او آئی سی پاکستان کے مثبت کردار کی معترف …….(..اندر کی بات..کالم…. اصغر علی مبارک)….. ………..’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ کے موضوع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی صدارت میں اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا اور مسلم امہ کو درپیش مسائل سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ کیا. پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی اتحاد تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےامت مسلمہ کو آئینہ دیکھایاہے ان کا کہناہے کہ ہم فلسطین اور کشمیر پر ناکام ہوچکے ہیں۔ عمران خان کے مطابق ’تمام ممالک کی اپنی خارجہ پالیسیاں ہیں مگر جس طرح کشمیر اور فلسطین میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں اگر امت مسلمہ متحد نہ ہوئی اور ایک مؤقف نہ رکھا تو کہیں کے نہیں رہیں گے۔او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ او آئی سی اجلاس پاکستان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ہورہا ہے، اور او آئی سی رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی آمد پر ان کا مشکور ہوں۔خیال رہے کہ پاکستان میں ہونے والے اس 48 ویں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں 57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ، مبصرین اور مہمان شریک ہیں۔فلسطین اور کشمیر کا متعدد بار حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ہم دونوں امور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ ہم کوئی اثر نہیں ڈال سکے۔ ہم منقسم ہیں۔ اور وہ طاقتیں جانتی ہیں۔ ہم ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں مگر پھر بھی ہم ناکام ہیں۔ ان کے مطابق ہم کسی ملک پر قبضے کی بات نہیں کرتے۔ بین الاقوامی قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت غیرقانونی طور پر واپس لے لی۔ اور اب انڈیا کوئی دباؤ محسوس نہیں کرتا۔‘ ان کے مطابق ’کشمیر میں جنگی جرائم ہو رہے ہیں۔ انڈیا کشمیر کی ’ڈیموگریفی‘ کو ایسے بدل رہے کہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا سکے۔‘افغانستان پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مستحکم افغانسان سے ہی دنیا میں دہشتگردی کے خاتمہ کا ضامن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کو بین الاقوامی کمیونٹی میں شامل کریں۔ افغان باہر کی مداخلت پسند نہیں کرتے۔‘وزیر اعظم عمران خان نے او آئی سی کی وزرائے خارجہ اجلاس کے شرکا کو اقوام متحدہ کی طرف سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دینے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اسلام فوبیا کا آغاز 9/11 سے ہوا۔’میں بہت خوش ہوں کہ پہلی بار عالمی سطح ہر یہ ادراک کیا جارہا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقیت ہے اور اس حوالے سےاقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 15 مارچ کا وہ دن ہے جب نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں ایک گن مین داخل ہوا اور اس نے فائرنگ کر کے 50 نمازیوں کو مار دیا۔ ان کے مطابق وہ گن مین یہ سمجھتا تھا کہ سارے مسلمان دہشتگرد ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق نائن الیون کے بعد دنیا بھرکے غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے مشکل ترین دور شروع ہوا۔ عمران خان کے مطابق ان کی انگریزی خاصی بہتر ہے مگر پھر بھی وہ اس لفظ روشن خیالی کو نہیں سمجھ پائے۔ ان کے مطابق روشن خیالی کا نعرہ محض مغرب کو مطمئن کرنے کے لیے لگایا گیا، اسلام تو صرف ایک ہی ہے جو پیغمر اسلام کا ہے لیکن دنیا کی ہرکمینوٹی میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ کرنے والا بھی ان کے معاشرے کا ہی ایک حصہ تھا مگر دنیا کی کسی اور کمیونٹی کو اس طرح دہشتگردی سے نہیں جوڑا گیا۔ عمران خان نے کہا کہ غریب ممالک پر نظرڈالیں، ان تمام ممالک میں یکساں بات یہی ہوگی کہ وہاں امیر اور غریب کے لیے علیحدہ قانون ہے۔ ان کے مطابق غریب ممالک کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں وائٹ کالر کریمینلز کو نہیں پکڑا جا سکتا اور معمولی جرائم پر پکڑ دھکڑ ہو جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج میں مغربی ممالک کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ وہاں فلاحی ریاست کا جو تصور موجود ہے وہ مسلم ممالک میں کہیں نہیں نظر آتا۔عمران خان کے مطابق پاکستان واحد ملک ہیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، قرارداد مقاصد کے مطابق پاکستان کو مدینہ کے طرز ہر اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ ویزراعظم نے کہا کہ افسوس ہے کہ مسلمان خود مدینہ کی ریاست کے ماڈل سے آگاہ نہیں ہیں، میں لوگوں سے کہتا ہوں کے ایک عظیم انقلاب کے نتیجے میں بننے والی ریاست مدیبنہ کے ماڈل کو سمجھیں۔ عمران خان کے مطابق مذہب کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں اسلاموفوبیا بڑھتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کو دہشتگردی سے جوڑ دیا گیا۔ ’بہت معذرت کے ساتھ میں کہوں گا کہ اس کے ذمہ دار ہم خود تھے کیونکہ اس بیانیے کا توڑ کرنے کے لیے ہم نے اقدامات نہیں اٹھائے۔