یومِ سیاہ کشمیر -مسئلہ کشمیر تقسیمِ ہند کا ایک نامکمل ایجنڈا
(اصغر علی مبارک)
کشمیر کو ہمیشہ تقسیمِ ہند کے ایک ”نامکمل ایجنڈے“ اور ”شہ رگ“ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، مسئلہ کشمیر تقسیمِ ہند کا ایک نامکمل ایجنڈاہے دنیا بھر میں ‘یومِ سیاہ ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے،یومِ سیاہ 1947 کے اس دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں اور ایک ایسا قبضہ قائم کیا جسے پاکستان اور دنیا بھر کے کشمیری غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے، کشمیر 1947 کی تقسیمِ ہند کا ایک “نامکمل ایجنڈا” ہے۔ اس موقف کا مطلب یہ ہے کہ تقسیم کے اصول کے تحت، مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے ناطے کشمیر کو قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ بننا چاہیے تھا، لیکن ہندو مہاراجہ کی جانب سے دستخط کردہ متنازع ‘الحاق کی دستاویز’ نے اس عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 47 (1948) پر مبنی ہے، جس میں ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ مشترکہ مذہبی اور ثقافتی شناخت کے علاوہ، کشمیر کو اکثر پاکستان کی “شہ رگ” قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں اہم اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی ضروری دریائی نظام موجود ہیں، جو براہِ راست ملک کے زرعی نیٹ ورک اور توانائی کی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی زیرِ نگرانی دنیا بھر میں منائے جانے والے اس دن کے موقع پر، ‘بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر’ (IIOJK) میں انسانی حقوق کی صورتحال پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اس میں 2019 میں خطے کی خود مختاری ختم کیے جانے کے بعد سے جاری فوجی کریک ڈاؤن، سیاسی گرفتاریوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ ہر سال، دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز سیمینارز، تصویری نمائشوں اور عوامی ریلیوں کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ اس تنازعے پر عالمی توجہ برقرار رہے اور حقِ خود ارادیت کی حمایت کی جا سکے۔
اکتوبر 1947 برِصغیر کی تاریخ کا وہ انتہائی اہم اور ہنگامہ خیز مہینہ تھا جس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان خطے کے سب سے بڑے تنازع، یعنی مسئلہ کشمیر کی بنیاد رکھی۔ اگست 1947 کی تقسیم کے بعد رونما ہونے والے اہم تاریخی واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ پونچھ بغاوت اور جموں کے مظالم (اکتوبر کا اوائل)
تقسیم کے فوراً بعد، ریاست جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پونچھ میں مہاراجہ ہری سنگھ کے جابرانہ ٹیکسوں اور ڈوگرہ راج کے خلاف عوامی بغاوت شدت اختیار کر گئی۔ اس دوران جموں کے علاقوں میں ڈوگرہ فورسز کی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر مسلم آبادی کا قتل عام اور جبری انخلا (Mass Eviction) شروع ہوا، جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
2۔ قبائلی لشکر کی آمد (22 اکتوبر 1947)
جموں کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے ردعمل میں اور کشمیریوں کی مدد کے لیے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (اس وقت کے نارتھ ویسٹ فرنٹیر پروونس) سے تعلق رکھنے والے پشتون قبائل کا ایک لشکر کشمیر میں داخل ہوا۔ 22 اکتوبر کو اس لشکر نے مظفر آباد اور ڈومیل پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے مہاراجہ کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا اور تیزی سے دارالحکومت سرینگر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔
3۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت کا قیام (24 اکتوبر 1947)
قبائلی لشکر اور مقامی مجاہدین کی کامیابیوں کے بعد، 24 اکتوبر 1947 کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرائے گئے علاقوں میں ایک عبوری انقلابی حکومت کا اعلان کیا گیا، جسے “آزاد جموں و کشمیر” کا نام دیا گیا اور سردار محمد ابراہیم خان اس کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔
