وزیراعظم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنےکے لیےپرعزم……..

……..اصغر علی مبارک………..

وزیراعظم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنےکے لیےپرعزم ہیں , خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور خسارے کے شکار سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ,ایس آئی ایف سی کی اپیکس کمیٹی کے 10ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کونسل میں ایس آئی ایف سی صرف فوجی افسران کا نام نہیں، اس کی کارکردگی نے ناقدین کے منہ بند کردیے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اطلاعات، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر توانائی اویس لغاری , وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریزاور دیگراجلاس میں شریک ہوئے۔خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تجارتی اور معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں، عسکری قیادت نے بھی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا، فوجی اور سول افسران ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق ملکرکام کررہےہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب اور یو اے ای کے دورے کیے، دورہ متحدہ عرب امارات کارگر ثابت ہوا، فوجی اور سول افسران ایس آئی ایف سی سے متعلق ملکرکام کررہےہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایس آئی ایف سی کی افادیت بڑھتی جارہی ہے، کارکردگی نے ناقدین کے منہ بند کردیے ہیں، ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری سے متعلق بہترین کردار ادا کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی ملک کی پیداوار بڑھانے کے لیے محنت کرنا ہوگی، نوجوانوں کو آئی ٹی میں موقع فراہم کرناہماری ترجیح ہے، کھربوں روپے کے خزانے چھپے ہیں جنہیں استعمال میں لانا ہے، ریکوڈک منصوبے پر ایس آئی ایف سی نے شاندار کام کیا۔ ایس آئی ایف سی صرف افواج پاکستان کے افسران کا نام نہیں ہے، اس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور کابینہ بھی شامل ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان میں10ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، سعودی عرب نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی، ملکی ترقی اور خوشحالی کےلیے جو بھی کام کرے گا وہ ہمارے سروں کا تاج ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے لیے معاہدہ ہوگیا ہے، پاکستانی قوم جری اور ہمت والی ہے۔ ترقی کے لیے کانٹوں سے گزرنا ہو گا، کوئی جادو ٹونا کام نہیں آئے گا، ایک روٹی چاروں بھائیوں نے مل بانٹ کر کھانی ہے، جب چار روٹیاں ہوں گی تو ہر ایک کے حصے میں ایک ایک آئے گی، کشکول توڑ دیا، دن رات محنت کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہو گا۔ اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس میں عرب امارات کے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق بریفنگ دی جائے گی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے گزشتہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ایس آئی ایف سی ایک اہم پلیٹ فارم ہے جسے جاری رکھا جائے گا، معاشی چیلینجز سے نمٹنے کے لیے سب کا مل بیٹھنا خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔ ایس آئی ایف سی نےقانونی شکل اختیارکی تو خدشات کا اظہار کیاگیا، ہم اپنے اہداف کو ایس آئی ایف سی کے ذریعے حاصل کریں گے، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے غیرملکی فرم ہائر کرلی ہے۔ ایس آئی ایف سی پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، صوبائی حکومتیں ایس آئی ایف سی پر اعتماد کرتی ہیں، ایس آئی ایف سی کے حوالے سے افسران مل کر کام کر رہے ہیں۔اجلاس کے شرکاء سےگفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو ایس آئی ایف سی میں ساتھ لےکر چل رہے ہیں، یو اے ای نے 10 ارب ڈالر پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے مختص کردیے ہیں، ہم نے کشکول توڑ دیا ہے اب تجارتی اور معاشی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دوست ممالک نے بھی ایس آئی ایف سی کے اقدامات کو سراہا ہے، عسکری قیادت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل سرخ فیتہ برداشت نہیں کیا جائےگا۔ دوسری طرف دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) پاکستان کی ریڈلائن ہے، کوئی اس کو کراس کرنے کی کوشش نہ کرے۔ دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے مگر وہ لوگ جنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے وہ ایس آئی ایف سی پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر تنقید کریں، حکومت پر کریں مگر معشیت ڈبونے کے لیے جو حرکات و سکنات شروع کی ہیں قوم ان کو دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے متحدہ عرب امارات کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس روز 10 ارب ڈالر مختص کیے گئے اسی روز ہی آئی ایس ایف سی کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ انہوں نے ایس آئی ایس ایف سی کو پاکستان کی لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو نشانہ بنانے والوں کو اس کے سپیلنگ بھی معلوم نہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں معیشت کی بحالی بالخصوص ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت اور فوج کے تعاون سے 17 جون 2023 کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ایس آئی ایف سی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یاد رکھیں کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل کی اعلیٰ ترین (ایپیکس) کمیٹی میں وزیر اعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ اور چیف آف آرمی اسٹاف شامل ہیں۔ کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی میں وفاقی اورصوبائی کابینہ کے اراکین، بیوروکریسی کے بعض سینئر افسران اور فوج کا نمائندہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی تیسری کمیٹی عمل درآمد کمیٹی کہلاتی ہے جس میں وزیر اعظم کے خصوصی معاون اور فوج کا افسر موجود ہے۔ کونسل کے اغراض و مقاصد میں بعض شناخت شدہ شعبوں میں دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنا بتایا گیا ہے جن میں دفاع، زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے کونسل ‘سنگل ونڈو’ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی تاکہ ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کی جاسکے۔فوج کی جانب سےاس مقصد کے لیےہر قسم کے تعاون کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی ویب سائٹ کے مطابق کونسل کا وژن پاکستان کی معاشی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ کونسل ملک میں غیر ملکی اور ملکی ذرائع سے سرمایہ کاری کے حجم کو نمایاں طور پر بڑھانا چاہتی ہے تاکہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام کا حصول، سماجی و اقتصادی خوشحالی اور دنیا کی دیگر اقوام کے درمیان پاکستان کے صحیح قد کا دوبارہ حصول ممکن بنایا جا سکے۔ خصوصی کونسل کے تحت چولستان میں 50 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم، کینولا، باجرہ اور کپاس کی کاشت کا پروگرام ہے۔ پرائم کی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس مقصد کے لیے 37 ارب 55 کروڑ روپے کی رقم درکار ہوگی اور اس پروگرام کا مقصد ملک سے غذائی قلت کے خاتمے کو یقینی بنانا، ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنا اور درآمدی بل کم کرنا شامل ہے۔ اسی طرح لائیو اسٹاک کے سیکٹر میں 20 ہزار جانوروں کی استعداد کے کارپوریٹ ڈیری فارم قائم کیے جانے ہیں جس پر72 ارب روپے کا خرچہ آئے گا۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ فیڈلاٹ فارم کا قیام کرکے اس میں 30 ہزار جانور رکھے جائیں گے جو مقامی ضروریات کو پورا کرنے اور برآمد کرنے کے لیے15 ہزار ٹن گوشت سالانہ فراہم کرسکے گا۔ اس پروجیکٹ پر 58 ارب کے اخراجات آنے ہیں۔ اسی طرح کے الگ منصوبے میں 10 ہزار اونٹوں پر مشتمل کیمل فارم بھی قائم کیا جائے گا جس پر لاگت کا تخمینہ 37 ارب 70 کروڑ روپے ہے اور یہ سالانہ 20 لاکھ لیٹر دودھ کے ساتھ 450 ٹن گوشت بھی فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ شہروں میں ٹیکنالوجی زونز کے قیام عمل میں لانے کا منصوبہ بھی ہے۔ راولپنڈی سے کراچی اور گوادر تک 75 ہزار کلومیٹر فائبر نیٹ ورک کا قیام اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے کلاؤڈ انفرااسٹرکچر کے لیےسرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ ملک میں اسمارٹ فونز کی تیاری کے لیے75 ہزار افراد کو ٹریننگ دینے کا منصوبہ بھی ہے تاکہ اسمارٹ موبائل فونز تیار کرکے انہیں خلیجی ممالک، افریقہ اور وسطی ایشیاٗ کی مارکیٹوں میں فروخت کیا جاسکے۔ اسی طرح کان کنی کے میدان میں بلوچستان کے ضلع چاغی میں تانبے اور سونے کے ذخائر، خضدار میں سیسے اور جست (زنک) کی تلاش کے لیےلائسنس کے اجراٗ کے علاوہ تھرپارکر میں کول فیلڈ کی اپ گریڈیشن، گلگت بلتستان میں مختلف دھاتوں کے لیے کان کنی اور مائننگ مشینری کی اسمبلنگ کے لیےپلانٹس کا قیام بھی اس منصوبے کے مقاصد میں شامل ہے۔ توانائی کے شعبے میں حکومت اس کونسل کے ذریعے 1320 میگاواٹ کےکوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ، دریائے پونچھ پر 132 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، دیامیر بھاشا پراجیکٹ، پنجاب میں سولر پاور پراجیکٹس اور 500 کلو واٹ کے ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کے قیام کے منصوبے مکمل کرنا چاہتی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے حکومت بیرونی سرمایہ کاروں، ٹیکس مراعات، درآمدی اشیا پر ڈیوٹی میں نرمی، منافع باہر منتقل کرنے، اسپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے والوں کو دس سال تک انکم ٹیکس چھوٹ سمیت تنازعات کے حل کے لیے مختلف ضمانتیں وغیرہ دینے کو تیار دکھائی دیتی ہے گزشتہ ادوار میں ملک میں کم از کم تین ہائی پاور کمیشن قائم کیے گئے تھے جن کا مقصد کاروبار میں آسانیوں کے معیارات حاصل کرنا تھا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایس آئی ایف سی کی صلاحیت کا انحصار ملک کے ساختی مسائل کے حل پر ہے۔ایس آئی ایف سی کا مینڈیٹ اور اس کے مقاصد ملکی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہیں حکومت نے بیوروکریسی کی طرف سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں اور سرخ فیتے کا اعتراف کیا ہے لیکن ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی ۔ 40 سال سے ملک کے معاشی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکی۔ ملک میں 25 لاکھ بچے ہر سال جاب مارکیٹ میں آرہے ہیں، ان کے لیےملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بیرونی کرنسی نہیں ہے، معاشی ساخت ایسی ہونی چاہیے کہ معیشت برآمدات اور ترسیلات زر بڑھا کر بیرونی کرنسی کی کمی پوری کرسکے۔اس کے علاوہ ملک میں مسئلہ صنعتوں کی پیداوار بڑھانا جب کہ مسئلہ ویلیو ایڈڈ پروڈکسٹس تیار کرنا ہے۔پاکستان میں معاشی پالیسیاں بڑی تیزی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ان تبدیلیوں سے ملک میں ایک غیر یقینی ماحول پیدا ہوتا ہے جس سے نہ صرف ملکی سرمایہ کاری بلکہ کاروبار کی توسیع اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے