بھارت سے بات چیت کیلئے سازگار ماحول ضروری… ؟.. …….
کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک……… …..وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے بھارت کو سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارتی وزیر خارجہ کے کردار سے مطمئن ہوں اور امید کرتے ہیں کہ 2026 میں جب پاکستان کو اس کی چیئرمین شپ کا موقع ملے گا تو ہم بھی کامیاب اجلاس منعقد کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جہاں تک مسئلہ کشمیر اور دوطرفہ تعلقات ہیں تو اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، لیکن شنگھائی تعاون تنظیم باہمی تعلقات کی بات ہے اس لیے اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔ اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کے وزیر خارجہ کو ایس سی او میں جتنے بھی وزرائے خارجہ ہیں ان سے الگ الگ ملاقات کا موقع ملا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں تک دوطرفہ تعلقات کی بات ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں اور یہ ہمارے ہر منشور کا حصہ رہا ہے۔ اسی تسلسل میں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو نے اپنی طرف سے کوششیں کیں اور سابق صدر آصف زرداری نے بھی کوششیں کیں لیکن موجودہ صورتحال میں بالخصوص اگست 2019 میں بھارت کے غیرقانونی یکطرفہ قدم نے نہ صرف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بلکہ دوطرفہ تعلقات کی بھی خلاف ورزی کی۔ بھارت کے اس قدم نے حالات ایسے تبدیل کردیے ہیں کہ وہ جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی جو ہمیشہ سے یہ کہتی رہی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہئیں اس کے لیے بھی اس بات کا اسپیس ختم ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ اگر بھارت اگست 2019 کے غیرقانونی یکطرفہ اقدام کو واپس لے اور ایسا سازگار ماحول پیدا کرے جس میں بات چیت ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت کی جاتی ہے تو اس کے اختتام پر ایک دستاویز آتی ہے جس پر ہمیں بھی اور بھارت کو بھی دستخط کرنے ہوتے ہیں لیکن بھارت نے ایک قدم سے اپنے دوطرفہ معاہدوں، بین الاقوامی عزائم کی خلاف ورزی کی ہے تو اب عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ پہلے کے باہمی معاہدوں کی یکطرفہ خلاف ورزی کر سکتے ہیں تو اگر اب بات چیت شروع ہو اور اس کے نتیجے میں کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ اس کی بھی یکطرفہ خلاف ورزی کریں گے۔ ایس سی او کی ایک خوبی ہے جس میں کچھ ضوابط بنائے ہوئے ہیں اور ہم پر پابندی ہے کہ اپنے مسائل اس فورم پر نہیں اٹھائیں گے۔ 2026 میں ایس سی او کی چیئرمین شپ ہمارے پاس ہوگی اور ہماری کوشش ہوگی کہ سفارتی کوششوں سے بھارت بھی کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ اس وقت کے اجلاس میں وہ شرکت کریں۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کا مقابلہ اس لیے نہیں کرنا چاہتے کہ بھارت نے ہمیں بتایا، ہم دہشت گردی کا مقابلہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اس میں سب سے زیادہ پاکستانی متاثر ہوئے ہیں، ہم اس کا نقصان برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دورہ بھارت پر تنقید کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ میں نے کوشش کی ہے کہ ہماری اندرونی سیاست پاکستان کی سرحدوں تک محدود رہے کیونکہ جب میں باہر جاتا ہوں تو پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہوں جس میں یہ مخصوص پارٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلےوزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں سفارتی ڈپلومیٹک پوائنٹ اسکورنگ کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔بھارت کے ساحلی اور سیاحتی شہر گووا میں وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وزرائے خارجہ اجلاس کے لیے گووا میں میری موجودگی سے بڑھ کر اس بات کا کوئی عندیہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان باہمی اعتماد، مساوات، ثقافتی تنوع کے احترام اور شنگھائی تعاون تنظیم کی اصل روح میں موجود مشترکہ ترقی کے حصول کے اصولوں پر پختہ یقین رکھتا ہے اور وہ ان پر پوری طرح عمل پیرا ہے۔وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مشترکہ ترقی کے لیے علاقائی اور اقتصادی روابط ضروری ہیں، پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کو اہم علاقائی پلیٹ فارم سمجھتا ہے، مشترکہ ترقی کا اصول علاقائی، اقتصادی روابط اور تعاون پاکستان کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے، افغانستان کی صورتحال نئے چیلنجز کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیش کرتی ہے۔