اقلیتوں اور مسلمانوں کے ساتھ مودی حکومت کاناروا سلوک جاری ۔۔اندر کی بات ۔۔اصغر علی مبارک (کالم نگار )….۔۔۔۔پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات پر توجہ دے ۔ اپنی اقلیتوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں ہونے والے امتیازی سلوک کے مرتکب بھارتی حکومت کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کہیں بھی اقلیتوں کے حقوق کے معاملے پر بات کرے۔ بی جے پی آر ایس ایس حکومت کا ریکارڈ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کا بیان حقائق اور تاریخ کے آئینے میں درست ہے، کیونکہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ چند سال پہلے بھی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی کانگریس سے خطاب کے موقع پر بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر کانگریس کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی گئی تھی,دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے والے ٹام لین ٹوس ہیومن رائٹس کمیشن کا اجلاس کانگریس مین جوزف پٹس کی صدارت میں منعقد ہوا تھا ۔اجلاس میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اور مظالم پر تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ مختلف پینلسٹس نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، بدھ مت، سکھوں، کشمیریوں اور دلت کمیونٹی پر ہونے والے مظالم کی داستانیں سنائیں۔ہرپیت سندھو ترجمان سکھ کمیونٹی کانگریس مینوں کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم مودی کی جماعت اقلیتوں کیخلاف مظالم کی ہدایت کار ہے۔آر ایس ایس ایک شدت پسند تنظیم ہے اور بی جے پی اس کا سیاسی ونگ۔ پولیس گردی اور عدالتی نظام کی کرپشن کی وجہ سے اقلیتوں کو انصاف نہیں مل رہا اور نریندر مودی کی اقلیتوں پر ظالمانہ حکومت پر کانگریس اور صدر اوباما کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہےاس موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر ٹی کمار نے بھارت میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کانگریس مینوں کے سامنے سوالات اٹھائے۔اجلاس میں سکھوں، دلت کمیونٹی اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد موجود تھی,بی جے پی آر ایس ایس حکومت کا ریکارڈ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔ پاکستانی دفترخارجہ کا بیان حقائق اور تاریخ کے آئینے میں درست ہے، کیونکہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔بھارت میں لاکھوں افراد کو بھوک اور مصائب میں پھنسانے والی مودی سرکار اپنی ناکام پالیسیوں کو چھپانے کے لیے نت نئے سماجی اور مذہبی مسائل پیدا کررہی ہے۔ نریندر مودی کے دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد انڈیا میں موجود اقلیتوں پر تشدد، دھمکانا، ان کو ہراساں کرنا اور ہجوم کے تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو مودی سرکار کی حمایت حاصل ہے۔گائے کو جواز بناکر دلت اور مسلمانوں کو زدوکوب کیا جاتا ہے، بعض اوقات انھیں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ہجوم اکٹھا ہوکر اقلیتی افراد کو مارتا ہے اور ان کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، مذہبی عدم رواداری، منافرت اور انتہا پسندی کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ یہ منظر نامہ اس حقیقت کا عکاس ہے کہ بھارت جو سیکولر ملک ہونے پر ناز کرتا تھا، اب ایک متعصب ریاست کا روپ دھار چکا ہے ، جہاں اقلیتوںپر عرصہ حیات تنگ کیا جاچکا ہے۔بھارت میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے، بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ برسوںکی طرح اس برس بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے نچلی ذات کے ہندوؤں، مسیحوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سیکڑوں برس حکمران بھی رہے۔تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا اور بھارت کے بانی رہنماؤں میں سب سے معروف موہن داس کرم چند گاندھی کو ہی 1948 میں ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ایک ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈسے نے قتل کردیا تھا۔ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت مہاتما گاندھی کو ’’ غدار‘‘ قرار دیتی ہے حالانکہ وہ خود ایک کٹر ہندو تھے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو قراردیا جارہا ہےبھارتی حکمراں جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد بابری مسجد پر بھی قبضہ کرلیا ہے، بابری مسجد کے سلسلے میں مسلمانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا، بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوتوا یا اکھنڈ ہندو مملکت کی علمبردار مودی حکومت کی شہ پر اقلیتوں کو کورونا وائرس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ہندو اکثریتی علاقوں سے مار مار کر نکالا جارہا ہے۔ انھیں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے نہیں دی جارہی ہیں اور مسلمان مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی حکمران جماعت نے ہندو انتہا پسندوں کو اقلیتوں پر حملہ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ بھارت کی سرکاری پالیسیاں اور اقدامات اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارت نے مسلمانوں کو منظم طور پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے والی پالیسیاں بنائیں۔ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، پولیس، عدلیہ اور خود مختار اداروں میں مداخلت کر رہی ہے۔ایچ آر ڈبلیو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی دلی میں 23 فروری 2020ء کے فسادات میں ہلاک 52 افراد میں سے 40 مسلمان تھے۔دلی فسادات بھڑکانے میں بی جے پی لیڈرز اور پولیس حکام پر الزامات ہیں۔ بھارتی حکام نے جان بوجھ کر دلی فسادات کی معتبر، غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کیں۔ بھارت نے فسادات کی تحقیقات کے بجائے کارکنان اور احتجاجی منتظمین کو نشانہ بنایا۔ اب بھی بھارتی حکام کسان احتجاج میں شامل اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کسان مظاہروں میں شریک افراد کو طفیلیے قرار دیا ہے، نریندر مودی نے کسانوں کے معاملے پر عالمی تنقید کو ایک تباہ کن نظریہ قرار دیتے ہوئے اسے براراست بھارت کے اندورنی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو حملوں سے بچانے میں ناکام رہی ہے۔ بھارتی حکومت اقلیتوں پر حملہ کرنے والوں کی سیاسی سرپرستی بھی کر رہی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہندو اکثریت کی کثیر تعداد کو سرکاری اداروں میں بھرتی کر لیا ہے۔ بھارتی حکمران جماعت کے اس اقدام سے مساویانہ حقوق کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ اس روش کی بنا پر بھارت میں ماہرین تعلیم، دیگر ناقدین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے اقلیتوں، کمزوروں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔بھارتی حکومت آئینی اور قانونی طور پر ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے تحفظ کی پابند ہے۔ لیکن مودی حکومت میں قانون سازیوں میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک کو جائز قرار دیا گیا ہے۔۔بھارتی انتہا پسند جماعتوں بی جے پی اور آر ایس ایس کا ریکارڈ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھرا پڑا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور قتل جیسے واقعات کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ سمیت کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔بھارت میں لاکھوں افراد کو بھوک اور مصائب میں پھنسانے والی مودی سرکار اپنی ناکام پالیسیوں کو چھپانے کے لیے نت نئے سماجی اور مذہبی مسائل پیدا کررہی ہے۔ نریندر مودی کے دوسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت میں موجود اقلیتوں پر تشدد، دھمکانا، ان کو ہراساں کرنا اور ہجوم کے تشدد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ ہندو مذہبی انتہا پسندوں کو مودی سرکار کی حمایت حاصل ہے۔مسلمان تو ایک طرف، صرف ایک گائے کو جواز بناکر دلت اوردیگر اقلیتوں کو زدوکوب کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ انہیں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ہندو غنڈوں کا ہجوم اکٹھا ہو کر اقلیتی افراد کو مارتا ہے اور ان کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مذہبی عدم رواداری، منافرت اور انتہا پسندی کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ یہ اس ملک کی منظر نگاری ہے، جو کبھی سیکولر ملک ہونے پر ناز کرتا تھا، جبکہ اب یہ ایک متعصب ریاست کا روپ دھار چکی ہے، جہاں اقلیتوںپر عرصہ حیات تنگ کیا جاچکا ہے۔ بھارتی حکمراں جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد بابری مسجد پر بھی قبضہ کیا۔ بابری مسجد کے سلسلے میں مسلمانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوتوا یا اکھنڈ ہندو مملکت کی علمبردار مودی حکومت کی شہ پر اقلیتوں کو کورونا وائرس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے ہندو اکثریتی علاقوں سے مار مار کر نکالا جارہا ہے۔ انھیں سبزی، پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے نہیں دی جارہی ہیں اور مسلمان مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھارت میں نفرت کی دیواریں تعمیر کررہی ہیں۔ بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی کوششوں اور کاوشوں کو دنیا کی کوئی طاقت نظر انداز نہیں کرسکتی۔ بھارتی مسلمان بڑے صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ ان سے ان کی ترقی اور پیشرفت کے اسباب کو سلب کرنے کی تلاش کی جاری ہے۔ بھارتی حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے ،ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔بھارت میں بی جے پی کے پہلے اقتدار سے ہی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔گزشتہ برسوںکی طرح اس برس بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے ہندوؤں کی نچلی ذاتوں، مسیحوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سینکڑوں برس حکمران بھی رہے۔تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اس سے منسلک ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھارت میں نفرت کی دیواریں تعمیر کررہی ہیں۔ بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی کوششوں اور کاوشوں کو دنیا کی کوئی طاقت نظر انداز نہیں کرسکتی۔ بھارتی مسلمان بڑے صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں حالانکہ ان سے ان کی ترقی اور پیشرفت کے اسباب کو سلب کرنے کی تلاش کی جاری ہے۔ بھارتی حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے ،ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔










