یوم دفاع ;’سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں”ہم ایک ہیں”………کالم ”اندر کی بات”…:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………6 ستمبریوم دفاع تجدیدِ عہد اور تجدیدِ وفا کا دن ہے۔ اور اِس وفا کا پاس ان سے بہتر کون کر سکتا ہے جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ یوم دفاع پر قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے عناصر کی سازش کو ناکام بنانے کے عزم عہد کا ایک بہت اہم اقدام ہے کچھ ناعاقبت اندیش فتنہ پرست سیاستدان شیخ مجیب الرحمان کی طرزسیاست اپنا کرقوم میں انتشار اور نفرت کے بیچ بو رہے ہیں، تاریخ گواہے کہ شہداء کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان ” پاکستان” ہے ,قوم کو تقسیم در تقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے لیکن دشمن کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے کیونکہ.”سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں”ہم ایک ہیں”..اس وقت جب قوم سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ دن رات مصروف عمل ہے ایسے میں عمران خان کے بیان سے عوام میں شدید غم وغصہ پیدا ہو فطری عمل ہے جسے پاک فوج کے افسران و جوانوں نےمحسوس کیا اور اپنا خوب ردعمل دیاپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ پاک فوج میں عمران خان کے متنازع بیان پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے فیصل آباد میں پاک فوج سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جلسے میں فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان دیا گیا، فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہےانہوں نے کہا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت کو سیاست میں ملوث نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ فوج کے مفاد میں ہے، فوج آئین کی بالادستی کے عزم پر قائم ہے. شہداء کا خون ہم سب پر قرض ہےجو قومیں اپنے شہداء کو بھول جاتی ہیں، تاریخ اُنہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ ہم شہدائے وطن کے ورثاء کا احسان مند ہیں۔ جن کے پیاروں کی قربانیوں کی بدولت آج وطن پر چھائے اندھیرے چھٹ چکے اور ایک روشن مستقبل کی کرنیں نمودار ہو رہی ہیں۔ سیلاب سے ہماری قومی زندگی مشکلات کا شکارہیں۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1290 ہوگئی ہے۔ دفاعِ وطن ہمارا قومی امتیاز ہے۔ 1947سے لے کر آج تک، ہمارے جانبازوں نے وطن کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہا ہے۔سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں”ہم ایک ہیں” کےمصداق مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا، ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ملک کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قابل فخر اثاثہ ہیں, 6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، ہم کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مشکل صورتحال میں جانوں کو خطرے کے باوجود دن رات تسلسل کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، اورثابت کیا کہ پاک فوج عوام اور مادر وطن کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گی, سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، جس میں6 افسران شہید ہوئے۔ جن میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی‘ بریگیڈیئر محمد خالد‘ میجر سعید احمد‘ میجر محمد طلحٰہ منان اور نائیک مدثر شامل تھے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ڈیوٹی کو مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں.ہمارا ایمان ہے کہ جب تک ہمارے بزرگوں کا حوصلہ اور ہمارے جوانوں کی جرأت برقرار ہے، پاکستان کو کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے ۔اس جذبے کا تعلق قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔اس مقصد کے لیے میڈیا کا مثبت کردار بھی انتہائی اہم ہے۔اگرچہ نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنا میڈیا کا کام ہے مگر بد قسمتی سے میڈیا کا کچھ حصہ مثبت کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہ بھی ذمہ داری کسی حد تک فوج کے کاندھوں پر آن پڑی ہےقومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہےانشاء اللہ ہم ہمیشہ متحد رہیں گے۔ ہمارا دشمن یہ جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن پاکستان کا دفاع کریں گے۔ آج ملک میں امن ہماری پاک فوج کی وجہ سے ہے۔پاک فوج نے آپریشن شیردِل سے لے کر راہِ راست، راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردالفساد تک پاکستان کے دفاع کی قیمت اپنے لہو سے ادا کی ہے۔پاک فوج ہرمشکل وقت میںقوم کے ساتھ رہی ہے۔ پاک فوج کی خدمات کو دیکھا جائے تو وہ ہر مشکل گھڑی میں خواہ وہ زلزلہ ہو یا سیلاب،زمانہ امن ہو یا جنگ، پاک فوج ہر حال میں ملک و قوم کے لیے برسر پیکار ہے اورہمیشہ اپنی عوام کے ساتھ کھڑی نظر آئی تازہ مثال ہے , پاک فوج کا ہیلی کاپٹر حادثہ ہے۔ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ہم وطنوں کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے شہداء کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کر تی ہےمیں خود ایک شہید مظہرعلی مبارک کا بھائی ہوں جو سال 2013 میں دھشتگردانہ ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوئے تھےھم شہداء نہ بھولےنہ بھولیں گےشہداء کا خون آج بھی کہہ رہا ہے ملک کے لئے جانیں دینے والے شہداء قابل فخر ہیں۔پاکستان آرمی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اور سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کیلئے جی ایچ کیو میں ہونے والی یوم دفاع کی مرکزی تقریب مؤخر کر دی ہے پھربھی اپنے طور پر 6 ستمبر پر خصوصی دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا جائےگا,جذبہ 6 ستمبر ہی پاکستانیو کیلئے ٹانک سے کم نہیں۔شہدا کی فیملیز کو اس دن کا بے صبری سے انتظار ہوتاہےشہداء کا خون آج بھی کہہ رہا ہے ملک کے لئے جانیں دینے والے شہداء قابل فخر ہیں۔ ہم آج پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، اس عزم کی تجدید جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا۔57 سال قبل مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا، ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ 6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ، ہم کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ قوم اور مسلح افواج نے ثابت کیا کہ حجم اہمیت نہیں رکھتا۔ جذبہ، ولولہ اور جرأت و بہادری ہوتی ہے جو سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔افواج پاکستان سیلاب متاثرین کی مشکل صورتحال میں جانوں کو خطرے کے باوجود دن رات تسلسل کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے، اورثابت کیا کہ پاک فوج عوام اور مادر وطن کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گی, ویلڈن پاک آرمی…آپ ہمارا فخر ہیں۔ دفاع وطن کے لئے پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں اِسی لئے یہ دن پاک وطن کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے دی گئی قربانیوں کو یاد رکھنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ یوم شہداء پہلی بار تیس اپریل 2010 ء کو منایا گیا اور اس کا اعزاز سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جاتا ہے ۔جنہوں نے اِس بات کو محسوس کیا کہ ہماری آزادی شہداء کے خون کی مرہون منت ہے اور یہی شہداء ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ اِسی لئے پاکستان میں یہ دن اْن شہداء سے منسوب ہے جنہوں نے ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔2010 ء سے لے کر آج تک ،ہر سال یہ دن جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہےوطن عزیز اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس دنیا کی بہادر، محنتی اور جفاکش فوج موجود ہے۔مشکل صورتحال اور جانوں کو خطرے کے باوجود مصیبت زدہ سیلاب متاثرین کی خدمت کے لئے پاک فوج نے تسلسل کے ساتھ امدادی کارروائیوں کو جاری رکھا اورثابت کیا کہ وہ عوام اور مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنی جانیں بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گےامدادی کاموں سے متعلق میڈیا بریفنگ میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جوان ڈیوٹی کی بجائے مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں۔ آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے خراب موسم اور دیگر چیلنجز کے باوجود جوانوں نے لوگوں کو ریسکیو کیا، ملک بھر میں آرمی کے 147 ریلیف کیمپ قائم ہیں، کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریلیف دیا گیا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں 284 فلڈ ریلیف کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، پاک فضائیہ نے 1521 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، آرمی ایوی ایشن، نیوی کے ہیلی کاپٹرز ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر امدادی کاموں میں حصہ لیا، سیلاب متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، 6 افسران شہید ہوئے۔پاک فضائیہ نے 1521 افراد کو ریسکیو کیا، پاک فوج کی جانب سے سیلاب متاثرین کو کثیر تعداد میں خیمے اور ادویات فراہم کی گئیں، پاکستان نیوی نے 10 ہزار سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا، عوام کا اعتماد ہی پاک فوج کا اثاثہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیمیں ملک بھر میں متاثرین کی امداد میں مصروف ہیں، ملک بھر میں 147 ریلیف کیمپس قائم ہیں، ان امدادی کیمپس میں 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیاان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں جہاں ضرورت ہے وہاں فوج موجود ہے، کمراٹ کالام میں پھنسے لوگوں سے رابطہ کرکے ریلیف کیمپ پہنچایا گیا، 1783 ٹن راشن متاثرین میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک بحریہ کی جانب سے 55 ہزار خوراک کے پیکٹس متاثرین میں تقسیم کیے جا چکےہیں، پاکستان ایئر فورس نے 23 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ہے، پاک نیوی کے 19 میڈیکل کیپمس میں 10 ہزار افراد کو ریلیف دیا جاچکا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان ہمارا اثاثہ ہیں، شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، پاک افواج غیر معمولی صورتحال میں ہمیشہ عوام کے شانہ بشانہ ہے، ہم اس ناگہانی آفت سے باہر نکل آئیں گے۔سیلاب اور بارشوں سے1290 افراد جاں بحق ہوئے،سیلاب سے 14 لاکھ گھروں کو نقصان ہوا۔سیلاب سے 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا، یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں بطور ایک قومی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج کی دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہےاس دن شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا،‘ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ آج پھر اسی جذبہ کی ضرورت ہے اگلے روز پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں وہیل چیئر پر بیٹھے دونوں ٹانگوں سے محروم سپیشل پرسن وقاراحمد نے کہا کہ یوم دفاع کی تقریب کومنعقد کرکے اسے سیلاب متاثرین سے منسوب کردینا چاہیے تھا تاکہ قوم جذبہ 6 ستمبر سے لبریز ہوکرسیلاب زدگان کی امداد کیلئے امڈ آتی جس ضرورت ھے پہلے سیاستدان قوم کو ٹکڑوں میں کرنے کے درپے ہے اس بات سے انکارممکن نہیں عمران خان مسلسل فوج مخالف بیانات دے کر ہیجانی کیفیت برپاکئے ہوئے ہیں۔ انتشار اور نفرت کے بیچ بوئے جا رہے ہیں، قوم کو تقسیم در تقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، وطن عزیز کے 75 ویں یوم آزادی پرآج یوم دفاع ہے ہم آج پاکستان کے دفاع، سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، اس عزم کی تجدید جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا۔57 سال قبل مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا، ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ 6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ،۔….












