معرکہ حق ; پاک فوج کا آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان ,دشمن کی کوئی بھی سازش مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی، آرمی چیف

Battle of Truth; Pakistan Army announces completion of Operation Banyan Marsus, no conspiracy of the enemy can shake the resolve of the armed forces, Army Chief

معرکہ حق ; پاک فوج کا آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان ,دشمن کی کوئی بھی سازش مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی، آرمی چیف

معرکہ حق ; پاک فوج کا آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان ,دشمن کی کوئی بھی سازش مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی، آرمی چیف

معرکہ حق ;پاک فوج کا آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان ( اصغر علی مبارک..) افواج پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا جب کہ بھارت کیساتھ 22 اپریل سے 10 مئی تک معرکے کو ’معرکہ حق‘ کا نام دیا گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن کی کوئی بھی سازش پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی جب کہ ہمارے شہریوں اور سپاہیوں کی بہادری اور قربانی پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہے۔جب کہ آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہر سال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے اور شہدا پیکیج کا اعلان کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سی ایم ایچ راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زخمی اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی اس دوران، پاک فوج کے سربراہ فرداً فرداً ہر زخمی اہل کار سے ملے، ان کی غیر معمولی بہادری اور فرض شناسی کو سراہا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی جانب سے زخمیوں کی مستقل دیکھ بھال، بحالی اور فلاح بہبود کے عزم کااعادہ کیا۔ اس موقع پر اپنی گفتگو میں جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہمارے شہریوں اور سپاہیوں کی بہادری اور قربانی پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہے، پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ہر فرد کے ساتھ پر عزم یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق / آپریشن بنیان مرصوص کے دوران متحد اور پر عزم ردعمل سامنے آیا، یہ رد عمل عوام کی ثابت قدمی، حمایت کے ساتھ ملک کی عسکری تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب بن چکا ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کی کوئی بھی جارحیت پاکستان کی مسلح افواج کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے 10 مئی کو بھارتی جارحیت کے جواب میں ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا تھا۔آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہر سال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے اور شہدا پیکیج کا اعلان کر دیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یوم معرکہ حق ہر سال پورے ملک میں جوش و خروش سے منایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا، جمعے کے دن یوم تشکر کے تسلسل میں خصوصی نوافل ادا کریں گے۔
شہباز شریف نے معرکہ حق کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے شہدا پیکیج کا اعلان کر دیا۔ بیان کے مطابق پاک افواج کے شہداء کے ورثا کو رینک کے حساب ایک کروڑ روپے سے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے رقم دی جائے گی، اسی طرح پاک افواج کے شہدا کے ورثاء کو گھر کی سہولت کے لیے رینک کے حساب سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے سے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اسی طرح پاک افواج کے شہدا کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ بمعہ الاونسز جاری رہیں گی، پاک افواج کے شہدا کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی۔ پیکیج کے مطابق پاک افواج کے ہر شہید کی ایک بیٹی کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی ۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارتی حملے میں متاثر ہونے والے گھروں، شہید مساجد کی تعمیر وفاقی حکومت کرے گی، شہدا کے بچوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہے، ہم یہ فرض پورا کریں گے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ زخمیوں کے علاج کا تمام خرچ وفاقی حکومت اٹھائے گی۔
پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بھارت میں ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور ایئربیسز اور کئی ایئرفیلڈز سمیت براہموس اسٹوریج سائٹ اور ایس 400 میزائل دفاعی نظام کے علاوہ متعدد اہداف کو تباہ کردیا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیاہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھارت کیساتھ 22 اپریل سے 10مئی تک کے معرکےکو ’معرکہ حق‘ کا نام دے دیا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ 22 اپریل سے 10مئی تک کے ’معرکہ حق‘ میں6 اور 10 مئی کی کاروائیاں آپریشن بنیان المرصوص کا حصہ تھیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان بھی کردیا گیاہے،سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائرکا اگلا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے رابطہ ہواہے,ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوا میڈیا کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔خیال رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی طیاروں نے پاکستان میں مختلف مقامات پر حملے کیے جس کا فوری اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج نے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیارے تباہ کردیے۔پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیاہے۔ دوسری طرف پاکستان نے بھارت کیساتھ 22 اپریل سے 10مئی تک کے معرکےکو ’معرکہ حق‘ کا نام دے دیا ہے