4۔ متنازع الحاقِ ہند (26 اکتوبر 1947)
جب قبائلی لشکر سرینگر کے مضافات تک پہنچ گیا تو خوفزدہ مہاراجہ ہری سنگھ سرینگر سے جموں فرار ہو گیا۔ اس نے بھارت سے فوجی امداد طلب کی۔ بھارت نے شرط رکھی کہ فوجی امداد صرف اسی صورت دی جائے گی جب مہاراجہ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرے گا۔ چناچہ 26 اکتوبر کو مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ ایک متنازع اور عبوری (معاہدہ الحاق) پر دستخط کیے، جسے پاکستان اور کشمیری عوام نے ہمیشہ غیر قانونی اور عوامی امنگوں کے برعکس قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
5۔ ہندوستانی افواج کا سرینگر میں اترنا — یومِ سیاہ (27 اکتوبر 1947)
الحاق کا بہانہ بناتے ہوئے، 27 اکتوبر 1947 کی صبح بھارتی فوج کی باقاعدہ ٹکڑیاں فضائی راستے سے سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتریں اور کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما لیا۔ کشمیری عوام اور پاکستان اس دن کو ہر سال “بلیک ڈے” (یومِ سیاہ) کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ اسی دن سے اس دیرینہ تنازعے کا آغاز ہوا۔
6۔ پہلی پاک-بھارت جنگ کا آغاز
بھارتی افواج کی آمد کے ساتھ ہی خطے میں پہلی پاک-بھارت جنگ باقاعدہ طور پر چھڑ گئی۔ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قائم مقام برطانوی سپہ سالار جنرل ڈگلس گریسی کو کشمیر میں فوج بھیجنے کا حکم دیا، لیکن برطانوی کمانڈرز کے ‘اسٹینڈ ڈاؤن’ آرڈر کی وجہ سے اس وقت باقاعدہ فوج کو کچھ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم جنگ جاری رہی جو بالآخر 1949 میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت اور جنگ بندی لائن (موجودہ لائن آف کنٹرول) کے تعین پر ختم ہوئی 27 اکتوبر 1947 کو جب بھارتی افواج سرینگر میں اتریں، تو بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اس وقت لاہور میں موجود تھے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے آرمی کے قائم مقام برطانوی کمانڈر ان چیف جنرل ڈگلس گریسی کو فوری حکم دیا کہ وہ پاکستانی افواج کو راولپنڈی اور سیالکوٹ کے راستے کشمیر (سرینگر اور جموں) کی طرف پیش قدمی کا حکم دیں۔
جنرل گریسی نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ الحاق کر لیا ہے، اس لیے کشمیر اب بھارت کا حصہ ہے اور وہاں فوج بھیجنے کا مطلب بھارت کے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ ہوگا، جس کے لیے انہیں سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کلاڈ آچنلیک کی اجازت درکار ہے۔ فیلڈ مارشل آچنلیک نے اگلی ہی صبح لاہور پہنچ کر قائد اعظم کو واضح کیا کہ اگر پاکستانی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تو پاکستان آرمی میں خدمات سرانجام دینے والے تمام برطانوی افسران فوری طور پر مستعفی ہو جائیں گے۔ اس نازک موڑ پر، جب پاکستانی فوج ابھی تشکیلی مراحل میں تھی، اس عسکری بلیک میلنگ نے پاکستان کو شدید دفاعی دباؤ میں ڈال دیا۔جب مہاراجہ ہری سنگھ نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے، تو بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 27 اکتوبر 1947 کو اس معاہدے کو منظور کرتے ہوئے مہاراجہ کو ایک باقاعدہ خط لکھا۔ اس خط میں ایک ایسی قانونی شرط شامل تھی جو آج بھی کشمیر کے متنازع ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے:
“میری حکومت کا یہ اصول رہا ہے کہ جن ریاستوں کے الحاق کا معاملہ متنازع ہو، وہاں کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ چنانچہ، جیسے ہی کشمیر میں امن و امان بحال ہو جائے اور اس کی سرزمین حملہ آوروں سے پاک ہو جائے،
بھارت نے اس خط کے ذریعے الحاق کو عارضی اور عوامی رائے سے مشروط مانا، لیکن بعد میں وہ اپنے اس بین الاقوامی وعدے سے مکر گیا۔ اکتوبر 1947 کے آخری ہفتے میں جہاں کشمیر کا ایک بڑا حصہ جنگ کی لپیٹ میں تھا، وہیں شمالی علاقہ جات میں ایک منفرد اور کامیاب ترین بغاوت جنم لے رہی تھی۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے برطانوی لیز ختم ہونے کے بعد جولائی 1947 میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گورنر بنا کر بھیجا تھا۔
