Pakistan, South Africa, 2nd Test to be held in Rawalpindi from October 20*پاکستان، جنوبی افریقہ ,دوسرا ٹیسٹ 20 اکتوبر سے راولپنڈی میں ہو گا*
( اصغر علی مبارک )………پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرا ٹیسٹ 20 سے 24 اکتوبر اور پہلا ٹی ٹوئنٹی 28 اکتوبر 2025 کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم، راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔.راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 1992 میں قائم ہوا اور پنڈی کلب گراؤنڈ کی جگہ لے لی پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں واقع ہے اور اس کی گنجائش 20 ہزار ہے۔
اسٹیڈیم میں پہلا بین الاقوامی میچ 19 جنوری 1992 کو کھیلا گیا جب سری لنکا نے ون ڈے میچ میں پاکستان کا سامنا کیا، اس اسٹیڈیم نے 1993 میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کی میزبانی کی جب کہ زمبابوے نے پاکستان کا دورہ کیا۔
سری لنکا کے خلاف 2019 کی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے دوران راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہوئی، پہلا ٹیسٹ میچ 11 سے 15 دسمبر 2019 تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم 1992 میں قائم ہوا اور پنڈی کلب گراؤنڈ کی جگہ لے لی ایک بین الاقوامی اسٹیڈیم کے طور پر یہ اسلام آباد یونائیٹڈ اور ناردرن کرکٹ ٹیم کا ہوم گراؤنڈ ہے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر سے پہلے راولپنڈی کلب کرکٹ گراؤنڈ کو بین الاقوامی میچوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جس میں نیوزی لینڈ کے خلاف مارچ 1965 میں ہونے والا ایک ٹیسٹ میچ بھی شامل تھا۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم-96 – 1995 کرکٹ ورلڈ کپ میں ایک اہم مقام تھا، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے راولپنڈی میں زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے ایک نئے ٹیسٹ وینیو کی نقاب کشائی کی، جو ملک کا 14 واں ٹیسٹ گراؤنڈ بن گیا۔ فلڈ لائٹس کو 2001 کے آخر میں اس وقت شامل کیا گیا تھا جب آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اسٹیڈیم دارالحکومت اسلام آباد سے صرف 20 منٹ کی دوری پر ہے 2024-2025 میں تزئین و آرائش کے دوران اسٹیڈیم کی گنجائش کو بڑھایا گیا، راولپنڈی میں سیمرز اور فاسٹ بولرز کو مدد دینے والی پچیں ہوتی ہیں۔ ’خاص کر سردی کے موسم میں یہاں تیز بولرز کو کامیابی ملتی ہے۔‘ یہ تین دسمبر سنہ 1997 کی بات ہے، ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بلےباز اور سابق کپتان کلائیو لائیڈ راولپنڈی کی پچ کو دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہہ رہے تھے ’ویری بیڈ‘۔ پاکستان ویسٹ انڈیز کو یہ ٹیسٹ ایک اننگز اور 29 رنز سے ہرا چکا تھا۔ ساتھ ہی کھڑے پچ کیوریٹر محمد اشرف نے گھبرا کر ان کی جانب دیکھا اور پوچھا کہ آپ میری پچ کو برا کیوں کہہ رہے ہیں؟ لائیڈ مسکرائے اور کہنے لگے کہ میں آپ کی پچ کو نہیں اپنی ٹیم کو برا کہہ رہا ہوں جو اتنی اچھی وکٹ کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔ بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے لائیڈ نے کہا کہ ’میرے تجربے کے مطابق یہ دنیا کی بہترین ٹیسٹ پچوں میں سے ایک ہے۔‘1994 میں اس گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بولر ڈیمیئن فلمنگ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔ انھوں نے اس ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ہی ہیٹ ٹرک کر ڈالی۔ عامر ملک، انضمام الحق اور 278 رنز بنانے والے سلیم ملک ان کا شکار بنے۔اسی طرح فاسٹ بولر محمد زاہد اس میدان پر 10 وکٹیں لینے والے واحد بولر ہیں اور انھوں نے بھی یہ اعزاز اپنے ڈیبیو پر ہی حاصل کیا تھا۔ پنڈی سے ہی تعلق رکھنے والے اظہر محمود نے 1997 میں اسی گراؤنڈ پر ڈیبیو کیا اور اس میچ میں سنچری بھی سکور کی۔ اسی میچ میں ایک اور ڈیبیو بھی ہوا اور علی نقوی کا بھی پہلا میچ ان کے لیے سنچری کی صورت میں یادگار بنا۔اس گراؤنڈ پر پہلا انٹرنیشنل میچ ایک، ایک روزہ میچ تھا جو اتفاق سے پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہی کھیلا گیا تھا۔ پاکستان نے اس میچ میں 117 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔۔نعمان علی نے جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لیں،پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں 93 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کی ہےیاد رکھیں کہ پاکستان نے میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور پہلی اننگز میں امام الحق، شان مسعود، محمد رضوان اور سلمان علی آغا کی نصف سنچریز کی بدولت 378 رنز بنائے تھے جب کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے سینوران متھوسوامی نے 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ جس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 269 رنز پر پویلین لوٹ گئی، پروٹیز کی جانب سے ٹونی ڈی زورزی نے 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 104 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ ریان ریکلٹن نے 71 رنز بنائے، قومی ٹیم کی جانب سے نعمان علی نے 6 اور ساجد خان نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔ جنوبی افریقہ پر 109 رنز کی برتری حاصل کرنے کے باوجود قومی ٹیم دوسری اننگز میں اچھی کارکردگی نہ دکھاسکی اور پوری ٹیم 167 رنز پر ڈھیر ہوگئی، بابراعظم 42، عبداللہ شفیق 41 رنز بناکر نمایاں رہے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے پہلی اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کرنے والے متھوسوامی نے دوسری اننگز میں بھی 5 وکٹیں حاصل کیں، سمون ہارمر کے حصے میں 4 وکٹیں آئیں، ایک وکٹ کاگیسو ربادا نے حاصل کی

( Asghar Ali Mubarak )………The 2nd Test between Pakistan and South Africa will be played from October 20 to 24 and the first T20I on October 28, 2025 at the Rawalpindi Cricket Stadium, Rawalpindi..Rawalpindi Cricket Stadium was established in 1992 and replaced the Pindi Club Ground. Pindi Cricket Stadium is located in the city of Rawalpindi in the Punjab province of Pakistan and has a capacity of 20,000.
