.. یوم آزادی ; حوالدار لالک جان شہید، نشانِ حیدر کے مزار پر ایف سی این اے کے کمانڈر میجر جنرل جواد احمد نے پھولوں کی چادر چڑھائی ……….

رپورٹ؛ اصغر علی مبارک

…………قوم آج 75ویں یوم آزادی منا رہی ہے۔اس موقع پر حوالدار لالک جان شہید، نشانِ حیدر وطن کے بہادر بیٹے کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے آبائی قصبہ غذر (جی بی) میں شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، وادی غذر آج بھی لالک جان کی جرات اور بہادری کے قصوں سے گونج رہی ہے، ایسی بہادری جس کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔وادی غزر جِسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی۔ حوالدار لالک شہید 12 این ایل آئی کے ایک بے باک نڈر اور بہادر سپاہی کے طور پر اُبھرکر سامنے آئےمئی 1999ء میں جب یہ معلوم ہوا کہ دُشمن بڑے زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے تو حوالدار لالک جان نے اگلے مورچوں پر لڑائی لڑنے کے لیے خود کو پیش کیا۔ جون 1999ء کے آخری ہفتے میں دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا لیکن حوالدار لالک جان اینڈ کمپنی نے جرأت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور دُشمن کو بھاری جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔7 جولائی کی رات کو دُشمن نے ایک بار پھر سے لالک جان کی پوسٹ پر تینوں اطراف سے حملہ کیا جس میں سے وہ شدید زخمی ہو گئے لیکن زخمی حالت میں بارُود دُشمن کے بنکر میں پھینکا اور ایمونیشن سمیت بنکر اُڑ کر درجنوں فوجی ہلاک کر دئیے۔ بالآخر دشمن کے فائر کی زد میں آکر لالک جان نے اپنی جان، جانِ آفرین کے سپرد کی اور جام شہادت نو ش کر کے اَمر ہو گئے۔ ان کی بے مثال جرات اور لازوال قربانی کے اعتراف میں انہیں نشانِ حید ر کا اعزاز عطا کیا گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔ یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی ۔ حوالدار لالک جان شہید نے 1999 میں کارگل جنگ کے دوران مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کو گلے لگایاایف سی این اے کے کمانڈر میجر جنرل جواد احمد نے حوالدار لالک جان شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سول و عسکری حکام اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔.. لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ناردن لائٹ انفنٹری میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اور معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو اس کی چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر  گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجائوں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ انھوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر انہوں نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔
 مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھا۔ اس موقع پر انھوں نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔ دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن زیرک لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔ آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔ حوالدارلالک جان نے جس بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مورچے کا آخری وقت تک بھر پور دفاع اور دشمن کے پے درپے حملوں کو پسپا کیا، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ زخمی حالت میں بھی لالک جان دشمن سے نبردآزما رہے اور آخری وقت تک ملک کا دفاع کیا۔ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔کارگل کے ہیرو شہید لالک جان نشان حیدر کے یوم شہادت پرہر سال عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے مزار پر حاضری دے کر شہید کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ گلگت بلتستان کا ضلع غذر جس کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ 65یا71کی جنگیں ہوں یا کارگل معر کہ یہاں کے بہادر سپوتوں نے ہر میدان میں اپنی بہادری کی لازوال دستانیں رقم کیں ـ کارگل جنگ میں غذر کے ایک سو سے زائد جوانوں نے ملک کی گلشن کی آبیاری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور چالیس کے قریب جوانوں کو عسکری اعزات سے نوازا گیا۔  غذر کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے یہاں کے ہر گائوں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرہا ہے