بھارت میں جاری علیحدگی پسند تحریکیں اور عالمی برادری کی بےحسی ۔۔۔۔اندر کی بات ۔۔اصغر علی مبارک (کالم نگار )…………..بھارت دنیا بھر جمہوریت کا چیمپئن بننے کا دعویدار ہے اور سیکولر ریاست کے طور پر منوانے کے لیے پروپیگنڈے کررہا ہے جبکہ حقیقت اس برعکس ہےبھارت میں انسانی حقوق کی پامالی صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں، پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔عام طور سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بس بھارت سے آزادی کی تحریک صرف کشمیر میں چل رہی ہے مگر یہ درست نہیں۔ کشمیر کے علاوہ مشرقی پنجاب خالصتان,تامل ناؤ، آسام، ناگالینڈ، تری پورہ، منی پور، شمالی مشرقی بھارت سمیت کئی ریاستوں میں بھی علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں،ٹوٹ پھوٹ کےشکاربھارت میں 67 آزادی و علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں، جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ بھارت کے 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے ناگالینڈ ، مینر ورام ، منی پور اور آسام میں یہ تحریکیں جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک اور مقبوضہ کشمیرتحریک زوروں پرہے بھارت میں 1958 میں ”AFSPA” کے نام سے ایک قانون متعارف کرایا گیا جس کا مقصد فوج کو خصوصی اختیارات دے کر ملک بھر میں جاری علیحدگی پسند تحریکوں کو کچلنا تھا۔ اس قانون کے تحت ایک عام سپاہی کو بھی یہ اختیار حاصل ہوگیا کہ وہ کسی بھی شخص کو غداری کے زمرے میں لاکر جیل بھجواسکتا تھا اور سر عام قتل بھی کرسکتا تھا۔ اس اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بھارتی فوج نے علیحدگی پسندوں کے خون سے خوب ہولی کھیلی، اس قانون کا اطلاق سب سے پہلے کشمیر اور منی پورہ میں کیا گیا جو بھارتی نقطہ نظر سے بہت کامیاب رہا۔بعد ازاں اسے پورے بھارت میں نافذ کردیاگیا، چنانچہ بھارت سے علیحدگی یا آزادی کی کوئی بھی تحریک سر اٹھاتی ہے تو بھارتی فوج تمام جائز و ناجائز ذرائع اور ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کرتے ہوئے اسے کچل دیتی ہے۔ لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے، ان کی جائیداد و املاک نذر آتش کردی جاتی ہے، خواتین کی عصمتیں پامال کرنے میں کوئی شرم اور جھجھک محسوس نہیں کی جاتی، نوجوانوں کو گرفتار کرکے بغیر مقدمہ چلائے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال دیاجاتا ہے جہاں سے اکثر کبھی واپس نہیں آتے۔ اس سب کا مظاہرہ اکثر مقبوضہ کشمیر میں سامنے آتا ہے۔1970 میں بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اکالی دل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کا مقصد سکھوں کے حقوق کی پاس داری تھا۔ تنظیم کے تحت وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں سکھوں کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کو ختم کرے اور انھیں تمام شعبوں میں ہندو اکثریت کے مساوی حقوق دیے جائیں تاہم بھارت کی اس عرصے میں بننے والی کسی بھی حکومت نے سکھوں کے ان جائز مطالبات پر کان نہیں دھرا اور نسلی و مذہبی تعصب کی بنا پر امتیازی سلوک اور زیادتیاں جاری رکھیں۔ سکھوں نے ہندو حکمرانوں کے رویے سے مایوس مگر حکومت کی جانب سے اس مطالبے کے جواب میں قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئیں۔ان پر اور ان کے حامیوں اور ہم دردوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا تو سکھوں نے 1980 میں باقاعدہ مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا، بھارتی حکومت نے سکھوں کی اس تحریک کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ سکھوں کی آبادیوں پر باقاعدہ فوج کشی کروائی گئی۔ خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے گھروں اور دفتروں پر چھاپے مارے گئے، انھیں پابند سلاسل کیا گیا، ان کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا لیکن وہ تحریک کا زور نہیں توڑسکی، آخر کار 1984 میں بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹمپل پر باقاعدہ حملہ کردیا، سکھوں کے اس مقدس مقام کی حرمت جوتوں تلے روند ڈالی گئی۔ قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا۔ مذہبی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا۔اسی دوران اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے قتل کردیا جس سے صورت حال مزید خراب ہوگئی۔ حکومت کو بہانہ بھی ہاتھ آگیا اور اس کے حکم پر بھارتی فوج نے بڑا آپریشن کیا اور اکالی دل و خالصتان تحریک کی قیادت کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے تحریک کو دبادیا۔ 1990 تک یہ تحریک اپنی فعالیت کھوچکی تھی۔ تاہم خالصتان کا نظریہ آج بھی زندہ اور توانا ہے۔ تامل ناؤ: 1937 میں کانگریس کی صوبائی حکومت نے مدراس کے اسکولوں میں (موجودہ چنائے) میں جہاں تامل زبان بولنے والوں کی اکثریت تھی ہندی زبان کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا، اگرچہ وہ انگریز کا دور تھا مگر صوبوں میں کانگریس کے گورنر تھے جنھیں مکمل اختیارات حاصل تھے۔ تامل ہندو مذہب ہی کے ماننے والے ہیں، مگر انھوں نے ہندی زبان کا تسلط قبول نہیں کیا اور اپنے بچوں کو ہندی پڑھانے سے انکار کردیا۔ ریاست کی جانب سے اصرار کیا گیا تو انھوں نے اس کے خلاف احتجاج شروع کردیا۔ وہ جانتے تھے کہ ہندی بولنے والے حکمرانوں کے اس اقدام کا مقصد تامل بولنے والوں کو اپنا تابع بنانا ہے اور بڑی حد تک یہ بات درست بھی تھی۔1945 اور پھر 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد 1950 کی دہائی میں تاملوں کا یہ احتجاج زور پکڑ گیا، ہڑتالیں کی گئیں، ریلیاں نکالی گئیں، اسکولوں اور حکومتی اداروں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ کانگریس وزیروں کی مدراس آمد پر سیاہ پرچم لہرائے جاتے، لیکن بھارت کے متعصب حکمران اپنی ازلی ہٹ دھرمی چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔ پولیس اور فوج نے تاملوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا، سیکڑوں لوگ جیلوں میں ڈالے گئے، تشدد کے واقعات میں بہت سے لوگ مارے گئے، بے شمار زخمی ہوئے، 1965 میں طلبہ نے اس تحریک کو عروج پر پہنچادیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس وقت تک تمام تامل بشمول طلبہ غیر مسلح تھے اور ان کی تحریک صرف ہندی بولنے والوں کے تسلط کے خلاف تھی۔جنھوں نے پہلے ہندی زبان ان پر مسلط کرنے کی کوشش کی اور بعد میں لسانی منافرت پھیلائی اور لسانیت کی بنیاد پر تاملوں کے حقوق غصب کرنا شروع کیے۔ پر امن احتجاج کرنے والے تاملوں پر بھارتی حکمرانوں نے بہیمانہ تشدد کرایا۔ ایک ہفتے کے اندر سیکڑوں تامل پولیس کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہوئے۔ مرنے والوں کی تعداد کم ظاہر کرنے کے لیے خفیہ طور پر ان کی لاشیں جلادی گئیں۔یہ ایسی خوفناک صورت حال تھی جس پر اقوام متحدہ تک خاموشنہ رہ سکی اور اس نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا حالانکہ اقوام متحدہ کی پالیسی کے مطابق یہ عالمی ادارہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ مگر بھارت کے انتہا پسند حکمرانوں نے تاملوں کے ساتھ اس قدر وحشیانہ سلوک کیا کہ اقوام متحدہ بھی چپ نہ رہ سکی۔بھارتی حکمران تاملوں کو خاموش نہ کراسکے تو انھوں نے وعدہ کیا کہ ہندی زبان زبردستی تاملوں پر مسلط نہیں کی جائے گی لیکن وہ بھارتی حکمران ہی کیا جو وعدہ وفا کر جائیں۔ یہ وعدہ بھی ان کی ایک روایتی چال تھی۔1968 میں تاملوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا کہ ہندی بولنے والے حکمران کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کی تحریک نے ایک نیا موڑ لیا اور بجائے ’’ہندی زبان سے آزادی‘‘ حاصل کرنے کے انھوں نے بھارت سے ہی آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کردی۔ اس کا عملی مظاہرہ انھوں نے اس وقت دیکھا جب حکومتی اور نجی اداروں میں تاملوں پر روز گار کے دروازے بند کیے گئے یعنی اگر کسی تامل کو ہندی نہیں آتی تو وہ کسی اچھے ادارے میں نوکری نہیں حاصل کرسکتا تھا,اس لیے تاملوں نے بھارت ہی سے علیحدگی کی ٹھان لی۔ لیکن یہ تحریک اب تک اس لیے زبان موثر نہیں ہوسکی کہ مرکز یا صوبے میں کبھی کوئی تامل برسر اقتدار نہیں آیا۔ لوگوں کے پاس وسائل اور اختیارات کی کمی ہے بلکہ یہ کہنا باکل بجا ہوگا کہ متعصب بھارتی حکمرانوں نے تامل ناؤ کو وسائل سے محروم کر رکھا ہے، اس کے باوجود تامل ناؤ میں آزادی کی تحریک کمزور سہی مگر جاری ہے۔آسام: بھارتی ریاست آسام میں آزادی کی تحریک 90 کی دہائی میں شروع ہوئی جب ایک مسلح گروہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے آسام کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی حکومت نے اس تنظیم کو فی الفور نہ صرف کالعدم قرار دے دیا بلکہ اس کے خلاف آرمی آپریشن بھی شروع کردیا گیا جو تاحال جاری ہے، بھارتی فوج نے خود کو حاصل چنگیز خانی اختیارات کے تحت آسام کے لوگوں پر ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ 10 ہزار سے زائد آسامیوں کو قتل کردیاگیا ہے، ہزاروں زخمی ہوئے جن میں سے بہت سے زندگی بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں۔ سیکڑوں لاپتا ہیں ۔آسام میں مسلم یونائیٹڈ لبریشن ٹائیگرز آف آسام کے نام سے ایک مسلم تنظیم بھی کام کررہی ہے جو آسام کے مسلمانوں کو بھارت سے آزادی دلانا چاہتی ہے تاہم اس تنظیم کا کردار بہت زیادہ موثر نہیں ہے۔آسام میں جاری علیحدگی کی تحریکوں کو عوام کی کھلی اور بھرپور حمایت حاصل نہ ہونے کا سبب بھارتی فوج کے وہ انسانیت سوز مظالم ہیں جو وہ محض معمولی سا شک ہوجانے پر لوگوں پر ڈھاتی ہے اور اکثر اس کی زد میں بے گناہ معصوم لوگ بھی آتے ہیں۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں کسی کے جان و مال محفوظ ہیں اور نہ عزت و آبرو۔ بھارتی حکومت ان مظالم کے لیے فوج کو بے تحاشا فنڈ فراہم کرتی ہے اور انھیں ہر طرح کی چھوٹ دے رکھی ہے، لیکن یہ ظلم وجور آسامیوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ میں کم کی بجائے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ وقت کے ساتھ آزادی کی یہ چنگاریاں شعلہ حوالہ میں ڈھل رہی ہیں جو ایک دن بھڑکے گا اور اپنی راہ کی ہر رکاوٹ کو جلاکر خاک کردے گا۔علیحدگی کی ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں اور ان ریاستوں کے باسی بھی بھارت کی حکومتوں کے جانب دارانہ رویوں اور بھارتی فوج کے آپریشن کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری سے سخت نالاں ہیں اور بھارت کے ساتھ مزید رہنے کو تیار نہیں۔ ان کی مشکل و سائل کی کم یابی اور مناسب قیادت کا فقدان ہے جس دن وسائل اور اچھی قیادت ملی علیحدگی کی تحریکیں پوری توانائی سے شروع ہوجائیں گی اور بھارت کا ان ریاستوں کو اپنے ساتھ رکھنا ممکن نہ رہے گا۔ بھارت ایک کثیرالقومی اور کثیر اللسانی ملک ہے اور یہاں مذکورہ علاقوں کے علاوہ بھی بہت سی ریاستوں میں علیحدگی کے رجحانات پائے جاتے ہیں کیوں کہ وہاں کے باسی اپنے حکمرانوں کے رویوں کے سخت شاکی ہیں جو اپنے رویوں اور کرتوتوں میں کوئی تبدیلی لانے پر بھی آمادہ نہیں مگر بھارت کی خوش نصیبی ہے کہ اس کے اطراف کوئی ایسا ملک موجود نہیں ہے جو خود بھارت ہی کی طرح دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور علیحدگی پسندانہ رجحانات کو فروغ دینے اور ان کی مدد و حمایت کا شوق رکھتا ہو۔مناسب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بھارت میں موجود آزادی کی تحریکوں کو موثر بین الاقوامی رسائی حاصل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا علیحدگی کی ان تحریکوں اور ان کو دبانے کے لیے بھارتی حکمرانوں اور فوج کے مظالم سے بے خبر رہتی ہے۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی سب سے بڑی تحریک ہے جس نے آج کل پوری دنیا کو یہ باور کرادیا ہے کہ کشمیری کسی بھی صورت میں بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔عرصہ سے وادی میں کرفیو لگا ہوا ہے۔