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ 22 اپریل سے 10مئی تک کے ’معرکہ حق‘ میں6 اور 10 مئی کی کاروائیاں آپریشن بنیان المرصوص کا حصہ تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان بھی کردیا گیاہے،سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائرکا اگلا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے رابطہ ہواہے,ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوا میڈیا کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔خیال رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی طیاروں نے پاکستان میں مختلف مقامات پر حملے کیے جس کا فوری اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج نے 3 رافیل طیاروں سمیت 5 بھارتی طیارے تباہ کردیے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان المرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کیساتھ 22 اپریل سے 10 مئی تک معرکے کو معرکہ حق کا نام دے دیا۔ ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے 10 مئی 2025 کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کا آغاز بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے ردعمل میں کیا گیا، جو 6 اور 7 مئی 2025 کو شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کی شہادت ہوئی جس میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔ بیان میں کہا گیا ’پاکستان نے حملوں کا بدلہ لینے اور انصاف کی فراہمی کا عزم کیا تھا، الحمداللہ، پاکستانی فوج نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کیا‘۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، رحمت، مدد اور نصرت پر شکر گزار ہیں، اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر لازم کیا ہے جب ان پر ظلم ہو تو وہ اس کا جواب دیں، ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں میدانِ جنگ میں کامیابی عطا فرمائی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم شہدا کے لواحقین اور خاندانوں سے دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جب کہ زخمی ہم وطنوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ہم پاکستان کی مسلح افواج کے ہر افسر، سپاہی، ایئرمین، اور سیلر کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے ذریعے میدانِ جنگ میں اس کامیابی کو ممکن بنایا۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج پوری پاکستانی قوم کی شکرگزار ہے جن کی ناقابلِ تسخیر اخلاقی قوت، عزم، اور بھرپور حمایت اور دعائیں اس کٹھن وقت میں ہمارے ساتھ رہیں۔بیان میں پاکستانی میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمارے میڈیا نے بھارت کے پروپیگنڈا اور جنگی جنون کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص یعنی آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے۔مزید کہا ’ہم سفارتی محاذ پر پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی فورمز پر واضح اور پُراعتماد انداز میں پیش کرنے پر پاکستان کے سفارتی عملے کی خدمات کو بھی سراہتے ہیں‘۔ترجمان پاک فوج کے مطابق ہم اپنے سائنسدانوں اور انجینئرز کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے مقامی اور مخصوص نوعیت کی ٹیکنالوجیز تیار کیں، جو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی شاندار کامیابی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے قیادت کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر، وطن کےدفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا، خاص طور پر وزیراعظم پاکستان اور ان کی کابینہ کی قائدانہ بصیرت اور جرأت مندانہ فیصلوں پر شکر گزار ہیں، جنہوں نے قوم کو اس نازک موڑ پر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی۔بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے رد عمل سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ ہمارا جواب تینوں افواج کی مشترکہ کارروائیوں کا ایک نمونہ تھا، جس میں حقیقی وقت میں صورتِ حال سے آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کا بے مثال امتزاج شامل تھا۔ بیان کے مطابق ’زمین، فضا، سمندر اور سائبر محاذ پر ہم آہنگی سے کارروائیاں کی گئیں اور اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا، وہ تنصیبات جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ میں استعمال ہوتی ہے، ان تنصیبات کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ بھارت کے اندر بھی نشانہ بنایا گیا‘۔

مزید کہا گیا ’ یہ کارروائیاں پاکستان آرمی کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’فتح‘ سیریز ایف ون اور ایف ٹو میزائلوں، پاک فضائیہ کے درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں، انتہائی مؤثر ’لوئٹرنگ کِلر‘ میزائلوں، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی آرٹلری کے ذریعے کی گئیں۔ نشانہ بنائے گئے اہداف میں بھارتی فضائیہ اور ایوی ایشن کے اڈے شامل تھے جن میں سورت گڑھ، سرسا، بھُج، نلیا، آدم پور، بھٹنڈہ، برنالہ، حلوارہ، اونتی پورہ، سری نگر، جموں، ادھم پور، مموں، امبالہ، اور پٹھان کوٹ شامل ہیں اور ان تمام اہداف پر دشمن کو شدید نقصان ہوا۔ بیاس اور ناگرُوٹا میں واقع ’براہموس‘ میزائل کے ذخائر بھی تباہ کیے گئے، جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہوئے تھے جب کہ آدم پور اور بھُج میں نصب ایس 400 دفاعی نظام کو بھی پاک فضائیہ نے کامیابی سے نشانہ بنایا اور غیر مؤثر کر دیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ اڑی میں فیلڈ سپلائی ڈیپو اور پونجھ میں ریڈار سسٹم جیسے لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں سے معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف غیر قانونی بھارتی کارروائی کو سپورٹ فراہم کی گئی تھی۔علاوہ ازیں، کے جی ٹاپ، نوشہرہ میں موجود 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی مکمل طور پر تباہ کیا گیا، یہ وہ تنصیاب ہیں جہاں سے بلااشتعال فائرنگ کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیامزید کہا کہ ایسے مراکز جہاں بھارت نے اپنے پراکسی عناصر کو پناہ دی، تربیت دی اور ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جنہوں نے پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کیے اور معصوم شہریوں کو شہید کیا، ان تمام مقامات کی نشاندہی کر کے انہیں بھی تباہ کیا گیا جن میں راجوری اور نوشہرہ میں موجود بھارتی انٹیلی جنس یونٹس اور ان کے فیلڈ عناصر شامل ہیں۔

