ورلڈ کپ کی تاریخ کا 428 بڑا سکور, سری لنکن ٹیم 326 رنزپرآؤٹ…..428 Biggest score in the history of the World Cup, the Sri Lankan team was out for 326 runs….
اصغر علی مبارک,,
Asghar Ali Mubarak,,,,,,,,,,,,,,,,
After making the highest score in the history of the World Cup, South Africa scored 428 runs and dismissed Sri Lanka for 326 runs in the 45th over to win the match by 102 runs. declared.
In the fourth match of the World Cup played at the Arun Jaitley Stadium in Delhi, Sri Lanka won the toss and invited South Africa to bat first. The bowlers of Sri Lanka initially dismissed the South African captain Temba Bavuma for 10 in the second over. Had a good start but the later batsmen changed the situation completely. Rassie van der Dusen completed his half-century with 6 fours and a six off 51 balls. De Kock and Dusen added 204 runs in the second wicket partnership and both batsmen also completed their centuries in the process. The Sri Lankan bowlers got their second wicket on the fourth ball of the 31st over when South Africa had reached 214 runs and de Kock completed his century with 12 fours and 3 sixes in 84 balls. After de Kock’s dismissal, Eden Markram came in to bat and proved to be a nightmare for the Sri Lankan bowlers and looked in no mood to spare any bowler and batted aggressively. Rassi van der Dusen played an innings of 108 runs off 110 balls with the help of 13 fours and 2 sixes. The catch was also dropped. Henrik Klaasen is known for his aggressive batting but he could not play a big innings but he scored 32 runs off 20 balls with the help of a four and 3 sixes and supported Markram and scored 78 runs off 36 balls in the partnership. South Africa’s fourth wicket fell on the first ball of the 44th over and the score at that time was 342 runs. Aiden Markram also scored the fastest century of the World Cup in 49 balls and returned to the pavilion after taking the team’s score to 383 runs in 47 overs.
South Africa scored 428 runs for 5 wickets in 50 overs at an average of 8.56, the highest score by any team in World Cup history, previously Australia’s 417 against Afghanistan in 2015. were
Among the Sri Lankan bowlers, Muttisha Pathirana suffered the most beating as the South African batsmen scored 95 runs in his 10 overs, followed by Kasan Rajitha, who scored 90 runs in 10 overs, Dilshan Madhushanka and Velalage. 86 and 81 respectively. Sri Lanka did not make a good start in their pursuit of the mountain target and the first wicket fell for one run when Patham Nissanka got Jensen’s wicket without opening the account. Kosal Mendes came in to bat at second and South Africa made the bowlers practice and completed a half-century in just 25 balls while hitting towering sixes. At the other end, Kosal Perera scored only 7 runs from 15 balls and was dismissed for 67, of which Kosal contributed 60 runs. Kaushal Mendes continued his aggressive batting streak, but on the fourth ball of the 13th over, Rabada put him in trouble and he was caught by the wicketkeeper. Mendes hit 4 fours and 8 sixes off 42 balls. 76 runs were scored.
Sudira Samaravikrama also went on the offensive but the South African captain made a bowling change and brought on Coetzee, who ended Sudira’s 23-run innings. Dhananjaya de Silva and Charith Asalanka had taken the score to 150 when Keshap Maharaj tried to cut the ball and De Silva was caught and returned to the pavilion. Charith Asalanka did not lose heart and continued to bat from one end and got a boundary. Did not waste any opportunity and guided his team to a score of 232 in 32 overs. Isalinka scored 79 runs off 65 balls with 8 fours and 4 sixes but was dismissed by Ngidi during an aggressive game.
The young player Donath Vela Lage got out early and could not support the captain and could not even open the account, at that time Sri Lanka’s score was 233 runs. On the fourth ball of the 40th over, when the score was 291 runs, they blew their wickets.
Shanaka couldn’t bring the team closer to victory but worked hard to reduce the margin. Kasan Rajitha then took over and scored 33 runs off 31 balls with 4 fours and a six to take the team to 322 on the fourth ball of the 44th over. Sri Lanka’s last outs The batsman was Mitisha Pathirana, who was dismissed for 5 runs off 16 balls. In response to South Africa’s record score, the entire Sri Lankan team was dismissed for 326 runs on the fifth ball of the 45th over. Gerald Coetzee top-scored with 3 wickets, while Marco Jensen, Kagiso Rabada and Maharaj took 2 each.
