سپریم کورٹ کا عمران خان کو فوری رہا کرنے کا حکم……… کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک……………………
………………سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے فیصلہ دو منٹ میں سنایا گیاسپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے گرفتار چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکی فوری رہائی کا حکم دے دیا۔
اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کے حکم پر اسلام آباد پولیس عمران خان کو لے کر سپریم کورٹ پہنچی۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے رہائی کے حکم کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پولیس لائنز کے گیسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔ ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ وہاں آرام سے رہیں، گپ شپ لگائیں اور سو جائیں، صبح لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوں۔ عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا حکم دیا تھاٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز کا ردِعمل سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ پر تنقید کی ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے کہا ’چیف جسٹس صاحب کو آج قومی خزانے کے 60 ارب ہڑپ کرنے والے سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور اس سے بھی زیادہ خوشی انہیں اس مجرم کو رہا کر کے ہوئی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اہم ترین اور حساس تنصیبات پر حملوں کے سب سے بڑے ذمہ دار چیف جسٹس ہیں جو ایک فتنہ کی ڈھال بنے ہوئے ہیں اور ملک میں لگی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے سپریم کورٹ میں سماعت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب عدالتیں مجرموں، دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کی پناہ گاہیں بنا دی جائیں تو مجرم عدالت کے احاطے سے گرفتار ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک کا ایک مجرم جس نے قومی خزانے سے 60 ارب کی چوری کی ہے، اس پر الزام ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق قانونی طریقے سے نیب نے اس کو گرفتار کیا ہے، اس کے بعد احتساب کی عدالت نے بھی قانونی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’تاریخ میں پہلی دفعہ جسمانی ریمانڈ پر 48 گھنٹے کے اندر ایک مجرم، ایک دہشت گرد، مسلح جتھوں کے گینگسٹر کو ریلیف دینے کا سپریم کورٹ کا جو تاثر ہے وہ ایک دہشت گرد کی پشت پناہی ہے‘۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کا پہلا تیز ترین جسمانی ریمانڈ آپ کو یاد ہوگا کہ اس ملک کے ہی تین دفعہ کے منتخب وزیراعطم نواز شریف، مریم نواز، صدر آصف علی زرداری اور اس ملک کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ پر 15 کلو ہیروئن اور چاردیواری میں گھس کر ان کی بہنوں بیٹیوں اور لوگوں کے گھروں پر حملہ آور ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سلمان شہباز، حمزہ شہباز، مفتاح اسمٰعیل، سعد رفیق، سلمان رفیق اور تمام فہرستیں ہیں، لوگوں کی بیٹیوں کو گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالا جاتا تھا، لوگوں کے گھروں پر ریڈ ہوتے تھے اور یہ اس وقت ہوتے تھے جب نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہوتے تھے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ’اس وقت نہ کوئی کھڑکی بجتی ہے اور نہ کوئی دروازہ بجتا ہے اور اس وقت عدالت کی بے توقیری ہوتی ہے، جس وقت گرفتار کرکے جاؤ تو نوکری نہیں بچتی، یہ کیوں اتنی مجبوری اور محبت ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عدالتیں، انصاف اور ملک کا قانون دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کی جنہوں نے میرے ملک کو جلایا ہے، ان کی پشت پناہی ہوگی اور حوصلہ افزائی ہوگی تو تمام لوگ اس ریلیف کے مستحق ہوں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ بتائیں کہ جو ریاست کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں، جو سرحدوں اور عوام کی حفاظت کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں، جو شہید ہوتے ہیں، جو غازی بنتے ہیں، ان کی بے توقیری کا انصاف کون دے گا، ان کی یادگاروں کو جلایا گیا‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’جناح ہاؤس جو اب