اس کے باوجود روزانہ کشمیری مسلمان بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج کے ظلم و ستم دنیا کے سامنے عیاں ہو رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا۔ جس کی آبادی 95 فیصد آبادی مسلم تھی۔ جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ علاقے بھارت کو دیے گئے۔ڈوگرہ حکومت کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے علم بغاوت بلند کیا اور وادی کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا وہ آزاد کشمیر کہلایا جبکہ باقی ماندہ کشمیر پر بھارت نے اپنا غاصبانہ قبضہ جما لیا۔بھارت نے دنیا کے سامنے یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کا حتمی فیصلہ جموں و کشمیر کے باشندوں کی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدازنہ رائے شماری کے ذریعے کرا یا جائے گا۔ لیکن وہ اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہے آخر کار5 اگست کو بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد دو ماہ سے زائد عرصہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے عوام کو رام کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کر رہی ہے۔بھارتی فوجیوں اور سیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ کرفیو کے دوران گھر گھر تلاشی اور سرچ آپریشن کے دوران متعدد خواتین و بچیوں کوعصمت دری کا نشانہ بنا ڈالا۔ روزانہ کشمیری نوجوانوں کو قتل کیا جاتا ہے ۔ وادی کشمیر میں ایک شخص بھی مودی حکومت کے5 اگست کے فیصلے سے خوش نہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت سمیت دنیا میں بسنے والے سکھوں نے بھی کشمیریوں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کو اس بات کی سمجھ آگئی ہے کہ کل کو ان کے ساتھ بھی یہی ہونے والا ہے۔ نتیجتاً کشمیر ایشو کے ساتھ ساتھ بھارت میں خالصتان تحریک زور پکڑ گئی ہے ۔بھارت کی دوسری بڑی تحریک مشرقی پنجاب میں خالصتان کی ہے۔ 80 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں سکھوں کی طاقت کو توڑنے اور انہیں اپنے زیر نگین رکھنے کیلئے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بھارتی فوج کو آپریشن بلیو سٹارکا حکم دیا۔یہ فوجی آپریشن 3 جون سے 6 جون 1984ء تک جاری رہا جس کی کمانڈ جنرل کلدیپ سنگھ نے کی۔ اس آپریشن کا بڑا مقصد سکھوں کے لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو گرفتار کرنا تھا۔ اس آپریشن میں فوج اور بھنڈرانوالہ کے حامیوں کے درمیان تین دن تک خون ریز جنگ جاری رہی جس میں 83 ہندو فوجی اور پندرہ سو سے زائد سکھ مزاحمت کار ہلاک ہو گئے تھے ۔ اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں بھارتی پنجاب میں سکھوں کی سب سے مقدس اور مرکزی عبادت گاہ گولڈن ٹمپل کی عمارت بالخصوص اکال تخت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ جس کا دکھ اور غم و غصہ آج 35 سال گزرنے کے بعد بھی ہر سکھ کے دل میں روز اول کی طرح بھرا ہوا ہے۔گولڈن ٹمپل کی تعمیر کا قصہ کچھ یوں ہے کہ سکھوں کے چوتھے گرو ’’رام داس‘‘ نے سب سے پہلے اس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا اور سکھوں کے پانچویں گرو ’’ارجن دیو جی‘‘ نے اگست 1604ء میں اس کو مکمل کروایا۔ بعد میں پنجاب کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ’’ہر مندر صاحب‘‘ کی عمارت کو مکمل طور پر باہر سے سونے کیساتھ کور کروا دیا جسکی وجہ سے اس کا انگریزی نام “گولڈن ٹمپل’’ مشہور ہو گیا۔ سکھوں کی اس مرکزی عبادت گاہ پر ہونے والے’آپریشن بلیو سٹار’ کے بعد پوری دنیا میں موجود سکھوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اب زیادہ دیر ہندوؤں کے زیر سایہ نہیں رہیں گے۔ 6 جون 2017ء کو گولڈن ٹیمپل میں منعقد ہونیوالی اس سانحہ کی 33 ویں برسی کے موقع پر سر عام سٹیج سے ’’آزاد خالصتان‘‘ کے نعرے لگائے گئے تھے۔