Prime Minister’s Vision Pakistan’s economic development with Saudi investmentوزیر اعظم کا ویژن سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معاشی ترقی.
(Asghar Ali Mubarak)………..

وزیر اعظم کا ویژن سعودی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معاشی ترقی….
.( اصغر علی مبارک)………..ملکی معیشت کو بہتر بنانا سول و عسکری قیادت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم پاکستان ملکی معیشت کی بحالی اور مضبوطی کے خواہاں ہیں تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیراقتصادی بحالی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ پاک فوج کے ہر ممکن تعاون کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا ویژن سعودی عرب کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معاشی ترقی ہے سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے سعودی سرمایہ کاروں کا وفد آج پاکستان پہنچے گا خیال رہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی سعودی عرب کی دلچسپی ہمارے ملک کے معدنیاتی منظرنامے کو کافی تبدیل کرسکتی ہے۔ سعودی عرب اپنے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ جس کی مالیت ایک کھرب ڈالرز سے زائد ہے، اس کے ساتھ اب وہ پاکستان کی مائننگ انڈسٹری کی ترقی میں تعاون کے لیے سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے۔وزیراعظم نے نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سب سے پہلے سعودیہ کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے وزیر اعظم کی ہدایت پر یکے بعد دیگرے سعودی عرب کے وفود نے پاکستان کادورہ کیا اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر پیش رفت ہوئی جوپاکستان کی معاشی بحالی کیلئے اہم قدم ہے , پاکستان کا مقصد سعودی سرمایہ کاری سےاپنی معدنیات پر مبنی معیشت کو بہتر بنانا ہے۔پاکستان کے پاس معدنیاتی وسائل کے انبار ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس ان معدنیات کو زمین سے نکالنے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے دولت اور تجربہ ہے۔ فوکل پرسن پاک سعودی شراکت داری اور وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہےکہ سعودی عرب سے ہمارا پرانا رشتہ ہے، اس رشتے کو ہم استحکام کے رشتے میں تبدیل نہیں کر سکے، کبھی اکٹھی ترقی کے حوالے سے ہم نے بات چیت نہیں کی، ہمیں سعودی عرب سے مدد نہیں بلکہ ترقی چاہیے، ہم خود دار قوموں کی طرح گفتگو کرنا چاہ رہے ہیں،ہم ترقی کے لیے گفتگو کر رہے ہیں، اس سلسلے میں سعودی عرب کے وزرا آئے، پھر ہمارا وفد بھی سعودی عرب گیا، ہمارے آنے کے بعد آ ج سعودی عرب کا وفد ارہا ہے اور تین دن بعد ہم پھر وہاں جائیں گے۔ ہماری در آمدات اور برآمدات میں عدم توازن ہے، ہم نے اپنے ایکسپورٹس پر توجہ دینی ہے، ہماری پیداواری قوت میں دیگر ممالک کے مقابلے فقدان ہے، ہمیں شرح ترقی بڑھانی ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے۔حکومت کا سب سے بڑا صارف عوام ہے اور ان کے راستے میں ہم ریڈ ٹیپ کو ختم کر کے ریڈ کارپٹ کی طرف لے کر جائیں گے، یہ وزیر اعظم کا ویژن ہے، ان کا حکم ہے کہ ان چیزوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق مجھے ذمہ داریاں دی گئی ہیں، ہمارے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ جب بچے بچیاں اسکول، کالجز سے نکلیں تو وہ نا امید نا ہوں، ان کو معلوم ہو کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، اور آنے والے وقت میں جب وہ باہر نکلیں گے تو نوکریاں بھی ہوں گی اور اگر اللہ نے موقع دیا تو وہ لوگوں کو نوکریاں بھی دے رہے ہوں گے، اس عمل کے لیے وزیر اعظم نے ایک خاکہ تیار کیا ہے۔
یاد رہے کہ معدنیات جیسے کاپر لیتھیم بیٹریز کے لیے ضروری ہیں اور توانائی کی منتقلی اور قابلِ تجدید معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مخصوص معدنیات بشمول تانبے کے حصول کے لیے عالمی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں کیونکہ انہیں قابلِ تجدید توانائی کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم ان میں سے بہت سی معدنیات ایسی جگہوں پر پائی جاتی ہیں جو جغرافیائی سیاسی طور پر غیرمستحکم ہیں جس کی وجہ سے وہاں کان کنی میں دشواری ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے پاس بھی تانبے اور سونے کے ذخائر ہیں جس نے سعودی عرب کی توجہ حاصل کی۔ وہ پاکستان کے وسائل کو عالمی تناظر میں قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے لیےایک اچھی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتا ہے۔سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کان کنی کو اہم سمجھتا ہے اور ان کے نزدیک سرمایہ کاری کے 13 اہم شعبہ جات میں سے کان کنی میں سرمایہ کاری ایک کلیدی اقدام ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان دونوں کو مل کر کام کرنے سے مشترکہ فوائد حاصل ہوں گے جبکہ اس سے پاکستان کی کان کنی کی مہارت اور صلاحیتوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ ریکو ڈک، تنابے اور سونے کی کان کنی کا پروجیکٹ بلوچستان کے معدنیات سے مالامال علاقے میں واقع ہے جوکہ ٹیتھیان میگمیٹک آرک کا حصہ ہے۔ سرمایہ کاری سے متعلق متعدد نشستوں کے بعد حتمی مرحلہ اب اس پر مرکوز ہے کہ اس منصوبے میں معاشی شراکت داری کے تناسب میں توازن کیسے رکھا جائے۔حکومت پاکستان سعودی عرب سے ایک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بدلے انہیں ریکو ڈک میں وفاق کے شیئرز کا ایک معقول حصہ دینے پر غور کررہی ہے۔ اگرچہ ان مذاکرات سے سامنے آنے والے باتیں ابھی قیاس آرائی پر مبنی ہیں بیرک گولڈ جس کی اس منصوبے میں 50 فیصد کی شراکت ہے، اپنے شیئرز کم کرنا نہیں چاہتی لیکن وہ اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اس منصوبے میں سعودی عرب کی شمولیت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ بیرک کی جانب سے خیرمقدم کیے جانے کے پیچھے اہم وجہ وہ سیکورٹی اور استحکام ہے جو سعودی عرب جیسے بڑے سرمایہ کار کی شمولیت سے اس منصوبے میں شامل ہوگا۔بلوچستان کی صوبائی حکومت بھی اس تعاون کے حق میں ہے لیکن وہ اپنے شیئرز سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں۔ اگر سمجھوتہ ہوجاتا ہے تو سعودی عرب کو او جی ڈی سی ایل اور بی بی ایل کے تحت موجودہ وفاقی شیئرز مل جائیں گے جس سے اس منصوبے میں شراکت داروں کے شیئرز کا تناسب تبدیل ہوجائے گا۔ دوبارہ بتاتے چلیں کہ شیئرز کی تقسیم کے حوالے سے مذاکرات ابھی جاری ہیں جو ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کرپائے ہیں۔سعودی سرمایہ کو پاکستان کے مائننگ سیکٹر میں متعارف کروائیں گے تو یہ متوقع طور پر پاکستان کو معدنیاتی وسائل پر مبنی معیشت کی اہمیت اجاگر کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔ اس حوالے سے طویل مدتی فوائد اور کسی بھی طرح کے ممکنہ جغرافیائی سیاسی یا معاشی فیصلوں میں انتہائی محتاط ہونا ہوگا اور یہ صرف سرمایہ کاری اور شیئرز کی تقسیم کی بات نہیں ہے۔ تانبے کے وسائل کے نام پر ایک ارب ڈالرز میں وفاقی شیئرز کا بڑا حصہ سعودی عرب کے حوالے کردیں گے تو اقتصادی طور پر اچھا فیصلہ ہے۔ یہ اسٹریٹجک طور پر کسی حد تک درست ہوسکتا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار یہ دونوں ممالک مالیاتی امداد یا کمرشل شراکت داری کے بغیر صرف اقتصادی وعدوں کی بنیاد پر باہمی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی فتح ہے۔ یوں توپاکستان کے اقتصادی شعبہ جات میں خلیجی ممالک کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے جن میں کان کنی کے علاوہ دیگر اہم اقدامات بھی شامل ہیں قومی ایئرلائنز کی نجکاری، زراعت، فارمنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوں گے۔ یہ شراکت داری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک تبدیلی کے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے جس میں مائننگ سیکٹر ممکنہ طور پر سب سے آگے ہے۔سعودی عرب کی دلچسپی سے پاکستان کی کان کنی کا مستقبل روشن ہوگا یہ ہماری سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اسٹریٹجک ہینڈلنگ پر زیادہ منحصر ہے جو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے پاکستان کے معاشی معاملات کو براہ راست سنبھال رہی ہے۔
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے مثبت نتائج پوری قوم کو دیکھنے کو ملیں گے۔کونسل کے قیام کا بنیادی مقصد خلیج تعاون کونسل جی سی سی رکن ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فرو غ دیتے ہوئے ملک کے اندر بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنااور معیشت کو بہتر بنانا تھا تاکہ وطن عزیز پاکستان میں معاشی خوشحالی لائی جاسکے۔براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو پاکستان میں فروغ دینا وطن عزیز کی اقتصادی بحالی کی طرف ایک اہم قدم تھا۔ اسے پاکستان کی معاشی ترقی و خوشحالی کا ضامن منصوبہ کہا جا سکتا ہے ۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کاوشوں سے بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی طرف متوجہ کرنے کے ملکی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کونسل کے قیام کے بعد سے سرمایہ کاری کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ مقامی بالخصوص عالمی سرمایہ کاروں کے پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ برادر ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں کے اندر سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہےہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے وژن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں 25،25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ مجموعی طور پراس سرمایہ کاری کا حجم 50 ارب ڈالر بنتا ہے ۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے اراکین اور اسٹیک ہولڈرز نے سرمایہ کاری کے لیے موزوں مختلف شعبوں کی نشان دہی بھی کر دی ہے جن پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔سعودی حکومت آئندہ دو سے پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں کان کنی، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 25 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کرنے کی خواہاں ہے جو بلاشبہ پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششوں کی طرف ایک اہم پیش رفت ہو گی ۔ یہ اب تک کی پاکستان میں عرب ممالک کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔خیال رہے کہ اس سے قبل چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر بھی سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی اس سرمایہ کاری کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ان کے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف کوپاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ جنرل عاصم منیر نے تاجروں کے ساتھ ایک ملاقات میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا تھا کہ وہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس کی خاطر اپنے اگلے دورے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت سے مجموعی طور پر 75 سے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دیں گے ۔
یاد رہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے وقت ابتدائی طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے جو ہدف مقرر کیا گیا تھا وہ صرف 5 ارب ڈالر تھا لیکن اسلامی ممالک کے تعاون اور پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی پر خلوص کاوشوں سے یہ ہدف بڑھ کر 100 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ امید ہے کہ ہماری اعلی قیادت اپنا یہ حدف بہت جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ غیر ملکی سرمایہ کار ماضی میں پاکستا ن میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسی مارکیٹ ہے جہاں وہ سرمایہ کاری کے ذریعے کثیر زر مبادلہ کما سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان ان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا کر اپنی معیشت سنوار سکتی ہے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اورزراعت جیسے شعبوں میں مزید بہتری آنے کے امکانات ہیں۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ایس آئی ایف سی کے قیام سے قبل غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے سے قبل ایک کچھ اداروں سے این او سیز اور اجازت نامے حاصل کرنے پڑتے تھے ،پھر ان کو صوبائی سطح پر تو کبھی وفاقی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے سبب ملک میں بڑی سرمایہ کاری ممکن نہیں ہو پارہی تھی۔ ایس آئی ایف سی کے قیام سے یہ مسئلہ حل ہوا ہے کیونکہ اس کونسل میں وفاقی اور صوبائی وزارتیں ، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز سمیت اہم وزراء اور وزیر اعظم بھی شامل ہیں جبکہ سول حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ساتھ اس میں عسکری قیادت بھی شامل ہے۔ سول و عسکری قیادت کے ایک پیچ پر ہونے سے عالمی برادری کے پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان میں ایسا ادارہ موجود نہیں تھا۔کونسل نے سرمایہ کاری کے طریقہ کارکو انتہائی سہل بنادیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر کئی ممالک اب آسانی کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت جن شعبوں میں بہتری آئے گی ان میں زراعت ،لائیو سٹاک، کان کنی،معدنیات، آئی ٹی اور توانائی کے کلیدی شعبے سر فہرست ہیں۔ ان شعبوںمیں بہتری لانے کے لیے سول و عسکری قیادت کے غیر ملکی دوروں پر خاصی توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ یہ دورے دیگر ممالک کیساتھ باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ان کی بدولت باہمی محبت اور بھائی چارے کی فضا پروان چڑھتی ہے۔حال ہی میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی نے عالمی سطح پر رسائی حاصل کرنے کی حکمت عملی اور دوست ممالک کے ساتھ جاری تعاون کو سراہا ہے ۔ دو طرفہ دوروں میں سعودی عرب اور اسلامک آرگنائزیشن فار فوڈ سکیورٹی کے اعلی سطحی وفود کے نتیجہ خیز دورے شامل ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے دنوںمیں ان مربوط اقدامات اور کوششوں کی بدولت ملکی معیشت میں مزید بہتری آئے گی ۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مختلف شعبوں کے اندر سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے وژن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے ۔ مجموعی طور پراس سرمایہ کاری کا حجم 50 ارب ڈالر بنتا ہے ۔امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ان مربوط اقدامات اور کوششوں کی بدولت ملکی معیشت میں مزید بہتری آئے گی ۔


The Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif’s vision is Pakistan’s economic development with the investment of Saudi Arabia. The Saudi Arabia has always supported Pakistan in difficult times. The Saudi investors’ delegation will arrive in Pakistan today.
