ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب سے خطہ میں امن کی راہ ہموار ہو نگی.…….(اصغرعلی مبارک ;کالم نگار ”اندر کی بات ” ). ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب سے خطہ میں امن راہ ہموار ہو نگی. ایرانی صدر کے انتخاب میں سید ابراہیم رئیسی کو الیکشن ڈے واضح اکثریت برتری حاصل رھی مبصرین کے مطابق مہنگائی سے تنگ عوام کی اکثریت ابراہیم رئیسی کی طرف مائل نظر آئی جو ایران میں تبدیلی کے خواہاں ہیں ایران میں 18 جون بروز جمعہ تیرہواں صدارتی الیکشن یک طرفہ بن گیا تھا ابراہیم رئیسی گزشتہ صدارتی انتخاب میں حسن روحانی کے مقابلے میں الیکشن ہار گئے تھے لیکن اس بار ان کی پوزیشن عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے بعد کی وجہ سے مستحکم رہی . سید رئیسی اس سے پہلے حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی اور ایران کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور ان دونوں عہدوں کے دوران کی شہرت اچھی رہی ہے۔ دونوں جگہوں پر عوامی مفاد میں بنیادی انقلابی اقدامات اٹھانے میں آپ کامیاب رہے۔ بطور چیف جسٹس آپ نے کرپٹ افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا اور بیت المال کے ہڑپ کیے اربوں تومان واپس دلوائے۔ انقلابِ اسلامی کے بعد سے اب تک ایران میں دو اہم انقلابی کینڈیڈیٹس آقای علیریزا ذاکانی اور سعید جلیلی ، سید ابراہیم رئیسی کے حق میں دست بردار ہو گئے ہیں . صدر کا انتخاب عوامی ووٹ سے براہ راست ہوتا ہے اور مدت صدارت چال سال ہوتی ہے۔ ایک ہی شخص مسلسل دو مرتبہ صدر بن سکتا ہے۔ تیسری مرتبہ صدر بننے کے لیے چار سال کا وقفہ لینا پڑتا ہے۔ جلس خبرگان 88 مجتہدین پر مشتمل ہے جس کا کام سپریم لیڈر پر نظارت اور اگلے ولی فقیہ کو کشف کرنا ہے۔ اس کے اراکین کا انتخاب بھی عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی پارلیمنٹ کے اراکین کا انتخاب بھی عوام ہی کرتی ہے۔ ایرانی صدر کے انتخاب کا اثر خطہ پر بھی پڑتا ہے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے ایران کے تعلقات بہتر ہوئے پاکستان نے ایران اور سعودی عرب تعلقات میں بہتری کے لئے کلیدی کردار ادا کیا ایران کا آئندہ صدر سید ابراہیم رئیسی بھی سخت گیر نظریات کا حامل ہے,ایران کی طاقتور انتخابی نگراں تنظیم ، گارڈین کونسل نے صدارتی انتخابات کے لئے سات امیدواروں کی منظوری دی دو اہم انقلابی کینڈیڈیٹس آقای جلیلی اور زکانی، سید ابراہیم رئیسی کے حق میں دست بردار ہو گئے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کسی بھی امیدوار کی حمایت کیے بغیر آئندہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ موجودہ صدر روحانی آئین کے مطابق اپنی دوبارمدت میعاد پوری ہونے کے بعد کے بعد تیسری بار انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے. یرانی صدر کے انتخاب کے ضروری تھا کہ امیدواروں کاکوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہئے کل 592 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے اندراج کروایا ، نامزدگی کو جانچ پڑتال کے لئے گارڈین کونسل کو ارسال کیا گیا۔ ہدایت نامے کے مطابق امیدوار کی عمر 40 سے 75 سال کے درمیان ہونی چاہئے ، اس کے پاس ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی ہونا ضروری تھا ، ریاستی تنظیموں میں انتظامیہ کا کم از کم 4 سالہ تجربہ ، یا وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے چاہئیں تھیں ، یا دو سے زیادہ ملین آبادی والے شہروں کا گورنر ، یا میجر جنرل یا اس سے زیادہ کے عہدے کے حامل مسلح افواج کا ایک اعلی کمانڈر رہا ہو صدارتی انتخاب ایک اہم وقت پر آیا ہے جب 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لئے ایران مذاکرات میں مصروف ہے ، دیکھا جائے تو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والے فائنل راؤنڈ میں صرف 5 امیدوار باقی بچے جن میں ابراہیم رئیسئی ، محسن رضائی ، عبد الناصر ہیمتی ، عامر حسین غاززادہ . شامل ہیں۔ صدارتی امیدوارابراہیم رئیسی کواسٹیبلیشمنٹ کے پسندیدہ شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہےابراہیم رئیسی پر سنہ 2019 میں امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں.سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ابراہیم رئیسی کے لیے منصب صدارت تک جانے کا راستہ صاف کیا گیا. انھوں نے 2017 کے انتہائی منقسم انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ امیدوار اور موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔ سولہ ملین ووٹوں کے ساتھ ابراہیم رئیسی دوسرے نمبر پر رہے تھے جبکہ ان کے حریف نے 24 ملین ووٹ حاصل کیے تھے۔جناب ابراہیم رئیسی ایرانی عدلیہ کے سربراہ رہ چکے ہیں اور سخت گیر نظریات کے حامی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نہ صرف موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی بلکہ ممکنہ طور پر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے متوقع جانشین ہو سکتے ہیں۔اُن کے ساتھ اس صدارتی انتخاب کی دوڑ میں کوئی دوسرا ایسا امیدوار نہیں جس کا اتنا اثر و رسوخ اور ایرانی معاشرے میں عزت ہو۔جناب ابراہیم رئیسی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز ملک میں معاشی مشکلات کے باعث پیدا ہونے والی ’مایوسی اور ناامیدی‘ سے نمٹنے کے وعدوں کے ساتھ کیا ۔ایران کے قدامت پسندوں کو یہ جان کر کچھ اطمینان ہوا کہ ملک کی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی نے صدارتی انتخابات کے لیے خود کو بطور امیدوار پیش کیا ہے۔ سیاسی طور پر بھاری بھرکم شخصیت کے مالک ابراہیم رئیسی قدامت پسند کیمپ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ابراہیم رئیسی کو 82 سالہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا ممکنہ جانشین تصور کیا جاتا ہے، جنھوں نے انھیں 2019 میں ملک کی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ انھیں میڈیا اور ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایران میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وہ صف اول کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سابق صدرحسن روحانی کو ووٹ دینے والے اعتدال اور اصلاح پسند نالاں ہیں۔ بہت سے لوگ ملک کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں، جس میں امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کی وجہ سے مزید ابتری آئی .ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر کے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔تہران اور اہم عالمی طاقتیں اب اس معاہدے کو بحال کرنے کی غرض سے مذاکرات کر رہی ہیں۔ صدر حسن روحانی اعتدال پسند عالم ہیں جنھوں نے گذشتہ انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی اصلاح پسند انتخابات سے قبل رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی کھو چکے ہیں۔ یہ اس وقت واضح ہو گیا تھا جب 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ امیدوار قدامت پسندوں سے شکست کھا گئے تھے۔ ان انتخاب میں سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد رائے دہندگان کی شرکت پہلی بار اتنی نچلی سطح پر آئی۔ جناب ابراہیم رئیسی کو مباحثے اور مہم کے دوران مضبوط حریفوں کا سامنا کرنا پڑا۔سنہ 2013 اور 2017 کے انتخابات میں صدر روحانی کے اصلاح پسند حامی اب عوام کی تنقید کا نشانہ بنے رہے کیونکہ ان کا امیدوار معاشی اور سماجی بحالی کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا. تاہم ابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد ایران اب ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کا خواہشمند ہے خطے کے دیگر ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے علاوہ عالمی سطح پر ان کی سیاسی بصیرت ایک اہم کردار ادا کرے گی ۔










