آئینِ پاکستان کی بالادستی ,ایمرجنسی کے نفاذ پرعوام کی جانب سےزبردست خیر مقدم
(اصغر علی مبارک)
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کی اہم شاہراہوں پر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیر مقدمی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ ان بینرز پر آئینِ پاکستان کی بالادستی، وفاق کی رِٹ کی بحالی اور امن و امان کے اقدامات کے حق میں نعرے درج ہیں۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) کی خلاف ورزی اور اس پر عائد آئینی حدود کا معاملہ حالیہ سیاسی احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کے نفاذ کے دوران سب سے زیادہ زیرِ بحث آیا ہے۔
آئینِ پاکستان کے مطابق کسی بھی شہری کو بلاوجہ نقل و حرکت سے روکنا اس کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، تاہم آئین خود اس حق پر کچھ مخصوص پابندیاں عائد کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 233 کے تحت، ملک گیر یا صوبائی ایمرجنسی کے دوران ریاست کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کچھ مخصوص بنیادی حقوق (جیسے نقل و حرکت، اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی) کو عارضی طور پر معطل یا محدود کر سکے تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔ تاہم، موجودہ نفاذ میں وفاق نے شہریوں کے بنیادی حقوق کو معطل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ بنیادی طور پر صوبے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور وفاق و صوبے کے مابین سکیورٹی حکمتِ عملی پر عدم تعاون کی وجہ سے کیا گیا ہے
آئی جی اسلام آباد کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کے احکامات کے بعد وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 روز سے بند راستوں کو کھولنے اور تمام اہم شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کا کام تیز کر دیا گیا ہے。 وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد کنٹینرز ہٹنے سے شہریوں اور تاجر برادری کی مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور زندگی کی رونقیں دوبارہ بحال ہو رہی ہیں پولیس ذرائع اور انتظامیہ کے مطابق، شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور خاص طور پر ریڈ زون کے ارد گرد لگے کنٹینرز کو فوری ہٹانے اور سڑکیں صاف کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ تھانوں کے باہر کھڑے کنٹینرز کو بھی فوری چھوڑنے اور ان کی دستاویزات ڈرائیوروں کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے。
سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ کا خطرہ ٹلنے اور پڑوسی صوبے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی دارالحکومت کو درپیش سکیورٹی خدشات کم ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں۔
وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اپنے حالیہ بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ اب اسلام آباد کے شہریوں کو دوبارہ ان مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور مستقبل میں دوبارہ کنٹینرز لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی。
تین ہفتوں سے زائد کے طویل عرصے کے بعد ان راستوں کے کھلنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے مابین روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں ملازمین، طلبہ اور عام شہریوں نے واقعی سکھ کا سانس لیا ہے۔
اس سیاسی اور آئینی اقدام پر جڑواں شہروں کے عوام اور مختلف حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والے تاثرات درج ذیل ہیں:
- عوام اور تاجر برادری کا سکھ کا سانس:
جڑواں شہروں میں طویل عرصے سے جاری سیاسی کشیدگی، دھرنوں اور احتجاجی مارچز کے باعث سڑکوں کی بندش اور کاروباری زندگی معطل ہو چکی تھی。 راستوں سے کنٹینرز ہٹنے اور معمولاتِ زندگی بحال ہونے پر شہریوں اور تاجر برادری نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اس آئینی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ - آئینی شقوں کے تحت نفاذ:
وفاقی حکومت اور قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے عین مطابق کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں سکیورٹی اور امن و امان کی ابتر صورتحال کے باعث ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت صوبے کا انتظام گورنر فیصل کریم کنڈی کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ “آئینی مشینری کی ناکامی” کو درست کیا جا سکے۔ - بنیادی حقوق کا تحفظ:
وفاق کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت لگنے والی اس ایمرجنسی میں شہریوں کے بنیادی حقوق (آرٹیکل 233) کو معطل نہیں کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اقدام کسی سویلین آمریت کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً عوام کی جان و مال کے تحفظ، سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور آئینی رِٹ قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
