Change in Khyber Pakhtunkhwa, Echo of Governor’s Rule
…….خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی بازگشت ; تبدیلی سرکار کی تبدیلی ,
…..(اصغر علی مبارک)…….
خیبرپختونخوامیں تبدیلی سرکار کی تبدیلی , گورنر راج کی بازگشت سنائی دےرہی ہے ,کیا یہ کے پی میں سیاسی تبدیلی ,گورنر راج کاصحیح وقت ہے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے اور نہ گرانے کی بحث ملکی سیاسی حلقوں میں زور و شور سے جاری ہے، ایک جانب اہم حکومتی ملاقاتیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت کے ممکنہ تختہ الٹنے کی خبروں کے دوران میں 3 جولائی کووزیراعظم شہباز شریف سے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے اہم ملاقاتیں کیں۔گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا کہناہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس اکثریت ہو تو حکومت کی تبدیلی آئینی حق ہے، اسے سازش کہنا درست نہیں۔ گورنر کے پی نے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں کی بحالی کے بعد بننے والی نئی سیاسی صورتحال پر بھی بات ہوئی اور کہا کہ گنڈاپور کے خلاف سازش کرنے کے لیے ان کے اپنے لوگ ہی کافی ہیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی ایمل ولی خان سے ہونے والی ملاقات میں بھی ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں مختلف وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی بھی شریک تھے۔یہ یاد رکھیں کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے پی ٹی آئی حکومت ہے مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی جارہی ہے اور صوبے کے عوام امن وامان کی دن بدن بگڑتی صورتحال سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یاد رہے کہ کچھ دن پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ساتھ مل کر صوبے کا امن وامان یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیاگیا تھا وزیراعظم شہباز شریف سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھاجس کے دوران گورنر نے صوبے میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبہ میں سرکاری ملازمین کے اغوا اور پولیس پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ متعدد اضلاع میں پولیس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں ,عوام کو تحفظ فراہم کرنیوالی پولیس خود عدم تحفظ کا شکار اورصوبائی حکومت قیام امن اور عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ وزیر اعظم نے گورنر خیبرپختونخوا سے صوبے کی بگڑتی امن وامان کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا تھااور فوری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی کے پی حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہے،کر پشن کے ریکارڈ پریکارڈ بن چکے, بدامنی عروج پر ، قانون کی حکمرانی نہیں، گڈ گورننس نہیں ,لوگ بری طرح زندگی گزار رہے ہیں,خیبرپختونخوامیں بلاشبہ اپوزیشن جماعتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بڑی سیاسی و آئینی تبدیلی کی منتظر ہیں لیکن وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتیں گورنر راج میں دلچسپی نہیں رکھتیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے حالیہ دورہ کے پی کے میں ممکنہ تبدیلی کی امید ظاہر کی ہے دریں اثنا اسی سیاسی تناظر میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا جارحانہ ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ چاہے جتنا زور لگا لیا جائے، آئینی طریقے سے ان کی حکومت کو نہیں گرایا جا سکتا۔ انہوں نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی حکومت گرائی گئی تو وہ سیاست ہی چھوڑ دیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی آنی چاہیے، تحریک انصاف اکثریت میں ہے تو ان کے اندر سے ہی تبدیلی آنی چاہیے، ایسا نہیں نہ ہو کہ اپوزیشن متحرک ہو کر صوبائی حکومت کو تبدیلی کر دے,پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمنٰ نے کہا کہ ہمارا یقین ہے پی ٹی آئی کی صوبے میں اکثریت جعلی ہے، اگر ان کی اپنی پارٹی میں تبدیلی آتی ہے تو وہ زیادہ بہتر ہوگا،یاد رکھیں کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے دعوی کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کے پاس پی ٹی آئی وفد آیا تھا اور درخواست کی تھی کہ خیبر پختونخوا کی تحریک عدم اعتمادکا حصہ نہ بنیں، مولانا فضل الرحمن نے کہا تھاکہ کے پی حکومت گرانے میں دلچسپی نہیں، میں اسمبلی و پورے سسٹم کو جعلی اور دھاندلی زدہ سمجھتا ہوں۔