وزیر خارجہ نے پاکستان کے اس مطالبے کو دہرایا کہ بین الاقوامی برادری عبوری افغان حکومت کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے تاکہ وہ واقعات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ افغانستان بڑی طاقتوں کے لیے جنگ کا میدان بنتا رہا ہے، ہمیں افغانستان کے بارے میں ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو افغان حکام پر سیاسی شمولیت کے عالمی طور پر قبول شدہ اصولوں کو اپنانے اور لڑکیوں کے تعلیم کے حق سمیت تمام افغانوں کے حقوق کا احترام کرنے پر زور دینا جاری رکھنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی افغانستان، خطے اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے انسداد دہشت گردی کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد کرنی چاہیے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ بات تشویش ناک ہے کہ بین الاقوامی برادری کے برعکس افغانستان میں دہشت گرد گروپ آپس میں زیادہ تعاون کر رہے ہیں، پاکستان عبوری افغان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دینے کے اپنے وعدوں کو برقرار رکھیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے کام کرے تاکہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی حقیقی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جاسکے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف علاقائی انضمام اور اقتصادی تعاون بلکہ عالمی امن اور استحکام کی کلید ہے، ہمیں یقین ہے کہ ایس سی او افغانستان رابطہ گروپ افغانستان کے ساتھ عملی تعاون کو مربوط کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایس سی او کا قیام پورے یورپ اور ایشیا میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا، یہ تنظیم خودمختاری، علاقائی سالمیت اور لوگوں کے حق خود ارادیت کے اقوام متحدہ کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کثیرالجہتی عمل کے لیے پرعزم ہے اور وہ اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کے لیے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز پر قائدانہ کردار ادا کرتا رہتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے چین کے حالیہ کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایس سی او سے بھی وابستہ ہیں۔
جب بڑی طاقتیں امن ساز کا کردار ادا کرتی ہیں تو ہم اپنے لوگوں کے لیے وسیع تر تعاون، علاقائی یکجہتی اور اقتصادی مواقع کی راہ ہموار کرتے ہوئے امن کی صلاحیت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔
ہمیں شنگھائی تعاون تنظیم میں ان عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کے احترام کو یقینی بنانا چاہیے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاستوں کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد کے خلاف ہیں، ہمیں اپنے وعدوں کو نبھانے اور اپنے لوگوں کے لیے ایک نئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے میں غیر مبہم رہنے کی ضرورت ہے جو تنازعات کے تحفظ پر نہیں بلکہ تنازعات کے حل پر مبنی ہے۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی ممالک کی طرف سے مشترکہ طور پر مجموعی مسائل بالخصوص ماحولیاتی تبدیلیوں، غربت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ منقسم ردعمل کے بجائے ہمارے اجتماعی چیلنز کا حل اجتماعی کارروائی ہونا چاہیے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم سمجھتا ہے جس میں وہ ممالک شامل ہیں جو دیرینہ تاریخی، ثقافتی، تہذیبی اور جغرافیائی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔انہوں نے علاقائی اقتصادی رابطوں اور تعاون کے پاکستان کے وژن کو اجاگر کیا۔وزیر خارجہ نے موسمیاتی بحران کو انسانیت کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی پر شنگھائی تعاون تنظیم میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز پیش کی اور کہا کہ پاکستان کو حال ہی میں بڑی موسمیاتی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ کرہ ارض کو صرف اس صورت میں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکتا ہے جب عالمی برادری متحد ہو کر کام کرے گی اور ترقی یافتہ دنیا کو موسمیاتی فنانس کے لیے سالانہ 100 ارب ڈالر فراہم کرنے کے عزم پر زور دیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کنیکٹیویٹی کا ذکر کرتے ہوئےکہنا تھا کہ پاکستان اس سال ستمبر میں ٹرانسپورٹ پر کانفرنس کی میزبانی کا منتظر ہے، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی رابطوں کے لیے ایک طاقت کا اضافہ ہو سکتا ہے، روٹ سی پیک نے تمام ممالک کو سفر کو مزید آگے لے جانے اور مکمل علاقائی اقتصادی انضمام کی طرف جوڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔انہوں نے ایران کو مبارک باد پیش کی جو جلد ہی ایس سی او کا رکن بن جائے گا۔ وزیر خارجہ نے بحرین، کویت، مالدیپ، میانمار اور متحدہ عرب امارات کے ایس سی او کے نئے ڈائیلاگ پارٹنرز کے طور پر خیرمقدم کیا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ خطہ اب بھی غربت سے دوچار ہے، پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر معروف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر فخر ہے جس نے خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے کے خاموش انقلاب کا آغاز کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ غربت کے خاتمے پر خصوصی ورکنگ گروپ کا قیام اس سمت میں ایک قدم ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے خطے کی اجتماعی سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے عالمی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے شرکا سے مخاطب ہوکر یہ یاد دہانی کرائی کہ وہ اس بیٹے کے طور پر بات کررہے ہیں جس کی ماں دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئیں اور کہا کہ میں اس نقصان کا درد محسوس کرتا ہوں اور پاکستان اس لعنت (دہشت گردی) کے خاتمے کے لیے علاقائی اور عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہے جس کی بنیادی وجہ اور مخصوص گروہوں کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور اجتماعی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں اس چیلنج کو تقسیم کے بجائے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، ہماری کامیابی کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلہ کو جیو پولیٹیکل پارٹیشن شپ سے الگ کردیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بہت سے ممالک کو دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کررہے ہیں، اکثر کو یکساں دہشت گرد گروہوں کی طرف سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن اور سلامتی کو بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ایس سی او کے اہداف اور مقاصد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایس سی او دنیا کی 40 فیصد سے زیادہ آبادی اورجی ڈی پی کی تقریباً ایک چوتھائی کی نمائندگی کرتا ہے، معیشتوں میں رابطے کی کمی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ایس سی او مستقبل کی نمائندگی کرتا ہے، اگر ہم اسے حاصل کرنے کے لیے مل کر کام کرسکیں، یہ ہم سب کے لیے ایک شاندار اور خوشحال مستقبل ہوسکتا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے تنقید میں ان کو عدم تحفظ ہے اور وہ اس لیے ہے کیونکہ بھارت میں بالخصوص ایک ایسی جماعت کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جارہا ہے جس کی نمائندگی اس کا وزیر خارجہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروپیگنڈا کی میرے جانے اور اپنا مؤقف رکھنے سے اس بیانیے کی نفی ہوئی ہے جب وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر مسلمان دہشت گرد ہے تاکہ وہ اس پروپیگنڈے کو پھیلا کر انتخابات جیت سکیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی اور کشمیر کے معاملے پر پاکستانی نمائندے اجلاس میں بھارتی پروپیگنڈے کو ناکام کرتے ہیں اور یہ بات ان کو کڑوی لگتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ اپنی پریس کانفرنس میں اتنے جذباتی لگ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کیا ایک انتہا پسند تنظیم کے احتجاج، مجھ پر سر کی قیمت رکھنے یا بھارتی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس کے ڈر سے پاکستان، بھارت کی سرزمین پر جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اپنا مؤقف رکھنے سے پیچھے ہٹ جاتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس خطے کے عوام سرحد کے دونوں طرف امن چاہتے ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ امن کی طرف بڑھتے رہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس پر ان کا کہنا تھا کہ ان کا مؤقف ایک مذاق ہے جو کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے متاثرین دہشت گردی کے مرتکب کے ساتھ نہیں بیٹھتے، کیا میں ایک دن بھی کسی دہشت گرد کے ساتھ بیٹھا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ان (بھارتی حکومت) میں نفرت اتنی عروج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا چاہتے ہیں، ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ ہم اپنے ملک میں بھی دہشت گردوں کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرتے ہیں۔