- میجر ولیم براؤن کا کردار: گلگت اسکاؤٹس کے نوجوان برطانوی کمانڈر میجر ولیم براؤن اور ان کے سیکنڈ ان کمانڈ کیپٹن بابر خان نے مقامی مسلم افسران کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا۔ کیونکہ وہاں کی 99 فیصد آبادی پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتی تھی۔ 31 اکتوبر کی رات گلگت اسکاؤٹس نے گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کیا اور یکم نومبر 1947 کو بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے آزادی کا پرچم بلند کر دیا گیا۔ انہوں نے فوری طور پر پاکستان کی حکومت کو تار بھیجا کہ وہ اس علاقے کا انتظام سنبھالے، جس کے بعد 16 نومبر کو پاکستان نے وہاں کا کنٹرول سنبھالا۔اکتوبر 1947 میں شروع ہونے والی پاک-بھارت جنگ کے بعد، مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ (UN) میں جانا اس تنازع کا سب سے بڑا سفارتی موڑ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیس کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان نہیں، بلکہ بھارت خود لے کر گیا تھا۔ جب کشمیر میں جنگ شدت اختیار کر گئی اور بھارتی افواج مقامی مجاہدین کو مکمل طور پر پیچھے دھکیلنے میں ناکام رہیں، تو یکم جنوری 1948 کو بھارت نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 35 کے تحت سلامتی کونسل (UNSC) میں شکایت درج کرائی۔ بھارت نے الزام لگایا کہ پاکستان قبائلی حملہ آوروں کو عسکری اور لاجسٹک مدد فراہم کر رہا ہے بھارت نے مطالبہ کیا کہ یو این پاکستان کو اس امداد سے روکے۔ پاکستان نے اس کے جواب میں جموں کے مسلمانوں کے قتل عام، مہاراجہ کے جابرانہ اقدامات اور الحاقِ ہند کے غیر قانونی اور متنازع ہونے کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ الحاق کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف ہوا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے اس معاملے کو صرف ایک ملک کی شکایت کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے “مسئلہ بھارت و پاکستان” (India-Pakistan Question) کا نام دیا۔ 20 جنوری 1948 کو سلامتی کونسل نے قرارداد 39 پاس کی، جس کے تحت UNCIP (یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان) قائم کیا گیا تاکہ وہ خطے کا دورہ کر کے حقائق کا جائزہ لے۔ کشمیر کے معاملے پر اقوامِ متحدہ کی سب سے بنیادی اور تاریخی دستاویز قرارداد نمبر 47 ہے، جو 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی۔ اس قرارداد میں کشمیر کے حل کے لیے ایک تین نکاتی فارمولا تجویز کیا گیا:
پاکستان اپنے شہریوں اور قبائلیوں کو کشمیر سے نکالے گا۔ اس کے بعد بھارت بھی امن برقرار رکھنے کے لیے اپنی افواج کو کم سے کم ترین سطح پر لے آئے گا۔ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کسی فوجی طاقت سے نہیں، بلکہ ایک آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے (ووٹنگ) کے ذریعے ہوگا تاکہ کشمیری عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ یو این کی طرف سے ایک غیر جانبدار ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے گا جو اس رائے شماری کی نگرانی کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان یکم جنوری 1949 کو باقاعدہ جنگ بندی (Ceasefire) عمل میں آئی۔ جولائی 1949 میں ‘کراچی معاہدے’ کے تحت دونوں افواج کی پوزیشنز کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جنگ بندی لائن (Ceasefire Line) کا تعین کیا گیا، جسے 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد لائن آف کنٹرول (LoC) کا نام دیا گیا۔ اقوامِ متحدہ نے اس لائن کی نگرانی کے لیے اپنے فوجی مبصرین (UNMOGIP) بھی تعینات کیے جو آج بھی وہاں موجود ہیں۔ قرارداد نمبر 47 پر عملدرآمد نہ ہونے کی بنیادی وجہ ترتیب وار انخلا پر دونوں ممالک کا متفق نہ ہونا تھا۔