مزید براں، لائن آف کنٹرول کے باہر وہ تمام آرٹلری، لاجیسٹک اور پوسٹیں جو آزاد کشمیر میں شہریوں پر فائرنگ کرتی تھی ان پر شدید اور مسلسل جوابی کارروائی کی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے سفید جھنڈے لہرادیے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارت نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلایا جاسکے اور ان کو ڈرایا جاسکے، تاہم آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کی مسلح ڈرون بھارت کے دارالحکومت نئی دلی سمیت بڑے شہروں اور مقبوضہ کشمیر سے لے کر گجرات تک مسلسل پرواز کرتے رہے تاکہ پاکستان کی صلاحیت کا نہ صرف اظہار کیا جاسکے بلکہ یہ بتایا جاسکے کہ اس محاذ پر بھارتی حکمت عملی ناکام ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے موثر اور جامع سائبر آپریشنز بھی کیے جن کے ذریعے بھارتی افواج کی آپریشنل معاونت فراہم کرنے والے اہم انفراسٹرکچر اور سروسز کو عارضی طور پر مفلوج اور متاثر کیا گیا۔

مزید کہا ’پاکستان کی مسلح افواج کے پاس جدید اور مخصوص نوعیت کی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں کچھ کا استعمال محدود سطح پر انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا‘۔بیان کے مطابق ان تمام اقدامات کے باوجود، بھارتی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں پاکستان کا فوجی ردعمل نہایت درست، متناسب رہا، اس ردعمل کو نہایت احتیاط سے ترتیب دیا گیا تاکہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے اور صرف اُن عناصر اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے جو پاکستانی شہریوں کے بہیمانہ قتل اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھے۔اس دوران جب مشرقی محاذ پر افواج مصروف تھیں، پاکستان کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ برداشت کرنا پڑا، جو اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سازشوں میں براہِ راست ملوث ہے، اور اس نے ہمارے آپریشن سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنے پراکسی عناصر کو مکمل طور پر متحرک کر دیا تھا۔
تاہم، پاکستان کی باہمت مسلح افواج نے مغربی محاذ پر دہشت گردی کے خلاف انتہائی مؤثر کارروائیاں بغیر کسی وقفے کے آپریشن بنیان مرصوص کے ساتھ ساتھ انجام دیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’معرکہ حق‘ قومی طاقت کے تمام عناصر کے باہم مربوط عمل کی شاندار مثال رہی، جس میں پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت نے ہماری خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔کسی کو اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب بھی پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہو یا اس کی سرزمین کی خلاف ورزی کی جائے، تو پاکستان کا جوابی ردعمل جامع، فیصلہ کن اور بھرپور ہو گا۔پاکستان کی مسلح افواج اس آزمائش کے دوران پاکستانی قوم کے حوصلے، استقلال اور جوش و جذبے کو سلام پیش کرتی ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتی ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہےکہ پاکستانی افواج دہشت گردی کا خاتمہ کریں گی بہت جلددہشت گردی پر مکمل قابو پالیں گے
سینئر پاکستانی دفاعی تجزیہ کار اصغر علی مبارک نے سوال کیا کہ مشرقی سرحد پر پاکستانی افواج نے کامیابی حاصل کی ہے، کیا یہ کامیابی مغربی سرحد بھی نمایاں ہوگی اور پاکستانی افواج دہشت گردی کا خاتمہ کریں گی کیونکہ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔
ترجمان پاک فوج لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاکستان ایئرفورس اور پاکستان نیوی کے افسران کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم بہت جلد اللہ کی مدد سے اور عوام کی حمایت سے دہشت گردی پر مکمل قابو پالیں گے کیوں کہ ہم سچ اور حق پر ہیں، مظلوم کو مارنا، خودکش حملے کرنا اور مسجدیں شہید کرنا، بھتہ خوری، اسمگلنگ کا کیا تعلق ہے اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں جب کہ یہ بھی اسی دشمن کی مکاری ہے جس کو ہم نے ابھی حال ہی میں شکست دی ہے، اگر ہم اسے وہاں شکست دے سکتے ہیں تو یہاں بھی دے سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینینٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا اور پاکستان کی مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں جب کہ پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، جنگ بندی کی خواہش بھارت کی تھی۔پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، جنگ بندی کی خواہش بھارت کی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ائیرفورس اور نیوی افسران کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہنا تھاکہ پاکستان کی مسلح افواج کنٹرول لائن پر جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہیں،ہم ایک پیشہ ور فوج ہیں، ہم اپنے وعدوں پر پوری طرح عمل کرتے ہیں، فریق مخالف اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرےگا تو ہم جواب دیں گے اور ہمارا جواب بھرپور ہوگا، یقین دلاتا ہوں پاک فوج سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کرے گی۔ بھارتی حملوں میں انفرا اسٹرکچر اور ایک ائیرکرافٹ کو نقصان پہنچا، جس ائیرکرافٹ کو معمولی نقصان ہوا وہ جلد آپریشنل ہوجائےگا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ پاکستان نے بھارت کے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جہاں سے پاکستانی عوام پر حملہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے سورت گڑھ، سرسہ، آدم پور، اونتی پورہ میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ اودھم پور، پٹھان کوٹ میں بھی اہداف کو نشانہ بنایاگیا۔2 مقامات پربھارت کے ایس 400 بیٹری سسٹم کوکامیابی سے نشانہ بنایا، آدم پور اور بوج میں ایس400 نظام کو نشانہ بنایا گیا، کےجی ٹاپ اور نوشہرہ میں موجود 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا،یہ وہ تنصیبات ہیں جہاں سے بلا اشتعال فائرنگ کرکےمعصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ کوئی بھارتی پائلٹ ہماری تحویل میں نہیں۔
