آرمی چیف کی پولیس آفیسر سیدہ شہر بانو نقوی کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف

(…… اصغر علی مبارک…)آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کو شاباشی دیتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے پر تعریف کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کی ملاقات ہوئی ، جس میں اےایس پی شہربانو کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے پر تعریف کی۔ یاد رہے 26 فروری کو لاہور کےاچھرہ میں ایک خاتون نے ایسا کرتا پہنا ہوا تھا ،جس پر عربی زبان میں کچھ حروف لکھے تھےجس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے سمجھا کہ یہ کچھ مذہبی کلمات ہیں اور اس معاملے نے ایک غلط فہمی کو جنم دیا۔ اس پیچیدہ صورتحال کو خاتون اے ایس پی شہربانونقوی نے سنبھالا اور بہت بہادری سے خاتون کو بحفاظت نکالا اور اپنے ساتھ لے گئیں۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، آزادی کے بعد سے پاکستانی خواتین نےقابلیت، استقامت ،عزم سے خود کو ممتاز کیا۔ جنرل عاصم منیر نےکہا ہے کہ خواتین پاکستانی معاشرے کا ایک انمول حصہ ہیں اور اُن کا احترام ہمارے مذہب کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی اقدار میں بھی شامل ہے۔آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پولیس آفیسر سیدہ شہر بانو نقوی سے ملاقات میں پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی, اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شہر بانو نے آرمی چیف سے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نےاسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی کارکردگی کو سراہا انہوں نےکہا کہ بدعت کی بنیاد پر من مانی کارروائیاں معاشرے کے نقطہ نظر کو کمزور کرتی ہیں۔ آرمی چیف کے بقول تحفظات اور شکایات کے حل کیلئے قانونی راستے میسر ہوتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے۔
اس موقع پر آرمی چیف نے قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے، پاکستانی خواتین نے اپنی قابلیت، استقامت اور عزم کی وجہ سے اندرون و بیرونِ ملک خود کو ممتاز کیا ہے آرمی چیف نے اے ایس پی شہربانو کی ڈیوٹی کے دوران بے لوث لگن اور ایک غیر یقینی صورتحال پر قابو پانے میں پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے پر تعریف کی.
اے ایس پی گلبرگ سیدہ شہر بانو نقوی کی بہادری اور سمجھداری کے پیشِ نظر پنجاب پولیس نے اعزازی طور پر ایک اہم اعلان کیا ہے۔ 25 فروری کو صوبۂ پنجاب کے شہر لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں ایک خاتون کا کویتی لباس پہننا ان پر توہینِ مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کرواگیا اور لوگوں نے مشتعل ہوکر خاتون کو ہراساں کیا اور غصے کے عالم میں خاتون پر حملہ آور ہونے کی کوشش بھی کی گئی۔خیال رہے کہ ہراسگی کا شکار ہونے والی خاتون نے اچھرہ بازار میں شاپنگ کے دوران کویتی لباس پہن رکھا تھا اور اس پر پرنٹ شدہ شک میں ڈالنے والی خطاطی نے ہجوم کو مشتعل کردیا۔ لوگوں کو یہ گماں ہوا کہ غالباً خاتون نے قرآنی آیات لکھی ہوئی قمیص پہن رکھی ہے اور تحقیق کے بغیر ہی اس پر توہینِ مذہب کے نعرے بلند کردیے گئے۔ اس واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اے ایس پی گلبرگ سیدہ شہر بانو نقوی نے معاملےکا مکمل جائزہ لیا اور پھر اپنی عقلمندی سے مشتعل افراد کو اعتماد میں لیتے ہوئے خاتون کو بہ حفاظت اس مقام سے نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بعدازاں یہ حقیقت بھی سامنے آگئی کہ خاتون کی قمیص پر قرآنی آیات نہی لکھی ہوئیں بلکہ عربی زبان کے مختلف الفاظ پرنٹ ہے۔ اس کی تصدیق علما حضرات نے بھی کی۔ سیدہ شہر بانو نقوی اگر بروقت اچھرہ مارکیٹ پہنچ کر خاتون کو اپنی حفاظتی تحویل میں نہ لیتیں تو ممکنہ طور پر خاتون مشتعل افراد کے غصے کا شکار بن چکی ہوتیں۔ شہر بانو نقوی کو ان کی بہادری اور دانائی کے سبب سوشل میڈیا پر تعریفی کلمات سے نوازا جارہا ہے جبکہ پنجاب پولیس کی جانب سے بھی انہیں ایک بڑے اعزاز سے نوازنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔پنجاب پولیس نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس واقعے کی زیرِ گردش ویڈیو جاری کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ’لاہور کے ایک علاقے میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورتحال کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر خاتون شہری کو مشتعل ہجوم سے بحفاظت بچا کر لے جانے والی ایس ڈی پی او گلبرگ لاہور اے ایس پی شہربانو نقوی کو پنجاب پولیس کی طرف سے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر قائد اعظم پولیس میڈل (QPM) سے نوازنے کیلئے حکومت پاکستان کو سفارشات بھجوائی جارہی ہیں‘۔ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کی گئی پوسٹ کے کیپشن میں بھی سوشل میڈیا صارفین شہر بانو کی دلیری کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں۔لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں قرآنی آیات کی بے حرمتی کی غلط فہمی کی وجہ بننے والے کُرتے کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے علمائے اکرام کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں ایک خاتون کا کویتی لباس پہننا ان پر توہینِ مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کرواگیا اور لوگوں نے مشتعل ہوکر خاتون کو ہراساں کیا اور غصے کے عالم میں خاتون پر حملہ آور ہونے کی کوشش بھی کی گئی۔خیال رہے کہ ہراسانی کا شکار ہونے والی خاتون نے اچھرہ مارکیٹ میں شاپنگ کے دوران کویتی لباس پہن رکھا تھا اور اس پر پرنٹ شدہ شک میں ڈالنے والی خطاطی نے ہجوم کو مشتعل کردیا بعدازاں اے ایس پی گلبرگ سیدہ شہربانو نقوی نے بروقت کاروائی کر کے خاتون کو حفاظتی تحویل میں لے لیا تھاسوشل میڈیا پر اب ایک ویڈیو زیرِ گردش ہے جس میں اس کُرتے پر غور کرتے ہوئے علمائے اکرام کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک عالم کہتے سنائی دیتے ہیں ‘خاتون توہینِ مذہب کی مجرم نہیں ہیں کیونکہ کُرتے پر کوئی ایسے الفاظ نہیں لکھے لیکن قرآنی آیات سے مشابہت رکھتی خطاطی اور پرنٹ والا لباس پہن کر لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے’۔ ویڈیو میں دیگر علما بھی اس بات سے اتفاق کرتے سنائی دیتے ہیں۔اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کے متضاد تبصرے دیکھے جاسکتے ہیں بعض علما کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں تو متعدد اس فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں کہ خاتون کو ایسا کُرتا پہننا ہی نہیں چاہئے تھا جو لوگوں کو مذہبی طور پر کسی بھی قسم کے شک میں مبتلا کرے۔
واضح رہے کہ خاتون نے جو لباس پہن رکھا تھا اس پر ’حلوہ‘ لفظ پرنٹ تھا اور عربی زبان میں حلوہ کے معنی حسین، خوبصورت اور میٹھے کے ہیں۔سعودی اسکالر، استاد اور جدہ کی مسجد کے امام عاصم الحکیم نے لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں خاتون پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کروانے والے کویتی کُرتے پر اپنا موقف پیش کردیا۔عربی خطاطی والا یہ کرتا پاکستان میں موضوعِ بحث ہے جس پر تاحال مختلف تبصرے کیے جارہے ہیں متعدد سوشل میڈیا صارفین کو ابھی بھی یہ شبہہ ہے کہ کُرتے پر لکھے الفاظ قرآنی کی آیات سے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک صارف نے سعودی عالم شیخ عاصم الحکیم سے بذریعہ پوسٹ سوال کیا کہ ’ اسلام علیکم شیخ، کیا اس لباس میں کچھ غلط ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں‘۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عاصم الحکیم نے لکھا کہ ’ یہ تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اس لباس پر عربی کے مختلف الفاظ لکھے ہوئے ہیں لیکن ایسا معلوم نہیں ہورہا کہ اس پر اللہ کے نام یا پھر کوئی آیت لکھی ہوئی ہے جو اس کو حرام بنادے‘۔واضح رہے کہ اس کُرتے کے حوالے سے پاکستانی علمائے اکرام نے بھی تفصیلی جائزے کے بعد یہ تصدیق کی تھی کہ اس پر عربی میں خطاطی ضرور ہوئی ہے لیکن قرآنی آیات نہیں لکھی ہوئیں۔