Keep this in mind that Saudi Arabia’s interest in investing in Pakistan can significantly change the mineral landscape of our country. Saudi Arabia is now ready to invest with its public investment fund worth more than one trillion dollars to support the development of Pakistan’s mining industry.
As a result of which Saudi Arabian delegations visited Pakistan one after the other under the direction of the Prime Minister of Saudi Arabia and progress was made on investment projects worth billions of dollars, which is an important step for the economic recovery of Pakistan.
Saudi investment is to improve its mineral-based economy. Pakistan has abundant mineral resources, while Saudi Arabia has the wealth and experience to invest in extracting these minerals from the ground.
Focal Person of Pak-Saudi Partnership and Federal Minister of Petroleum Dr. Mosaddeq Malik says that we have an old relationship with Saudi Arabia, we could not change this relationship into a relationship of stability, we have never discussed about joint development. We don’t want help from Saudi Arabia but development. He said that we want to talk like independent nations. We are talking for development. After that, today the delegation of Saudi Arabia is arriving and after three days we will go there again. We have an imbalance in our imports and exports, we have to focus on our exports, our productivity is lacking compared to other countries, and we have to increase the rate of growth so that people get jobs. The biggest consumer of the government is the people and in his way, we will eliminate the red tape and lead to the red carpet, this is the vision of the Prime Minister, PM ordered that these things should be taken into consideration. He said that related to foreign investment.
Note that minerals such as copper are essential for lithium batteries and play an important role in the energy transition and the development of a renewable economy. There is a global effort to extract certain minerals, including copper, because they are considered important for renewable energy. However, many of these minerals are found in places that are geopolitically unstable, which can make mining difficult. Pakistan also has copper and gold deposits which attracted the attention of Saudi Arabia. They sees Pakistan’s resources as a good investment for achieving renewable energy in the global context. Saudi Arabia’s Public Investment Fund considers mining important and among its 13 key investment sectors, mining. Investing in mining is a key move both Saudi Arabia and Pakistan working together will have mutual benefits while it can also boost Pakistan’s mining skills and capabilities.
The Rico Dick, Coal and Gold Mining Project is located in the mineral-rich region of Baluchistan, which is part of the Tethyan Magmatic Arc. After several meetings on investment, the final phase is now focused on how to balance the proportion of economic participation in the project. In exchange for a billion dollar investment from Saudi Arabia, the government of Pakistan will give those shares of the federation in Rico Duck. Although the outcome of these negotiations is still speculative, Barrick Gold, which has a 50 percent stake in the project, does not want to reduce its stake, but agrees that Saudi Arabia’s involvement in the project would be beneficial. The main reason behind Barrack’s welcome is the security and stability that a major investor like Saudi Arabia will bring to the project. If an agreement is reached, Saudi Arabia will get the existing federal shares under the OGDCL and BBL, which will change the proportion of partners’ shares in the project. Let us repeat that the negotiations regarding the distribution of shares are still going on, which have not yet been finalized. If Saudi capital is introduced in the mining sector of Pakistan, it is expected to highlight the importance of Pakistan’s economy based on mineral resources. In this regard, long-term benefits and any possible geopolitical or economic decisions need to be very cautious and not just about investing and distributing shares. In the name of copper resources, a large part of the federal shares will be handed over to Saudi Arabia in the name of one billion dollars, then it is a good decision economically. This may be somewhat strategically correct. For the first time in history, these two countries are trying to develop mutual relations based on economic commitments only, without financial aid or commercial partnerships. This is a great victory for Pakistan. Thus, the interest of the Gulf countries in Pakistan’s economic sectors has increased, which includes other important initiatives in addition to mining, the privatization of national airlines, the prospects of investment in sectors such as agriculture, farming and information technology will be bright. This partnership could be the beginning of a transformative era for Pakistan’s economy, with the mining sector possibly at the forefront. Saudi Arabia’s interest will brighten the future of Pakistan’s mining sector. This is a strategic move by our security establishment. More depends on the handling which is directly handling the economic affairs of Pakistan through the Special Investment Facility Council.
