آرمی چیف تقرری ; سمری وزیراعظم شہباز 18 نومبر کو ارسال کریں گے.؟………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)………………………پاکستان کے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی تقرری کی سمری وزیراعظم شہباز شریف 18 نومبر کو صدر مملکت کو ارسال کریں گے۔ یہ روایت بن گئی ہے کہ بحریہ اور فضائیہ کے چیفس کی تعیناتی کے برعکس پاکستان آرمی سے ہر تین سال بعد پاکستان آرمی سے دو فور سٹار جنرلز ترقی پاتے ہیں۔

ان میں سے ایک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعینات ہوتا ہے جبکہ دوسرا آرمی چیف بنتا ہےآرمی چیف کے عہدے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل نعمان پرویز راجہ اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر فیورٹ ہیں۔جبکہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدوں کے دعویدار ہیں۔ اگر وزیراعظم 27 نومبر کو لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے پہلے ترقی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی ترقی اس دن سے شروع ہو جائے گی جس دن وزیراعظم انہیں نیا آرمی چیف مقرر کریں گے۔مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی کی سمری سیکریٹری دفاع کے دفتر سے ہی وزیراعظم کو بھیجی جاتی ہے یہ روایت بھی موجود ہے کہ عام طور پر اگر ایک ’آسامی ہے تو تین نام بھیجے جاتے ہیں اور اگر دو عہدے ہیں تو پانچ نام بھیجے جاتے ہیں مگر ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جب خود نواز شریف نے ہی سمری میں شامل ناموں کی بجائے خود فیصلہ کیا کہ کس افسر کو سربراہ کے عہدے پر تعینات کرنا ہے۔ وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ وہ کب نئے چیف کا اعلان کریں۔ جنرل باجوہ نے تو کہہ دیا ہے کہ انھیں توسیع نہیں چاہیے۔‘ اب ایسا لگتا ہے کہ یہ طاقت کا کھیل بنتا ہے جس میں ایک نام شہباز شریف، دوسرا عمران خان اور تیسرا نام جنرل قمر باجوہ کا آتا ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ یہ سب آرمی چیف کی تعیناتی کی وجہ سے ہے سیاسی میدان میں جاری ہلچل اور عمران خان کی سرگرمیاں دراصل نئے آرمی چیف کی تعیناتی ہے۔ اس لیے یہ فیصلہ جس قدر جلد اور میرٹ پر ہو جائے، اتنا ہی جلدی یہ سیاسی گرد و غبار بیٹھ جائے گا۔‘ اس تعیناتی کے اعلان کا فائدہ صرف یہ ہو گا کہ آج کل جو بے یقینی پھیلی ہے وہ ختم ہو جائے گی اور دوسرا پاکستانی سیاست کا رخ متعین ہو جائے گا۔ سیاستدان اپنے مسائل پر بات کریں گے، اور فوجی سربراہ اپنا کام کریں گےیہ ایک غلط تاثر ہے کہ ’جو آرمی چیف بنے گا ” ہمارا بندہ ہو گا”۔ ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ نیا آرمی چیف فوج کا مفاد اور اپنے کور کمانڈرز کو دیکھتا ہے۔‘ اگر تاریخ دیکھی جائے تو گذشتہ چند دہائیوں میں ایک مخصوص طریقہ کار تو نظر آتا ہے مگر یہ بھی ہوا کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی چند گھنٹوں سے چند مہینوں کے وقفے تک کے دوران بھی کی گئی ہے۔ اب تک صرف ایک بار ایسا ہوا ہے جب نئے آرمی چیف دو ماہ پہلے تعینات کر دیے گئے تھے۔جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سروس چیف کی تعیناتی کا طریقہ آئین میں درج ہے او ر یہ تعیناتی خود وزیراعظم نے کرنی ہوتی ہے۔ مسلح افواج کے سربراہان کی تعیناتی کا اعلان عام طور پر سبکدوش ہونے والے سربراہان کی ریٹائرمنٹ سے کم از کم ایک دن جبکہ زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ پہلے کیا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی پابندی نہیں..1991 میں جب نواز شریف کی ہی حکومت تھی تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز کی تعیناتی کا اعلان پرانے آرمی چیف کی سبکدوشی سے دو ماہ پہلے کر دیا گیا تھا مگر نواز شریف نے ہی ایئر فورس کے سربراہ ایئرچیف مارشل ریٹائرڈ سہیل امان کی تعیناتی سبکدوش ہونے والے ایئرچیف کی ریٹائرمنٹ سے چند گھنٹے پہلے کی تھی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکمران اتحاد میں شامل اتحادیوں سے مشاورت کی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 243(3) کے مطابق صدر وزیراعظم کی سفارش پر چیفس آف سروسز کا تقرر کرتا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت 29 نومبر 2022 کو پوری ہو رہی ہے جب کہ انہوں نے بطور آرمی چیف اپنی دوسری تین سالہ مدت ملازمت میں مزید توسیع نہ لینے کا اعلان کیا ہے کیونکہ وہ سروس سے ریٹائر ہونے والے ہیں۔ جنرل باجوہ نے دورہ امریکہ کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں ظہرانے کے دوران اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بات کی تھی کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں کریں گے۔
اس سے قبل اپریل میں انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے بھی واضح کیا تھا کہ جنرل باجوہ نہ تو توسیع چاہتے ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بیان عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے چند روز بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔
دفاعی حکام کی جانب سے ایک سمری بھی تیار کی گئی ہے جس میں فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری کے لیے تھری اسٹار جنرلز کے نام شامل ہیں۔ یہ وزیر اعظم کا اختیار ہے کہ وہ سینئر جرنیلوں میں سے آرمی چیف اور جن کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کرتی ہے۔ وزیراعظم نے نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے اپنے بھائی نواز شریف سے مشاورت کی ہے۔ اس پریسر کے دوران فوج کے میڈیا ونگ کے سربراہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوج “غیر سیاسی” ہے۔ آرمی چیف کی تقرری کو بعض اوقات ملک میں جاری سیاسی بحران میں ایک اہم ذیلی سازش قرار دیا جاتا تھا۔ جس کا آغاز اس سال کے شروع میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد ہوا۔ تاہم، فوج نے ستمبر میں پی ٹی آئی کے سربراہ کے ریمارکس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی سینئر قیادت کے بارے میں “ہتک آمیز اور غیر ضروری” بیانات سے ناراض ہے۔