• پاکستان کا مؤقف تھا کہ وہ اپنی فوجیں تب ہی نکالے گا جب بھارت بھی اپنی افواج نکالنے کا متوازی شیڈول دے، تاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کسی دباؤ کے بغیر ووٹ دے سکیں۔ - بھارت نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا وعدہ کرنے کے باوجود، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رائے شماری کی تمام عالمی کوششوں کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا “اٹوٹ انگ” کہنا شروع کر دیا۔ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ پہلے پاکستان اپنی فوجیں کشمیر نکالے گا۔ پاکستان نے یہ مطالبہ منظور کیا تھا لیکن 14 مارچ 1950ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد پاس کی تھی کہ اب دونوں ملک بیک وقت فوجوں کا انخلاء شروع کریں گے۔ 13 اگست 1948ء کی قرارداد میں کہا گیا کہ جب پاکستان اپنی فوج اور قبائلیوں کو نکال لے گا تو یہاں کا انتظام مقامی انتظامیہ سنبھالیں گی اور کمیشن ان کی نگرانی کرے گا۔اس قرارداد میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ بھارت کو یہاں ساری فوج رکھنے کی اجازت ہو گی ۔ بلکہ قرار پایا کہ اس کے بعد بھارت بھی اپنی فوج کا بڑا حصہ “Bulk of its forces” یہاں سے نکال لے گا اور اسے صرف اتنے فوجی رکھنے کی اجازت ہو گی جو امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی مدد کے لیے ضروری ہوں۔جب اقوام متحدہ کے کمیشن نے دونوں ممالک سے قرارداد پر عملدرآمد کے لیے پلان مانگا تو بھارت نے دو مزید مطالبات کر دیے۔ ایک یہ کہ اسے سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمال اور شمال مغرب کے علاقوں پر کنٹرول دیا جائے اور دوسرا یہ کہ آزاد کشمیر میں پہلے سے قائم اداروں کو نہ صرف مکمل غیر مسلح کر دیا جائے بلکہ ان اداروں کو ہی ختم کر دیا جائے، اس بات کا اعتراف جوزف کاربل نے اپنی کتاب ’ ڈینجر ان کشمیر ‘ کے صفحہ 157 پر کیا ہے۔جوزف کاربل کا تعلق چیکو سلواکیہ سے تھا اور یہ اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئر مین تھے اور کمیشن میں ان کی شمولیت بھارتی نمائندے کے طور پر ہوئی تھی ۔ جوزف کاربل نے اعتراف کیا کہ بھارتی موقف اقوام متحدہ کی قرارداد سے تجاوز کر رہا تھا ۔ پاکستان نے آزاد کشمیر سے فوج نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کے مطابق بھارت جو ضروری فوج کشمیر میں رکھے گا اس کی تعداد اورتعیناتی کا مقام اقوام متحدہ کمیشن کو پیش کیا جائے۔ بھارت نے اس سے بھی انکار کر دیا۔اس پر کمیشن نے امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کی تجویز پر کہا کہ دونوں ممالک اپنا موقف پیش کر دیں جو ایک آربٹریٹر کے سامنے رکھا جائے اور وہ فیصلہ کر دے ۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی لیکن بھارت نے اسے بھی رد کر دیا ۔ بھارت کے اپنے نمائندے نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد پر بھارت کی وجہ سے عمل نہ ہو سکا۔ ان کے الفاظ تھے :
“a lack of goodwill on part of India” معاملے کے حل کے لیے سلامتی کونسل نے سلامتی کونسل ہی کے صدر مک ناٹن پر مشتمل ایک یک رکنی کمیشن بنایا ۔ اس کمیشن نے کہا کہ اب دونوں ممالک بیک وقت اپنی فوجیں نکالتے جائیں گے تا کہ کسی کو کوئی خطرہ نہ رہے۔ پاکستان نے یہ تجویز بھی قبول کر لی ۔ بھارت نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا۔ یہاں دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تجویز کو سلامتی کونسل نے 14 مارچ 1950ء کو ایک قرارداد کی شکل میں منظور کر لیا ۔ گویا اب اقوام متحدہ کی قرارداد یہ کہہ رہی ہے کہ دونوں ممالک بیک وقت فوجیں نکالنا شروع کریں گے۔ اقوام متحدہ اوون ڈکسن کو جو آسٹریلیا کے چیف جسٹس رہے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ۔ انھوں نے فوج کے انخلاء کی بہت سی تجاویز دیں ۔ پاکستان نے سب مان لیں ، بھارتی وزیر اعظم نے ایک بھی نہ مانی ۔ 