The whole nation will see the positive results of the Special Investment Facilitation Council. The main purpose of establishing the Council is to increase foreign investment within the country by promoting friendly relations with the GCC member countries, especially Saudi Arabia. Promoting foreign direct investment in Pakistan was an important step towards the economic recovery of the motherland. It can be called a guarantee project for the economic development and prosperity of Pakistan. The efforts of the Special Investment Facilitation Council to attract foreign investors to Pakistan are having far-reaching effects on the country’s economy. Since the establishment of the Council, revolutionary changes have started to take place in the field of investment. Local especially international investors have increased confidence in Pakistan. The brotherly countries of Saudi Arabia and the United Arab Emirates have expressed their desire to invest in various sectors. In total, the volume of this investment is 50 billion dollars. The members of the Special Investment Facilitation Council and the stakeholders have also identified various areas suitable for investment, which are being implemented on an urgent basis. The Saudi government is looking to invest up to 25 billion dollars in mining, agriculture and information technology sectors over the next two to five years, which will undoubtedly be a significant step towards increasing foreign direct investment in Pakistan. This will be the largest investment made by Arab countries in Pakistan so far. It should be noted that earlier Chief of Army Staff General Asim Munir also confirmed this investment made by Saudi Arabia have done during his visit to Saudi Arabia, Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman had assured the army chief of the investment of 25 billion dollars in Pakistan. General Asim Munir, in a meeting with businessmen, also reiterated his commitment that he will make every possible effort to improve the country’s economy and for this purpose, in his next visit, he will meet with Saudi Arabia, United Arab Emirates, Qatar and Kuwait encourage to invest 75 to 100 billion dollars.
It should be remembered that at the time of the establishment of the Special Investment Facilitation Council, the target initially set for foreign investment was only 5 billion dollars, but due to the cooperation of Islamic countries and the sincere efforts of the civil and military leadership of Pakistan. This target has increased to 100 billion dollars. It is hoped that our top leadership will be able to achieve this goal very soon. Foreign investors have preferred to invest in Pakistan in the past because it is a market where they can earn a lot of foreign exchange through investment. Along with this, the government of Pakistan can improve its economy by increasing cooperation with them in various sectors, while there are possibilities of further improvement in sectors like information technology, mining and agriculture. It is noteworthy that prior to the establishment of SIFC, foreign investors had to obtain NOCs and permits from certain institutions before investing within Pakistan, and sometimes at the provincial level. Problems were faced at the federal level due to which large investments in the country were not possible. The establishment of the SIFC has solved this problem as the council includes the federal and provincial ministries, chief secretaries of the four provinces and the Prime Minister as well as the civil government officials as well as the military leadership. With the civil and military leadership on the same page, the confidence of the international community on Pakistan has increased. It should be remembered that there was no such organization in Pakistan before. The Council has made the investment procedure very easy. This is the reason why many other countries including Saudi Arabia and United Arab Emirates can now invest in Pakistan with ease. Among the sectors that will improve under the Special Investment Facility Council are agriculture, livestock, mining, minerals, IT and energy key sectors. In order to improve these areas, special attention is being paid to the foreign visits of the civil and military leadership because these visits are the best means of creating mutual harmony with other countries. Recently the Apex Committee of the Special Investment Facilitation Council has appreciated the strategy of achieving global reach and ongoing cooperation with friendly countries. Bilateral visits include fruitful visits by high-level delegations from Saudi Arabia and the Islamic Organization for Food Security. It is hoped that in the coming days, thanks to these integrated measures and efforts, there will be further improvement in the country’s economy.
Saudi Arabia and the United Arab Emirates have expressed their desire to invest in various sectors. The Prime Minister said in a statement after his recent visit to the Saudi Arabia have expressed their commitment to invest in Pakistan by encouraging the vision of the Special Investment Facilitation Council. In total, the size of this investment is 50 billion dollars. It is hoped that in the coming days, thanks to these integrated measures and efforts, the country’s economy will improve further.