اپنی برطرفی کے بعد کے مہینوں میں، عمران نے اپنی سیاسی ریلیوں کے دوران ملکی سیاست میں مداخلت کرنے پر فوجی قیادت پر کھل کر تنقید کی ہے، اور ان سے “غیر جانبدار” رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بڑے پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد چند مہینوں میں فوج اور عمران کی پارٹی کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے۔

علاوہ ازیں نئے آرمی چیف کی پاکستان کے دورے کے دوران 21 نومبر کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات متوقع ہے۔ شہزادے کے دورہ اسلام آباد سے قبل سیکیورٹی ٹیم اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گی۔ سعودی ولی عہد سے ملاقات کرنے والے دیگر حکام میں پاکستان کے مستقبل کے آرمی چیف بھی ہوں گے۔یاد رہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا عہدہ محض رسمی ہے کیونکہ کوئی آپریشنل اتھارٹی نہیں ہے۔
پاک فوج کے موجودہ ڈھانچے میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کا عہدہ تکنیکی طور پر آرمی چیف سے زیادہ ہے جسے تینوں افواج آرمی، نیوی اور ایئر فورس پر اختیار حاصل ہے لیکن عملی طور پر آرمی چیف زیادہ طاقتور ہیں۔ اور اس عہدے کی تقرری پر عوام۔ سود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اصولی طور پر، چیف آف جوائنٹ اسٹاف مسلح افواج کا سب سے سینئر افسر ہے جو دفاع اور سلامتی کے معاملات میں حکومت کے مشیر کے طور پر کام کرتا ہے، جس میں ‘جوائنٹس’ کی ترقی اور انٹر سروس تعاون کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔
اس عہدے پر تقرری سے جڑا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ تینوں افواج کے سربراہ کی حیثیت سے یہ عہدہ تینوں سروسز کے پاس ہونا چاہیے لیکن اب تک اس پر فوج بالخصوص نیشنل کمانڈ اتھارٹی (NCA) کی اجارہ داری رہی ہے۔ قیام کے بعد ایٹمی کمانڈ اور سٹریٹجک اثاثوں کے اہم معاملات پاک فوج کے زیر کنٹرول ہیں۔
اب تک 17 میں سے 14 چیئرمین آرمی، 2 نیوی اور ایک ایئر فورس سے تھا جب کہ آرمی میں یہ عہدہ انفنٹری کے ایک افسر کو بھی دیا جاتا ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے اصولی طور پر تینوں مسلح افواج سے افسر تعینات ہونے چاہییں جو اس عہدے کا مقصد بھی تھا اور ایسا ماضی میں ہوا بھی تاہم اب یہ روایت بن گئی ہے کہ یہ عہدہ بھی پاکستان آرمی کے حصے میں آتا ہے۔

سات اکتوبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو وائس چیف آف دی آرمی سٹاف اورجنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات کیا تھا۔

تاہم اس تعیناتی کے ڈیڑھ مہینے بعد یعنی 28 نومبر کو پرویز مشرف کو آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور یوں جنرل اشفاق پرویز کیانی سینیئر ترین اور وائس چیف ہونے کی وجہ سے آرمی چیف تعینات ہو گئے۔