1951ء میں بھارت نے کہا ہمیں خطرہ ہے اس لیے ہم فوج نہیں نکالیں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم گورڈن منزیزنے مشترکہ فوج کی تجویز دی بھارت نے رد کر دی ۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں مقامی فورس بنانے کی بات کی بھارت نے اسے بھی رد کر دیا ۔ انھوں نے کہا ہم کامن ویلتھ کی فوج بھیج دیتے ہیں، بھارت نے یہ تجویز بھی رد کر دی ۔ معاملہ ایک بار سلامتی کونسل چلا گیا۔ 30 مارچ 1951ء کو سلامتی کونسل نے امریکی سینیٹر فرینک پی گراہم کو نیا نمائندہ مقرر کر کے کہا کہ تین ماہ میں فوج کشمیر سے نکالی جائے اور پاکستان اور بھارت اس پر متفق نہ ہو سکیں تو عالمی عدالت انصاف سے فیصلہ کرا لیا جائے۔ فرینک نے چھ تجاویز دیں بھارت نے تمام تجاویز رد کر دیں ۔ خانہ پری کے لیے بھارت نے کہا وہ تو مقبوضہ کشمیر میں اکیس ہزار فوجی رکھے گا جب کہ پاکستان آزاد کشمیر سے اپنی فوج نکال لے ، وہاں صرف چار ہزار مقامی اہلکار ہوں ، ان میں سے بھی دو ہزار عام لوگ ہوں ، ان کا آزاد کشمیر حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ ان میں سے بھی آدھے غیر مسلح ہوں ۔ گراہم نے اس میں کچھ ردو بدل کیا، پاکستان نے کہا یہ ہے تو غلط لیکن ہم اس پر بھی راضی ہیں ، بعد میں بھارت اس سے بھی مکر گیا ۔ سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بار پھر تجویز دی کہ ’’ آربٹریشن ‘‘ کروا لیتے ہیں تا کہ معلوم ہو انخلاء کے معاملے میں کون سا ملک تعاون نہیں کر رہا ۔ پاکستان اس پر بھی راضی ہو گیا ، بھارت نے یہ تجویز بھی ردکر دی ۔ 1949 میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے ریفرنڈم کی تیاری کے لیے کینیڈا سے جنرل میک ناٹن کو ثالثی کے لیے مقرر کیا۔ انھوں نے جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف سے بیک وقت فوجیوں کے بتدریج انخلاء کی تجویز پیش کی۔ پاکستان نے ان کی تجویز کو چند معمولی ترامیم کے ساتھ قبول کر لیا جبکہ بھارت نے اس میں بہت سی ترامیم کی تجویز دے کر مؤثر طریقے سے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ اسی سال اقوام متحدہ نے آسٹریلوی قانون دان سر 1950 کی دہائی میں ہندوستان میں امریکی سفیر لوئے ہینڈرسن نے مشاہدہ کیا کہ اگر وادی کشمیر کے لوگوں کو تین آپشن دیے جائیں تو وہ خود مختار ریاست کا انتخاب کریں گے۔ لوئے ہینڈرسن نے مزید کہا کہ اگر کشمیر کے لوگوں کا آپشن رائے شماری میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تک محدود رہا تو کشمیری مسلمانوں کی اکثریت پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گی رائے شماری کا آخری موقع 1953 میں آیا جب نہرو نے پاکستانی وزیر اعظم محمد علی بوگرہ سے ملاقات کے دوران زبانی طور پر رائے شماری پر رضامندی ظاہر کی۔ لیکن مئی 1954 میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان اور امریکا نے ایک معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق پاکستانی فوج کو امریکا سے امداد ملے گی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے نہرو نے کہا کہ اب کوئی رائے شماری نہیں ہوگی۔ امریکی سفیر ہاورڈ شیفر لکھتے ہیں کہ امریکی صدر آئزن ہاور نے بھارت کو بھی فوجی امداد کی پیشکش کی تھی لیکن بھارت نہیں مانا تھا۔مذاکرات کی تاریخ دکھاتی ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان قصور نہیں ہے کہ تنازع کشمیر جاری ہے۔ وجہ بھارتی ہٹ دھرمی ہے۔ 1964میں بھارتی وزیر دفاع (اور سابق سفارت کار) کرشنا مینن نے امریکی مصنف آرتھر برنن ٹورٹیلٹ سے اعتراف کیا کہ بھارت رائے شماری کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ کشمیر کے لوگ پاکستان میں شامل ہونے کے لیے ووٹ دیں گےجب بات ان کی خارجہ پالیسی کی ہو تو ہندوستانی رہنماؤں کی ذہنیت کو سمجھنا مشکل نہیں ۔ وہ عام ہندو ذہنیت رکھتے ہیں۔ نہرو نے ایک ہندو فلاسفر کے بارے میں تعریف لکھی ہے جسے “کوٹلیہ” یا “چانکیہ” کہا جاتا ہے۔ نہرو نے اپنی کتاب “دی ڈسکوری آف انڈیا” میں کوٹلیہ کو ایک “عظیم اسکالر” کہا تھا۔ کوٹلیہ نے جھوٹ بولنے کی اور دھوکے دینے کی اور چالاکیا کرنے کی حمایت کی تھیں۔ چالاکی اور فریب کاری ہندوؤں کی فطرت کا حصہ ہے۔اوون ڈکسن کو بھی تنازع میں ثالثی کے لیے مقرر کیا۔