کور کمانڈر ہاؤس ہے، اندر ان کے بچوں کے ہوتے ہوئے ان کا گھر جلایا گیا، مریضوں کا نکال کر ایمبولینسز جلائیں گئی، اسکول، میٹرو اور دیگر عوامی مقامات جلائے گئے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر 25 مئی کو اس دہشت گرد کو سزا مل جاتی تو آج میرا ملک جل نہ رہا ہوتا، جس شخص نے ان مسلح جتھوں کو لانچ کیا، جو اس کی قیادت کر رہا ہے وہ دہشت گرد، اگر اس مجرم کو انصاف کو ملے گا تو پھر ان پاکستان کے عوام اور پولیس کے اہلکاروں کو جو حفاظت کی خاطر جاں بحق ہوتے ہیں، ان فوجی افسران کو جو ریاست، ملک، سرحدوں اور عوام کی خاطر بندوق اٹھاتے ہیں اس کے خلاف جو آج بندوق اٹھا کر کھڑا ہے، اگر اس کو ریلیف ملے گا تو یہ ملک صرف جلے گا اور کچھ نہیں‘۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ’آپ نے وہ فوٹیجز دیکھی ہوں گی چیف جسٹس صاحب، جس میں لوگوں کے گھر جل رہے ہیں، ایمبولینسز، ہسپتال، ریڈیو پاکستان جل رہا ہے، تو پھر بتائیں کل کو ججوں کے گھروں میں گھس کر کوئی شخص آگ لگائے گا، میں پیش گوئی کر رہی ہوں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’آپ اس کے خلاف فیصلہ کریں، کسی کا گھر نہیں بچے گا، سیاست دانوں کے گھر، رانا ثنااللہ کا گھر جلایا گیا، آپ نے نوٹس کیوں نہیں لیا، وہ اس ملک کا شہری نہیں ہے، وہ کور کمانڈر اور پولیس اہلکار اس ملک کا شہری نہیں ہے، جو ایمبولینس جلی ہے وہ اس ملک کی نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کیا آپ کی تصویر پر جوتیاں برسانے والا، اس ملک کو جلانے والا، ریاست پر حملہ آور دہشت گرد، مسلح جتھے، کس بات پر کرپشن کے کیس پر 60 ارب کا جواب دینا ہے، جو پیسہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آیا ہے، جواب کیوں نہیں دیتے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ عدالتوں کو مجرموں، دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کی پناہ گاہ بنائیں گے تو وہ مجرم عدالتوں کے احاطے سے ہی گرفتار ہوں گے‘۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ’جب پولیس آپ کا وارنٹ لے کر زمان پارک گئی تھی تو پولیس کے سر پھاڑے تھے، آپ نے کیوں نوٹس نہیں لیا، اس لاڈلے کو سزا کیوں نہیں دی‘۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد کی صورت حال پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک، ریاست، حساس اداروں کے املاک، عمارتوں، مساجد، ہسپتالوں اور اسکولوں پر حملہ آور ہیں اور 3 دنوں سے ایک مجرم، جس نے قومی خزانے سے 60 ارب روپے کی چوری کا الزام ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ میں کرپشن کیس پر نیب نے تفتیش کے لیے گرفتار کیا ہے، گرفتاری کے بعد ملک کے اندر دہشت گردی اور ملک دشمنی کا ماحول بنایا گیا، چند سو جتھوں کے ساتھ مل کر سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ان جگہوں پر ان جتھوں کو بھیج دیا گیا اور جس وقت گرفتاری کی خبر آئی اس وقت ان کو لانچ کیا گیا اور اس کی منصوبہ بندی سب نے دیکھی ہیں۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ سب نے سنا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کس طرح کشیدگی کو ہوا دی اور پی ٹی آئی کی قیادت نے عمران خان کے حکم پر حملہ آور ہونے کے احکامات جاری کیے اور نگرانی کی جا رہی تھی کہ جن 2 سے 6 جگہوں پر ان جتھوں کو پہنچایا گیا تھا وہاں سے کس طرح کا ردعمل آرہا ہے، کتنے لوگ پہنچے ہیں اور کس طرح حملہ کرنا ہے، وہ سب ان آڈیوز میں سنی گئیں۔






چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو ساڑھے چار بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا، پولیس ایک گھنٹہ تاخیر سے عمران خان کو لے کر عدالت عظمیٰ پہنچی۔
عمران خان کو 15 گاڑیوں کے قافلے میں سپریم کورٹ پہنچایا گیا۔ آئی جی اسلام آباد چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ عدالت عظمیٰ پہنچے۔
عدالت نے کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز کیا تو کمرہ عدالت کو بند کردیا گیا۔
چیف جسٹس نے عمران خان کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔
عدالت نے عمران خان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انکی فوری رہائی کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب ایک شخص کورٹ آف لا میں آتا ہے تو مطلب کورٹ کے سامنے سرنڈر کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں عمران خان کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ 8 مئی کو کورٹ میں بائیو میٹرک روم میں موجود تھے۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کل کیس کی سماعت کرے، ہائی کورٹ جو فیصلہ کرے وہ آپ کو ماننا ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر سیاستدان کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان کو یقینی بنائے۔
عمران خان نے عدالت میں کہا کہ مجھے ہائیکورٹ سے اغوا کیا گیا، ڈنڈے مارے گئے ایسا تو کسی کرمنل کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے عدالت کو کہا کہ اس کے بعد کچھ علم نہیں کیا ہوا، ابھی تک مجھے نہیں پتہ کیا ہوا۔سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی، ساتھ ہی چیئرمین پی ٹی آئی کو ایک گھنٹے میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے عمران خان کو عدالت پہنچا دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے حکم کے مطابق پولیس نے عمران خان کو سپریم کورٹ پہنچا دیا اور انہیں ججوں کے دروازے سے اندر آکر عقبی راستے سے لایا گیا اور عمران خان خود چل کرعدالت پہنچے۔
عدالت عظمیٰ میں جب سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو چیف جسٹس عمر عطابندیال نے عمران خان روسٹرم پر طلب کرلیا۔
چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ملک میں آپ کی گرفتاری کے بعد تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات کی جارہی ہے کہ آپ کے کارکنان غصے میں باہر نکلے، ہم آپ کوسننا چاہتے ہیں، بتائیں کیا آپ 9 مئی کو عدالت میں بائیومیٹرک روم میں موجود تھے، جب ایک شخص کورٹ آف لا میں آتاہے تواس کا مطلب وہ کورٹ کے سامنے سرنڈرکرتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی تھی، عمران خان کی گرفتاری کو ہم واپس کر رہے ہیں اور عمران خان کو ہدایت کی ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔
اس سے قبل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان کی پیشی پر کارکنوں کو عدالت آنے کی اجازت نہیں ہوگی، آج ہی مناسب حکم جاری کریں گے۔سپریم کورٹ میں جب سماعت کا آغاز ہوا تو چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں شامل سینئر وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ایک کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں کس کیس میں پیش ہوئے تھے؟
وکیل حامد خان نے بتایا کہ عمران خان بائیومیٹرک کے لیے موجودہ تھے جب ان پر دھاوا بولا گیا، رینجرز نے عمران خان کے ساتھ بدسلوکی کی اور پر تشدد طریقے سے انہیں گرفتار کرلیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر ہوئی لیکن سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی، جو مقدمہ مقرر تھا وہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔
وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ بائیومیٹرک کے بغیر درخواست دائر نہیں ہوسکتی۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہی بات ہے کہ عمران خان عدالت کے احاطے میں داخل ہوچکے تھے، کسی کو انصاف کے حق سے کیسے محروم رکھا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا احترام ہوتا ہے، کورٹ کی پارکنگ سے نیب نے ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا، عدالت نے اس گرفتاری کو واپس کروایا تھا جس کے بعد نیب نے یقین دہانی کروائی تھی کہ احاطہ عدالت سےگرفتاری نہیں ہوگی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کتنے لوگوں نے عمران خان کو گرفتار کیا؟ وکیل عمران خان نے بتایا کہ 80 سے 90 افراد نے گرفتار کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 90 رینجرز اہلکار احاطہ عدالت میں داخل ہوئے تو عدالت کی کیا توقیر رہی؟ کسی بھی فرد کو احاطہ عدالت سے کیسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں عدالت میں توڑ پھوڑ کرنے پر وکلا کے خلاف کارروائی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد نے عدالت کے سامنے سرنڈر کردیا تو اس کو گرفتار کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کوئی شخص بھی آئندہ انصاف کے لیے خود کو عدالت میں محفوظ تصور نہیں کرے گا، گرفتاری سے قبل رجسٹرار سے اجازت لینی چاہیے تھی۔
وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ عمران خان کی گرفتاری کے وقت عدالتی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہیں، وارنٹ کی تعمیل کیسے ہوئی سب سے اہم ہے، ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ نیب نے تو ہین عدالت کی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہر کوئی چاہتا ہے دوسرا قانون پر عمل کرے، یہ عدالتوں کے احترام کا طریقہ کار نہیں۔
وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ تفتیشی افسر کی موجودگی میں عمران خان کو گرفتار کیا گیا ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے دریافت کیا کہ کیا وارنٹ گرفتاری چیلنج کیے گئے تھے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ یکم مئی کو وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ہم گرفتاری کے طریقہ کار اور عدالت کی بے توقیری سے متعلق معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ نے بتایا وارنٹ ابھی تک عمل درآمد کے لیے انہیں موصول نہیں ہوئے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سیاسی قیادت کی عدالتی پیشی پر بھی اچھے عمل کی توقع ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گرفتاری کے بعد جو کچھ ہوا اسے رکنا چاہیے تھا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیرقانونی اقدام سے نظر چرائی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا فیصلہ دینا چاہیے جن کا اطلاق سب پر ہو، انصاف تک رسائی ہر ملزم کا حق ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج میانوالی کی ضلعی عدلیہ پر حملہ ہوا ہے، معلوم کریں یہ حملہ کس نے کیا ہے؟ ضلعی عدلیہ پر حملے کا سن کر بہت تکلیف ہوئی۔وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو گھر یا عدالت کے باہر سے گرفتار کیا جاتا تو یہاں نہ ہوتے، ان کے ساتھ کوئی کارکن یا جتھہ عدالت میں نہیں تھا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا نیب نوٹسز کا جواب بھجوایا گیا تھا۔
وکیل نے بتایا کہ نیب نوٹس کا جواب دیا گیا تھا، قانون کے مطابق انکوائری کی سطح پرگرفتاری نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل عمران خان سے دریافت کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے کیا چاہتے ہیں؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ جو چاہتے ہیں اس کا اطلاق ہر شہری پر ہوگا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب نے منتخب عوامی نمائندوں کو تضحیک سے گرفتار کیا، یہ طریقہ کار بند کرنا ہوگا، عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے عمل کو سبوتاژ نہیں کیا جاسکتا۔
وکیل عمران خان نے کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ ملزم کو دینا لازمی ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے تھے؟
وکیل نے بتایا کہ عمران خان نے نوٹس کا جواب نیب کو ارسال کیا تھا لہٰذا نیب کا جاری کردہ وارنٹ غیرقانونی تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب کے وارنٹ جاری کرنے کا نہیں بلکہ وارنٹ پر تعمیل کروانے کا طریقہ اصل معاملہ ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ نیب وارنٹ تو عمران خان نے چیلنج ہی نہیں کیے، عمران خان نیب میں شامل تفیش کیوں نہیں ہوئے؟ کیا نیب نوٹس میں ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ قانون پر عمل کی بات نیب کرتا ہے، خود نہیں کرتا، نیب کی خواہش ہے کہ دوسرے قانون پر عمل کرے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ واضح رہے کہ عمران خان نے نیب نوٹس پر عمل نہیں کیا تھا، نیب نوٹس کا مطلب ہوتا ہے کہ بندہ ملزم تصور ہوگا، کئی لوگ نیب نوٹس پر بھی ضمانت کروا لیتے ہیں، مارچ کے نوٹس کا جواب مئی میں دیا گیا، کیا عمران خان نے قانون نہیں توڑا؟
وکیل عمران خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو صرف ایک ہی نوٹس موصول ہوا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ جسٹس محمد علی مظہر قانون پر عمل درآمد کی بات کر رہے ہیں، اصل معاملہ انصاف کے حق تک رسائی کا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب نے کوئی سبق نہیں سیکھا، نیب پر سیاسی انجینئرنگ سمیت کئی کاموں کا الزام لگتا ہے، کیا نیب نے رجسٹرار کی اجازت لی تھی؟
پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر نے کہا کہ عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں، نیب نے وارنٹس کی تعمیل کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، انہوں نے عمل درآمد کر وایا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ کیا عدالتی کمرے میں عمل درآمد وزارت داخلہ نے کیا؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ مجھے حقائق معلوم نہیں، آج ڈیڑھ بجے ہی تعینات ہوا ہوں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وارنٹ کی تعمیل کوئی نجی شخص بھی کروا سکتا ہے، وارنٹ خود بھی اپنے وارنٹس پر عمل درآمد کرواتا رہتا ہے، کیا نیب نے عدالت کے اندر گرفتار کا کہا تھا؟ عمران خان کو کتنے نوٹس جاری کیے تھے؟
پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ عمران خان کو صرف ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بظاہر نیب کے وارنٹ قانون کے مطابق نہیں، کیا وارنٹ جاری ہونے کے بعد گرفتاری کی کوشش کی گئی؟
چیف جسٹس نے کہا کہ یکم کو وارنٹ جاری ہوئے اور 9 کو گرفتاری ہوئی، 8 دن تک نیب نے خود کیوں کوشش نہیں کی، کیا نیب عمران خان کو عدالت سے گرفتار کرنا چاہتا تھا، وزارت داخلہ کو 8 مئی کو خط کیوں لکھا گیا تھا؟
نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 9 مئی کو کیس کی سماعت کی وجہ سے 8 مئی کو وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے وزارت داخلہ کو کہا اور خوش قسمتی سے دوسرے دن وہ آرہا تھا، ساتھ ہی استفسار کیا کہ جب درخواست گزارکو گرفتار کیا تھا تو کیا اس وقت اپ کا کوئی نمائندہ موجود تھا؟
نیب پراسیکیوٹر نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کریں گے۔جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ نیب نے وارنٹ کی تعمیل کے لیے حکومتِ پنجاب کو خط کیوں نہیں لکھا، نیب نے ملک کو بہت تباہ کیا ہے۔
سردار مظفر نے کہا کہ عمران خان کا کنڈکٹ بھی دیکھیں، ماضی میں مزاحمت کرتے رہے ہیں، اس لیے نیب کو جانوں کے ضیاع کا بھی خدشہ تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے بقول وارنٹ کی گرفتاری کا طریقہ وفاقی حکومت نے خود طے کیا تھا، کیا نیب کا کوئی افسر گرفتاری کے وقت موجود تھا؟
تاہم نیب افسران عمران خان کی گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر کی موجودگی کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا چکا ہے، ہمیں قانون نہ سکھائیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کو کس فورس نے گرفتار کیا، ہم یہ ڈھونڈنا چاہتے ہیں کہ گرفتار کس فورس نے کیا؟
وکیل نیب نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی جی اسلام آباد نے بتایا تھا کہ انہوں نے گرفتار کیا، ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق گرفتاری پولیس کی نگرانی میں کی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ پولیس نے رینجرز کی مدد سے گرفتاری کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالتی حکم کے مطابق پولیس کارروائی کی نگرانی کر رہی تھی، رینجرز کے کتنے اہلکار گرفتاری کے لیے موجود تھے؟
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ رینجرز نے پولیس کے ماتحت گرفتاری کی تھی، رینجرز اہلکار عمران خان کی سیکیورٹی کے لیے موجود تھے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب نے وارنٹ کی تعمیل سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ کسی قانون کے تحت رجسٹرار سے اجازت لینے کی پابندی نہیں تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا شیشے اور دروازے توڑے گئے؟ ضابطہ فوجداری کی دفعات 47 سے 50 تک پڑھیں، بائیو میٹرک برانچ کی اجازت کے بغیر بھی شیشے نہیں توڑے جاسکتے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ عمران خان کو کہیں اور گرفتار کرنا ممکن نہیں تھا، عمران خان ہر پیشی پر ہزاروں افراد کو ساتھ آنے کی کال دیتے تھے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ انصاف تک رسائی کے حق پر اٹارنی جنرل کو سنیں گے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ نیب جو کر رہا ہے وہ معمول بن چکا ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب نے 8 مئی کو رینجرز تعینات کرنے کی تحریری طور پر درخواست کی تھی لیکن رینجرز تعینات کرنے کی درخوست وارنٹس پرعمل درآمد کے لیے نہیں تھی۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ نیب نے سارا الزام وفاقی حکومت پر ڈال دیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم سرینڈر کرے اور گرفتار کیا جائے تو عدالت گرفتاریوں کے لیے آسان مقام بن جائے گا، ملزمان کے ذہن میں عدالتیں گرفتاری کی سہولت کار بن جائیں گی۔