پاکستان میں توہین مذہب یا توہین رسالت کے الزام میں کسی شخص پر مشتعل ہجوم کی جانب سے تشدد کرنے کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ اتوار کو ایک ایسا ہی واقعہ پنجاب کے شہر لاہور میں پیش آیا جب ایک خاتون کو اچھرہ بازار میں دوران شاپنگ ان کے لباس کے ڈیزائن کی وجہ سے مشتعل ہجوم کی جانب سے توہین مذہب کے الزام کا نشانہ بنایا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ خاتون کے لباس کے پرنٹ پر قرآنی آیات لکھیں گئی ہیں۔ اس صورتحال میں پنجاب پولیس کی خاتون پولیس آفیسر اے ایس پی گلبرگ شہر بانو نقوی کی جانب سے بروقت کارروائی نے صورتحال کو نہ صرف بگڑنے سے بچایا بلکہ خاتون کو بھی مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا ممکن بنایا۔ جبکہ بعدازاں مقامی علما کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی کہ خاتون کی قمیض پر موجود پرنٹ پر کوئی قرآنی آیت نہیں لکھی ہے۔اتوار کی دوپہر لاہور کے بازار اچھرہ میں اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کے لیے آنے والی ایک خاتون کے لباس کے ڈیزائن پر عربی حروف میں چند الفاظ لکھے تھے جس پر مشتعل ہجوم کی جانب سے خاتون پر الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے مبینہ طور پر قرآنی آیات کے پرنٹ والا لباس زیب تن کر کے توہین مذہب کی ہے۔ جس کے بعد اچھرہ بازار میں لوگوں کی تعداد اکھٹا ہونا شروع ہو گئی اور مشتعل ہجوم نے خاتون اور ان کے شوہر کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ صورتحال بگڑنے پر خاتون کی جانب سے لاہور پولیس کو مدد کے لیے اطلاع دی گئی جس پر خاتون اے ایس پی گلبرگ سیدہ شہربانو نقوی فوراً موقع پر پہنچی اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکتے ہوئے مقامی علما دین کی مدد سے نہ صرف مشتعل ہجوم کے ساتھ معاملہ فہمی کرتے ہوئے ان کے مذہبی جذبات کو قابو کیا بلکہ مذکورہ خاتون کو بھی ان کے درمیان سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد خاتون کی مشتعل ہجوم کے درمیان کی متعدد ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ ایسی ایک ویڈیو میں مذکورہ خاتون کو اپنے شوہر کے ساتھ ایک چھوٹے ریستوران میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ہجوم میں سے ایک شخص ان پر مبینہ توہین مذہب کرنے کا الزام عائد کر رہا ہے اور وہ خاتون انتہائی پریشانی کے عالم میں اپنا چہرہ چھپا رہی ہیں۔ جبکہ خاتون پولیس آفیسر اے ایس پی شہربانو نقوی کی جانب سے مشتعل ہجوم کے بات کرتے ہوئے کی بھی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں وہ ہجوم کو یہ یقین دلاتے دیکھی جا رہی ہیں کہ اگر خاتون کی جانب سے توہین مذہب کا ارتکاب کیا گیا ہے تو وہ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کریں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بازار میں موجود ہجوم کے درمیان سے خاتون کو نقاب اور برقعے میں بحفاظت نکالتے ہوئے بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس واقعے کی اب تک کوئی پولیس ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے اور دونوں فریقوں کی جانب سے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔اچھرہ بازار سے خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچا کر لانے والی بہادر خاتون پولیس افسر اے ایس پی شہربانو نقوی نے اس واقعہ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں دوپہر 1 سے 1:30 بجے کے قریب ایک کال موصول ہوئی۔ یہ پہلا اشارہ تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ کال میں بتایا گیا کہ بازار میں ایک عورت نے توہین رسالت کی ہے، اس کے کُرتے پر قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں اور لوگ جمع ہیں۔‘ ’علاقے میں یہ خبر تیزی سے پھیل گئی اور پانچ دس منٹ میں ہی ہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو گیا۔ صورتحال مزید خراب ہو گئی کیونکہ ہم آسانی سے مقام تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ ہمیں اس علاقے تک پہنچنے کے لیے 400 سے 600 میٹر پیدل چلنا پڑا۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’جب ہم وہاں پہنچے تو اس وقت تک تقریباً 200-300 لوگ ریستوران کے باہر جمع تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت تک درحقیقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ قمیض پر کیا لکھا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم کام اس خاتون کو علاقے سے باہر نکالنے کی کوشش کرنا تھا تاکہ ان کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘ اے ایس پی شہربانو نقوی نے بتایا کہ ہمیں ان (ہجوم) سے بات چیت کرنی پڑی۔ ہم نے ہجوم سے کہا کہ مذکورہ خاتون کو (ہمارے ساتھ) جانے دیا جائے اور یہ یقین دلایا کہ اگر وہ جرم کی مرتکب ہوئیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘ وہ خاتون کو بہادری سے ہجوم کے درمیان سے بحفاظت نکالنے پر کہتی ہیں کہ اگر میں اس وقت چیخ کر ہجوم کو قائل نہ کرتی کہ ہم اس بارے میں کچھ کریں گے، تو حالات مزید بدتر ہو جاتے۔ وہ ایک ایسا وقت تھا جو سب کچھ ہمارے حق میں ہوا، خدا کا شکر ہے۔‘ ملک میں توہین مذہب کے الزامات کے بڑھتے واقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے اے ایس پی شہربانو نقوی کا کہنا تھا کہ ’دو ہفتے پہلے بھی ایک واقعہ ہوا تھا اور ایک اور ڈیڑھ ماہ قبل بھی، ہم اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں لیکن ہم ان کو ختم کرنے کے قابل ہیں۔‘لیکن اے ایس پی شہربانو نقوی کے لیے خاتون کو مشتعل ہجوم سے بحفاظت نکالنا کافی نہیں تھا کیونکہ ماضی میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جب پولیس کسی شخص کو ہجوم سے بچا کر لے جانے پر کامیاب ہو گئی لیکن بعدازاں لوگوں نے پولیس سٹیشن پر دھاوا بول دیا اور ملزم کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔

اس لیے سوشل میڈیا پر اس واقعے کے وائرل ہو جانے کے بعد اے ایس پی گلبرگ شہربانو نقوی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر آئی جس میں انھوں نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج اچھرہ بازار میں ایک خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ شاپنگ کے لیے گئی اور انھوں نے ایک کرتا پہنا ہوا تھا جس پر عربی زبان کے کچھ حروف لکھے تھے جس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے سمجھا کہ یہ کچھ مذہبی کلمات ہیں اور اس معاملے نے ایک غلط فہمی کو جنم دیا۔‘ اسی ویڈیو بیان میں ان کے ساتھ مذکورہ خاتون اور کچھ مقامی مذہبی علما بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک مذہبی عالم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم نے قمیض پر پرنٹ ہوئے حروف کو دیکھا ہے اور وہ عربی حروف ہیں لیکن وہ عام الفاظ تھے، یہ بیٹی نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسا لباس نہیں پہنے گی جس کے بعد انھیں معاف کر دیا گیا ہے۔‘ اس کے بعد مذکورہ خاتون نے بھی اس ویڈیو بیان میں کہا کہ ’میں اچھرہ بازار شاپنگ کے لیے گئی تھی اور میں نہ جو کرتا پہنا تھا وہ ڈیزائن سمجھ کر لیا تھا، مجھے نہیں علم تھا کہ اس پر ایسے الفاظ لکھیں ہیں جنھیں لوگ عربی سمجھیں گے، میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی، یہ جو کچھ بھی ہوا یہ لاعلمی میں ہوا، میں مسلمان ہوں اور کبھی توہین مذہب یا توہین رسالت کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہ سب لاعلمی میں ہوا میں پھر بھی معذرت کرتی ہوں اور دوبارہ ایسا نہیں ہو گا۔‘ ایک خاتون کو غلط فہمی کی بنا پر مشتعل ہجوم کے درمیان سے بہادری سے نکالنے پر پنجاب پولیس نے بھی خاتون اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کو سرکاری اعزاز و میڈیا دینے کی سفارش کی ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ لاہور کے ایک علاقے میں پیدا ہونے والی ناخوشگوار صورتحال کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر خاتون شہری کو مشتعل ہجوم سے بحفاظت بچا کر لے جانے والی ایس ڈی پی او گلبرگ لاہور اے ایس پی شہربانو نقوی کو پنجاب پولیس کی طرف سے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر قائد اعظم پولیس میڈل سے نوازنے کے لیے حکومت پاکستان کو سفارشات بھجوائی جا رہی ہیں۔