بلاول بھٹو زرداری سے قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب کووڈ-19 اور اس کے ہولناک اثرات سے نمٹنے میں مصروف تھی تو اس دوران بھی دہشت گردی کی لعنت کا سلسلہ جاری رہا، اس لعنت سے صرف نظر کرنا ہمارے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کے لیے کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا اور اسے سرحد پار دہشت گردی سمیت تمام اشکال میں روکا جانا چاہیے۔انہوں نے دہشت گرد سرگرمیوں میں معاون تمام راستے بلاتفریق بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ میں تمام اراکین کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا شنگھائی تعاون تنظیم کے اصل مینڈیٹ میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے افغانستان کی تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال بدستور ہماری توجہ کا مرکز ہے اور اب ہمیں افغان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ خطاب سے قبل دفتر خارجہ نے آج شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ کے گروپ کی تصویر شیئر کی گئی، شنگھائی تعاون تنظیم کے 8 رکن ممالک میں پاکستان، بھارت، چین، روس، تاجکستان، ازبکستان، قازقستان اور کرغزستان شامل ہیں۔ دفتر خارجہ نے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں بلاول کا خیرمقدم کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی تصویر بھی شیئر کی جبکہ اے این آئی کی جانب سے ویڈیو میں انہیں روایتی انداز میں پاکستان کے وزیر خارجہ کو خوش آمدید کہتے دیکھا جا سکتا۔

A favorable environment is necessary for dialogue with India.
Column. Inside talk…Columnist….Asghar Ali Mubarak……… Foreign Minister Bilawal Bhutto Zardari says that he wants normal relations with India but India will need to create a favorable environment for this. He said that he was satisfied with the role of the Indian Foreign Minister in the Shanghai Cooperation Organization and hoped that in 2026, when Pakistan gets the chance to hold its chairmanship, we will also hold a successful meeting. Bilawal Bhutto Zardari while talking to the media after attending the Shanghai Cooperation Organization (SCO) meeting said that as far as the Kashmir issue and bilateral relations are concerned, there has been no change in this policy, but the Shanghai Cooperation Organization (SCO) has improved mutual relations. That is why we will fully participate in it. Due to this decision, the foreign minister of Pakistan got the opportunity to meet all the foreign ministers in the SCO separately. In response to a question, the foreign minister said that as far as bilateral relations are concerned, Pakistan People’s Party has always maintained that we want normal relations with India and this has been a part of our every manifesto. In the same continuity, martyr Ms. Benazir Bhutto made efforts on her part and former President Asif Zardari also made efforts, but in the current situation, especially in August 2019, India’s illegal unilateral step is not only against international laws and the resolutions of the United Nations Security Council. Violation but also violation of bilateral relations. This step of India has changed the situation in such a way that the parties, especially the People’s Party, which has always been saying that relations with India should be normalized, have run out of space. This is why Pakistan’s principled stance is that if India withdraws the illegal unilateral move of August 2019 and creates a favorable environment in which dialogue can take place. He said that if talks are held, at the end of it comes a document which we and India have to sign, but India has violated its bilateral agreements, international ambitions with one step. So now the mistrust arises that if they can unilaterally violate earlier mutual agreements, then if negotiations start now and an agreement is reached as a result, they will unilaterally violate that too. SCO has a merit in which certain regulations are made and we are restricted not to raise our issues in this forum. We will have the chairmanship of SCO in 2026 and we will try to make India take such a decision through diplomatic efforts to participate in the meeting at that time. Bilawal Bhutto Zardari said that we do not want to fight terrorism in Pakistan because India told us, we fight terrorism because Pakistanis are the most affected by it, we bear the loss. are doing To a question regarding the criticism of Pakistan Tehreek-e-Insaaf’s visit to India, he said that as the foreign minister, I have tried to keep our internal politics confined to the borders of Pakistan because when I go out, I represent the whole of Pakistan. including the people of this particular party. Earlier, Foreign Minister Bilawal Bhutto Zardari while addressing the meeting of the Council of Foreign Ministers of Shanghai Cooperation Organization (SCO) said that we should not use terrorism as a weapon to