‘او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی تھیم اتحاد ، انصاف اور ترقی ہے۔ ۔روس یوکرین جنگ میں اوآئی سی ثالث کاکردارادا کرسکتی ہے، اس تنازعہ سے دنیا میں پٹرول اور گندم کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،اجلاس سے کلیدی خطاب کے دوران روس اور یوکرین جنگ بندی کے لیے او آئی سی اور چین کی مشترکہ کوششوں کی تجویز پیش کی۔عمران خان نے اسلامی ملکوں کو غیر جانبدار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بلاک میں جانے اور جنگ کا حصہ بننے کے بجائے متحد رہ کر امن میں شراکت دار بنیں، یوکرین کی صورتِ حال پر تشویش ہے، جس سے تیل، گیس اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس اجلاس میں یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجاویز دی جائیں، بلاک کی سیاست اور کولڈ وار کی وجہ سے دنیا غلط سمت میں چل رہی ہے، ہم مسلم ممالک کو مل کر حکمتِ عملی وضع کرنی چاہیے، مسلمان ڈیڑھ ارب ہیں لیکن انہیں اہمیت نہیں دی جا رہی ایک مستحکم افغانستان عالمی دہشت گردی کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خواتین کے حقوق سمیت دیگر امور پر بھی بات کی۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت باہر سے لوگ لاکر کشمیریوں کا حق مار رہا ہے۔ ’کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنا جنگی جرم ہے۔‘وزیراعظم نے اپنے خطاب میں افغانستان کے بحران کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ ’افغانستان کے لوگ پسند نہیں کرتے کہ کوئی انہیں ڈکٹیٹ کرے۔دنیاپاکستان کے مثبت کردار کی معترف نظر آتی ہےاقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئیٹریس نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے لیے ویڈیو پیغام جاری کیاانہوں نے کہا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کو کئی محازوں پر مشکلات کا سامنا ہے، ہم مل کر ان چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں، روشن مستقبل کے لیے ہم مل کر مشترکہ چیلنجز پر قابو پا سکتے ہیں۔ سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کو سماجی عدم مساوات سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے، او آئی سی دنیا میں امن، سلامتی اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل کے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کرنے والے چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک چین دوستی مثالی اور تاریخی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چینی اور مسلم تہذیبوں نے انسانی ترقی میں کردار ادا کیا ہے، اس اجلاس کی تھیم دنیا کے اکثر ممالک کی سوچ کی ترجمانی کرتی ہے۔چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ چین مسلم دنیا کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہے، مسلم دنیا کو کورونا وائرس کی ویکسین کی مزید 30 لاکھ خوراکیں دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، کشمیر پر چین اوآئی سی ممالک کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے، دہشت گردی کو کسی ایک فرقہ کے ساتھ جوڑنے کی مخالفت کرتے ہیں, سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے او آئی سی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب افغانستان، فلسطین اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی حمایت کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے دن منانے پر پاکستان اور اس کے رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس معاملے میں مزید کامیابیاں سمیٹنے میں زیادہ کوششیں درکار ہوں گی۔‘سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب کی او آئی سی کے ممبر ممالک میں بھائی چارہ قائم رکھنے کی پالیسی واضح ہےاو آئی سی سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں انسانی بحران کی سی صورتحال ہے، سعودی عرب میں شہری آبادی پر حوثی حملے انتہائی قابل مذمت ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی میں ملوث ہے، ان کی زمینوں پر قبضہ اور مظالم کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر طویل عرصہ سے حل سے محروم ہے، مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے زیر قبضہ علاقے متنازع ہیں، کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ایک استصواب رائے میں ہے۔ نائیجر کے وزیر خارجہ حسومی مسعودو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افریقہ اور دیگر خطوں میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ ہے، او آئی سی کے 47ویں اجلاس میں بہت سی قراردادیں منظور ہوئیں جن پر عملدرآمد ناگزیر ہے، کشمیر اور فلسطین پر موثر آواز بلند کی گئی تھی، گروپس کے مختلف اجلاس ہوئے تاہم قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوئی جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔قازقستان کے نائب وزیراعظم نے خطاب میں کہا کہ قازقستان کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کوششیں جاری ہیں، ہم افغانستان کو انسانی امداد جاری رکھے ہیں، قازقستان جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ قراردادوں کے تحت مسئلے کے حل کی حمایت کرتا ہے۔