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ عدالتیں آزاد ہوتی ہیں، آزاد عدلیہ کا مطلب شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سال 2012 سے 2022 تک عدالتوں میں 31 قتل ہوئے تھے، ایسا ہونے دیا تو نجی تنازعات بھی عدالتوں میں ایسے نمٹائے جائیں گے، بطور چیف جسٹس ہائی کورٹ ایکشن لیا اور اگلے سال کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ گرفتاری پر ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی کی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ کے لیے دفاع کرنا مشکل ہورہا ہے؟
انہوں نے ریمارکس دیے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی بہت برا سلوک ہوا ہے، حالیہ گرفتاری سے ہر شہری متاثر ہو رہا ہے، عدالت سے گرفتاری بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وارنٹ گرفتاری کی قانون حثیت پر رائے نہیں دینا چاہتے، کیا مناسب نہیں ہوگا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا جائے، کیا مناسب نہیں ہوگا عمران خان کی درخواست ضمانت پر عدالت فیصلہ کرے؟
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ ملک میں بہت کچھ ہوچکا ہے، وقت آگیا ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم ہو، گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی۔
دورانِ سماعت عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو عمران خان کو ایک گھنٹے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ احتساب عدالت نیب کو ان کا جسمانی ریمانڈ دے چکی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایسی گرفتاری کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔
چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ عمران خان کی پیشی پر کارکنوں کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت معاملے پربہت سنجیدہ ہے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کل تک مہلت دینے کی استدعا کی جسے چیف جسٹس نے مسترد کر دیا اور ریمارکس دیے کہ عدالت آج مناسب حکم جاری کرے گی۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔
رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری اور بیرسٹر علی ظفر نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
عمران خان کو 9 اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا۔
عمران خان 7 مقدمات میں ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تھے جہاں سے رینجرز نے ان کو حراست میں لے لیا تھا، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی گرفتاری کا نوٹس لیا تھا جس کے فیصلے میں ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق قرار دیا گیا تھا۔
نیب کا اصرار تھا کہ عمران خان کی گرفتاری نیب کی جانب سے کی گئی انکوائری اور تفتیش کے قانونی تقاضے پورا کرنے کے بعد کی گئی۔
نیب نے کہا کہ انکوائری/تفتیش کے عمل کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ کو متعدد نوٹس جاری کیے گئے کیونکہ وہ دونوں القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے، تاہم انہوں نے یا ان کی اہلیہ کی جانب سے کسی بھی نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا۔
گرفتاری کے اگلے روز عمران خان کو پولیس لائنز میں منتقل کردہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
عدالت میں نیب نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے انہیں عمران خان کا 8 روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔
Supreme Court orders immediate release of Imran Khan…….. …………
….During the hearing in the Supreme Court, the Chief Justice declared Imran Khan’s arrest illegal and ordered his release. The decision was delivered in two minutes. The court declared the arrest of Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) Imran Khan by the National Accountability Bureau (NAB) illegal in the Al-Qadir Trust case and ordered his immediate release.
Earlier, on the order of Chief Justice of Pakistan Umar Ata Bandial, Islamabad Police took Imran Khan to the Supreme Court.
