..یوم دفاع ;ملک کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قابل فخر اثاثہ ………..کالم ”اندر کی بات”…:کالم نگار،اصغر علی مبارک. …………………….. 6 ستمبریوم دفاع کا دن جرات وقربانی کےبےمثال جذبےکاعکاس ہے، ارض پاک پر ناپاک نگاہ ڈالنے والوں کو نشان عبرت بنانے کا عزم لئے قوم یوم دفاع کو ملی جوش جذبے سے مناتی ہے، ہم آج پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، اس عزم کی تجدید جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا۔57 سال قبل مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا، ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ 6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، ہم کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ قوم اور مسلح افواج نے ثابت کیا کہ حجم اہمیت نہیں رکھتا۔ جذبہ، ولولہ اور جرأت و بہادری ہوتی ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ بھارت نے بیگناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کاراج مسلط کر رکھا ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ان اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے ہٹانا ہے۔ بھارت نےآرٹیکل 370 اور 35 اےکو ختم کر کے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی۔افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مشکل صورتحال میں جانوں کو خطرے کے باوجود دن رات تسلسل کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، اورثابت کیا کہ پاک فوج عوام اور مادر وطن کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گی, ویلڈن پاک آرمی…آپ ہمارا فخر ہیں۔ یہاں اس کا ذکر بہت اہم ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، جس میں6 افسران شہید ہوئے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ڈیوٹی کو مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں.وطن کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں, پاک فوج کے شہداء نے ہمیشہ اس عزم کو ثابت کیا کہ پاک وطن کی حفاظت کے لئے وہ کسی بھی بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے جی ایچ کیو میں ہونے والی یوم دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کر دی ہے ہم قومی سطع پر ہر تقریب کا زور شور سے اہتمام کرتے رہے پیں میرے خیال میں اس تقریب کو ضرور ہوناچاہیے تھا یوم شہداء ہر سال منایا جاتا ہے۔یوم شہدا ء منانے کا ایک مقصد ہے۔یہ دن عام دنوں کی طرح نہیں۔اِس دن کا صرف یہی مقصد نہیں کہ تقریریں کیں،شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے،سلامی دی اور بس!نہیں ایسا ہرگز نہیں۔ دفاع وطن کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں اِسی لئے یہ دن پاک وطن کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے دی گئی قربانیوں کو یاد رکھنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ یوم شہداء پہلی بار تیس اپریل 2010 ء کو منایا گیا اور اس کا اعزاز سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جاتا ہے ۔جنہوں نے اِس بات کو محسوس کیا کہ ہماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ اِسی لئے پاکستان میں یہ دن اْن شہداء سے منسوب ہے جنہوں نے ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔2010 ء سے لے کر آج تک ،ہر سال یہ دن جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اگر پاک آرمی نہ ہوتی تو بین الاقوامی دہشت گرد ہمیں ایک لمحے کے لئے بھی چین سے نہ بیٹھنے دیتے‘ پاکستان کے قیام اور سلامتی میں پاک فوج کے لاکھوں شہداء کاخون شامل ہے‘ قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاک فوج کے جوان اپنے ملک وقوم کے تحفظ اور بقاء کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ،میں خود ایک شہید مظہرعلی مبارک کا بھائی ہوں جو سال 2013 میں دھشتگردانہ ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے تھے مجھے معلوم ھے سویلین شہداء کے لواحقین کو کس قدر نظر انداز کیا جاتاھے لیکن ھم شہداء کے جنازوں اور برسی کے موقع پر خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ضائع نہیں کرتے, کوروناوائرس میں بھی شہداء کو نہ بھولے اور اپنے طور پر 6 ستمبر پر خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جاتا رہا شہداء کا خون آج بھی کہہ رہا ہے ملک کے لئے جانیں دینے والے شہداء قابل فخر ہیں۔ پاک فوج کی خدمات کو دیکھا جائے تو وہ ہر مشکل گھڑی میں خواہ وہ زلزلہ ہو یا سیلاب،زمانہ امن ہو یا جنگ، پاک فوج ہر حال میں ملک و قوم کے لیے برسر پیکار ہے اورہمیشہ اپنی عوام کے ساتھ کھڑی نظر آئی آج بڑی مثال پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثہ ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ہم وطنوں کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے شہداء کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کر تی ہے افسوسناک بات یہ ہے کہ دشمن قوتیں تو متحد ہیں مگر ہم انتشار کا شکار ہیں پوری قوم کومتحد ہوکر دشمن کے ایجنڈے کو ناکام بنانا ہوگا۔کیونکہ انہی قو توں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کیلئے شہداء نے موت کو گلے لگایاپاکستان دشمن قوتیں قومی جذبہ کم کرنے پروپیگنڈہ میں مصروف ہیں۔جذبہ 6 ستمبر ہی پاکستانیو کیلئے ٹانک سے کم نہیں۔شہدا کی فیملیز کو اس دن کا بے صبری سے انتظار ہوتاہےسیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی کے جوان ڈیوٹی کو مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران پاک فوج کے پاک فوج کے افسران اور جوان شہید ہوئےجن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی‘ بریگیڈیئر محمد خالد‘ میجر سعید احمد‘ میجر محمد طلحٰہ منان اور نائیک مدثر شامل تھے۔وطن عزیز کی سالمیت، استحکام کی خاطر پاکستانی فوج کی قربانیوں کی ایک طویل فہرست ہے اور ان قربانیوں میں ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک تمام شریک ہیں۔ اس میں کسی رینک کا امتیاز نہیں بلکہ سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں اس دھرتی ماں کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ پاک فوج کا نصب العین ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک پاکستان کی نہ صرف جغرافیائی بلکہ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کر نا ہے۔اگرچہ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنا میڈیا کا کام ہے مگر بد قسمتی سے میڈیا کا کچھ حصہ مثبت کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہ بھی ذمہ داری کسی حد تک فوج کے کاندھوں پر آن پڑی ہےاور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) مثالی کام کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان دشمنی کے منفی پروپیگنڈے اوردشمن کے ایجنڈے کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار ناکام بنانے کیلئےکوشش کر رہے ہیں۔دشمن متحدمگر ہم منتشر کا قوم بنتے جا رہے ہیں۔ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے۔۔بہت ساری ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ فوج نے یہ ذمہ داری بھی ہنسی خوشی سنبھال لی ہے اور کسی حد تک وہ اس میں کامیاب جا رہی ہے اس سلسلے میں پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) قابل تعریف ہے۔ کوئی قوم بھی اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اپنے ملک اور نظریئے کی جان سے بڑھ کر حفاظت نہیں کرتی۔ قومیں جب تک اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں کوئی بھی جارح انہیں شکست سے دوچار نہیں کر سکتا۔ دْنیا کی ہر قوم پر کٹھن وقت آیا ہوگا لیکن زندہ قومیں اتحاد، یکجہتی اور بے مثال جذبے سے تاریخ میں لازوال نقوش قائم کرتی ہیں جنہیں صدیاں بھی ختم کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ وطن عزیز اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس دنیا کی بہادر، محنتی اور جفاکش فوج موجود ہے۔مشکل صورتحال اور جانوں کو خطرے کے باوجود مصیبت زدہ سیلاب متاثرین کی خدمت کے لئے پاک فوج نے تسلسل کے ساتھ امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا اورثابت کیا کہ وہ عوام اور مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنی جانیں بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گےامدادی کاموں سے متعلق میڈیا بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جوان ڈیوٹی کی بجائے مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود جوانوں نے لوگوں کو ریسکیو کیا، ملک بھر میں آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں، کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، پاک فضائیہ نے 1521 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، آرمی ایوی ایشن، نیوی کے ہیلی کاپٹرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر امدادی کاموں میں حصہ لیا، سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، 6 افسران شہید ہوئے۔پاک فضائیہ نے 1521 افراد کو ریسکیو کیا، پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کو کثیر تعداد میں خیمے اور ادویات فراہم کی گئیں، پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا، عوام کا اعتماد ہی پاک فوج کا اثاثہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیمیں ملک بھر میں متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں، ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس قائم ہیں، ان امدادی کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیاان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جہاں ضرورت ہے وہاں فوج موجود ہے، کمراٹ کالام میں پھنسے لوگوں سے رابطہ کرکے ریلیف کیمپ پہنچایا گیا، 1783 ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک بحریہ کی جانب سے 55 ہزار خوراک کے پیکٹس متاثرین میں تقسیم کیے جا چکےہیں، پاکستان ایئر فورس نے 23 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیپمس میں 10 ہزار افراد کو ریلیف دیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں، شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، پاک افواج غیر معمولی صورتحال میں ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ ہے، ہم اس ناگہانی آفت سے باہر نکل آئیں گے۔سیلاب اور بارشوں سے 1265 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب سے 14 لاکھ گھروں کو نقصان ہوا۔سیلاب سے 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا، نیشنل ایمرجنسی ڈکلیئر کی گئی اور پاک آرمی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ملک کو حالیہ تاریخ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے بڑے نقصان کا سامنا ہے، عام حالات سے 500 فیصد زائد بارشوں سے خوفناک سیلاب آیا۔پاکستان کے تباہ کن سیلاب نے دنیا بھر کے لیے موسمیاتی تبدیلی کی حقیقت پر خطرے کی گھنٹی ہے، ریکارڈ بارشیں صرف غریب ملکوں میں نہیں بلکہ کسی بھی ملک میں تباہی لا سکتی ہیں۔ اکستان جیسے ملک کا عالمی درجہ حرارت بڑھانے والی آلودہ گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے دو چار ملکوں میں پاکستان سرِ فہرست ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے محلِ وقوع کی وجہ سے اسے دو موسمیاتی سسٹمز کے اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک سسٹم شدید گرمی اور خشک سالی پیدا کرتا ہے، جیسا کہ اس سال مارچ میں آنے والی گرمی کی لہر میں دیکھا گیا۔ اور دوسرا سسٹم مون سون بارشیں لے کر آتا ہے سائنسدانوں نے آنے والے برسوں میں مون سون بارشوں میں مزید شدت کی پیشگوئی کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خاص طور پر تباہ کن ہوسکتا ہے کیونکہ قطبی علاقوں کے سوا، دنیا میں سب سے زیادہ گلیشیئر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ گرمی بڑھنے سے گلیشیئر زیادہ تیزی سے پگھلتے ہیں جیسا کہ اس سال دیکھنے میں آ رہا ہے۔ افواج پاکستان کا ہر سپاہی سیلاب متاثرین کی خدمت کر رہا ہے، افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔اس پر ہر ایک کو ضرور کہنا چاہیے۔ ویلڈن پاک آرمی…آپ ہمارا فخر ہیں۔”افواج پاکستان زندہ باد : پاکستان پائندہ باد”