.کینگروز سےشرمناک شکست

؛راولپنڈی میں آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ” پاکستانی ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر” ۔۔۔
خصوصی رپورٹ :(اصغر علی مبارک سے ) وارنر کی شاندار ٹرپل سنچری کے بعد مچل اسٹارک اور نیتھن لائن کی بہترین باؤلنگ کی بدولت ٹیم سپرٹ سے عاری پاکستان کو سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر 0-2 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ھوم گراونڈ پر اور ھوم کراؤڈ کے سامنے بے بی سری لنکا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا پہلا ٹیسٹ میچ 11دسمبر سے ا5 دسمبر 2019 کو راولپنڈی میں ھوگا جس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں پولیس ۔ فوج۔ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تو مکمل تیاریاں کررکھی ہیں مگر گراونڈ کے اندر قومی ٹیم کی تیاریاں کیسی ھونگی یہ سوال شائقین کرکٹ کے ذہنوں گردش کررہا ہے کیونکہ سری لنکا سے ھوم سیریز میں ناکامی کا سفر آسٹریلیا میں بھی برقرار رھا اور بدترین شکست کے بعد فتح کی امید یں کم ھیں آسٹریلیا نے پاکستان کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں اننگز اور 48رنز سے شکست دے کر گرین شرٹس کے خلاف اپنی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں لگاتار پانچواں کلین سوئپ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بدترین ریکارڈ پاکستانی ٹیم کے نام کردیا۔پاکستانی ٹیم کو ایڈیلیڈ میں بھی آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا جہاں فتح تو دور پاکستانی ٹیم آسٹریلین سرزمین پر گزشتہ 24 سال میں کوئی ٹیسٹ میچ ڈرا بھی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔پاکستان نے آخری مرتبہ 1995 میں سڈنی کے مقام پر کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں 74رنز سے کامایبی حاصل کر کے میزبان ٹیم کے خلاف فتح سمیٹی تھی لیکن اس کے بعد سے آسٹریلین سرزمین پر فتح کا حصول دیوانے کا خواب بن کر رہ گیا ہے۔1999 میں وسیم اکرم کی قیادت میں جانے والی ٹیم کو 0-3 سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا حالانکہ ہوبارٹ ٹیسٹ میں قومی ٹیم فتح کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی لیکن پھر جسٹن لینگر اور ایڈم گلکرسٹ نے شاندار کارکردگی دکھا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرا دیا۔انضمام الحق کی قیادت میں 2005-2004 میں آسٹریلین سرزمین پر قومی ٹیم کو تمام میچوں میں یکطرفہ مقابلوں کے بعد تینوں ٹیسٹ میچوں میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔2010-2009 میں محمد یوسف کی قیادت میں بھی پاکستان کو سڈنی ٹیسٹ میں فتح کا نادر موقع میسر آیا لیکن شکوک و شبہات سے بھرپور خراب فیلڈنگ خصوصاً وکٹ کیپر کامران اکمل کی ناقص کارکردگی کے سبب پاکستان نے ناصرف یہ میچ جیتنے کا موقع گنوایا بلکہ 0-3 سے ایک اور وائٹ واش ان کا مقدر ٹھہرا۔پھر پاکستان کی ٹیسٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان مصباح الحق کی قیادت میں ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو امید تھی کہ شاید اس بار تقدیر بدل جائے لیکن میزبان ٹیم نے یہاں بھی پیشہ ورانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پاکستان کو تینوں میچوں میں شکست دے کر اپنا شاندار ریکارڈ برقرار رکھا.مسلسل شکستوں کا جمود توڑنے کے لیے پرعزم ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم اظہر علی کی قیادت میں آسٹریلین سرزمین پر اتری تو کسی کو بھی اس ٹیم سے معجزاتی کارکردگی کی توقع نہ تھی لیکن شائقین کرکٹ اس حد تک ابتر کارکردگی کی بھی توقع نہیں کررہے تھے۔سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم مینجمنٹ نے محمد عباس کو باہر بٹھانے کا حیران کن فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں باؤلنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی اور پاکستان کو میچ میں اننگز اور 5رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔البتہ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میں عباس کی فائنل الیون میں شمولیت بھی آسٹریلیا خصوصاً ڈیوڈ وارنر کو رنز کے ڈھیر لگانے سے نہ روک سکی اور آسٹریلین اوپنر نے ٹرپل سنچری بنا کر اپنی ٹیم کو 589رنز کا مجموعہ ترتیب دینے اہم کردار ادا کیا۔