score diplomatic diplomatic points. Addressing the foreign ministers’ meeting in the coastal and touristic city of Goa, Bilawal reiterated Pakistan’s strong commitment to the Shanghai Cooperation Organization and said that there could be no indication of this more than my presence in Goa for the foreign ministers’ meeting. How much importance does Pakistan attach to the Shanghai Cooperation Organization? Bilawal Bhutto Zardari said that Pakistan strongly believes in the principles of mutual trust, equality, respect for cultural diversity and achieving common development in the original spirit of the Shanghai Cooperation Organization. They are fully implemented.Addressing the meeting of the Council of Foreign Ministers, Foreign Minister Bilawal Bhutto Zardari said that regional and economic linkages are necessary for joint development, Pakistan considers the Shanghai Cooperation Organization as an important regional platform, the principle of joint development is regional, economic linkages and The cooperation is in line with Pakistan’s vision. He said that Pakistan is determined to be a part of efforts to end terrorism, the situation in Afghanistan presents new challenges as well as opportunities. reiterated that the international community should engage in meaningful dialogue with the Transitional Afghan Government to better understand the situation. Afghanistan continues to be a battleground for major powers, we should not repeat the mistakes of the past regarding Afghanistan. He said the international community should continue to press Afghan authorities to adopt universally accepted principles of political inclusion and respect the rights of all Afghans, including girls’ right to education, as well as the international community. Bilawal Bhutto Zardari said that it is worrisome that, unlike the international community, terrorist groups in Afghanistan are cooperating more with each other. In doing so, Pakistan calls on the interim Afghan authorities to uphold their commitments not to allow the use of Afghan territory for terrorism.
He called upon the international community to work to address these security concerns so that the true potential of not only Afghanistan but the entire region can be harnessed.
The foreign minister said that a peaceful and stable Afghanistan is not only the key to regional integration and economic cooperation but also to global peace and stability. We believe that the SCO Afghanistan Contact Group can play a role in coordinating practical cooperation with Afghanistan. .
The SCO was established to ensure security across Europe and Asia, the organization strictly adheres to the UN principles of sovereignty, territorial integrity and the right of peoples to self-determination. It is committed to the multilateral process and continues to play a leadership role in all international forums, including the United Nations, to promote friendly relations between nations and the peaceful resolution of long-standing international disputes.
Bilawal Bhutto Zardari praised China’s recent role in resolving the differences between Saudi Arabia and Iran, saying that both countries are also associated with SCO.
When major powers play the role of peacemaker, we can unleash the potential of peace, paving the way for greater cooperation, regional integration and economic opportunity for our people.
We must ensure respect for these universally recognized principles in the Shanghai Cooperation Organization. The foreign minister said that the unilateral and illegal actions of states in violation of international law and Security Council resolutions are against the objectives of the Shanghai Cooperation Organization, we need to fulfill our commitments and plan a new future for our people. There is a need to be unambiguous in the ban, which is not based on dispute resolution but on dispute resolution. He stressed the need for collective efforts by regional countries under the Shanghai Cooperation Organization (SCO) to tackle global issues, particularly climate change, poverty and terrorism. Instead of fragmented responses, the solution to our collective challenges must be collective action.