The first international match at the stadium was played on January 19, 1992 when Sri Lanka faced Pakistan in an ODI match. The stadium hosted its first Test match in 1993 when Zimbabwe toured Pakistan.
Test cricket returned to Pakistan at the Rawalpindi Cricket Stadium during the 2019 two-match Test series against Sri Lanka, with the first Test match being held at the Rawalpindi Cricket Stadium from 11 to 15 December 2019.
The Rawalpindi Cricket Stadium was established in 1992 and replaced the Pindi Club Ground as an international stadium. It is the home ground of Islamabad United and the Northern Cricket Team. Before the construction of the Rawalpindi Cricket Stadium, the Rawalpindi Club Cricket Ground was used for international matches, including a Test match against New Zealand in March 1965.
Rawalpindi Cricket Stadium-96 – A key venue in the 1995 Cricket World Cup, the Pakistan Cricket Board (PCB) unveiled a new Test venue in Rawalpindi for the second Test against Zimbabwe, becoming the country’s 14th Test ground. Floodlights were added in late 2001 when the Australian cricket team toured Pakistan. The stadium is just 20 minutes from the capital Islamabad. The stadium’s capacity was increased during renovations in 2024-2025. Rawalpindi has pitches that help seamers and fast bowlers. “Especially in the cold season, fast bowlers get success here.” It was December 3, 1997, when West Indies legendary batsman and former captain Clive Lloyd was shaking his head at the Rawalpindi pitch and saying, “Very bad.” Pakistan had defeated the West Indies in that Test by an innings and 29 runs. Pitch curator Mohammad Ashraf, who was standing nearby, looked at him nervously and asked, “Why are you calling my pitch bad?” Lloyd smiled and said, “I am not calling your pitch bad, but my team bad, who could not take advantage of such a good wicket.” Later, while talking to the media, Lloyd said, “In my experience, this is one of the best Test pitches in the world.” In the second Test match played on this ground in 1994, Australian fast bowler Damien Fulming was playing his first Test match. He took a hat-trick in the second innings of this Test. Amir Malik, Inzamam-ul-Haq and Saleem Malik, who scored 278 runs, became his victims. Similarly, fast bowler Mohammad Zahid is the only bowler to take 10 wickets on this ground and he also achieved this honor on his debut. Azhar Mahmood, who also hails from Pindi, made his debut on this ground in 1997 and also scored a century in this match. Another debut also took place in the same match and Ali Naqvi’s first match was also memorable for him in the form of a century. The first international match on this ground was a one-day match, which coincidentally was played between Pakistan and Sri Lanka. Pakistan won the match by 117 runs. Noman Ali took 10 wickets in the Lahore Test against South Africa. Pakistan defeated South Africa by 93 runs in the first match of the 2-Test series to take a 0-1 lead in the series. Remember that Pakistan won the toss and elected to bat in the match and scored 378 runs in the first innings thanks to half-centuries from Imam-ul-Haq, Shan Masood, Mohammad Rizwan and Salman Ali Agha, while Senoran Muthuswamy dismissed 6 players from South Africa. In response, the entire South African team returned to the pavilion for 269 runs. Tony de Zorzi played an innings of 104 runs with the help of 10 fours and 2 sixes from the Proteas, while Ryan Rickelton scored 71 runs. Noman Ali took 6 and Sajid Khan took 3 wickets from the national team. Despite taking a 109-run lead over South Africa, the national team could not perform well in the second innings and the entire team was bundled out for 167 runs, with Babar Azam scoring 42 and Abdullah Shafiq scoring 41.
Muthuswamy, who took 6 wickets in the first innings for South Africa, also took 5 wickets in the second innings, Simon Harmer took 4 wickets, and Kagiso Rabada took one wicket.

