اکستان کی بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر دونوں اننگز میں ناکامی سے دوچار ہوئی اور آسٹریلیا نے میچ میں اننگز اور 48رنز سے باآسانی کامیابی حاصل کر کے ایک اور ٹیسٹ میچ چوتھے ہی دن ختم کردیا۔اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان کو آسٹریلیا میں لگاتار پانچویں کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے بڑھ کر ایک بدترین ریکارڈ قومی ٹیم کے نام ہو گیا۔ایڈیلیڈ میں شکست پاکستان کی آسٹریلین سرزمین پر لگاتار 14ویں ناکامی ہے جس کے ساتھ ہی پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ کا بدترین ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔پاکستان کی ٹیم ابتدائی چاروں سیریز میں 0-3 اور موجودہ سیریز میں 0-2 سے وائٹ واش کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح آسٹریلین سرزمین پر یہ پاکستان کی لگاتار 14ویں ٹیسٹ میچ میں شکست ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔اس سے قبل یہ بدترین ریکارڈ بنگلہ دیش کی ٹیم کے پاس تھا جسے اپنی ہی سرزمین پر لگاتار 13ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی تھی۔دس سال کے طویل عرصے بعد پاکستان میں کھیلےجانیوالے پاک سری لنکا ٹیسٹ میچ کی میزبانی انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کااھم قدم ھے۔ پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل ھوم گراونڈ پر اور ھوم کراؤڈ کے سامنے بے بی سری لنکا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کوچ وسلیکٹر مصباح الحق کی تبدیلی بھی راس نہیں آئی جب کہ سرفراز احمد کی جگہ بنانے جانے والے کپتان اظہر علی بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکےاظہر علی ون ڈے میچز سے پہلے ہی ریٹائرڈ منٹ کا اعلان کرچکے ہیں جبکہ ٹیسٹ میچوں میں بھی ان کی کارکردگی نہایت خراب ھے ۔چاھیےتو یہ تھاکہ بابر اعظم کو ٹی ٹونٹی کے ساتھ ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کے لیے بھی کپتان بنادیاجاتا تاکہ ٹیم ون یونٹ بن کر کھیل سکے مگر ایسا نہ کر ٹیم کو بکھیرکررکھ دیا گیا ہے سرفراز احمد کے بعد اب قیادت کی ذمہ داری بابر اعظم پر آچکی ہے جو مختصر طرز کی کرکٹ میں قومی ٹیم کے 8ویں کپتان ہیں ۔ لیکن عالمی رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پر موجود بابر اعظم کو قیادت کا معمولی تجربہ رکھنے کی وجہ سے مشکل بلکہ بہت زیادہ مشکل کا سامنا ہے۔ بابر کے سر پر سب سے بھاری بوجھ کپتانی کی ذمہ داری کا ہے۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو ایک شخص سے تدبیری صلاحیتوں اور میدان میں کھیلنے کی مطلوبہ مہارت کا تقاضا کرتا ہے قومی ٹیم میں ایک کپتان کی آمد اور دوسرے کی رخصتی، ہماری قوم کئی بار دیکھ چکی ہے۔ متعدد موقعوں پر اختتام کچھ زیادہ بھلا نہیں رہا، سرفراز احمد کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ ریکارڈ 11 سیریز میں مسلسل فتح بلاشبہ سرفراز کی بطور ٹی20 کپتان ایک شاندار کامیابی تھی۔ یہی نہیں بلکہ جون 2017ء میں آئی سی سی چیمپئن ٹرافی میں کامیابی بھی انہی کی قیادت میں پاکستان کو نصیب ہوئی تھی۔ مگر پھر ناتجربہ کار سری لنکن ٹیم نے ہمیں اپنے ہی میدانوں میں ناقابلِ قبول شکست سے دوچار کیا اور یوں سرفراز کا دورِ کپتانی اختتام کو پہنچا۔ان کے یوں عالمی منظرنامے سے جانے سے متعلق ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو ملا اور اس فیصلے نے مباحثے کے طویل دور کا سلسلہ شروع کردیا۔ خیر، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ وکٹ کیپر/بلے باز کی غیر حاضری وقتی ہوگی اور وہ جلد واپسی کریں گے۔

تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک ایسے کھلاڑی کو کیوں برطرف کیا گیا جس نے اپنی قیادت میں پاکستان کو 37 میچوں میں سے 28 میں کامیابی دلوا کر آئی سی سی ٹی20 ٹیم کی درجہ بندی میں نمبر ون تک پہنچایا؟آسٹریلیا کے خلاف میچز میں ٹیم اسپرٹ سے عاری ٹیم میں ٹیم ورک کا فقدان نظر آیا اگر یہ سلسلہ آسٹریلیا جیسا رھاتو پھر سری لنکا کی ٹیم ون ڈے سیریز اور ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد ٹیسٹ میچز بھی جیتنےکی صلاحیت رکھتی ہے سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں پانچ روزہ میچ 12 دسمبر سے کھیلا جائے گا پاکستان جولائی 2020 میں ھالینڈ کے خلاف 4 جولائی سے 9 جولائی 2020 ون ڈے سیریز کی میزبانی بھی کرے گااظہرعلی کو 2020 ٹیسٹ چیمپئن شپ تک کپتان مقرر کیا گیا ہےجبکہ بابر اعظم ورلڈ ٹی ٹونٹی تک کپتان ہونگے ۔ اظہر علی پہلے بھی 29 ایک روزہ اور 2016ء میں سلو اوور ریٹ کی وجہ سے مصباح الحق کی غیر موجودگی میں ایک ٹیسٹ میں کپتانی کرچکے ہیں، اظہر علی کابیٹ گزشتہ دو سالوں سے رنز بنا نابھول چکا ھے24عشاریہ سات کی شرح سے ابتک 602 رنز بنا سکا 12 بار اننگز میں 10 سے زیادہ رنز نہیں بنا سکا اور 15 با 15 سے زیادہ رنز بناسکے برسبین میں بطوراوپنرناکام رھنے کے بعد ایڈیلیڈ میں بھی تیسرے نمبر پر ناکام ہو ئے جو انکی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی اظہر علی بحیثیت کپتان بھی بری طرح ناکام ہو ئے ان کی ناتجربہ کاری کا یہ عالم ہے کہ صرف 16 فرسٹ کلاس میچوں میں کپتان رھےناتجربہ کاری سے ٹیم کو وائٹ واش کی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ۔لیگ اسپنر یاسر شاہ سنچری سکور کرکے ٹاپ آرڈر کو بتایا کہ باوئنسی وکٹوں پر بلے بازی کیسے کی جاتی ھے۔یاسر شاہ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی پہلی سنچری اسکور کی، انہوں نے 192 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے سنچری بنائی۔ یاسر شاہ 113 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے آسٹریلیا سے شکست کے اثرات سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز پر ھونگے قومی ٹیم کواس دباؤ سے نکلانے کیلئے تبدیلیاں ناگزیر ھیں۔راولپنڈی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کی میزبانی کے لئے تیار ہے ۔ پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف مسلسل 14ویں ٹیسٹ سیریز ھاری ھے
سری لنکن بورڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کے لئے اپنی ٹیسٹ ٹیم کے اعلان نے پاکستانی شائقین کرکٹ کے چہروں پر رونق بکھیر دی ، دلیر سری لنکنز نے خوف کو شکست دے دی۔ جمعے کوسری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کےلئے مضبوط ٹیم کا اعلان کردیا۔ دیموتھ کرونارتنےٹیم کی قیادت کرینگے، مہمان ٹیم کی آمد سے پاکستان میں 10 سال کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی یقینی ہوگئی ہے۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز آئندہ ماہ دسمبر میں کھیلے جائے گی۔ یہ مارچ 2009 کے بعد پاکستانی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سیریز ہوگی اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد ملک میں تھم جانے والا ٹیسٹ کرکٹ کا سلسلہ سری لنکن ٹیم کی آمد کے ساتھ ایک بار پھر شروع ہوگا ۔2009 میں پیش آنے والے سانحے کا شکار ہونے والی سری لنکن ٹیم کے رکن سرنگا لکمل بھی دو ٹیسٹ میچز کے لیے پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم میں شامل ہیں۔آئی لینڈرز 8 دسمبر کو پاکستان پہنچیں گے۔ سری لنکن ٹیم کی قیادت دیمتھ کرونارتنے کے علاوہ انجیلو میتھیوز، چندیمل، کوسال پریرا ، نیروزن ڈکویلا، سرنگا لکمل، سنداکان، کاسون راجتھا، وشوا فرنینڈو، لاہیرو کمارا، لاستھ ایمبول دینیا، دلروان پریرا، دھنن جایا ڈی سلوا، لاہیرو تھریمانے اور اوشاندہ فرنینڈو شامل ہیں۔ آسٹریلیا نے ڈیوڈ وارنر کی شاندار ٹرپل سنچری کے بعد مچل اسٹارک اور نیتھن لائن کی بہترین باؤلنگ کی بدولت پاکستان کو سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست دے کر 0-2 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔
ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کا آغاز پاکستانی ٹیم نے 39 رنز پر 3 کھلاڑیوں کے نقصان سے کیا تو شان مسعود 14 اور اسد شفیق 8 رنز پر کیریز پر موجود تھے۔ابتدائی طور پر دونوں بلے بازوں نے ٹیم کو سہارا دیا اور ٹیم کی سنچری مکمل کرائی، دونوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 103رنز کی شراکت قائم کی لیکن 123 کے اسکور پر قومی ٹیم کی چوتھی وکٹ کر گئی۔آسٹریلین اسپنر نیتھن لائن نے نصف سنچری بنانے والے کھلاڑی شان مسعود کو پویلین کی راہ دکھائی اور اس کے بعد اسد شفیق سے بھی ساتھی کھلاڑی کی جدائی برداشت نہ ہوئی اور وہ بھی 154 کے مجموعی اسکور پر 57 رنز بنا کر آف اسپنر کو وکٹ دے بیٹھے۔154 رنز پر آدھی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد افتخار احمد اور محمد رضوان نے ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا، تاہم ٹیم کی سڈبل سنچری مکمل ہونے کے ساتھ ہی 201 رنز کے مجموعی اسکور پر افتخار احمد بھی 27 رنز پر ہمت ہار گئے۔پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے یاسر شاہ کی ہمت 13رنز پر جواب دے گئی جبکہ شاہین شاہ آفریدی بھی اس مرتبہ صرف ایک رن بنا سکے۔ محمد رضوان نے آسٹریلین باؤلنگ کے سامنے کچھ دیر تک مزاحمت کی لیکن جوش ہیزل وُڈ نے ان کی بھی وکٹیں بکھیر کر اہنی ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچا دیا۔239 کے مجموعی اسکور پر محمد عباس رن آؤٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے اور اس کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے پاکستان میچ میں اننگز اور 48رنز سے شکست دے کر سیریز میں بھی 0-2 سے کلین سوئپ مکمل کر لیا۔آسٹریلیا کی جانب سے نیتھن لائن نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں لیں جبکہ ہیزل وُڈ کے حصے میں تین وکٹیں آئیں۔ڈیوڈ وارنر کو ان کی شاندار ٹرپل سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا اور سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے پر وہ مین آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی لے اڑے.واضح رہے کہ آسٹریلیا کی ٹیم نے بلے باز ڈیوڈ وارنر کے 335 رنز کی بدولت 3 کھلاڑیوں کے نقصان پر 589 رنز بناکر پہلی اننگز ڈکلیئر کردی تھی، جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 302 رنز پر آؤٹ ہو کر فالوآن کا شکار ہوگئی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کے مطابق کپتان چننے کا اختیار خالصتاً پی سی بی چیئرمین رکھتے ہیں۔ کئی برسوں میں ایسے متعدد چیئرمین آتے اور جاتے دیکھ چکے ہیں، جنہیں کرکٹ کے بارے میں ٹکے کا علم بھی نہیں تھا، اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ بورڈ کا سرپرستِ اعلی (پیٹرن ان چیف) جو چاہے، وہ ہوجاتا ہے۔ پہلے بورڈ کا سرپرستِ اعلیٰ ملک کا صدر ہوا کرتا تھا پھر ترامیم ہوئیں اور چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار اب وزیرِاعظم کو مل گیا ہے۔ یم کے مفاد کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے ہردم تیار ایک معقول کپتان کے لیے چیپل کا مذکورہ اندازہ کامیابی کی ترکیب سے کم نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’کپتان کے لیے احترام انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے 3 حیثیتوں میں عزت کمانا لازمی ہے: کھلاڑی کی حیثیت میں، انسان ہونے کے ناطے اور آخر میں بطور رہنما۔ اگر ایک کپتان ان مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے، پھر اس کے ساتھ کھیل کے بارے میں اپنی علم و آگہی کو عام فہم اور کچھ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعمال کرتا ہے، اس کے علاوہ قسمت کی دیوی معقول حد تک مہربان ہوتی ہے تو اسے عروج حاصل کرنے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی‘۔ایک پرانی کہاوت ہے کہ کپتان کو اپنی ٹیم جتنا ہی اچھا ہونا چاہیے۔ یعنی کپتان پہلے خود کو ایک اچھا کھلاڑی ثابت کرے اور پھر اس کے بعد اچھا کپتان آسٹریلوی مدتوں سے اس پالیسی پر عمل پیرا ہیں کیونکہ وہ پہلے ٹیم منتخب کرتے ہیں پھر 11 کھلاڑیوں میں سے کپتان کا چناؤ ہوتا ہے۔ ’پلیئرز پاور‘ کی غلیظ سیاست سےٹیم اسپرٹ سے عاری ٹیم میں ٹیم ورک کا فقدان نظر آیا ٹیم کے اندر گروہ بندی کے کلچر کے ساتھ کپتان کو ناکام ثابت کرنے کے لیے سازشیں کی جاتی رھیں۔ سینئر کھلاڑی ہر وقت کپتانی کا خواب دیکھا کرتے ہیں۔ ٹیم کے کھلاڑی کسی نہ کسی گروہ کا حصہ بن جاتے ھیں جبکہ غیر جانبدار کھلاڑیوں کی تعداد بہت ہی کم رہ جاتی ہے واضح رہے کہ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریز کا پہلا ٹیسٹ 11 سے 15 دسمبر تک راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ دوسرا اور آخری ٹیسٹ 19 دسمبر سے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی میں شروع ہوگا۔