سوشل میڈیا پر خبریں گرم تھیں کہ پاکستان نے آپریشن بُنیان مّرصُوص کے دوران ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا ہے تاہم اب ترجمان پاک فوج نے تردید کردی۔
پاک فضائیہ کے ائیروائس مارشل اورنگزیب احمد نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کو بھارت کی فضائیہ کے مقابلے 6 صفر سے کامیابی ملی۔
پاک فضائیہ کے ائیروائس مارشل اورنگزیب احمد نے بتایاکہ بھارتی فضائیہ کی جارحیت پر اس کے طیارے مار گرائے اور پاک فضائیہ کو بھارت کی فضائیہ کے مقابلے 6 صفر سے کامیابی ملی۔ان کا کہنا تھاکہ براہموس میزائل کے حملے کو بھی ائیر ڈیفنس سسٹم نے ناکارہ بنایا، پاک فضائیہ نے اپنی بھرپورصلاحیتوں سے دشمن کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہادتیں ہوئیں، ہمارے دل اور ہمدردیاں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا اور پاکستان کی مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں۔ ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج اپنی غیور اور بہادر قوم کا شکریہ ادا کرتی ہے جب کہ مسلح افواج کے ہر افسر، سپاہی، ایئرمین اور سیلر کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے اپنی جرت اور پیشہ وارانہ مہارت اور قربانی سے میدان جنگ میں کامیابی کو ممکن بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج، پوری قوم خصوصاً نوجوانوں کے جذبے، حوصلے اور بھرپور حمایت پر دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہیں، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں ہمارے حوصلے کو بڑھایا، پاکستان کے ان نوجوانوں کے بھی مقروض ہیں جو سائبر اور انفارمیشن کے محاذ پر صف اول کے سپاہی بنے، پاکستان کے متحرک اور بہادر میڈیا کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے بھارت کے پروپیگنڈا اور جنگی جنون کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص یعنی آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کے قیادت کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر، وطن کےدفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا، مسلح افواج بالخصوص پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جرت مندانہ فیصلوں کی بھی قدر دان ہیں، جنہوں نے ملک کو اس نازک موڑ پر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی۔ آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس میں تینوں افواج کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت وقت پر صورتحال کی آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین، فضا، سمندر اور سائبر اسپیس میں مکمل ہم آہنگی سے اہم اہداف کو تباہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا، وہ تنصیبات جو پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ میں استعمال ہوتی ہے، ان تنصیبات کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ بھارت کے اندر بھی نشانہ بنایا گیا۔ نشانہ بنانے والے مقامات میں سورت گڑھ ، سرسہ، بجھ، آدم پور، اونتی پورہ، اودھم پور، نالیہ، برنالا، بٹھنڈہ، الواڑا، سری نگر، جموں، مامون، امبالا اور پٹھان کورٹ شامل تھے، بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہوئے، ان کا تباہ کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت کے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو پاک فضائیہ نے بوجھ اور آدم پور مقامات پر نشانہ بنایا جب کہ اڑی میں فیلڈ سپلائی ڈیپو اور پونجھ میں ریڈار سسٹم جیسے لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، کے جی ٹاپ، نشہرہ میں موجود 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا، یہ وہ تنصیاب ہیں جہاں سے بلااشتعال فائرنگ کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ راجوڑی اور نوشیرہ میں موجود ملٹری اینٹلی جنس کی یونٹس اور ان کی فیلڈ عناصر جو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث پراکسیز کو سپورٹ دیتے تھے ان کو بھی ختم کیا گیا جب کہ لائن آف کنٹرول کے باہر وہ تمام آرٹلری، لاجیسٹک اور پوسٹیں جو آزاد کشمیر میں شہریوں پر فائرنگ کرتی تھی ان پر شدید اور مسلسل جوابی کارروائی کی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے سفید جھنڈے لہرادیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلایا جاسکے اور ان کو ڈرایا جاسکے، اس کے رد عمل میں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کی مسلح ڈرون بھارت کے دارالحکومت نئی دلی سمیت بڑے شہروں اور مقبوضہ کشمیر سے لے کر گجرات تک مسلسل پرواز کرتے رہے تاکہ پاکستان کی صلاحیت کا نہ صرف اظہار کیا جاسکے بلکہ یہ بتایا جاسکے اس ڈرون کے ڈومینز کا موجودہ وار فیئر میں کوئی فائدہ نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھرپور سائبر حملے بھی کیے جس کے نتیجے میں ان بھارتی اہم مواصلاتی اور انفراسٹکچر نظام کو مفلوج کیا گیا جو بھارتی افواج استعمال کررہی تھیں، یہ یاد رہے کہ پاکستانی افواج کے پاس ایسی کئی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں کچھ کا استعمال محدود سطح پر کیا گیا جب کہ کئی صلاحیتیں آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے باوجود میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل نہایت درست، متوازن اور محدود نوعیت کا رہا، پاکستان نے نہایت مخصوص اہداف کو منتخب کیا تاکہ عام شہری متاثر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب مشرقی سرحد پر افواج پاکستان دفاع میں مصروف تھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو اپنی پراکسیز کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کسی کو بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی، ہمارا رد عمل جامع، جوابی اور فیصلہ کن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یاد ہو تو مسلح افواج نے آپ سے 3 چیزوں کا وعدہ کیا تھا، ہم نے آپ کو بتایا کہ تھا ہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، مگر یہ جواب ہماری مرضی کے وقت، جگہ اور ہمارے طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔ مزید کہا کہ ہم نے قوم سےکہا تھا کہ جب ہم بھارت کو نشانہ بنائیں گے تو ساری دنیا کو پتا چل جائے گا، اور ہم نے آپ سے یہ بھی کہا تھا کہ جتنا تمھیں موت سے ڈر لگتا ہے اس سے زیادہ ہماری مسلح افواج شہادت سے محبت رکھتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستانی حملوں کی انٹرنیشنل اور بھارتی میڈیا پر کوریج کے کلپس دکھائے اور کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا اور رپورٹ کیا، ہم نے یہی وعدہ کیا تھا جو پورا کیا۔ انہوں نے بھارتی وزارت دفاع کی نمائندوں کا ویڈیو کلپ دکھایا جس میں وہ پاکستانی افواج کے حملوں کی تفصیلات بیان کررہی تھیں، پھر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف بھارتی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اور بھارٹی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بھارت میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، ہمار امذہب، ہماری ثقافت اور ہماری مسلح افواج کا پروفیشنل ازم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پھر آپ نے دیکھا کہ کس نے پیچھے ہٹنے کی بات کی۔وائس ایڈمرل رب نواز نےآپریشن بنیان مرصوص کے جزو کے طور پر نیوی آپریشنز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے ہم اپنے سمندری محاذ پر اپنے وطن کا دفاع کرنے اور دشمن کو دور رکھنے میں کامیاب رہے جو اعدادوشمار میں ہم سے بڑھ کر تھا۔ ہم ہمیشہ تیار رہتے ہیں، اور ہمارے لیے امن سے جنگ کی پوزیشن میں آجانا کوئی بھی اہم بات نہیں، مقبوضہ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کے فوراً بعد ہماری بحریہ چند ہی گھنٹوں میں حالت جنگ میں آچکی تھی اور ہم سمندری محاذ پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے بالکل تیار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمندر میں ہونے والی تمام سرگرمیوں پر پوری طرح نگاہ رکھے ہوئے تھے، ہم بھارتی ایئرکرافٹ کیریئر آئی این ایس وکرانت پر بھی مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے اور پاک فضائیہ کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمندر کے ساتھ ساتھ ہم فضا میں بھی بھارتی سرگرمیوں پر پوری نگاہ رکھے ہوئے تھے، ہم اپنے ساحل اور اپنی بندرگاہوں کی حفاظت کے لیے بھی پوری طرح مستعد تھے اور پاک نیوی نے سمندر ی تجارت کو یقینی بنایا، ہماری بندرگاہیں اس تمام صورتحال میں کھلی اور فعال رہیں۔ڈپٹی چیف آف ایئر آپریشنز وائس ایئرمارشل اورنگزیب احمد نے آپریشن بنیان مرصوص کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے آنے والے تمام ڈرونز اور ایس یو ویز کی پہلے ہی نشاندہی کرلی گئی تھی اور انہیں ناکارہ بنایا گیا یا تباہ کردیا گیا پاک فضائیہ نے اہم بھارتی تنصیبات تباہ کیں اور جارحیت پر حملہ آور طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کو بھارت پر0-6 سےکامیابی ملی، بھارت نے براہموس میزائلوں سے بھی حملہ کیا مگر ہم نے تیکنیکی طور پر انہیں ناکارہ بنایا اور اپنے اہداف سے ان کا رخ تبدیل ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے میزائلوں کے ذریعے نہ صرف افغانستان بلکہ اپنے ہی علاقے امرتسر کو بھی نشانہ بنایا۔ ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے کہا کہ ہم فضا میں رافیل طیاروں کو خاص اہمیت دے رہے تھے اور اس کے بعد زمین پر ایس 400 سسٹم پر ہماری خاص توجہ تھی اور اس سسٹم کو آدم پور میں احتیاط سے نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری تحویل میں کوئی بھی بھارتی پائلٹ نہیں ہے، یہ سوشل میڈیا پر چلنے والی باتیں اور مختلف ذرائع سے آنے والے فیک نیوز یا پروپیگنڈا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی بھی سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، حقیقت یہ ہے کہ 6 اور 7 مئی کی رات بھارت کی جانب سے درخواست کی گئی تاہم پاکستان نے واضح جواب دیا کہ ہم صرف اسی صورت بات چیت پر آمادہ ہوں گے جب ہم اپنا جواب دے دیں، 10 مئی کو ہمارا جواب تاریخی تھا جس میں کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ہماری جوابی کارروائی کے بعد ہندوستان نے جنگ بندی کی درخواست کی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس تنازع نے ایک بار پھر سے مسئلہ کشمیر کو فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع اہم پوائنٹ ہے اور جب تک یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل نہیں ہوتا، اس خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت اس بیرونی مسئلے کو داخلی بنانے کی کوشش کر رہا ہے، یہ پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام کے درمیان ایک بیرونی مسئلہ ہے لیکن بھارت آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اور قانونی حیثیت میں تبدیلی لا کر اسے داخلی معاملہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسی 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں کے لیے تباہی کے مترادف ہے، اسی لیے پاکستان نے اس تنازع میں بہت ہی ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے، اور اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مغربی سرحد پر تعینات افواج ، جو دہشت گردی سے نبردآزما ہیں، ان پر اثر نہ پڑے۔
