری نہیں حاصل کرسکتا تھا,اس لیے تاملوں نے بھارت ہی سے علیحدگی کی ٹھان لی۔ لیکن یہ تحریک اب تک اس لیے زبان موثر نہیں ہوسکی کہ مرکز یا صوبے میں کبھی کوئی تامل برسر اقتدار نہیں آیا۔ لوگوں کے پاس وسائل اور اختیارات کی کمی ہے بلکہ یہ کہنا باکل بجا ہوگا کہ متعصب بھارتی حکمرانوں نے تامل ناؤ کو وسائل سے محروم کر رکھا ہے، اس کے باوجود تامل ناؤ میں آزادی کی تحریک کمزور سہی مگر جاری ہے۔آسام: بھارتی ریاست آسام میں آزادی کی تحریک 90 کی دہائی میں شروع ہوئی جب ایک مسلح گروہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے آسام کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی حکومت نے اس تنظیم کو فی الفور نہ صرف کالعدم قرار دے دیا بلکہ اس کے خلاف آرمی آپریشن بھی شروع کردیا گیا جو تاحال جاری ہے، بھارتی فوج نے خود کو حاصل چنگیز خانی اختیارات کے تحت آسام کے لوگوں پر ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ 10 ہزار سے زائد آسامیوں کو قتل کردیاگیا ہے، ہزاروں زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں۔ سیکڑوں لاپتا ہیں ۔آسام میں مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام کے نام سے ایک مسلم تنظیم بھی کام کررہی ہے جو آسام کے مسلمانوں کو بھارت سے آزادی دلانا چاہتی ہے تاہم اس تنظیم کا کردار بہت زیادہ موثر نہیں ہے۔آسام میں جاری علیحدگی کی تحریکوں کو عوام کی کھلی اور بھرپور حمایت حاصل نہ ہونے کا سبب بھارتی فوج کے وہ انسانیت سوز مظالم ہیں جو وہ محض معمولی سا شک ہوجانے پر لوگوں پر ڈھاتی ہے اور اکثر اس کی زد میں بے گناہ معصوم لوگ بھی آتے ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں کسی کے جان و مال محفوظ ہیں اور نہ عزت و آبرو۔ بھارتی حکومت ان مظالم کے لیے فوج کو بے تحاشا فنڈ فراہم کرتی ہے اور انھیں ہر طرح کی چھوٹ دے رکھی ہے، لیکن یہ ظلم وجور آسامیوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ میں کم کی بجائے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ وقت کے ساتھ آزادی کی یہ چنگاریاں شعلہ حوالہ میں ڈھل رہی ہیں جو ایک دن بھڑکے گا اور اپنی راہ کی ہر رکاوٹ کو جلاکر خاک کردے گا۔علیحدگی کی ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں اور ان ریاستوں کے باسی بھی بھارت کی حکومتوں کے جانب دارانہ رویوں اور بھارتی فوج کے آپریشن کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے سخت نالاں ہیں اور بھارت کے ساتھ مزید رہنے کو تیار نہیں۔ ان کی مشکل و سائل کی کم یابی اور مناسب قیادت کا فقدان ہے جس دن وسائل اور اچھی قیادت ملی علیحدگی کی تحریکیں پوری توانائی سے شروع ہوجائیں گی اور بھارت کا ان ریاستوں کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہ رہے گا۔ بھارت ایک کثیرالقومی اور کثیر اللسانی ملک ہے اور یہاں مذکورہ علاقوں کے علاوہ بھی بہت سی ریاستوں میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں کیوں کہ وہاں کے باسی اپنے حکمرانوں کے رویوں کے سخت شاکی ہیں جو اپنے رویوں اور کرتوتوں میں کوئی تبدیلی لانے پر بھی آمادہ نہیں مگر بھارت کی خوش نصیبی ہے کہ اس کے اطراف کوئی ایسا ملک موجود نہیں ہے جو خود بھارت ہی کی طرح دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور علیحدگی پسندانہ رجحانات کو فروغ دینے اور ان کی مدد و حمایت کا شوق رکھتا ہو۔مناسب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بھارت میں موجود آزادی کی تحریکوں کو موثر بین الاقوامی رسائی حاصل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا علیحدگی کی ان تحریکوں اور ان کو دبانے کے لیے بھارتی حکمرانوں اور فوج کے مظالم سے بے خبر رہتی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی سب سے بڑی تحریک ہے جس نے آج کل پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ کشمیری کسی بھی صورت میں بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔چین اب تک لداخ میں 3 اہم اسٹریٹجک مقامات پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے، جن میں دولت بیگ اولڈی، گلوان ویلی کے اہم حصے شامل ہیں۔ اس عمل کے بعد بھارتی فوج پینگانگ میں فنگرٹو تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ چین نے اس علاقے میں اپنی فوج اتارنے سے قبل اپنے فوجیوں کو مارشل آرٹ کی باقاعدہ تربیت دی تھی، تاکہ وہ لداخ کے سخت ترین موسمی حالات اور بھارتی فوجیوں سے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو مکمل تیار رکھ سکیں۔چین کی جانب سے قبضہ شدہ ان علاقوں میں سے وادی گلوان، لداخ اور اکسائی چین کے درمیان واقع ہے۔ جوکہ یہاں پر اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) اکسائی چین کو بھارت سے جدا کرتی ہے۔ یہ وادی چین کے جنوبی علاقے شن جیانگ اور بھارت کے علاقے لداخ تک پھیلی ہے۔بھارت کی جانب سے بھی اب اس علاقے میں فوج کی بڑی تعداد کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
چین کی جانب سے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارت وادی گلوان کے قریب سکیورٹی سے متعلق غیر قانونی فوجی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے مستقبل میں ان دونوں متحارب فریقین میں کوئی بھی سنگین واقع رونما ہو سکتاہے۔ چین کی جانب سے بھی اس علاقے میں فوجی تیاریوں میں مزید اضافہ کیا جارہاہے، حال ہی میں لداخ میں کنٹرول لائن کے قریب چینی فوج کے ہیلی کاپٹر کی کثرت سے پروازیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف بھارتی فضائیہ نے بھی اس علاقے میں جنگی طیاروں کے ذریعے پیٹرولنگ کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ڈویژنل کمانڈ کی سطح پر ہونے والی مذاکرات مسلسل ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں۔
اس علاقے سے منسلک بھارت اور چین کی سرحدیں ہندوستان کے انتہائی اہم اہمیت کے حامل علاقے سلگری کوریڈور سے ملتی ہیں، جسے چکن نیک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ چکن نیک کے علاقے میں موجود بھارت کی 7 ریاستوں کی سرحدیں چین، بھوٹان اور نیپال سے ملتی ہیں اور اس خطے کی اہم ریاست سکم ہے، جس کی سرحدیں بیجنگ اور نئی دہلی کو ملاتی ہیں۔ بھارتی ریاست سکم کی سرحدیں چین کے علاقے تبت سے ملتی ہیں۔ سکم کی ریاست بھارت کی آبادی کے لحاظ سے دوسری چھوٹی ریاست ہے، جو کہ انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔ چین بھارت کی شمال مشرقی ریاست آندھرا پردیش پر اپنا حق تسلیم کرتا ہے، یہاں پر تبتی نسل کے افراد کی آبادی زیادہ ہے، بھارتی یاتری یہاں سے تبت کے علاقے میں مذہبی عبادات کے لیے جاتے ہیں۔ چین کا موقف ہے کہ بھارتی فوج نے متنازع علاقہ کا اسٹیٹس یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس علاقے میں بھارت کی جانب سے بڑھتی خفیہ کارروائیوں اور جارحیت روکنے کے لئے چینی فوج نے زمین دوز بنکر بھی بنانے شروع کر دیئے ہیں، جب کہ وادی گلوان کے اطراف میں چینی اور بھارتی افواج دونوں جانب سے اپنے دفاع کی تیاری میں مصروف ہیں۔ جبکہ چینی افواج خصوصی ٹرکوں کے ذریعے فوجی آلات کی نقل و حرکت میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ کسی بھی وقت دونوں جانب سے ٹکراؤ ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی علاقائی خود مختاری کا تحفظ سمیت چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام قائم کرنے کے لیے پر عزم ہے، تاہم بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی بھی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس متنازعہ علاقے سے متعلق چین کا کہنا ہے کہ بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا۔ جس پر چینی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار بھی کیا تھا، جسے بعد میں رہا بھی کر دیا گیا۔ بھارتی آرمی چیف کی جانب سے کارروائی کو بھارت کیلئے شدید جھٹکا قرار دیا گیا ہے۔بھارت میں کئی ریاستیں ایسی بھی ہیں جن پر اس نے برطانوی راج سے آزادی کے فوری بعد فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جما کر انہیں’’انڈین یونین‘‘ میں زبردستی شامل کرلیا گیا تھا اور پھر اس نے ان علاقوں میں بزور بازو اپنی تہذیب، کلچر، ماحول، تمدن، سوچ و فکر، لٹریچر اور آرٹ و زبان کا نفاذ کرنا چاہا تھا۔ جس پر اسے ان ریاستوں کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ ان ریاستوں کی اپنی تہذیب، ثقافت، ادب زبان و طرزِ معاشرت بھارت سے بالکل مختلف ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ہونے کی دعوے دار بھارت میں اسکے دعوؤں کے برعکس انسانی حقوق کی پامالی ایک عام سی بات ہے، جوکہ صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں، بلکہ پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ ہندوتوا کے فلسفے کی پیروکار بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے تنگ نظری پر مبنی روش کی بنا پر دیکھتے ہی دیکھتے پورے بھارت میں اب تک 70 کے قریب علیحدگی پسند تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں ہیں۔ عالمی ماہرین ان تحریکوں کو محض بھارت کی اس ریاستی تنگ نظری، فکری گراوٹ، بے حسی اور متعصبانہ رویوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔
جن کی بنا پر شمال مشرقی بھارت کی سیون سسٹرز (سات بہنیں)کہلا نے والی ان سات ریاستوں جن میں آسام، تریپورہ، ہماچل پردیش، میزورام، منی پور، میگھالیہ اور ناگالینڈ عالمی طور پر بھی باغی تحریکوں کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے بھارت کی دیگر ریاستوں جن میں بہار، جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، اڑیسہ، مدھیا پردیش، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں بھی علیحدگی پسند گروپ سرگرم عمل ہیں۔ لیکن ناگالینڈ کے ناگا باغیوں اور نکسل باڑیوں کی تحریک اب بھارتی وجود کیلئے حقیقی خطرے کا روپ دھار چکی ہیں۔ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق صرف آسام میں ہی 34 باغی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، جو ملک کے 162 اضلاع پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ جن میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیمو کریٹک فرنٹ، کے ماتا پور لبریشن آرگنائزیشن، برچھا کمانڈو فورس، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا، مسلم ٹائیگرز، آدم سینا، حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد، گورکھا ٹائیگر فورس، پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ سرفہرست ہیں۔ دوسری جانب ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پو ر اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں۔ ناگا لینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل سب سے زیادہ موثر ہے، جب کہ منی پور میں پیپلز لبریشن آرمی، منی پور لبریشن ٹائیگرز فورس، نیشنل ایسٹ مائنارٹی فرنٹ، کوکی نیشنل آرمی اور کوکی ڈیفنس آرمی بھارت سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ اسی طرح تری پورہ میں آل تری پورہ ٹائیگر فورس، تری پورہ آرمڈ ٹرائبل فورس، تری پورہ مکتی کمانڈوز اور بنگالی رجمنٹ جدوجہد کر رہی ہیں۔ جبکہ ریاست میزورام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ علیحدگی کی تحریک کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ علیحدگی پسند تنظیمیں جن میں زیادہ تر مسلح تنظیمیں ہیں، ایک سیکولر سٹیٹ کا کچا چٹھا کھول دینے کیلئے کافی ہیں۔ ان عسکری گروہوں میں بیس کے قریب تو ایسے ہیں، جو حقیقت میں بھارتی وجود کو مسلسل کھوکھلا کر رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا علیحدگی کی یہ تحریکیں اس وقت بھارتی حکومت اور ریاست کیلئے بہت بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر علاقوں جن میں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔ دوسری جانب بھارت لداخ اور ارونا چل پردیش پر چین کے موقف سے بھی سخت پریشان ہے۔ علیحدگی کی ان تحریکوں نے بھارت کے ریاستی نظام کو بری طرح مفلوج کر رکھا ہے۔بھارت کے نقشے پر نظر ڈالیں تو شمال مشرق کی جانب سات ریاستوں پر مشتمل پٹی جسے تاریخی طور پر ’’سیون سسٹرز‘‘ یعنی سات بہنیں بھی کہاجاتا ہے۔ ان ریاستوں کو بنگلہ دیش اور بھوٹان نے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہ ریاستیں بھارتی ریاست مغربی بنگال کی ایک پٹی کے ذریعے بقیہ بھارت سے منسلک ہیں۔ دراصل بھارت ایک کثیرالثقافتی ، کثیر اللسانی اور مختلف مذاہب کاملک ہے۔جو کہ اگرچہ دعویٰ توجمہوریت کا کرتاہے، تاہم اس کے باوجود وہاں کی مذہبی اقلیتیں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔ دیگر مذاہب سے صرف نظر کر کے صرف ہندومت ہی کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ بھارت میں ہندوؤں کی نچلی ذاتیں بھی انتہائی غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں، تاہم اس کے باوجود ان کی شنوائی کہیں نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اچھوتوں نے بھی ’’دی دلت فریڈم نیٹ ورک‘‘ کے نام سے آزادی کی تحریک شروع کر ر کھی ہے۔
اس تناظر میں عالمی میڈیا کا بھی ماننا ہے کہ بھارت عسکریت پسندی کی وجہ سے اس وقت سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک بن گیا ہے۔ جہاں 317 عسکری کیمپ کام کر رہے ہیں۔ گویا کہ عملی طور پر اب عراق و شام کے بعد بم دھماکوں اور ہلاکتوں کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں ماؤنواز باغیوں، تامل علیحدگی پسندوں، خالصہ تحریک اور کشمیری مجاہدین سمیت آزادی کی دیگر تحریکیں بھی عروج پر ہیں۔ جس کے سبب علیحدگی پسندوں کی قوت میں بتدریج اضافے کے بعد بھارت کے 2025 تک کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکانات حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
ان حالات میں بھارت کیلئے اندرونی خلفشار سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دوسری جانب ہندو انتہا پسند تنظیموں نے بھی بھارت میں تربیتی کیمپ کھول رکھے ہیں۔ شیوسینا، راشٹر یہ سیوک سنگھ اور بجرنگ دل کے مظالم اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے ہی حریت اور علیحدگی پسندی کو تقویت ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی مقبوضہ اور حقوق سے محروم ریاستوں میں مظلوم اقلیتوں نے علیحدگی اور آزادی کی راہ چن کر منزل کی جانب سفر جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔

بھارت سے علیحدگی یا آزادی کی جب بھی کوئی تحریک سر اٹھاتی ہے، تو بھارتی فوج تمام جائز و ناجائز ذرائع اور ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے اسے کچل دیتی ہے۔ جن میں بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے اور ان کی جائیداد و املاک کو نذر آتش کردیا جاتا ہے، بھارتی افواج کی جانب سے اس دوران خواتین کی عصمتیں پامال کرنے میں کوئی شرم اور جھجھک محسوس نہیں کی جاتی۔ جبکہ اس دوران نوجوانوں کو گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے، جہاں سے اکثر وہ کبھی بھی واپس اپنے گھروں تک نہیں پہنچ پاتے۔