The squads for both teams consisted of these players. South Africa: Quinton de Kock, Temba Bauma (captain), Rassie van der Dusen, Eden Markram, Henrik Klaasen, David Miller, Marco Johnson, Gerald Coetzee, Kesho Maharaj, Kagiso Rabada, Lungi. Ngedi;Sri Lanka Patham Nissanka, Kosal Perera, Kosal Mendes, Sidira Wickrama, Charith Asalanka, Dhananjaya de Silva, Dasan Shanka (capt), Donath Velalj, Kisan Rajitha, Dilshan Madhushanka, Mathisha Pather
ورلڈکپ کی تاریخ کا428 بڑا سکور, سری لنکن ٹیم 326 رنزپرآؤٹ
اصغر علی مبارک,,,,,,,,,,,,,,,,
جنوبی افریقہ نے ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور 428 رنز بنانے کے بعد سری لنکا کو 45 ویں اوور میں 326 رنز پر آؤٹ کرکے میچ 102 رنز سے جیت لیا ورلڈ کپ کی تیز ترین سنچری بنانے پر ایڈن مرکرم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
ارون جیٹلی اسٹیڈیم دہلی میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے چوتھے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقہ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔سری لنکا کے باؤلرز نے شروع میں جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما کو دوسرے اوور میں 10 کے اسکور ہی آؤٹ کرکے اچھا آغاز کیا تھا لیکن بعد میں آنے والے بلے بازوں نے صورت حال یکسر تبدیل کردی۔ راسی وین ڈیر ڈوسن51 گیندوں پر 6 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ڈی کوک اور ڈوسن نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 204 رنز کا اضافہ کیا اور دونوں بلے بازوں نے اس دوران اپنی سنچریاں بھی مکمل کرلی۔ سری لنکا کے باؤلرز کو دوسری وکٹ 31 ویں اوور کی چوتھی گیند پر ملی جب جنوبی افریقہ کا اسکور 214 رنز ہوچکا تھا اور ڈی کوک 84 گیندوں پر 12 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کرچکے تھے۔ ڈی کوک کے آؤٹ ہونے کے بعد ایڈن مرکرم بیٹنگ کے لیے آئے جو سری لنکا کے باؤلرز کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے اور کسی باؤلر کو بخشنے کے موڈ میں نظر نہیں آئے اور جارحانہ بیٹنگ کی۔ راسی وین ڈیر ڈوسن نے 110 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 108 رنز کی اننگز کھیلی تاہم وی لالگے کی گیند پر آؤٹ ہوئے، ڈوسن پوری اننگز میں وی لالگے کی گیندوں پر پریشان دکھائی دیے تھے اور ان کی گیند پر ایک آسان کیچ بھی گرایا گیا تھا۔ ہینرک کلاسن اپنی جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہیں لیکن وہ بڑی اننگز کھیل نہیں پایا تاہم 20 گیندوں پر ایک چوکے اور 3 چھکوں کی مدد سے 32 رنز بنا کر مرکرم کا ساتھ دیا اور شراکت میں 36 گیندوں پر 78 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی چوتھی وکٹ 44 ویں اوور کی پہلی گیند پر گری تھی اور اس وقت اسکور 342 رنز تھا۔ ایڈن مرکرم نے 49 گیندوں پر ورلڈ کپ کی تیز ترین سنچری بھی بنائی اور ٹیم کا اسکور 47 اوورز میں 383 رنز تک پہنچا کر پویلین لوٹ گئے۔
جنوبی افریقہ نے مقررہ اوورز میں 8.56 رنز کی اوسط سے مقررہ 50 اوورز میں 5 وکٹوں پر 428 رنز بنائے جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا اسکور ہے، اس سے قبل آسٹریلیا نے 2015 میں افغانستان کے خلاف 417 رنز بنائے تھے۔
سری لنکا کے باؤلرز میں سب سے زیادہ پٹائی متھیشا پاتھیرانا کو برداشت کرنا پڑی، ان کے 10 اوورز میں جنوبی افریقی بلے بازوں نے 95 رنز بٹورے، دوسرے نمبر پر کاسن راجیتھا تھے، جن کے 10 اوورز میں 90 رنز بنے، دلشن مادھوشنکا اور ویلالگے نے بالترتیب 86 اور 81 رنز دیے۔سری لنکا نے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں آغاز اچھا نہیں کیا اور پہلی وکٹ ایک رن پر گری جب پاتھم نسانکا کھاتا کھولے بغیر جینسن کی وکٹ بنے۔کوسل مینڈس دوسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے اور جنوبی افریقہ باؤلرز کو تختہ مشق بناڈالا اور بلند و بالا چھکے مارتے ہوئے صرف 25 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔دوسرے اینڈ سے کوسل پریرا 15 گیندوں پر صرف 7 رنز بنا پائے اور67 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے، جس میں سے 60 رنز کا حصہ کوسل مینڈس کا تھا۔کوشل مینڈس نے جارحانہ بیٹنگ کا سلسہ جاری رکھا تاہم 13 ویں اوور کی چوتھی گیند پر رابادا نے انہیں مشکل میں ڈال دیا اور وہ وکٹ کیپر کو کیچ دیے گئے۔مینڈس نے 42 گیندوں پر 4 چوکوں اور 8 چھکوں کی مدد سے 76 رنز بنائے تھے۔
سدیرا سماراوکراما نے بھی جارحانہ انداز اپنایا لیکن جنوبی افریقہ کے کپتان نے باؤلنگ میں تبدیلی کرتے ہوئے کوئٹزے کو لے آیا، جنہوں نے سدیرا کی 23 رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔ دھننجیا ڈی سلوا اور چارتھ اسالانکا نے اسکور کو 150 تک پہنچایا ہی تھا کہ کیشپ مہاراج کی گیند پر کٹ کھیلنے کی کوشش میں ڈی سلوا کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے۔چریتھ اسالینکا نے ہمت نہیں ہاری اور ایک اینڈ سے بیٹنگ جاری رکھی اور باؤنڈری حاصل کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا اور اپنی ٹیم کو 32 اوورز میں 232 کے اسکور تک پہنچایا۔اسالینکا نے 65 گیندوں پر 8 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے 79 رنز بنائے تھے لیکن جارحانہ کھیل کے دوران نگیدی نے ان کو آؤٹ کیا۔
نوجوان کھلاڑی دونتھ ویلا لگے جلد آؤٹ ہوئے اور کپتان کا ساتھ نہ دے سکے اور کھاتہ بھی نہ کھول پائے، اس وقت سری لنکا کا اسکور 233 رنز تھا۔کپتان شناکا نے ٹیم کا اسکور پراعتماد انداز میں آگے بڑھایا اور نصف سنچری بنائی لیکن مہاراج نے 40 ویں اوور کی چوتھی گیند پر جب اسکور 291 رنز تھا تو ان کی وکٹیں اڑا دیں۔
شناکا ٹیم کو فتح کے قریب نہ لا سکے لیکن مارجن کم کرنے کی بڑی تگ و دو کی۔ اس کے بعد کاسن راجیتھا نے اینڈ سنبھالا اور 31 گیندوں کا سامنا کرکے 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 33 رنز بنائے اور ٹیم کو 44 ویں اوور کی چوتھی گیند پر 322 رنز تک پہنچا کر آؤٹ ہوئے۔سری لنکا کے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز متھیشا پتھیرانا تھے، جو 16 گیندوں پر 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔جنوبی افریقہ کے ریکارڈ اسکور کے جواب میں سری لنکا کی پوری ٹیم 45 ویں اوور کی پانچویں گیند پر 326 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔باؤلنگ میں جنوبی افریقہ کی جانب سے جیرالڈ کوئٹزی نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں، مارکو جینسن، کگیسو رابادا اور مہاراج نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔مارکو جینسن سب سے مہنگے باؤلر بھی ثابت ہوئے جنہوں نے 10 اوورز کے کوٹے میں 92 رنز دیے
دونوں ٹیموں کے اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔جنوبی افریقہ: کوئنٹن ڈی کوک، ٹیمبا باوما (کپتان)، راسی وین ڈیر ڈوسن، ایڈن مارکرم، ہینرک کلاسن، ڈیوڈ ملر، مارکو جانسن، جیرالڈ کوٹزی، کیشو مہاراج، کاگیسو ربادا، لونگی نگیڈی;سری لنکا پاتھم نسانکا، کوسل پریرا، کوسل مینڈس، سدیرا ویکراما، چارتھ اسالنکا، دھننجایا ڈی سلوا، داسن شانکا (کپتان)، دونتھ ویلالج، کسن راجیتھا، دلشان مدوشنکا، ، میتھیشا پاتھیر