جنگ بندی کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ایل او سی پر جنگ بندی کی پاسداری کررہی ہیں، ہماری افواج کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جارہی، کیونکہ ہم ایک پیشہ ور فوج ہیں اور اپنے معاہدوں کی سختی سے پاسداری کرتے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ پاکستان میں تو عوام امن ہونے پر خوشیاں منا رہے ہیں ، لیکن اگر کوئی جارحیت ہوتی ہے تو ہم اس کا جواب ضرور دیں گے۔ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آئیڈیا کس کا تھا، کیا یہ حافظ صاحب کا آئیڈیا تھا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج میں اسلام نہ صرف ہماری ذات کی حد تک بلکہ یہ ہماری ٹریننگ کا بھی حصہ ہے اور یہ ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے اور ہمارے آرمی چیف کا بھی پختہ یقین ہے تو لیڈرشپ کا یقین بھی مختلف طریقوں سے آپریشنز میں ٹرانسلیٹ ہوتی ہے جب کہ اس نام سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر بھارت کی جانب سے دوبارہ ڈرونز آتے ہیں تو کیا لائح عمل ہوگا؟ صحافی کے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم نے جو 84 ڈرونز گرائے ہیں، اس سے آپ کا دل نہیں بھرا، جتنے آئے تھے گرادیے تھے، اگر مزید آئے تو وہ بھی گرادیں گے، آپ اطمینان سے رہیں وہ جو کچھ بھی بھیجیں گے وہ ہم گرادیں گے کیوں کہ ہمیں قوم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بہت جلد اللہ کی مدد سے اور عوام کی حمایت سے دہشت گردی پر مکمل قابو پالیں گے کیوں کہ ہم سچ اور حق پر ہیں، مظلوم کو مارنا، خودکش حملے کرنا اور مسجدیں شہید کرنا، بھتہ خوری، اسمگلنگ کا کیا تعلق ہے اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں جب کہ یہ بھی اسی دشمن کی مکاری ہے جس کو ہم نے ابھی حال ہی میں شکست دی ہے، اگر ہم اسے وہاں شکست دے سکتے ہیں تو یہاں بھی دے سکتے ہیں۔

Battle of Truth; Pakistan Army announces completion of Operation Banyan Marsus, no conspiracy of the enemy can shake the resolve of the armed forces, Army Chief

(Asghar Ali Mubarak ..)Battle of Truth; Pakistan Army has announced completion of Operation Banyan Marsus Rawalpindi; Army Chief General Asim Munir has said that no conspiracy of the enemy can shake the resolve of the Pakistani armed forces, while the bravery and sacrifice of our citizens and soldiers are the foundation of Pakistan’s security.
Meanwhile, on the brilliant success of Operation Banyan Marsus, Prime Minister Shahbaz Sharif has announced to celebrate Battle of Truth Day on May 10 every year and a martyrs package.
According to the Inter-Services Public Relations (ISPR), Army Chief General Asim Munir visited CMH Rawalpindi, where he visited the injured personnel and civilians and inquired about their well-being.
The Chief of Army Staff met each injured personnel individually and appreciated their exceptional bravery and devotion to duty. The Army Chief reiterated the commitment of the armed forces to provide constant care, rehabilitation and welfare to the injured.
General Asim Munir said that the bravery and sacrifice of our citizens and soldiers is the foundation of Pakistan’s security, the entire nation expresses its strong solidarity with every member of its armed forces.
He said that a united and determined response was witnessed during the Battle of Haq/Operation Banyan Marsus, which, with the steadfastness and support of the people, has become a decisive chapter in the country’s military history. Army Chief General Asim Munir further said that no aggression by the enemy can shake the resolve of the armed forces of Pakistan. It should be noted that Pakistan had launched ‘Operation Bunyan Marsus’ on May 10 in response to Indian aggression.
On the brilliant success of Operation Bunyan Marsus, Prime Minister Shehbaz Sharif announced the celebration of Battle of Haq Day and a Martyrs Package on May 10 every year.
In a statement, Prime Minister Shehbaz Sharif said that Battle of Haq Day should be celebrated with enthusiasm every year across the country. He said that our forces have made us proud, and on Friday, special prayers will be offered in continuation of Thanksgiving Day.
Shehbaz Sharif announced a Martyrs Package for those martyred during the Battle of Haq. According to the statement, the heirs of the martyrs of the Pakistani armed forces will be given an amount of Rs 10 million to Rs 18 million depending on their rank,
Similarly, the heirs of the martyrs of the Pakistani armed forces will be given Rs 19 million to Rs 42 million depending on their rank for home facilities.
Similarly, the full salary of the martyrs of the Pak Army will continue with allowances until their retirement date, and the children of the martyrs of the Pak Army will be given free education until graduation.
According to the package, a marriage grant of Rs 1 million will be given for the marriage of one daughter of every martyr of the Pak Army.
Prime Minister Shehbaz Sharif said that the federal government will rebuild the houses and martyr mosques affected by the Indian attack. The government is responsible for the maintenance of the children of the martyrs, we will fulfill this duty. The Prime Minister said that the federal government will bear all the expenses of the treatment of the injured.Lt. Gen. Ahmed Sharif Chaudhry says that Pakistani forces will eliminate terrorism and will soon completely control terrorism.
Senior Pakistani defense analyst Asghar Ali Mubarak asked that Pakistani forces have achieved success on the eastern border, will this success also be noticeable on the western border and Pakistani forces will eliminate terrorism because Pakistan is facing terrorism.