تاہم، دوسری جانب تحریکِ انصاف کی قیادت اور حامیوں نے اس اقدام کو جمہوریت اور صوبائی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کوایک طویل عرصے بعد، ایک بڑے علاقے سے کنٹینرز ہٹائے جانے پر لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ آمدورفت میں درپیش مشکلات کے خاتمہ ہو گا اور معمولات زندگی بہال ہو گی، امید ہے اب دوبارہ کنٹینرز لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی,صدرِ مملکت اور وفاقی حکومت کے مطابق، اس غیر معمولی آئینی اقدام کے پیچھے درج ذیل اہم سکیورٹی خدشات اور وجوہات کارفرما ہیں: صدارتی اعلامیے اور سکیورٹی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت اور اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی تھنک ٹینکس (جیسے PICSS) کے ڈیٹا کے مطابق، سال 2026ء کے پہلے نو مہینوں میں ملک بھر میں ہونے والے حملوں کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئی، جس سے شہریوں کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز، خاص طور پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، سال 2026ء کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں سے 73 فیصد حملوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا، جبکہ انفراسٹرکچر اور حکومتی عمارات پر حملوں میں بھی تیزی آئی۔ وفاق کے مطابق، صوبے کو درپیش بڑے چیلنجز میں ممنوعہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور دیگر شدت پسند گروہوں کو افغانستان سے ملنے والی آپریٹنگ سپورٹ اور مقامی سطح پر موجود سہولت کار شامل ہیں۔ وفاق کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت ان سرحد پار چیلنجز اور افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی تھی۔ مذاکرات کے آخری مراحل میں وفاق اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے مابین تعطل پیدا ہوا۔ وفاقی وزیرِ داخلہ کے مطابق، صوبائی انتظامیہ دہشت گرد گروہوں کی کھلی مذمت کرنے، سکیورٹی ایکٹ پر نظرثانی کرنے اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون قائم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی، جسے “آئینی مشینری کی ناکامی” قرار دیا گیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کی طرف بار بار احتجاجی مارچ اور سیاسی دباؤ کے باعث پشاور اور اسلام آباد دونوں جگہوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ تھی۔ وفاق کا ماننا تھا کہ صوبائی فورسز اور وسائل کو امن و امان قائم کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جس سے داخلی سکیورٹی مزید کمزور ہو رہی تھی۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد فوری اقدامات:
- فوج کی تعیناتی: آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے صوبے بھر میں فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔
- پشاور اور ریڈ زون میں الرٹ: پشاور سمیت صوبے کے تمام اہم شہروں اور سول سیکرٹریٹ کو ہائی سکیورٹی الرٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
- ایپکس کمیٹی کا اجلاس: گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے سکیورٹی صورتحال کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر ایپکس کمیٹی (Apex Committee) کا اجلاس طلب کیا گیا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف نئے آپریشنل پلانز کو ترتیب دیا جا سکے۔
آئینِ پاکستان میں شامل اہم ترین بنیادی حقوق
پاکستانی عوام کو آئین کے تحت درج ذیل بنیادی حقوق حاصل ہیں جن کا محافظ ملک کی اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس) کو بنایا گیا ہے:
- آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی کا تحفظ): کسی بھی شخص کو قانون کے مطابق کارروائی کے بغیر اس کی زندگی یا ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
- آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کا حق): ہر شہری کو اپنے خلاف کسی بھی سول یا فوجداری کارروائی میں منصفانہ سماعت اور قانونی دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
- آرٹیکل 14 (انسان کی عظمت اور چادر و چار دیواری کا تحفظ): انسانی وقار ناقابلِ حرمت ہے اور کسی بھی شہری کے گھر کی پرائیویسی کو قانون کے بغیر پامال نہیں کیا جا سکتا۔
- آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی): ہر شہری کو پاکستان کے اندر آزادانہ سفر کرنے، رہنے اور آباد ہونے کا حق ہے۔
- آرٹیکل 16 (پرامن اجتماع کی آزادی): عوام کو قانون اور پبلک آرڈر کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن طریقے سے اکٹھے ہونے اور جلسے جلوس کرنے کی آزادی ہے۔
- آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے کی آزادی): ہر شہری کو اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت اور امنِ عامہ کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی رائے دینے اور پریس کی آزادی حاصل ہے۔
- آرٹیکل 25 (شہریوں کی برابری): تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور جنس (جینڈر) کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔
- آرٹیکل 25-A (مفت اور لازمی تعلیم): ریاست 5 سے 16 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی) کی خلاف ورزی اور اس پر عائد آئینی حدود کا معاملہ حالیہ سیاسی احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کنٹینرز کے نفاذ کے دوران سب سے زیادہ زیرِ بحث آیا ہے۔
آئینِ پاکستان کے مطابق کسی بھی شہری کو بلاوجہ نقل و حرکت سے روکنا اس کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، تاہم آئین خود اس حق پر کچھ مخصوص پابندیاں عائد کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔
عام حالات میں درج ذیل اقدامات کو آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی تسلیم کیا جاتا ہے: - شاہراہوں کی طویل بندش: سیاسی دھرنوں، احتجاج یا حکومتی انتظامیہ کی طرف سے کنٹینرز لگا کر جڑواں شہروں (راولپنڈی/اسلام آباد) یا بین الصوبائی راستوں کو ہفتوں تک بلاک رکھنا، جس سے عام شہریوں کا سفر کرنا ناممکن ہو جائے۔
- بنا قانونی جواز داخلے پر پابندی: کسی شہری کو بغیر کسی ٹھوس قانونی وجہ، عدالتی حکم یا مجرمانہ ریکارڈ کے ایک صوبے سے دوسرے صوبے یا شہر میں داخل ہونے سے زبردستی روکنا۔
