اتحادیوں کا ایک ہی دن انتخابات کرانے پراتفاق……….
کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک……………….. اتحادی جماعتوں نےایک ہی دن انتخابات کرانے پراتفاق کیا ہے, اتحادی جماعتیں متفق ہیں کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں اتحادی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور تمام فیصلے ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جائیں,وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا کام ثالثی یا پنچایت کرانا نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے دینا ہے اور 13 اگست کو پارلیمان کی مدت ختم ہونے کے بعد حکومتی اتحاد نے ایک ہی دن انتخابات کرانے پر اتفاق کیا ہے۔وزیر اعظم کا اتحادی جماعتوں کے اجلاس کے بعد کہنا تھا کہ ماضی قریب میں جو ہماری نشستیں ہوئی جن میں ہمیں درپیش چیلنجز پر گفتگو ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں جو اقدامات اٹھائے گئے اور قومی اسمبلی اور جوائنٹ ہاؤس نے اس معاملے کو ڈیل کیا اور عدالت عظمیٰ کے حوالے سے آئینی اور قانونی اقدامات کیے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی صورتحال بڑی چیلنجنگ ہے، سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسے پارلیمان نے قبول نہیں کیا لیکن سپریم کورٹ اپنے تین رکنی بینچ کے ساتھ معاملات آگے لے کر جانا چاہتی ہے تو اس لیے ہم دوبارہ اکٹھا ہوئے ہیں تاکہ اس پر ہم اپنے فیصلے کا دوبارہ اعادہ کریں کہ ہم 3-4 کا فیصلہ مانتے ہیں، تین دو کا یا پانچ دو کا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ کل اسی بینچ نے الیکشن کے متعلقہ فنڈز کے حوالے سے جواب مانگا ہے، اس سے پہلے جو سپریم کورٹ نے جو فیصلے دیے تھے پارلیمان نے ڈیل کیا اور آج بھی پارلیمان نے فیصلے دیے ہیںٍ اور جو قراردادیں منظور کی ہیں، یہ معاملہ بھی پارلیمان چاہے گی کہ ان کے سامنے لایا جائے اور اس بارے میں اپنی رائے کو قوم کے سامنے لے کر آئیں اور ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ اس معاملے میں پارلیمان نے جو فیصلے دیے ہیں اس کا احترام کریں۔اتحادی جماعتیں متفق ہیں کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں اور اتحادی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے اور تمام فیصلے ملک کے وسیع تر مفاد میں کیے جائیں گے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جو اپنے فیصلے میں کہا اس سے ہٹ کر میں نہیں سمجھتا کہ مجھے یا آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم سپریم کورٹ کو ضامن بنائیں، اس کو ہم ثالثی کا حق دیں، یہ ان کا کام نہیں ہے، پنچایت ان کا کام نہیں ہے، ان کا کام آئین و قانون کے مطابق فیصلے دینا ہے لہٰذا اس بارے میں کہ ایک دن الیکشن ہونے چاہئیں اور کب ہونے چاہئیں اس بارے میں اتحادی جماعتوں میں تو مکمل ایکا اور اتفاق ہے کہ 13 اگست کو پارلیمان کی مدت ختم ہوتی ہے اور اس کے بعد 90 دن شامل کیے جائیں تو اکتوبر نومبر میں وہ تاریخ بنتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو جو چیلنجز درپیش ہیں مجھے انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے ان کو حل کرنے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، اپنے صوبائی وزرائے خزانہ کو کہا کہ آپ آئی ایم ایف کی شرائط سے انکار کردیں تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری مشکلات پہلے ہی کم نہ تھیں کہ یہ کہہ کر مزید کانٹے بچھائے گئے کہ یہ سازش امریکا نے کی تھی اور پھر اتنی ڈھٹائی اور بے شرمی سے یوٹرن مارا، ایک دن یوٹرن مارا کہ امریکا نے سازش نہیں کی تھی، یہ سازش کے تانے بانے پاکستان کے اندر بُنے گئے تھے لیکن اس نے ہمارے خارجہ تعلقات کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا اور پھر کس طرح میں نے، وزیر خارجہ اور ہم نے مل کر معاملات کو ٹھیک کرنے کے لیے زور لگایا۔ معاملات میں بہتری تو آئی ہے مگر میں یہ کہنے کے قابل نہیں کہ معاملات تسلی بخش ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کی گئی، تقسیم در تقسیم معاشرے میں کی گئی، پاکستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد میں زہر گھولا گیا، استاد کو طالبعلم سے، آجر کو اجیر سے، سیاستدان کو ورکرز سے، ہر طرح کے حربے استعمال کر کے اس ملک میں انتشار پیدا کرنے کے تمام مواقع پیدا کیے گئے افواج پاکستان کو بھی معاف نہیں کیا گیا اور پاکستان سے باہر پی ٹی آئی کے ایجنٹس جو پاکستان کے دشمن ہیں، انہوں نے وہ گھناؤنا کردار ادا کیا کہ شاید دشمن بھی وہ کردار ادا نہ کرپاتا اور اس طرح کے ٹوئٹس اور بیانات جاری کیے گئے، اپنی ذاتی انا اور ذاتی اقتدار کے لیے پاکستان کے ہر مقصد کو بری طرح قربان کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے تین چار معاملات ہیں جن پر پارلیمان اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور کل ہمیں بتایا گیا ہے کہ دوبارہ اس کا فیصلہ کرنا ہے تو یہ میں نے اور آپ نے نہیں بلکہ پارلیمان نے اس کا فیصلہ کرنا ہے۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے شہباز شریفکا کہنا تھا کہ اکثریت کی رائے یہی ہے کہ ہمیں گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے تو اس کی کیا شکل ہو گی، اس کا فیصلہ ہم بیٹھ کر کر سکتے ہیں اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہم اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے بات ان تک پہنچائیں اور پارلیمانی کمیٹی اس پر بات کر کے پارلیمان میں اس حوالے سے گنجائش پیدا کر سکتی ہے، تاکہ قوم یہ جان سکے کہ اس اتحادی حکومت کے زعما نے اپنی آخری کوشش کر لی کہ ایک دن الیکشن کی تاریخ پر سب اکٹھے ہو جائیں اور اس پر ہم نے انا کو اپنا مسئلہ نہیں بنایا۔
یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سیاسی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیاجس میں الیکشن کمیشن کو پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے 14 مئی کی تاریخ کو برقرار رکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کوآ ج 27 اپریل تک بیک وقت انتخابات پر اتفاق رائے تک پہنچنے کا وقت دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے جمعہ کو پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو ٹیلی فون کیا اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے ملاقات کی پیشکش کی تھی۔۔دونوں سابق اسپیکرز نےملاقات پر اتفاق کیاتھا، جس کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کی تھی۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سیاسی، عدالتی اور معاشی معاملات پر وزیراعظم شہباز شریف کو تمام اتحادی جماعتوں کی جانب سے ’بھرپور تعاون‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے شہباز شریف کو رواں ہفتے پارلیمنٹ سے از خود نوٹس کے اختیارات سے متعلق بل کی منظوری پر مبارک باد دی۔ دونوں رہنماؤں نے پنجاب اور خیبرپختونکوا اسمبلیوں کے انتخابات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سیاسی اور معاشی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ۔
خیال رہے کہ دونوں اسمبلیوں کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سربراہی میں حکومتوں نے اکتوبر میں شیڈول عام انتخابات کی تاریخ کے لیے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی نیت سے جنوری میں تحلیل کردیا تھا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ 20 اپريل 2023 کوکہا تھا کہ عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی، کسی نے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے ملک کی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کے معاملے پر سماعت 27 اپریل تک ملتوی کردی تھی جب کہ عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان 26 اپریل کو ایک ملاقات طے ہے اس سے قبل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکمران اتحاد اور پی ٹی آئی کو شام 4 بجے تک مل بیٹھنے اور ملک میں انتخابات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا وقت دیا تھا، اس کے ساتھ ہی عدالت عظمٰی نے یہ بھی کہا تھا کہ عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی، کسی نے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔













چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی تھی جس کا 5 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا تھا،
