https://youtu.be/tcqVdeqHkRQراولپنڈی میں بندریا کے اغوا ھو نے والے بلی کے بچے کی بازیابی۔
۔رپورٹ۔۔اصغر علی مبارک
راولپنڈی کی پرانی کچہری میں عرصہ دراز سے پرانے درختوں پر بندروں کے چند جوڑےآباد ھیں جو بالخصوص لیڈی بار کے ارد گرد منڈلاتے نظرآتے کبھی کبھارآنے والے سائلین کے لیے یہ منظربڑا خوش نما اور دلفریب دکھائی دیتا ہے مگرگزشتہ روزکے ایک واقعہ نے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ بندر گردی کا شکار کوئی حضرت انسان نہ ھو جائےگزشتہ روز دن کے تقریبا اڑھائی بجے میں اخبارات خریدنے کی غرض سے ایک ھاکر کے پاس موجود تھا کہ اچانک ایک خوبصورت سی نیلی آنکھوں والی بلی نے معمول سے ذیادہ چیخنا چلانا شروع کر دیا گرمی کی شدت کی وجہ موجود لوگوں نے اس کوپیاسا سمجھ کر پانی دیا اس دوران بلی کی نگاہیں مسلسل ایک جانب اوپر کی طرف تھیں جب میں نے غور سے دیکھا تو ایک بندریا بلی کے معصوم بچے کو یرغمال بنائے بیٹھی ھے اور بلی کا بچہ ماں کی پاس آنے کی کوشش کر رھاھے بچے کی آہوبکاہ سے بلی بھی شدید جذبات سے اپنی زبان میں بندریا سے التجا کررھی تھی کہ بچے کو اللہ واسطےچھوڑ دے مگر بندریا کسی قیمت پر بلی کابچہ واپس کرنے پر راضی نہ تھی اسدوران لاکھوں جتن کیے گئے راقم الحروف نے اخبار والے ھاکر کی مدد سے چپس۔بسکٹ وغیرہ کی لالچ بی بندریا کو آفر لیکن تمام حربے ناکام ہوتےدکھائی دے رھے چند لوگوں نے پتھر پھینکے تو بندریا مشتمل ھوکر بجلی کے ھائی وولٹیج پول پر چڑھ دوڑی اور عین ممکن تھا مغویہ بلی کا بچہ اور اغوا کار بندریا بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہلاک ھو سکتے ہیں مگر پھر چند افراد نے گھبرا ڈال کر بندریا کو بلی کا بچ چھوڑنے پر مجبور کردیابندریا کے بارے میں مشہور ہے کہ گرمیوں پاوں جلنے پر اپنے بچوں کو بھی پاوں تلے دبہ دیتی ہے اس واقعہ کے بعد لوگوں نے بتایا کہ بندرہا اپنےایک بچے کو کھو چکی ہے ایک تیز رفتار کار نے بندریا کے بچے کو کچل ڈالا جس کے بعد سے وہ ذہنی طور نیم پاگل ہو گئی ہےاس تازہ ترین واقعہ نے ماضی میں بھارتی ریاست کرناٹک کے واقعہ کی یاد تازہ کردی جب ایک دور افتادہ گاﺅ ں میں ایک بندریا نے گاﺅں کے ایک گھر میں گھس کر نوزائیدہ بچے کو اٹھالیا اور پھر وہاں سے لیجاکر کسی کنویں میں پھینک دیا جہاں سے واقعہ کے دوسرے دن بچے کی لاش برآمد ہوئی۔ عینی شاہدین کا کہناہے کہ بندر نے گھر میں گھس کر موقع ملتے ہی پلنگ پر لیٹے ہوئے نوزائیدہ کو پکڑا ۔ بندر کی آمد کی آہٹ سے ماں ذرا چونکی مگر اس وقت تک بندریا بچے کو لیکر دیوار پر اور پھر دیوار سے قریبی درخت پر چلی گئی اور پھر ایک درخت سے دوسرے درخت پر بچے سمیت چھلانگ لگاتی ہوئی چلی گئی۔ آخر ایک جگہ بندریا نے اس بچے کو لٹا دیا مگر اس بات کا خاص خیال رکھا کہ کوئی بچے کے قریب نہ آئے۔ مقامی لوگوں نے بچے کو بندر سے چھیننے کی بھی کوشش کی مگر بندریا اس بات پر راضی نہیں تھی وہ پھر اسے لیکر غائب ہوگئی۔ اس واقعہ نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ چند سال قبل اوڈیشہ کے بانکی نامی گاﺅں میں بھی ایک ایسا واقعہ ھوا تھا جب ایک بچہ بندریا نے چھین لیا اور اسکے بعد سے غائب ہوگئی۔ اور بچے کا کچھ پتا نہیں ملا کہ وہ کہاں گیا ایک اور واقعہ میں یہاں شیئر کرنا چاھوں گا جو امریکہ میں ایک گلی میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے نے ریکارڈ اور سوشل میڈیا پر کافی مقبول ھوا ۔جس میں بلی کی بہادری دیکھی جاسکتی ھےکتے عمومی طور پر ہمدرد اور گھر کے رکھوالے سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بلیوں کی وفاداری پر کبھی یقین نہیں کیا جاتا۔لیکن امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک بلی نے اپنی بہادری سے سب کو حیرت میں ڈال دیا ۔رپورٹ کے مطابق کیلی فورنیا میں ایک بچہ اپنے گھر کے باہر کھیل رہا تھا کہ ایک کتے نے اچانک بچے پر حملہ کر دیا۔قریب ہی کہیں ایک بلی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی اور کتے کو دیکھ کر بھاگ جانے کے بجائے بلی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ کتے پر حملہ کر دیا۔ کتا اس اچانک حملے سے سراسیمہ ہو کر بچے کو چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔
بلی کتے کا پیچھا کرتے کچھ دور گئی اور پھر واپس زخمی بچے کے پاس لوٹ آئی۔اس آوارہ بلی کو بچے کے گھر والوں نے پانچ سال پہلے پالا تھا اور وہ اس کو تارا کہہ کر پکارتے تھے۔
یہ سارا منظر گھر کے باہر سی سی سی ٹی وی کیمرے پر محفوظ ہو گیا۔ بچے کی والدہ کو کیمرے کی ریکارڈنگ سے یہ معلوم ہوا کہ آخر ہوا کیا ہے اور بلی نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔کتے کو اس واقعے کے بعد مقامی حکام کے حوالے کر دیاگیا بلی حلال نہیں ہے لیکن اس کو پاکیزہ اور طاہر حیوانات میں شمار کیا جاتا ہے۔ جو بلیاں کسى کى ملکیت نہ ہوں انہیں پالنے میں کوئى حرج نہیں۔ صحیح بخارى اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے حدیث ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
” ایک عورت کو بلى کى وجہ سے عذاب دیا گیا، اس عورت نے بلى کو باندھ دیا حتى کہ وہ مر گئى وہ اسے نہ تو کھانے کے لیے کچھ دیتى اور نہ ہى پینے کے لیے اور نہ ہى اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھائے، تو وہ عورت بلى کى وجہ سے آگ میں داخل ہو گئى ”