یوں آزاد خالصتان کی تحریک جو بھارتی حکومت نے فوجی حکمت عملی سے کچھ عرصہ تک دبائے رکھی تھی، آتش فشاں کی طرح پھٹی اور لاوے کی طرح دنیا میں پھیل گئی۔بھارتی حکومت کی طرف سے تحریک خالصتان روکنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو جانے والا زمینی راستہ مشرقی پنجاب سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی تو ریڈ کلف ایوارڈ نے سرحدوں کا تعین کرتے وقت بے ایمانی کی تھی کہ مسلم اکثریت کے بعض اضلاع بھارت کے حوالے کر دیے تاکہ بھارت کو کشمیر تک راستہ محفوظ راستہ مل جائے۔ اب اگر خالصتان کا قیام عمل میں آتا ہے یاخالصتانی سکھ بھارت عمل داری کو پنجاب سے ختم کرتے ہیں تو سمجھیں کشمیر تو بھارت کے ہاتھ سے گیا۔ فضائی راستہ اپنی جگہ مگر فوجوں کی نقل و حرکت کیلئے زمینی راستہ کی اپنی اہمیت ہے۔ لہٰذا خالصتان بننے یا خالصتان تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں بھارت نہ صرف مشرقی پنجاب بلکہ کشمیر اور دیگر شمالی علاقہ جات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ کیونکہ آسام اور ناگا لینڈ میں بھی آزادی کی تحریکیں زوروں پر ہیں۔ نیپال کی حکومت پر بھی بھارت کا کنٹرول قائم ہے مگر چین کا اثرقائم ہونے کے بعد یہ ملک بھارت کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ حال ہی میںیہ دیکھ کر بھارتی حکمرانوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں کہ سکھوں نے خالصتانی پاسپورٹ اور خالصتان کی کرنسی کا ڈیزائن بھی مختلف ویب سائٹ پر جاری کر دیا ہے۔ بھارت میں اسی فیصد سکھوں نے اپنے فیس بک اکائونٹس، دکانوں ،دفاتر اور گھروں میں باقاعدہ خالصتان کے پاسپورٹ ،کرنسی کی تصاویر لگا لی ہیں۔ خالصتانی پاسپورٹ، کرنسی کی تصاویر سامنے آ نے کے بعد خفیہ اداروں ، فوج ،پولیس اور دیگر اہم سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر تعینات سکھ افسران پر سختی شروع کر دی گئی ہے۔ ان کے تبادلوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، انہیں ان اضلاع میں بھیجا جا رہا ہے جہاں سکھوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری ملازمتوں پر تعینات سکھوں پر باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس رکھا جا نے کا کہا گیا ہے۔ پنجاب میں ہندو جنونی افسران کو بھی تعینات کیا جا رہا ہے اور ان کو خاص ٹارگٹ دیا گیا ہے۔ فوجی بیرکوں کے با ہر تعینات سکھوں کو ہٹایا جا رہا ہے ۔ ان سکھ رہنمائوں اور لیڈروں کی مانیٹرنگ شروع کر دی گئی ہے جن کے عزیز ماضی میں خالصتان تحریک کے رہنما رہے ہیں۔پنجاب کی بڑی یونیورسٹیوں، سرکاری ، پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو مودی سرکار کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ اگر آپ کے اداروں میں سکھ طلباء نے خالصتان تحریک یا کشمیریوں کیلئے کوئی آ واز اٹھائی یا جلوس نکالا تو آ پ کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔ آپ پر لازم ہے کہ ایسے طلباء کو تعلیمی اداروں سے فارغ کر دیا جائے ۔ اس حکم نامے کے بعد پنجاب کی دو بڑی یونیورسٹیوں سے 112سکھ طلبا طالبات کو نکالا جا چکا ہے جبکہ دو تعلیمی اداروں کے سکھ ذمہ داران نے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے خود استعفٰی د یدیا ۔
آسام میں آزادی کی تحریک زوروں پر ہے۔ وہاںعلیحدگی پسندوں کی 34تنظیمیں ہیں۔انہوں نے تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ آزادی کی تحریک 90ء کی دہائی میں شروع ہوئی جب ایک مسلح گروہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام نے آزادی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی حکومت نے اس تنظیم کو فی الفور کالعدم قرار دیکر آرمی آپریشن شروع کردیا جو تاحال جاری ہے۔ بھارتی فوج نے چنگیز خانی اختیارات کے تحت آسامیوںپر ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ ایک ہزار سے زائد آسامیوں کو قتل کردیاگیا ، ہزاروں زخمی ہوئے،بہت سے زندگی بھر کے لئے معذور ہوگئے ، ہزاروں لاپتا ہیں۔بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم نے خوف طاری کر رکھا ہے۔معمولی سا شک ہوجانے پربے گناہوں پر ظلم ڈھایا جاتاہے، فوج کے ہاتھوں کسی کی جان و مال ، عزت و آبرو محفوظ نہیں۔ ان مظالم کے لئے فوج کو بے تحاشا فنڈ فراہم کئے جا رہے ہیںاور اسے ہر طرح کی چھوٹ دے دی گئی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ آزادی کی یہ چنگاریاں شعلہ جوالہ میں ڈھل رہی ہیں جو ایک دن بھڑکے گا اور اپنی راہ کی ہر رکاوٹ کو جلاکر خاک کردے گا۔ ناگا لینڈ نے بھارت سے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے 14 اگست2019 اپنے 73 ویں یوم آزادی کے طور پر منایا۔ ناگا لینڈ میں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ناگا لینڈ کا قومی پرچم اور قومی ترانہ بھی پیش کیا گیا۔ناگا لینڈ نے 14 اگست بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔چیئرمین نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالزم (این ایس سی این) یروئیوو ٹکو کا یوم آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ناگا لینڈ کے عوام اپنے آباؤ اجداد کے قومی فیصلے پر بالکل مطمئن ہیں کہ ناگا لینڈ 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ہم ناگا لینڈ کی عوام کے درمیان تقسیم کرنے والے کسی بھی بیرونی فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ناگا لینڈ کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ناگا لینڈ کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا کیونکہ ہماری اپنی زبان، اپنا مذہب اور اپنا کلچر ہے لیکن بھارت نے 1947 سے بعد جس طرح مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا بالکل اسی طرح ناگا لینڈ پر بھی قبضہ کر رکھا ہے,ناگا لینڈ بھارت کے شمال مشرق میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پہاڑی خطہ ہے اور یہاں کے لوگ قدیم قبائلی رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ناگا لینڈ کی 88 فیصد آبادی غیر ہندو مذاہب سے تعلق رکھتی ہے جس میں سے 67 فیصد عیسائی جب کہ باقی دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔1951 میں ہونے والے ریفرنڈم کے مطابق ناگا لینڈ کی 99 فیصد سے بھی زائد عوام نے بھارت سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے باوجود بھارت نے اپنی فورسز کو بھیج کر قبضہ کر لیا تھا۔قبائلی علاقوں میں ماؤ نواز وں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔کچھ عرصہ قبل بھارت کی پانچ ریاستوںجھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار اور مغربی بنگال میں ماؤ پرستوں پر ریاستی تشدد کے خلاف ہڑتال کوکامیاب بنانے میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے حصہ لیا۔ سکول، کالج و دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی دفاتر، ٹرانسپورٹ یہاں تک کہ ٹرین سروس بھی بند رہی ۔ مکمل پہیہ جام ہوا۔ جس سے بھارت سرکار ہل کر رہ گئی۔اسی دوران بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میںماؤ نواز علیحدگی پسندوں کے حملوں میں سینٹرل ریزرو فور س کے 83 اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔ ایک بکتر بند گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ بھارت کی بیس ریاستوں کے چھ سو اضلاع میں سے 223 میں ماؤنواز باغی سرگرم ہیں۔ایک اندازہ ہے کہ ماؤنواز باغیوں کے بیس رہنما، تیس کمانڈر اور تقریباً 12000 کیڈرز ہیں۔ ماؤنواز باغی جن علاقوں میں سرگرم ہیں ان میں بیشتربچھڑے علاقے ہیں اور وہاں قبائلی آبادی ہے۔ہندوستان میں ماؤنواز تنظیم کی عسکری شاخ کے سربراہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی نے دعویٰ کیا ہے کہ2025 ء تک ان کی فورسز’عوامی جنگ میں مکمل فتح‘حاصل کر لیں گی۔ماؤ نوازوں کو دلی پر قبضہ کرنے میں زیادہ سے زیادہ پندرہ برس لگیں گے۔ فورسز بہترین تربیت یافتہ ہیں اور مرکزی حکومت کی افواج کے کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