- غیر قانونی نظربندی (House Arrest): کسی شخص کو قانون کے طے شدہ طریقہ کار (Due Process of Law) کے بغیر اس کے گھر یا کسی مخصوص علاقے تک محدود کر دینا۔آرٹیکل 15 کا متن خود یہ واضح کرتا ہے کہ یہ حق مطلق (Absolute) نہیں ہے۔ ریاست درج ذیل تین بنیادی بنیادوں پر قانون کے ذریعے اس حق پر “معقول پابندیاں” عائد کر سکتی ہے: اگر کسی علاقے میں امن و امان (Public Order) شدید خطرے میں ہو، یا کوئی بڑا سکیورٹی خطرہ (جیسے خودکش حملوں کی انٹیلیجنس رپورٹ) موجود ہو، تو انتظامیہ دفعہ 144 نافذ کر کے عارضی طور پر نقل و حرکت محدود کر سکتی ہے۔
منوعہ سرحدی علاقوں، فوجی تنصیبات یا حساس سکیورٹی زونز (جیسے ریڈ زون) میں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
کسی وبا یا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے (جیسے ماضی میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران ہوا) مخصوص علاقوں کو سیل یا قرنطینہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس) نے متعدد فیصلوں میں یہ قرار دیا ہے کہ انتظامیہ سکیورٹی کے نام پر لا محدود وقت کے لیے اہم شاہراہوں کو بند نہیں کر سکتی۔ عدالتوں کے مطابق، سکیورٹی برقرار رکھنے کی آڑ میں لاکھوں شہریوں کو ان کے روزگار، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں تک رسائی سے محروم کرنا (کنٹینرز لگانا) آرٹیکل 15 کی روح کے خلاف ہے، اور حکومت کو سکیورٹی کے لیے متبادل اور جدید طریقے اختیار کرنے چاہئیں تاکہ عام عوام کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔
قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک، ملک کا ہر صوبہ کم از کم ایک بار وفاق کے اس آئینی ہتھیار کا سامنا کرچکا ہے۔ 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں چوتھی مرتبہ ’گورنر راج‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اتوار کو وفاقی کابینہ کی سفارش پر خیبر پختونخوا میں ’ایمرجنسی‘ اور ’گورنر راج‘ نافذ کرنے کی سمری پر دستخط کے بعد منتخب صوبائی حکومت کے تمام اختیارات بیوروکریسی اور گورنر کو حاصل ہو گئے ہیں۔ صدر مملکت نے یہ منظوری وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر دی ہے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ’گورنر راج‘ اور ’ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ صدر کی جانب سے دستخط کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام انتظامی معاملات کی باگ ڈور اب باقاعدہ طور پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں ایک بار پھر گورنر راج – ایمرجنسی دونوں نافذ کردیے گئے ہیں۔ ایوان صدر کے اعلامیے میں اس اقدام کی وجہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، امن و امان کی خراب صورت حال اور شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کو قرار دیا گیا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کے بعد اب صوبے کے تمام ایگزیکٹیو اختیارات پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہوگئے ہیں جب کہ آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سنہ 1973ء کے آئین کے تحت کسی صوبے میں پہلا باقاعدہ گورنر راج 16 فروری 1975ء کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں نافذ کیا گیا جو 76 روز تک نافذ رہا۔ فروری 1975 میں پشاور یونیورسٹی میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ جاں بحق ہو گئے تھے
وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صوبائی حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے صوبے میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمیعت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت کا خاتمہ کیا۔ اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کو گھر جانا پڑا اور صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے۔ صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا صوبہ سرحد میں دوسری مرتبہ منتخب حکومت کا خاتمہ بھی پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت کے دور اس وقت ہوا جب بینظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان تھیں اور پیر صابر شاہ صوبے میں مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی اتحادی حکومت کے وزیرِاعلیٰ تھے۔ صدرِ پاکستان فاروق لغاری نے 25 فروری 1994 کو وفاقی حکومت کی سفارش پر آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت دہ ماہ کے لیے گورنر راج کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کیا جو 24 اپریل 1994ء تک جاری رہا۔ اکتوبر 1999ء میں صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک بھر میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں پورا وفاقی اور صوبائی جمہوری ڈھانچہ لپیٹ دیا گیا، لہٰذا صوبہ سرحد میں بھی مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ مہتاب عباسی کو گھر جانا پڑا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق نے بحیثیت گورنر صوبے کا انتظام سنبھال لیا۔ سرھد میں تیسرا گورنر راج 3 سال سے زائد عرصے تک جاری رہا جو نومبر 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی کے بطور وزیراعلیٰ حلف اٹھانے تک برقرار رہا۔ اس عرصے کو صوبے کی تاریخ کا طویل ترین گورنر راج قرار دیا جاتا ہے۔آئینی ماہرین اس بات کی اہم نشاندہی کرتے ہیں کہ گورنر راج یا آرٹیکل 234 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ میں منتخب حکومت کی برطرفی اور صوبائی اسمبلی کی تحلیل میں واضح قانونی فرق ہوتا ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت صرف آئینی مشینری کی ناکامی کی بنیاد پر صوبائی ایگزیکٹو کا کنٹرول وفاق یا گورنر کے پاس جاتا ہے، جبکہ اسمبلی کو معطل رکھا جا سکتا ہے یا بحال چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کو نافذ کرنے کے بعد آئینی طور پر پارلیمان (قومی اسمبلی اور سینیٹ) سے اس کی توثیق کرانا لازم ہوتا ہے، اور توثیق نہ ہونے یا مدت ختم ہونے کی صورت میں یہ حکم ازخود غیر موثر ہو جاتا ہے۔