اور بلى اگر کھانے میں سے کچھ کھا جائے یا پانى پى جائے تو وہ پلید اور نجس نہیں ہو جاتا، کیونکہ ابوداود وغیرہ میں حدیث ہے : ایک عورت نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا کو ہریسہ بھیجا تو وہ نماز پڑھ رہى تھیں، انہوں نے نماز میں ہى اشارہ کیا کہ وہ اسے رکھ دے، تو بلى آئى اور آکر اس میں سے کھا گئى، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے نماز کے بعد اسى جگہ سے ہریسہ کھایا جہاں سے بلى نے کھایا تھا اور فرمایا: بلا شبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے :

” یہ ( بلى ) پلید اور نجس نہیں، بلکہ یہ تو تم پر آنے جانے والیاں ہیں ”

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بیان کرتى ہیں۔
میں نے رسول کریم صلى اللہ علیہ وسلم کو بلى کے بچے ہوئے پانى سے وضوء کرتے ہوئے دیکھا ہے ”
اور ایک روایت میں ہے : کبشہ بنت کعب بن مالک جو ابن ابى قتادہ کى بیوى ہیں وہ بیان کرتى ہیں کہ ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ ہمارے گھر آئے تو میں نے ان کے وضوء کے لیے پانى برتن میں ڈالا تو بلى آئى اور اس سے پینے لگى، تو انہوں نے اس کے لیے برتن ٹیڑھا کر دیا حتى کہ اس نے پانى پى لیا۔ کبشہ بیان کرتى ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کى طرف دیکھے جارہى ہوں تو وہ فرمانے لگے : میرى بھتیجى کیا تم تعجب کر رہى ہو؟ تو میں نے جواب دیا: جى ہاں۔ تو وہ کہنے لگے : رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے :
” یہ نجس اور پلید نہیں، بلکہ یہ تو تم پر گھومنے پھرنے والیاں ہیں “ان دونوں روایتوں کو امام بخارى اور دار قطنى وغیرہ نے صحیح کہا ہے۔شریعت اسلامیہ میں بلیوں کى خرید و فروخت منع ہے۔ صحیح مسلم میں ابو زبیر سے حدیث مروى ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے کتے اور بلى کى قیمت کے متعلق دریافت کیا تو وہ کہنے لگے :
” نبى کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ہے ”

Error
This video doesn’t exist