Pakistan Army Spokesperson Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry said in an important press conference along with officers of the Pakistan Air Force and Pakistan Navy that we will soon completely control terrorism with the help of Allah and with the support of the people because we are on the truth and right. What does killing the oppressed, carrying out suicide attacks and martyring mosques, extortion, smuggling have to do with Islam and humanity? This is also the trick of the same enemy whom we have recently defeated. If we can defeat it there, we can defeat it here too. DG ISPR Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry has said that Operation Banyan Marsus was launched as a result of Indian aggression and the Pakistani armed forces fulfilled the promise made to the nation for which we are grateful to Allah, while Pakistan did not request a ceasefire, India wanted a ceasefire. Pakistan did not request a ceasefire, India wanted a ceasefire. DG ISPR said in a press conference with Air Force and Navy officers that the Pakistani armed forces are strictly adhering to the ceasefire on the Line of Control, we are a professional army, we fully fulfill our promises, if the opposing side violates the ceasefire, we will respond and our response will be full, I assure you that the Pakistani army will not violate the ceasefire. Infrastructure and one aircraft were damaged in the Indian attacks, the aircraft that suffered minor damage will soon become operational.
Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry said that Pakistan targeted 26 Indian military targets from where the Pakistani people were attacked. Pakistan targeted targets in Suratgarh, Sirsa, Adampur, Awantipora. Targets were also targeted in Udhampur, Pathankot. India’s S-400 battery system was successfully targeted at 2 locations, S-400 systems were targeted in Adampur and Bhuj, command installations of 10 Brigade and 80 Brigade in KG Top and Nowshera were also destroyed, these are the installations from which innocent civilians were targeted by unprovoked firing. The spokesperson of the Pakistan Army has said that no Indian pilot is in our custody.
There were hot news on social media that Pakistan has arrested an Indian pilot during Operation Bunyan Marsus, but now the spokesperson of the Pakistan Army has denied it.
Air Vice Marshal Aurangzeb Ahmed of the Pakistan Air Force has said that the Pakistan Air Force won 6-0 over the Indian Air Force.
Air Vice Marshal Aurangzeb Ahmed of the Pakistan Air Force said that the Indian Air Force’s aircraft shot down the aggression and the Pakistan Air Force won 6-0 over the Indian Air Force. He said that the air defense system also neutralized the Brahmos missile attack, and the Pakistan Air Force targeted the enemy with its full capabilities.
He said that as a result of the Indian aggression on May 6 and 7, dozens of martyrs, including women and children, were martyred. Our hearts and sympathies are with the families of the martyrs. We pay tribute to the martyrs who sacrificed their lives in the defense of the homeland. He said that as a result of the Indian aggression, Operation Banyan Marsus was launched and the armed forces of Pakistan fulfilled the promise made to the nation, for which we are grateful to Allah. The spokesperson of the Pakistan Army said that the Pakistani Armed Forces are grateful to their brave and courageous nation, while being extremely grateful to every officer, soldier, airman and sailor of the armed forces who made victory on the battlefield possible with their courage, professionalism and sacrifice. He said that the armed forces of Pakistan are deeply grateful to the spirit, courage and full support of the entire nation, especially the youth, who have boosted our morale in the most difficult times. We are also indebted to the youth of Pakistan who have become frontline soldiers on the cyber and information front, and are also grateful to the dynamic and brave media of Pakistan who stood like an iron wall against India’s propaganda and war madness in Operation Banyan Marsus. DG ISPR said that we are also grateful to the leadership of all political parties without distinction, who have shown their utmost commitment to standing by the side of the Pakistani armed forces, above political differences, united in the defense of the homeland, and are also appreciative of the leadership skills and bold decisions of the armed forces, especially the Prime Minister of Pakistan and his cabinet, who have guided the country in the right direction at this critical juncture. While giving details of Operation Banyan Marsus, he said that the armed forces gave a befitting reply to the enemy, in which the full capabilities of real-time situational awareness, network-centric warfare and multi-domain operations were utilized with complete coordination of the three forces. He said that important targets were destroyed with complete coordination in land, air, sea and cyberspace and 26 important Indian military targets used against Pakistan were targeted. The facilities that are used to promote terrorism in Pakistan were targeted not only in occupied Kashmir but also inside India. The targeted locations included Suratgarh, Sirsa, Bajha, Adampur, Awantipora, Udhampur, Nalia, Barnala, Bathinda, Alwara, Srinagar, Jammu, Mamoon, Ambala and Pathankot. The Brahmos missile depots in Beas and Nagrota, which were used in attacks on Pakistani citizens, were destroyed.
The DG ISPR said that the Pakistan Air Force targeted India’s S-400 air defense system at Bhuj and Adampur locations, while logistics and support centers like the field supply depot in Uri and the radar system in Poonch were also targeted. The command installations of 10 Brigade and 80 Brigade in KG Top, Nowshera were also destroyed, these are the installations from which innocent civilians were targeted by unprovoked firing. He said that the military intelligence units and their field elements in Rajouri and Nowshera, which were supporting proxies involved in terrorism in Pakistan, were also eliminated, while all the artillery, logistics and posts outside the Line of Control that were firing on civilians in Azad Kashmir were retaliated severely and continuously, until they hoisted white flags.
He said that India violated Pakistan’s airspace through drones to spread fear and intimidate the public. In response, during Operation Banyan Marsus, Pakistan’s armed drones continued to fly continuously over major cities including the Indian capital New Delhi and from occupied Kashmir to Gujarat, so that Pakistan’s capabilities could not only be demonstrated but also that the domains of these drones were of no use in the current warfare.
The spokesperson said that the Pakistani forces also carried out extensive cyber attacks, which resulted in the paralysis of important Indian communication and infrastructure systems that the Indian forces were using. It should be remembered that the Pakistani forces have many such modern warfare capabilities, some of which have been used on a limited basis, while many capabilities have been reserved for the future.
He said that despite these measures, I want to make it clear that Pakistan’s response to India’s continuous provocations has been very accurate, balanced and limited in nature. Pakistan selected very specific targets so that civilians were not affected.