سماعت کے دوران اتحادی جماعتوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ عید کے بعد اپوزیشن سے مذاکرات کا منصوبہ ہے تاہم چیف جسٹس نے سیاسی قائدین کو انتخابات کے معاملے پرمشاورت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سماعت میں 4 بجے تک کا وقفہ کردیا تھا۔تاہم شام 4 بجے تک سماعت دوبارہ شروع نہیں ہوئی تھی، اس کے بجائے پیپلزپارٹی کی نمائندگی کرنے والے فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل فار پاکستان منصور عثمان اعوان نے چیف جسٹس بندیال سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی تھی،شام 5 بج کر 30 منٹ کے قریب فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس کو آگاہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سماعت اب 27اپریل کو ہوگی۔ بعد ازاں عدالت عظمیٰ کی جانب سے سماعت کے جاری تحریری حکمنامے میں کہا گیا تھا کہ سیاستدانوں کے آپس کے تمام اختلافات پر مذاکرات کا اصل فورم سیاسی ادارے ہیں، عدالت کو ایک ہی دن پورے ملک میں انتخابات کے لیے مذاکراتی عمل پر کوئی اعتراض نہیں، ملک بھر میں ایک ہی دن انتخابات کا انعقاد قانونی اور آئینی سوال ہے۔اس میں کہا گیا کہ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلہ برقرار ہے، تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی پابند ہیں، فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل نے ان چیمبر ملاقات کی،
عدالت عظمٰی نے اپنے حکمنامے میں کہا تھا کہ عید کی چھٹیوں کے باعث رابطوں میں وقفہ کیا جا رہا ہے، اکثر سیاسی رہنما عید کے باعث اپنے آبائی علاقوں میں ہیں، رہنماوں کی مزید ملاقات 26 اپریل کو ہوگی، کیس کی مزید سماعت 27 اپریل کو ہوگی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے عدالت کے سامنے ملک میں ایک ہی دن الیکشن کی رائے سے نہ صرف مثبت ردعمل بلکہ اتفاق بھی کیا، سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اس عزم کو دہرایا کہ آئین سپریم ہے، اگر سیاستدانوں کے مابین تمام اختلافات پر مذاکراتی عمل شروع ہوا تو اس پر کافی وقت خرچ ہونے کا امکان ہے۔ تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ 26اپریل کو سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک اجلاس ہوگا، 27 اپریل تک سیاسی رابطوں اور ڈائیلاگ کی پیش رفت رپورٹ جمع کروائی جائے گی۔خیال رہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے ملک کی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواست پر سماعت کرنے کے بعد عدالت نےدرخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو طلب کیا تھا۔ گزشتہ سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے دعا کی تھی کہ” مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں، ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے”۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے، عدالت اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ” کیا آپ عدالت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں”؟ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ عدالت کے ہر لفظ کا احترام کرتے ہیں، ملک نے آئین کے مطابق ہی آگے بڑھنا ہے، ہمیشہ راستہ نکالنے اور آئین کے مطابق چلنے کی کوشش کی۔قوم نے آپ کا فیصلہ قبول کیا ہے، دیکھتے ہیں کی حکومت کا کیا نقطہ نظر ہے، ہمارے جماعت آئین کے تحفظ پر آپ کے ساتھ ہے۔ تاہم عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی کو حکمران اتحاد کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے ’باضابطہ دعوت‘ نہیں ملی۔ درخواست گزار کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ بیشتر سیاسی جماعتوں کی قیادت عدالت میں موجود ہے، مناسب ہو گا عدالت تمام قائدین کو سن لے، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے الیکشن ایک ہی دن ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا تھا کہ سیاسی قائدین کا تشریف لانے پر مشکور ہوں، صف اول کی قیادت کا عدالت آنا اعزاز ہے، قوم میں اضطراب ہے، قیادت مسئلہ حل کرے تو سکون ہو جائے گا، عدالت حکم دے تو پیچیدگیاں بنتی ہیں، سیاسی قائدین افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کریں تو برکت ہو گی۔ وزارت دفاع کی بھی یہی استدعا ہے کہ الیکشن ایک دن میں الیکشن ہوں اور درخواست گزار بھی یہی کہہ رہا ہے کہ ایک ساتھ الیکشن ہوں، اٹارنی جنرل نے یہ نکتہ اٹھایا لیکن سیاست کی نظر ہوگیا۔ عدالت نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو روسٹرم پر بلایا تو انہوں نے بتایا تھا کہ میں رات کو پاک افغان بارڈر سے آکر یہاں عدالت پیش ہوا ہوں، ہماری دعا ہے کہ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کارروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، مذاکرات کرنا آپشن نہیں اللہ کا حکم ہے۔ آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا ہے، دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ 1977 میں نتائج تسلیم نہیں کیے گئے اور احتجاج شروع ہو گیا، جس کے بعد میں سعودی سفیر اور امریکی سفیر نے مذاکرات کی کوشش کی جو ناکام ہوئے تو مارشل لا لگ گیا تھا۔ سیاستدانوں نے اپنا گھر خود ٹھیک کرنا ہے، نیلسن منڈیلا کے ساتھ 30 سال لڑائی کے بعد مذاکرات کیے گیے، نیلسن منڈیلا نے اپنے ایک بیٹے کا نام ڈیکلار رکھا۔ پاکستان جہموری جدوجہد کے نتیجے میں بنا کسی جنرل نے نہیں بنایا، آمریت نہ ہوتی تو ملک نہ ٹوٹتا۔
خیبر پختونخوا میں کسی نے پی ٹی آئی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ نہیں کیا تھا، دونوں صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کرنے پر عوام حیران ہے، ہم نہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں نہ پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں، سیاسی لڑائیوں میں رہنماؤں کو نقصان نہیں ہوتا، نقصان عوام کو پہنچتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں 30 سال کے بعد ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کا حل نکلا، سیاست، جمہوریت اور آمریت میں فرق ہے، جمہوریت اور سیاست میں بات چیت ہوتی ہے لیکن آمریت میں خواہش سامنے ہوتی ہے۔ ذاتی خواہش پر الیکشن نہیں ہوسکتے، 90 دن سے الیکشن 105 دن پر آگئے ہیں، اگر 105 دن ہوسکتے ہیں تو 205 دن بھی ہوسکتے ہیں۔ میڈیا نے پوچھا کہ مذاکرات کے لیے کیا آپ کو اسٹیبلشمنٹ نے اشارہ کیا ہے، میرا مؤقف ہے عدلیہ، افواج اور الیکشن کمیشن کو سیاست سے دور ہونا چاہیے، ہر کسی کو اپنے مؤقف سے ایک قدم ہیچھے ہٹنا ہوگا۔مسائل کی وجہ یہ ہے کہ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کمیشن غیر سیاسی نہیں ہوئے، سیاسی جماعتیں کبھی الیکشن سے نہیں بھاگتیں، ہمارا مؤقف کبھی ایک کو اچھا لگتا ہے کبھی دوسری جماعت کو۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم اور عمران خان سے ملاقات کی، دونوں سیاسی جماعتوں سے اخلاص کے ساتھ بات کی، مجھ سے پوچھا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کہ کہنے پر بات تو نہیں کی، میں تو چاہتا ہوں کہ سب اداروں کو ازاد رہنا ہوگا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا، پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے۔تمام سیاسی قائدین نے آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے، آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے، آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی۔عدالت نے 13 دن کی تاخیر کے بعد حکم دیا تھا، الیکشن کمیشن شیڈول میں تبدیلی کے لیے بااختیار ہے، پولنگ کا دن تبدیل کیے بغیر الیکشن کمیشن شیڈول تبدیل کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن رجوع کرے عدالت مؤقف سن لے گی۔سراج الحق، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے، بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کچھ اور تھی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تمام لیڈرز نے آئین کی پاسداری کی بات کی ہے، ملک کا نظام آئین کے تحت چلتا ہے اس پر عمل نہیں کریں گے تو اگر مگر میں پھنس جائیں گے۔جولائی میں بڑی عید ہو گی اس کے بعد الیکشن ہو سکتے ہیں، عید کے بعد انتخابات کی تجویز سراج الحق کی ہے، دو امکانات ہیں کہ سماعت ختم کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ یہ عدالت ان پریکٹیکل چیزوں پر غور نہیں کرسکتی، ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں، ہو سکتا ہے پس پردہ جماعت اسلامی نے کچھ کیا ہو، اخبارات میں پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح طور پر سامنے نظر آیا ہے۔چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی، کسی نے عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کیا، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ 14 مئی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا کو کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ شیڈول تبدیل کرسکتے ہیں تو کریں۔