Bilawal Bhutto Zardari said that Pakistan considers the Shanghai Cooperation Organization as an important regional platform that includes countries that are bound by long-standing historical, cultural, civilizational and geographical ties. Highlighting the vision of the Foreign Minister, describing the climate crisis as a threat to humanity, proposed the establishment of a joint working group on climate change in the Shanghai Cooperation Organization and said that Pakistan has recently faced a major climate disaster. Bilawal Bhutto Zardari emphasized that the planet can be saved from the ravages of climate change only if the international community works together and the developed world commits $100 billion annually to climate finance. Emphasized commitment to provide.
Bilawal Bhutto Zardari, while referring to connectivity, said that Pakistan is looking forward to hosting a conference on transport in September this year. It has provided an opportunity for all countries to take the journey further and join forces towards full regional economic integration. He congratulated Iran which will soon become a member of the SCO. The Foreign Minister welcomed Bahrain, Kuwait, Maldives, Myanmar and the United Arab Emirates as new dialogue partners of the SCO.
Bilawal Bhutto Zardari said that the region is still suffering from poverty, Pakistan is proud of the internationally renowned Benazir Income Support Program which has started a silent revolution to eradicate poverty along with empowering women. He said that the establishment of a special working group on poverty alleviation proposed by Pakistan would be a step in this direction.Bilawal Bhutto Zardari called the collective security of the region a shared responsibility and said that terrorism poses threats to global security. He addressed the participants and reminded them that he is speaking as a son whose mother. “I feel the pain of this loss and Pakistan is determined to be a part of regional and global efforts to end this scourge (terrorism) which is the root cause and perpetrated by certain groups,” he said. A comprehensive and collective approach is needed to deal with the threats posed. The Foreign Minister said that we must face this challenge unitedly rather than dividedly, our success requires that we overcome this issue of geopolitical partisanship. separate from Many countries in the Shanghai Cooperation Organization are facing the scourge of terrorism, many from the same terrorist groups.
Bilawal Bhutto Zardari condemned all forms of terrorism, including state-sponsored terrorism, and said that SCO needs to be further strengthened to deal effectively with increasing threats to peace and security.
Bilawal Bhutto Zardari reiterated Pakistan’s unwavering support and commitment to the goals and objectives of the SCO, saying that the SCO represents more than 40 percent of the world’s population and nearly a quarter of the GDP, among economies. Lack of connectivity is a major barrier to regional trade and investment. The Foreign Minister said that the SCO represents a future that, if we can work together to achieve it, is a glorious and prosperous one for all of us. The future may be.
Speaking before Bilawal Bhutto Zardari, Indian Foreign Minister S. Jaishankar said that when the country was busy dealing with Covid-19 and its terrible effects, the scourge of terrorism continued during this period, it is necessary to ignore this scourge. It can be disastrous for our society. There can be no justification for terrorism and it must be stopped in all its forms, including cross-border terrorism. I would like to remind members that countering terrorism is one of the core mandates of the Shanghai Cooperation Organization. He said that the changing situation in Afghanistan since the Taliban’s return to power remains a focus of our attention. Now we should make efforts for the welfare of the Afghan people. Ahead of the address, the Foreign Office shared a photo of a group of foreign ministers attending the Shanghai Cooperation Organization meeting today, which includes Pakistan, India, China, Russia, Tajikistan, Uzbekistan, Kazakhstan and Kyrgyzstan among the 8 member countries of the Shanghai Cooperation Organization. are The Foreign Office also shared a photo of Indian Foreign Minister S Jaishankar while welcoming Bilawal at the meeting of the Council of Foreign Ministers, while in the video from ANI, he can be seen welcoming the Pakistani Foreign Minister in a traditional manner.