دوسرا پی ٹی آئی کے اندر کچھ لوگ علی امین گنڈاپورکو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے یہ دعوی کیاگیاتھا کہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کسی ممکنہ تحریک عدم اعتماد سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور مولانا فضل الرحمان کا پیغام اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی تک پہنچا دیا گیا ، جو ان کی بہنوں کے ذریعے جیل ملاقات کے دوران دیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا تھا کہ حکومت گرانے کے لیے مولانا سے رابطہ کیا گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران مولانا کاکہنا تھا کہ ہمارا راستہ کیوں روکا جارہا ہے، اگر عوام کی تائید ہمارے ساتھ ہے تو کسی میں ہمت نہیں کہ وہ ہماری حکومت کا راستہ روک سکے، ہم عوامی فیصلے کے انتظار میں ہیں۔خیبرپختونخوا مزید سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، عام آدمی کی زندگی غیرمحفوظ، شہری اپنے گھر سے باہر نکلتے ہوئے سوچتا ہے، امن وامان کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے رابطہ کیا تو ہم ضرور ان سے بات چیت کریں گے، چاہتے ہیں اس اہم مسئلے پر صوبے میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا انعقاد کیا جائے۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس پر مزید بات نہیں کر سکتا۔ اگر میں وفاقی حکومت کے فیصلوں سے متفق ہوتا تو کیا ان کے ساتھ نہ ہوتا، پی ڈی ایم صدر اُدھر ہے اور حکومت دوسری جانب، انتخابات میں اسمبلیوں کے ریٹ لگے، مقصد بکے ہیں، کیا اب میں بکاؤ حکومت کا حصہ بنوں ؟ لیکن اگر حکومت پر جنگ مسلط ہوتی ہے تو ہزار شکوؤں کے باوجود ایک صف میں کھڑے ہوں گے۔عمران خان کی رہائی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا تھاکہ کوئی بھی سیاست دان جیل میں نہیں ہونا چاہیے، لیکن سیاست دان جیل جاتا ہے، تحریکیں رہائی کے لیے نہیں بلکہ عظیم الشان مقاصد کے لیے ہوتی ہیں، جیلوں سے باہر آکر سیاست دان سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت خیبرپختونخوا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت نہیں ہے ، یہ بھتے دینے والی حکومت ہے، یہ مسلح لوگوں کو ماہانہ بھتے بھیجتی ہے، تب جا کر ہم ڈیرہ اسمٰعیل خان سمیت دیگر علاقوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے مرکزی رہنما ,مشیر وزیرِ آعظم پاکستان ,میاں محمد شہبازشریف ,برائے خیبرپختونخوا سیاسی امور اور نوشہرہ سے سابق رکنِ صوبائی اسمبلی ,اختیار ولی خان نے اس کالم نگارسے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک عدم اعتماد زیر غور نہیں اور نہ ہی مولانا فضل الرحمان سے حکومت گرانے کے حوالے سے کوئی بات کی گئی ہے۔ اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ ہمارا پختونخوا کی حکومت کو گرانے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی تین حصوں میں تقسیم ہے، ایک دھڑا صرف علی امین کو مانتا ہے، دوسرا دھڑا عمران خان کے ساتھ کمٹڈ ہے جبکہ تیسرا دھڑا عمران خان اور علی امین کی پالیسیوں سے تنگ ہے۔ اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا جہاں پر تیسری بارپاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے ، یہ تیسری اسمبلی ہے اور نعرہ یہ ہوتا ہے کہ صاف چلی شفاف چلی ،اب نہیں تو کب ، ہم ملک بچانے نکلے ہیں آئو ہمارے ساتھ چلو ، دو نہیں ایک پاکستان ، مدینہ کی ریاست، نیا خیبر پختونخوا اور یہ سارے خوبصورت نعرے لگانے والوں کے بارے میں اس سے پہلے اور کئی وارداتیں سامنے آ چکی ہیں ، پہلے جتنی وارداتیں ہوئیں وہ ملک کے اندر تھیں،ان پہ چوری ثابت ہوئی لیکن آج تو اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خیبر پختونخوا حکومت کو باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اختیار ولی نے کہا کہ خیبر پختونخوا جہاں پر تیسری بارپاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے ، یہ تیسری اسمبلی ہے اور نعرہ یہ ہوتا ہے کہ صاف چلی شفاف چلی ،اب نہیں تو کب ، ہم ملک بچانے نکلے ہیں آئو ہمارے ساتھ چلو ، دو نہیں ایک پاکستان ، مدینہ کی ریاست، نیا خیبر پختونخوا اور یہ سارے خوبصورت نعرے لگانے والوں کے بارے میں اس سے پہلے اور کئی وارداتیں سامنے آ چکی ہیں ، پہلے جتنی وارداتیں ہوئیں وہ ملک کے اندر تھیں،ان پہ چوری ثابت ہوئی لیکن آج تو اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خیبر پختونخوا حکومت کو باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا ہے۔ اسی بناء پر ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنا پروگرام خیبر پختونخوا میں بند کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں پورے پاکستان سے بالعموم اور خیبر پختونخوا کے لوگوں سے بالخصوص ملتمس ہوں کہ جن لوگوں کو آپ نے ووٹ دیئے کہ یہ صادق اور امین ہیں آج ان کو گوروں نے بھی کہہ دیا کہ یہ صادق بھی نہیں یہ امین بھی نہیں بلکہ ڈاکو ہیں نہ صاف چلی اور نہ شفاف چلی بلکہ بالکل ہی مردار چلی ۔ تحریک انصاف وہ جماعت ہے جو شفافیت کے نام پر قوم کو لوٹتی ہے جو انصاف کے نام پر قوم کے ساتھ بے انصافی کرتی ہے ۔ یہ تو تقریبا 800 ملین کی کرپشن کی سٹوری ہے اور اس پہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خیبر پختون خوا میں اپنا پروگرام بند کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم مزید اگر یہاں پر کام کریں گے تو ہم غیر سرکاری تنظیم و این جی اوز کے ساتھ چلیں گے خیبر پختونخوا حکومت کو جو بھی رقوم وفاق سے یا اقوام متحدہ سے ملے اس کا استعمال پاکستان میں انتشار یا جھوٹے پروپیگنڈے کو پروان چڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ معصوم دودھ پیتے بچوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے وہ اس ملک کے ساتھ کیا انصاف کریں گے وہ اس صوبے کے ساتھ کیا انصاف کریں گے وہ جمہوریت کے ساتھ کیا انصاف کریں گے وہ پاکستان کے ساتھ کیا انصاف کریں گے ۔ بلین ٹریز کے آدھے درخت موقع پر موجود ہی نہیں،خیبر پختونخوا کے منصوبوں کی تنخواہیں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر خرچ ہوتی ہیں، لوٹ مار کی رقوم ڈی چوک، سٹاک ایکسچینج کو نیچے لانے اور پاکستان کو تنہا کرنے پر خرچ کی جائے گی،ملک کے پیسے کے پی میں پی ٹی آئی کے ہاتھوں ضائع ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کا کہناہے کہ پی ٹی آئی کی لوٹ مار ثابت ہوچکی ہے ،کرپشن و مالی بے ضابطگیوں کے باعث ورلڈ فوڈ پروگرام نے خیبرپختونخوا میں اپنا پروگرام بند کردیاہے ، خیبر پختونخوا میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے ، صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت12برس سے برسر اقتدار ہے اور بے ضابطگیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ خیبر پختونخوا میں جو ثابت شدہ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں انہوں نے صاف چلی ،شفاف چلی کا نعرہ لگانے والی پارٹی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے ۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہناہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اس کے ذیلی نشوونما پروگرام میں بھی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئی ہیں اور شیر خوار بچوں کے دودھ کے ڈبے تک بیچ دیئے گئے ۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے پروگرام میں تقریبا 80 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں منظر عام پر آئی ہیں ،کے پی کی عوام کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اور جس طرح صوبے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے وہ اب آپ سب کے سامنے ہے ۔ یہ حقیقت میڈیا میں رپورٹ ہوچکی ہے ۔صوبے کی عوام چیخ چیخ کے کہہ رہی ہے کہ ہمیں نہ تو انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔گھوسٹ ملازمین لائے گئے ، جعلی رسیدیں بنائی گئیں ۔بچوں اور ان کی مائوں کے استعمال کرنے کا جو سامان ملا وہ بازار میں بیچا گیا اور مارکیٹس میں بلیک میں سیل ہوتا رہا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کا آڈٹ ہو تاکہ جو بے ضابطگیاں کے پی کی حکومت نے اس پروگرام میں کی ہیں وہ منظر عام پرآئیں اور عوام کو پتہ چلنا چاہیے کہ ان کے حق پہ کس طرح ڈاکہ مارا جا رہا ہے ، جس طرح عوام کے پیسے جو عوام کے لیے مختص ہوئے ہیں جو عوام کے اوپر لگنے چاہیئں وہ آئے روز دھرنے یا جلائو گھرائو کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں


Change in Khyber Pakhtunkhwa, Echo of Governor’s Rule is being heard, Is this a political change in KP, Is it the right time for Governor’s Rule? The debate on whether or not to topple the PTI government in Khyber Pakhtunkhwa is going on in the country’s political circles. On one hand, important government meetings are ongoing, while on the other hand, amid news of the possible overthrow of the Khyber Pakhtunkhwa government, on July 3, Governor KP Faisal Karim Kundi and Awami National Party chief Aimal Wali Khan held important meetings with Prime Minister Shehbaz Sharif. Governor KP Faisal Karim Kundi says that if the opposition has a majority, then the change of government is a constitutional right, it is not right to call it a conspiracy. Governor KP clarified that the new political situation created after the restoration of reserved seats was also discussed and said that his own people are enough to conspire against Gandapur. Apart from this, the Prime Minister’s meeting with Aimal Wali Khan also included a detailed discussion on the political situation in the country, in which various federal ministers and special assistants also participated. It should be remembered that the PTI government has been in power in Khyber Pakhtunkhwa for the last 12 years, while the PTI KP government has failed to maintain law and order. Corruption has become a record, unrest is on the rise, there is no rule of law, no good