He said that we want to make it clear that when the Pakistani forces were engaged in defense on the eastern border, there was an unprecedented increase in terrorism under Indian patronage in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan, which is undeniable evidence that India is promoting terrorism in Pakistan through its proxies.
DG ISPR said that no one should have any doubt that whenever our sovereignty or borders were violated, our response would be comprehensive, retaliatory and decisive. He said that if you remember, the armed forces had promised you 3 things, we told you that we would give a befitting reply to Indian aggression, but this response would be at the time, place and according to our method. He added that we had told the nation that when we target India, the whole world would know, and we had also told you that our armed forces love martyrdom more than you fear death. The DG ISPR showed clips of international and Indian media coverage of the Pakistani attacks and said that the whole world saw and reported, we fulfilled this promise. He showed a video clip of representatives of the Indian Ministry of Defense in which they were describing the details of the attacks by the Pakistani forces, then he said that Pakistan only targeted Indian military targets. He said that the international and Indian media are reporting that only military targets were targeted in India, we had told you that we do not target civilians, our religion, our culture and the professionalism of our armed forces do not allow civilians to be targeted. The Pakistan Army spokesperson said that then you saw who talked about retreating. Vice Admiral Rab Nawaz, while giving details of the naval operations as part of Operation Banyan Marsus, said that by the grace and mercy of Allah Almighty, we were able to defend our homeland on our sea front and keep away the enemy who was numerically superior to us. We are always ready, and for us it is not important to go from peace to war, immediately after the false flag operation in occupied Kashmir, our navy was on war footing within a few hours and we were fully prepared to give a befitting reply to any aggression on the sea front. He said that we were keeping a close watch on all the activities taking place at sea, we were also keeping a close watch on the Indian aircraft carrier INS Vikrant and were in constant contact with the Pakistan Air Force.
He added that along with the sea, we were also keeping a close watch on Indian activities in the air, we were also fully prepared to protect our coast and our ports and the Pakistan Navy ensured maritime trade, our ports remained open and functional in all this situation. Deputy Chief of Air Operations Vice Air Marshal Aurangzeb Ahmed, while giving details of Operation Banyan Marsus, said that all the drones and SUVs coming from India had been identified in advance and were disabled or destroyed. The Pakistan Air Force destroyed important Indian installations and shot down the aircraft that attacked the aggression. He said that the Pakistan Air Force achieved a 0-6 victory over India, India also attacked with Brahmos missiles, but we technically disabled them and diverted them from our targets. He said that India targeted not only Afghanistan but also its own area of ​​Amritsar with its missiles. Air Vice Marshal Aurangzeb Ahmed said that we were giving special importance to Rafale aircraft in the air and after that we had special attention on the S-400 system on the ground and this system was carefully targeted in Adampur. DG ISPR, in response to a question, said that I want to clearly say that there is no Indian pilot in our custody, this is fake news or propaganda coming from different sources and social media.
He further said that Pakistan has never requested any ceasefire, the fact is that on the night of May 6 and 7, a request was made by India, however, Pakistan clearly replied that we will be ready for talks only if we give our response, our response on May 10 was historic in which no civilian population was targeted, after our retaliatory action, India requested a ceasefire.
The Pakistan Army spokesperson said that this dispute has once again made the Kashmir issue a flashpoint, which should be resolved according to the aspirations of the Kashmiri people. He said that the Kashmir issue is a key point of dispute between Pakistan and India and until this issue is resolved according to the resolutions of the United Nations Security Council and the will of the Kashmiri people, lasting peace cannot be established in this region. He further said that the problem is that India is trying to internalize this external issue, it is an external issue between Pakistan, India and the Kashmiri people, but India is trying to make it an internal matter by changing the population ratio and changing the legal status, which is a violation of UN resolutions and international commitments.
DG ISPR said that the fact is that there is no scope for war between two nuclear powers like Pakistan and India because it is tantamount to destruction for both, that is why Pakistan has shown great responsibility in this conflict, and has also ensured that the forces deployed on the western border, which are fighting terrorism, are not affected.
In response to a question regarding the ceasefire, Lieutenant General Ahmed Sharif Chaudhry said that Pakistan’s armed forces are observing the ceasefire on the LoC, there is no violation of the ceasefire by our forces, because we are a professional army and strictly abide by our agreements.
He said that the people of Pakistan are celebrating peace, but if there is any aggression, we will definitely respond to it. The journalist asked whose idea was ‘Operation Banyan Marsus’, was it Hafiz Sahib’s idea? The DG ISPR said that Islam in Pakistan’s armed forces is not only part of our identity but also part of our training and it is also part of our faith and our Army Chief also has a firm belief, so the belief of leadership is also translated into operations in different ways, while what does this name suggest that those who fight in the path of Allah are like a lead-lined wall. If drones come from India again, what will be the plan of action? On the journalist’s question, the spokesperson of the Pakistan Army said that the 84 drones that we have shot down, did not fill your heart, we shot down as many as came, if more come, we will shoot them down too, you can rest assured, we will shoot down whatever they send because we have the full support of the nation. He further said that very soon, with the help of Allah and the support of the people, we will completely control terrorism because we are on the truth and right, what is the connection between killing the oppressed, carrying out suicide attacks and martyring mosques, extortion, smuggling? It has nothing to do with Islam and humanity, while this is also the cunning of the same enemy whom we have recently defeated, if we can defeat it there, we can also defeat it here.