مراکش کے وزیر خارجہ عثمان الجورندی نے خطاب میں علاقائی تنازعات کے پرامن سیاسی حل کی حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت مسئلہ فلسطین اور کشمیر کا منصفانہ حل نکالا جائے، دہشتگردی تمام رکن ممالک اور دنیا کے لیے شدید خطرہ ہے، ہمیں اپنے مشترکہ دشمن سے ہوشیار رہنا ہو گا جو اسلامی ممالک کو غیرمستحکم کر رہے ہیں۔نائیجیریا کے وزیر خارجہ نے خطاب میں کہا کہ امید ہے او آئی سی مہاجرین سے یکجہتی کا اظہار کرے گی، نائجیریا میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، یہ لوگ کیمپوں میں مقیم ہیں۔وزراء خارجہ اجلاس کے معزز مہمان 23 مارچ کی یوم پاکستان کی پریڈ میں بھی شرکت کریں گے۔او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دُنیا کی دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے اور دنیا بھر کے 57 مسلم ممالک اس کے رکن ہیں۔ او آئی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ہر سال اجلاس ہوتا ہے۔ پاکستان ،سعودی عرب، ترکی،افغانستان ، ایران ، انڈونیشیا ،ملائشیا،اردن،کویت ، لبنان ، لیبیا، الجزائر،چاڈ، مصر، یمن،سوڈان ،صومالیہ،فلسطین ،مراکش اور نائیجیریا بنیادی ارکان ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے 47 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور پاکستان اس سے پہلے 1970، 1980، 1993 اور 2007 میں چار بار او آئی سی اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آواز ہے، مسلم امہ کے درمیان مضبوط تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے ہم نے خصوصی نمائندہ مقرر کیا، ٹرسٹ فنڈ بنایا گیا، افغانستان کی معیشت کی بہتری کے لیے کام کرنا ہو گا، افغان حکومت کو داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپس کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے، انسانی بحران سے بچنے کے لیے پاکستان نے افغانستان پر او آئی سی کے خصوصی اجلاس کی میزبانی کی۔وزیرِ خارجہ نے کہا کہ او آئی سی مسلم امہ کے اتحاد اور یک جہتی کے لیے کام کر رہی ہے، پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے، دنیا کو ہنگامہ خیز صورتِ حال کا سامنا ہے، مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے، مشرق و مغرب کے درمیان کشیدگی سے عالمی امن کو خطرہ ہے، فلسطین کے عوام کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی، اقوامِ متحدہ نے ہماری آواز پر 15 مارچ کو اسلامو فوبیا کا دن مقرر کیا، اسلاموفوبیا کے حوالے سے او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کا تقرر اہم ہو گا، اسلامی تعاون تنظیم کے ذریعے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی وضع کی جا سکے گی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا میں تنازعات کا بڑا حصہ مسلم ملکوں میں ہے، دنیا کے دو تہائی مہاجرین کا تعلق 5 مسلم ممالک سے ہے، مسلم اُمّہ کو اس صورتِ حال میں ایک مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے، کشمیری اور فلسطینی گزشتہ 7 دہائیوں سے قبضے کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، 9 لاکھ بھارتی فوجی کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہے ہیں، ہندو توا کے کنٹرول کے تحت بھارتی مسلمان خطرے میں ہیں، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، آر ایس ایس اور ہندو توا نظریات کی حامل بی جے پی حکومت بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کر رہی ہے۔وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ او آئی سی ممالک کو جامع ترقی کی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے، بطور رکن پاکستان مسلم ممالک کے درمیان رواداری کو فروغ دے گا، تنازعات کے باعث ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے، مسلم دنیا کو مشرقِ وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے، مسلم ممالک میں تنازعات کے خاتمے کے لیے امہ کے درمیان تعاون اور روابط کا فروغ ضروری ہے، مسلم دنیا کو اپنی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے 2022ء کو نوجوانوں کا سال قرار دیا ہے، او آئی سی کے 50 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسلم ممالک بے امنی اور تنازعات کا شکار ہیں، توقع ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس امہ میں امن و سلامتی کے لیے کردار ادا کرے گا، کرپشن اور سرمایے کی غیر قانونی منتقلی کے خلاف اقدامات کرنا ہوں گے، ترقی میں شراکت داری اہم اقدام ہو گا، او آئی سی ممالک میں تجارت کو مزید فروغ دینا ہو گا۔مسلم دنیا کو عالمی برادری کے ساتھ مل کر کم ترقی یافتہ علاقوں کی ترقی پر توجہ دینی ہے، ماحولیات کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنانی ہے، کورونا کے خلاف بلا تفریق سب کی ویکسی نیشن ضروری ہے، فلسطین کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، پسماندگی، غربت اور کرپشن معاشرے کے لیے بڑا خطرہ ہیں، مسلم امہ کو ترقی کے لیے مشترکہ تحقیق اور تربیت کے منصوبوں پر توجہ دینا ہے۔’اتحاد، انصاف اور ترقی‘ کے موضوع پر اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس او آئی سی پاکستان کے مثبت کردار کی معترف نظر آئی جو پاکستان کامیاب خارجہ پالیسی اور وزیر اعظم کے سیاسی بصیرت کی ایک روشن دلیل ہے۔۔۔