governance, people are living a miserable life. In Khyber Pakhtunkhwa, the opposition parties are undoubtedly waiting for a major political and constitutional change after the Supreme Court’s decision, but the coalition parties of the federal government are not interested in Governor’s rule, while Maulana Fazlur Rehman has expressed hope for a possible change in his recent visit to KP. Meanwhile, in the same political context, the aggressive response of Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Ali Amin Gandapur has also come to light. He has said in two words that no matter how much force is applied, his government cannot be overthrown through constitutional means. He challenged and said that if his government is toppled, he will leave politics. Jamiat Ulema-e-Islam (F) chief Maulana Fazlur Rehman has said that there should be a change in Khyber Pakhtunkhwa, if the PTI is in the majority, then the change should come from within them, lest the opposition mobilize and change the provincial government. During a press conference in Peshawar, Maulana Fazlur Rehman said that we believe that the PTI majority in the province is fake, if there is a change in his own party, it will be better. Remember that Jamiat Ulema-e-Islam (F) leader Hafiz Hamdullah had claimed that a PTI delegation had come to Maulana Fazlur Rehman and requested him not to be part of the no-confidence motion in Khyber Pakhtunkhwa. Maulana Fazlur Rehman had said that he is not interested in toppling the KP government, I consider the assembly and the entire system to be fake and rigged.
Secondly, some people within the PTI want to change Ali Amin Gandapur. It should be recalled that it was earlier claimed that Maulana Fazlur Rehman had distanced himself from a possible no-confidence motion against the Khyber Pakhtunkhwa government and Maulana Fazlur Rehman’s message was conveyed to the founding chairman of PTI in Adiala Jail, which was given through his sisters during a prison visit. The message said that Maulana was contacted to topple the government, but he refused. During a press conference in Peshawar, Maulana said that why is our path being blocked? If the people’s support is with us, then no one has the courage to block the path of our government. We are waiting for the people’s decision. Khyber Pakhtunkhwa cannot afford further political conflict. The life of the common man is unsafe. The citizen thinks while leaving his house. If the opposition parties contact us on the issue of law and order, we will definitely talk to them. We want an All Parties Conference (APC) to be held in the province on this important issue. Discussions with political parties regarding the Senate elections are still in the initial stages. I cannot talk further on it. If I agreed with the decisions of the federal government, would I not be with them? The PDM president is on one side and the government is on the other. The assembly elections were held, the objectives are sold out. Should I now be part of a government that is selling out? But if the government is forced to wage war, they will stand in a row despite a thousand doubts. When asked about the release of Imran Khan, the JUI-F chief had said that no politician should be in jail, but politicians go to jail. Movements are not for release but for grand purposes. Politicians come out of jail and make compromises. Maulana Fazlur Rehman took a dig at the Khyber Pakhtunkhwa government and said that this is not a government, it is a government that gives allowances. It sends monthly allowances to armed people. Then we can go and enter other areas including Dera Ismail Khan. Pakistan Muslim League (N), central leader, advisor to the Prime Minister of Pakistan, Mian Muhammad Shahbaz Sharif, on Khyber Pakhtunkhwa political affairs and former member of the provincial assembly from Nowshera, Akhtyar Wali Khan, while talking to this columnist, clarified that no no-confidence motion is under consideration against the Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) provincial government in Khyber Pakhtunkhwa, nor has there been any talk with Maulana Fazlur Rehman about toppling the government.