نکسل باڑیوں کا اثر ملک کی بیس ریاستوں کے 223 اضلاع میں پھیل چکا ہے۔نکسل باڑی تحریک نے خطرناک شکل اختیار کرلی ۔بھارتی وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ نکسلی ملک کی اندرونی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔حکومت نے نکسل باڑیوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی دھمکی بھی دی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ اس مقصد کے لئے فوج کے خصوصی دستوں اور فضائیہ کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔بھارت اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر ان نکسل علاقوں کے ہزاروں باشندوں کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر چکا ہے۔بھارت میں جاری علیحدگی پسند تحریکیں اور عالمی برادری کی بےحسی ایک سوالیہ نشان ہے عالمی برادری کو اس حوالے سے فوری مداخلت کرنا ہوگی. جمہوریہ ہندوستان یا بھارت گنراجیہ جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ اس میں پرانے دور سے ہی مختلف مذاہب کو یہاں رچرنے بسنے کا موقع دیا۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب 35 کروڑ سے زائد باشندے ایک سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھار ت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہیں، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان ہے اس کے علاوہ بھارت کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا ،مالدیپ کے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور اندامان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے سمندری حدود سے جڑے ہیں۔ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور عربوں کے قابض ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔
انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 1857ء کے غدر کے بعد حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876ء کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سنبھالنے کے لیے برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہن داس کرم چند گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، ابوالکلام آزاد، بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندر بوس کی قیادت میں بھارت نے 1947ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم ہو کر دو نئے ملک پاکستان اور بھارت بن گئے۔ اس علاقے پر آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تلسط 18 ویں صدی میں شروع ہوئی جبکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہاں برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی۔ دسمبر 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس کا پہلا اجلاس ممبئی میں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے 20 برسوں میں کانگریس کو آزادی یا سیلف گوورننس کی تشہیر میں خاص دلچسپی نہیں تھی.تاہم 1905 میں پہلی تقسیمِ بنگال کے بعد کانگریس نے اصلاحات کا مطالبہ تیز کر دیا اور آخرکار برطانیہ سے مکمل آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔سنہ 1906 میں ملک کے مسلمانوں کے حقوق کے لیے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔ کئی برسوں تک مسلم لیگ اور اس کے رہنماؤں نے ایک متحد اور آزاد انڈیا میں ہندو مسلمان اتحاد کے لیے مہم چلائی۔فروری 1938 میں مہاتماگاندھی اور قائد اعظم نے ملک میں مذہبی کشیدگی کا حل نکالنے کے لیے بات چیت شروع کی لیکن یہ بات چیت جولائی میں ناکام ہو گئی۔ دسمبر میں مسلم لیگ نے کانگریس کے مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک کی شکایات کی تحقیق کے بارے میں ایک کمیٹی قائم کی۔قیامِ پاکستان کی تحریک میں ایک اہم پڑاؤ 23 مارچ 1940 کو آیا۔ اسی دن برطانوی راج کے خلاف بھارت میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی مسلم لیگ نے لاہور میں ایک تجویز پیش کی جسے قرارداد پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں میں ایک پوری طرح آزاد اور خودمختار ملک کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی .وہیں وائسرائے لنلتھگو نے اگست کی پیشکش کا اعلان کیا، جس میں ایک ایگزیکیٹو کونسل اور وارایڈوائزری کونسل میں بھارتی نمائندوں کی تعیناتی کا اعلان ہوا۔ کانگریس اور مسلم لیگ نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور سترہ اکتوبر کو کانگریس نے انگریز راج کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے بھارت میں سیاسی اور قانونی ڈیڈلاک دور کرنے کے لیے 11 مارچ1942 کو برطانوی پارلیمان میں اعلان کیا کہ انگلینڈ کے سوشلسٹ رہنما سر سٹیفرڈ کرپس کو جلد ہی نئی تجاویز کے ساتھ ہندوستان بھیجا جائے گا جو سیاسی مسائل کے حل کے لیے بھارتی رہنماؤں سے مشورے کریں گے۔بائیس اورتئیس مارچ 1942 کے درمیان سر کرپس دلی آئے۔ انھوں نے ہندوستانی رہنماؤں سے طویل مذاکرات کیے اور 30 مارچ کو کرپس تجاویز شائع ہوئیں۔کرپس مشن کی تجاویز ہندوستانی نیشنلسٹس کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔ الگ الگ تنظیموں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان کی مخالفت کی اور کرپس تجاویز نامنظور کر دیں۔ 1942 میں گاندھی کی قیادت میں ہندوستان چھوڑو تحریک شروع ہوئی۔گاندھی اورجناح نے ستمبر 1944 میں مسلم لیگ کے پاکستان کے مطالبے پر بات چیت کی جو ناکام رہی۔ دونوں کے درمیان وجۂ اختلاف پاکستان کا مطالبہ تھا۔محمد علی جناح کا زور مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک یعنی پاکستان کے مطالبے پر تھا جبکہ گاندھی صرف آزادی کی بات کرتے تھے، جس میں بھارت میں ہندو اکثریت والی عارضی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو ان کی الگ شناخت تسلیم کیے جانے کی ضمانت دی جائے۔سنہ 1946 میں مسلم لیگ کی طرف سے کابینہ مشن سے خود کو الگ کر لینے اور راست اقدام کے مطالبے کے بعد ملک بھر میں ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان تشدد بھڑک اٹھا۔تشدد کی پہلی لہر کلکتہ میں 16 سے 18 اگست کے درمیان شروع ہوئی۔ ’گریٹ کلکتہ کلنگز‘ کے نام سے یاد کیے جانے والے اس واقعے میں تقریباً چار ہزار لوگ مارے گئے، ہزاروں زخمی اور تقریباً ایک لاکھ بےگھر ہوئے۔ تشدد کی یہ لہر مشرقی بنگال کے ضلع نواکھلی اور بہار تک پھیل گئی جس میں تقریباً سات ہزارمسلمان مارے گئے۔انتیس جنوری کومسلم لیگ نے آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ كيا۔ فروری میں پنجاب میں فرقہ وارانہ تشدد شروع ہو گیا۔برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلي نے اعلان کیا کہ برطانیہ جون 1948 تک بھارت چھوڑ دے گا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے کا عہدہ سنبھالیں گے۔چوبیس مارچ کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے وائسرائے اور گورنرجنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا,پندرہ اپریل کوگاندھی اور جناح کی جانب سے تشدد کے واقعات سے پرہیز کرنے کے لیے اپیل سامنے آئی۔دو جون کوماؤنٹ بیٹن نے بھارتی رہنماؤں سے تقسیم کے منصوبے پر بات کی اور تین جون کو نہرو،جناح اور سکھ کمیونٹی کے نمائندے بلدیو سنگھ نے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات میں اس منصوبے کے بارے میں معلومات دیں۔چودہ اگست کو بھارت سے الگ ہو کر پاکستان بنا اور پاکستان نے اپنا پہلا یوم آزادی منایا۔چودہ اگست کی رات بارہ بجے برطانیہ اور بھارت کے درمیان اقتدار کا تبادلہ ہوا تھا ور پندرہ اگست کو انڈیا نے اپنا پہلا یوم آزادی منایاتقریباً سوا کروڑ لوگ اپنا گھر بار چھوڑ ملک تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تقریباً دس لاکھ لوگ تشدد میں مارے گئے جن میں مسلمان شامل تھے۔