یہاں ان دونوں عہدوں پر تعیناتی جو عام طور پر ایک ہی دن ہوتی تھی، اب بدل گئی۔2010 میں جنرل طارق مجید سات اکتوبر کو اپنے عہدے کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہوئے اور اسی دن ان کی جگہ جنرل ریٹائرڈ خالد شمیم نے لے لی تاہم اس بار جنرل اشفاق پرویز کی توسیع کا اعلان اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اسی سال جولائی میں قوم سے خطاب میں بھی کیا تھا۔

تقریبا چار ماہ بعد 28 نومبر کو جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر انھیں مزید تین سال کی توسیع دے دی گئی۔

سنہ 2013 میں جب نواز شریف ملک کے وزیر اعظم تھے تو سات اکتوبر کو جنرل خالد بھی ریٹائر ہو گئے لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت مکمل ہونے میں ابھی اکتوبر اور نومبر کے مہینے باقی تھے۔

اس موقع پر نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ ان دونوں عہدوں کی تاریخ ایک ہی کر دی جائے گی۔ چنانچہ انھوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے نام کا اعلان مؤخر کر دیا۔

سات اکتوبر سے 27 نومبر 2013 تک یہ عہدہ خالی رہا۔ 27 نومبر یعنی آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے محض دو دن قبل نواز شریف نے جنرل راشد محمود کو چیئرمین جوائنٹ چیفس اور جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف کے لیے نامزد کر دیا۔مسلح افواج میں عہدے پر تعیناتی عہدہ خالی ہوتے ہی ہو جاتی ہے، اسی لیے اس بار بھی جنرل راشد محمود کو اگلے دن ہی چارج سنبھالنا پڑا جبکہ راحیل شریف نے جنرل اشفاق کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرتے ہوئے 29 نومبر کو عہدے کا چارج سنبھالا۔

یہی وجہ ہے کہ آج ان دونوں فور سٹار عہدوں پر تعیناتی کی تاریخ مختلف ہے۔اسی طرح 26 نومبر کو نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف اور جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نامزد کیا جنھوں نے دو دن بعد عہدے کا چارج سنبھالا۔

تین سال بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے تین سال کی توسیع دی اور ساتھ ہی 28 نومبر کو جنرل ندیم نے چیئرمین کا عہدہ سنبھال لیا۔ب 28 نومبر کو نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جبکہ 29 نومبر کو آرمی چیف عہدہ سنبھالیں گے۔ اس طرح اب تک کی ان تعیناتیوں کے اعلان میں چند دن ہی نظر آتے ہیں اس بارے میں کوئی قانونی یا آئینی رکاوٹ نہیں۔اس کی ایک وجہ سبکدوش ہونے والے چیف کا احترام ہے۔دوسری وجہ کسی حد تک ’آپریشنل‘ ہے۔فوجی سربراہ کا عہدہ کمانڈنگ عہدہ ہے اور پالیسی تیار کرتا ہے۔ ایک وقت میں دو سربراہان ہونا مفاد میں نہیں۔یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ پالیسی معاملات پر افسران نئے آرمی چیف کی رائے کو زیادہ وقعت دے سکتے ہیں کہ اب آئندہ تین سال تو نئے سربراہ کی پالیسی اور سوچ نمایاں ہو گی۔ ’اسی وجہ سے اس عہدے کی نامزدگی میں جان بوجھ کر تاخیر برتی جاتی ہے، کوشش کی جاتی ہے کہ سبکدوش ہونے والے سربراہ کی الوداعی ملاقات مکمل ہونے کے بعد اعلان کیا جائے۔‘یہ فیصلہ وزیراعظم کی صوابدید پر منحصر ہے اور وزیر اعظم ہی فیصلہ کرتے ہیں۔آئین میں آرٹیکل 243 سروسز چیفس کی تعیناتی سے متعلق ہے اور ’کہیں بھی کوئی ٹائم فریم نہیں۔ جیسا کہ تاریخ میں ریٹائرمنٹ سے تین ماہ سے چند گھنٹے پہلے تک بھی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ تو سبکدوشی سے ایک گھنٹہ پہلے بھی یہ اعلان ہو تو یہ غیر آئینی نہیں ہو گا۔‘وزیراعظم کا حتمی فیصلہ18 نومبر کو ہو گا کہ وہ نئے فوجی سربراہ کا اعلان کب کرتے ہیں مگر یہ با ت ضرور واضح ہو جائے گی کہ عمران خان لانگ مارچ کے پیچھے اصل مسئلہ کیا ہے فوجی سربراہ کی تعیناتی یا یا کچھ اور18 نومبر کو فیصلہ ہو جائےگا….