اسلام آباد گلوبل سمٹ: محسن نواز کا کھیلوں کے لیے الگ ‘اسپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی’ قائم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: تمغہِ امتیاز حاصل کرنے والے پاکستان کے نامور لانگ رینج اسپورٹس شوٹر اور معروف اسپورٹس سائیکالوجسٹ محسن نواز نے وفاقی دارالحکومت کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تاریخی “پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026” میں شرکت کی اور کھیلوں کے شعبے کے لیے ایک خود مختار و جامع “اسپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی” تشکیل دینے کا ایک بڑا اور اہم مطالبہ پیش کیا ہے۔

اس دو روزہ عالمی کانفرنس کا مرکزی موضوع “بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے ماحولیاتی لچک پر مبنی اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل” تھا۔ سمٹ کے دوران وفاقی وزارتِ قومی صحت کی جانب سے پہلی بار متعارف کروائی جانے والی جامع “قومی مینٹل ہیلتھ پالیسی” کا خیرمقدم کیا گیا، تاہم ماہرین نے اس کے دائرہ کار کو کھیلوں کے میدانوں تک وسیع کرنے پر زور دیا۔


سمٹ کی اہم تفصیلات اور محسن نواز کا کلیدی خطاب

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نواز نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ کسی بھی قومی پالیسی کا حقیقی فائدہ اسی وقت ممکن ہے جب اسے ملک کے تمام عملی شعبوں، بالخصوص نوجوان ایتھلیٹس کی سطح پر فعال انداز میں نافذ کیا جائے۔

کھیلوں کی قومی ترقی میں اسپورٹس سائیکالوجی کو لازمی جزو کے طور پر شامل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے چند اہم نکات پر روشنی ڈالی:

  • ارشد ندیم کی مثال اور دباؤ کا انتظام: محسن نواز نے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی ماضی کی کارکردگی کی مثال پیش کی، جو اپنی تمام تر غیر معمولی اور عالمی سطح کی صلاحیتوں کے باوجود جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی مقابلے کے شدید دباؤ کے دوران باقاعدہ اور مسلسل نفسیاتی تیاری (Psychological Preparation) کا نہ ہونا ہی بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ایتھلیٹس کی کارکردگی میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔
  • سہولیات کا فقدان اور کھلاڑیوں کا تناؤ: انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ “پاکستان میں ایتھلیٹس کے لیے ذہنی صحت کی کوئی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ سلیکشن کی غیر یقینی پالیسیاں اور ٹریننگ کیمپس کا روایتی ماحول اکثر کھلاڑیوں میں شدید نفسیاتی تناؤ پیدا کرتا ہے، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔”

اسپورٹس مینٹل ہیلتھ پالیسی کے لیے تجویز کردہ اہم نکات

محسن نواز اور سمٹ میں موجود دیگر ماہرینِ نفسیات نے حکومت اور کھیلوں کے اربابِ اختیار کے سامنے درج ذیل اہم مطالبات رکھے ہیں جنہیں مجوزہ پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے:

  1. فیلڈ میں اسپورٹس سائیکالوجسٹس کی تعیناتی: پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور تمام صوبائی اسپورٹس فاؤنڈیشنز کے زیرِ اہتمام چلنے والے ہر نیشنل ٹریننگ کیمپ میں کم از کم ایک کوالیفائیڈ اسپورٹس سائیکالوجسٹ کی مستقل موجودگی لازمی قرار دی جائے۔
  2. پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی: کھلاڑیوں کے انتخاب (Selection Routine) کو شفاف بنایا جائے تاکہ مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال کی وجہ سے کھلاڑیوں میں پیدا ہونے والے ڈپریشن اور انزائٹی کا سدِباب کیا جا سکے۔
  3. بین الاقوامی طرز پر کاؤنسلنگ: اولمپکس، ایشین گیمز اور دیگر بڑے بین الاقوامی ایونٹس سے قبل کھلاڑیوں کے لیے خصوصی مینٹل ٹف نیس (Mental Toughness) سیشنز منعقد کیے جائیں تاکہ وہ تمغے کی دوڑ میں اعصابی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔

عالمی مندوبین اور وزارتِ صحت کا ردِعمل

اس تاریخی سمٹ میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے نمائندوں، بین الاقوامی نفسیاتی تنظیموں کے وفود اور وزارتِ قومی صحت کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ وزارتِ صحت کے حکام نے محسن نواز کے اس مطالبے کو انتہائی بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (IPC) کے ساتھ مل کر اسپورٹس مینٹل ہیلتھ فریم ورک کو قومی پالیسی کے اگلے فیز میں شامل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے، تاکہ پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیروز کو ذہنی طور پر بھی مضبوط بنایا جا سکے