Chief Justice Umar Atta Bandyal had ordered the Islamabad Police to produce Imran Khan at half past four, the police reached the Supreme Court with Imran Khan an hour late.
Imran Khan was brought to the Supreme Court in a convoy of 15 vehicles. IG Islamabad reached the Supreme Court along with Chairman PTI.
When the court resumed the hearing of the case, the courtroom was closed.
The Chief Justice called Imran Khan to the rostrum and said that he is happy to see you.
The court declared Imran Khan’s arrest illegal and ordered his immediate release.
The Supreme Court ordered Imran Khan to approach the Islamabad High Court again.
The Chief Justice remarked that when a person appears in a court of law, it means surrendering before the court. We believe Imran Khan’s arrest is illegal.
The Chief Justice remarked that you were present in the biometric room in the court on May 8.
The Chief Justice directed that the Islamabad High Court should hear the case tomorrow, you have to accept the decision of the High Court.
The Chief Justice remarked that every politician has the responsibility to ensure law and order.
Imran Khan said in the court that I was abducted from the High Court, beaten with sticks, this is not done to any criminal.
He told the court that after that nothing was known, I still don’t know. The Supreme Court, while hearing the petition against the arrest of former Prime Minister Imran Khan, remarked that the arrest must be reversed from where it was. Also ordered to produce Chairman PTI within an hour, after which the police brought Imran Khan to the court.
A three-member bench of the Supreme Court headed by Chief Justice Umar Atta Bandial, comprising Justice Muhammad Ali Mazhar and Justice Athar Minullah is hearing the petition of PTI.
According to the order of the 3-member bench of the Supreme Court, the police brought Imran Khan to the Supreme Court and he was brought in through the door of the judges and brought from the back and Imran Khan himself walked to the court.
When the hearing resumed in the Supreme Court, Chief Justice Umar Attabandial summoned Imran Khan to the rostrum.
The Chief Justice told Imran Khan that he is happy to see you, there are incidents of violence in the country after your arrest, we want peace in the country.
The chief justice said that it is being talked about that your workers walked out in anger, we want to hear you, tell us if you were present in the biometric room in the court on May 9, when a person comes to the court of law, it means He surrenders before the court.
The Chief Justice said that the arrest of Imran Khan was illegal, we are returning the arrest of Imran Khan and directed Imran Khan to approach the High Court.
Earlier, the Chief Justice had remarked that the workers will not be allowed to come to the court on the appearance of Imran Khan, he will issue an appropriate order today. When the hearing started in the Supreme Court, the chairman joined PTI’s legal team. Senior lawyer Hamid Khan told the court that Imran Khan had come to Islamabad High Court for pre-arrest bail in a case.
Chief Justice Umar Atta Bandyal inquired that Imran Khan had appeared in the Islamabad High Court in which case?
Lawyer Hamid Khan said that Imran Khan was present for biometrics when he was raided, Rangers abused Imran Khan and violently arrested him.
The Chief Justice said that according to the court records, the bail application was filed in the High Court, but it was not scheduled for hearing, and the case that was scheduled was also looked into.
Lawyer Hamid Khan said that the application cannot be filed without biometrics. Justice Athar Manullah said that this is the point that Imran Khan had entered the court premises, how can anyone be deprived of the right to justice.
The Chief Justice said that the court is respected, NAB had arrested an accused from the parking lot of the court, the court had returned the arrest after which NAB had assured that there will be no arrest from the court premises.
He inquired that how many people arrested Imran Khan? Lawyer Imran Khan said that 80 to 90 people were arrested.
The Chief Justice said that when 90 Rangers personnel entered the covered court, what was the respect of the court? How can any person be arrested from the premises of the court?
The Chief Justice said that action was taken against lawyers for vandalizing the court in the past.
He said that if a person has surrendered before the court, what is the meaning of arresting him? No person would consider himself safe in court for future justice, permission from the Registrar should have been obtained before arrest.
Lawyer Shoaib Shaheen said that at the time of Imran Khan’s arrest, court staff were also subjected to torture




