کور کمانڈرز کانفرنس میں آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ اورپی ڈی ایم دھرنا . کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک …………………..پاک فوج نے کہا ہے کہ دفاعی تنصیبات اور نجی املاک کے توڑ پھوڑ میں ملوث ملزمان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت پاکستان کے متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔.پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جبکہ اس سے پہلے پی ڈی ایم نے دھرنا میں چیف جسٹس سےاستعفی کا مطالبہ کیا ہے پارلیمنٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے کیخلاف ریفرنس لانے کی تحریک منظور کرلی ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں 9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی تنصیبات کی توڑ پھوڑ پر مشتمل مربوط منصوبے کے تحت ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ فورم کو بریفنگ دی گئی ہے کہ منصوبہ ادارے کو ردعمل دینے اور اکسانے کے لیے انجام دیا گیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے فوجی تنصیبات، سرکاری اور نجی املاک کے خلاف سیاسی محرک اور اکسانے کے واقعات کی سخت مذمت کی گئی اور کمانڈرز نے افسوسناک واقعات پر فوج کے رینک اور فائل کے غم اور جذبات کا بھی اظہارکیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت خصوصی کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں شرکا نے مادروطن کے دفاع میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورم نے اندرونی و بیرونی سکیورٹی صورتحال اور سیاسی مقاصد کے لیے پیدا کی گئی چند روز کی امن و امان کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا جبکہ فورم کو شہدا کی تصاویر اور یادگاروں کی بے حرمتی کے مربوط توڑ پھوڑ منصوبے پربریفنگ بھی دی گئی۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھاکہ فورم نے جاری سیاسی عدم استحکام سے نمٹنے کےلیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے اورعوامی اعتماد بحالی کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پروپیگنڈا کا مقصد مسلح افواج اور عوام کے درمیان اور مسلح افواج کے رینک اور فائل میں دراڑ پیدا کرنا ہے، دشمن قوتوں کے ایسے مذموم پروپیگنڈے کو پاکستانی عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی اور پاکستانی عوام ہر مشکل میں ہمیشہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ فورم کا جمہوری عمل مضبوط بنانے کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ فوج ان اکسانے والوں،حوصلہ افزائی کرنے والوں اور مجرموں سے بخوبی واقف ہے، ان گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو پاکستان کے متعلقہ قوانین کے تحت کٹہرے میں لایا جائے گا، مجرموں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کسی بھی ایجنڈے کے تحت فوجی تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتیں گے۔ کورکمانڈرز کانفرنس کے شرکا نے بیرونی سپانسر شدہ اور اندرونی سہولت یافتہ عناصر کے منظم پروپیگنڈہ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شرمناک پروپیگنڈے کا مقصد مسلح افواج اور پاکستان کی عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے، شرمناک پروپیگنڈا کا مقصد مسلح افواج کے رینک اینڈ فائل کے اندر دراڑ پیدا کرنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افواجِ پاکستان عوام کی بھرپور حمایت سے پاکستان دشمنوں کے ایسے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی، اتفاق رائے ضروری ہے تاکہ عوام کے اعتماد، معاشی ترقی اور جمہوری نظام کو دوام بخشا جا سکے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے جاری سیاسی عدم استحکام کےحل کےلیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے متعلقہ قوانین پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کرلی ہے، جس کے بعد صدر مملکت کی جانب سے واپس کیا گیا قومی احتساب بیورو(نیب) ترامیم کا بل 2023 بھی منظور کرلیا گیا ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں عدلیہ کی جانب سے عمران خان کی ضمانت اور تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے قومی اداروں و املاک کے ساتھ ساتھ حساس تنصیبات پر حملے کی شدید مذمت کی گئی۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کی۔یہ تحریک پارلیمانی سیکریٹری برائے صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے حکم کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے حالات بہتر بنانے کے لیے حکومت اور پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی تجویز دے دی، عدالت نے سیاسی جماعتوں سمیت پنجاب اور خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹسز بھی جاری کردیئے14 مئی گزرگیا تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات نہ ہوسکے، آج دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جارہا ہے، عدالت نے صرف آئین نہیں حالات بھی دیکھنا ہے، اداروں کی تذلیل اور تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے، جب جنگی حالات ہوں تو قانون خاموش ہوجاتا ہے۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی بینچ نےکیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر 3 رکنی بینچ کا حصہ ہیں۔الیکشن کمیشن نے 14مئی کو انتخابات کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے، الیکشن کمیشن کا موقف ہےکہ انتخابات کی تاریخ دینےکا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل نہیں۔
سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نظرثانی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، آپ دلائل میں کتنا وقت لیں گے؟وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ مجھے دو سے 3 دن درکار ہوں گے۔اس دوران پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر روسٹرم پر آگئے، ان کا کہنا تھا کہ آئین کا قتل کردیا گیا ہے، ملکی آبادی کا 10 کروڑ حصہ نمائندگی سے محروم ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک میں انتخابات کا وقت ابھی ہے، پریشان کن ہےکہ جس طرح سیاسی طاقت استعمال ہو رہی ہے، باہر دیکھیں کیا ماحول ہے، دو اہم چیزیں فنڈز اور سکیورٹی کی تھیں، آج آپ نے درخواست میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیارکا پنڈورا باکس کھولا ہے، یہ آپ کے مرکزی کیس میں موقف نہیں تھا، سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر کسی اور کو بات کرنا چاہیے۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو ان معاملات پر عدالت آنا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں آئے، نظرثانی کا آپشن آپ کے پاس تھا جو آپ نے استعمال کیا، ملکی اداروں اور اثاثوں کو جلایا جا رہا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، باہر دیکھیں انسٹالیشنز کو آگ لگائی جا رہی ہے، اللہ تعالی مشکل وقت میں صبر کی تلقین کرتا ہے، وفاقی حکومت بے بس نظرآتی ہے، چار پانچ دن سے جو ہو رہا ہے اسے بھی دیکھیں گے۔وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت نے مذاکرات کا کہا، میرے مذاکراتی ٹیم کے دونوں ساتھی گرفتار ہوگئے، اب مذاکرات ختم ہوکر بات آئین کی عمل داری پر آگئی ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب، آپ مذاکرات دوبارہ شروع کیوں نہیں کرتے؟ اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا تھا کہ مذاکرات بالکل شروع ہونے چاہئیں، میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے مذاکرات کی بات کی، دونوں جانب سلجھے ہوئے لوگ موجود ہیں۔چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں طرف سے تنازع کو بڑھایا جا رہا ہے، لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں، اداروں کی تذلیل ہو رہی ہے، تنصیبات کو جلایا جا رہا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مذاکرات دوبارہ شروع کریں، جو بیانیہ دونوں جانب سے بنایا جا رہا ہے اس کا حل کریں، علی ظفر درست کہہ رہے ہیں کہ بال حکومت کے کورٹ میں ہے، حکومت مذاکرات کی دعوت دے تو علی ظفربھی اپنی قیادت سے بات کریں، سپریم کورٹ پاکستانی عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے موجود ہے، بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے امن ہونا ضروری ہےچیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل مذاکراتی ٹیم کو باہر لائیں، صورتحال خراب نہ ہو، سپریم کورٹ عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے، معیشت کا پہیہ رک جائے تو زیادہ خرابی ہوگی، جس طرح کے پرتشدد واقعات سن رہے ہیں تشویشناک ہے، چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدالت نے صرف آئین نہیں حالات کوبھی دیکھنا ہے، باہر کے حالات دیکھ رہےہیں اس لیے فی الحال سماعت جلدی نہیں رکھنا چاہتے،جس انداز میں سیاسی قوتیں کام کر رہی ہیں یہ درست نہیں، لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، ادارے خطرات اور دھمکیوں کی زد میں ہیں، سرکاری اور نجی املاک کا نقصان ہو رہا ہے، امن و امان کو برقرار رکھنے میں حصہ ڈالیں، مشکل وقت میں صبر کرنا ہوتا ہے نہ کہ جھگڑا، لوگ آج دیواریں پھلانگ رہے تھے، حکومت ناکام نظر آئی، ..پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی کال پر جے یو آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا دھرنا سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔جے یو آئی کے کارکنان ریڈزون پولیس کی رکاوٹیں توڑتے ہوئے ریڈزون میں داخل ہوئے اور سپریم کورٹ کے سامنےدھرنا دیا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا کہ پی ڈی ایم مظاہرہ کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس کنٹینر میں ہوا، سپریم کوٹ اسلام آباد کے سامنے احتجاجی دھرنا کے لیے انتظامیہ کمیٹی نے معاملات کو فائنل کر دیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتظامی کمیٹی نے مظاہرے کو دھرنے میں تبدیل کرنے سے متعلق انتظامات شروع کر دیے، پنڈال میں ٹینٹ ،خیمے ،واش روم بنانے کا کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےاس سے پہلے مریم نواز نے کہا کہ جی ایچ کیو پر پہلا حملہ تحریک طالبان پاکستان نے کیا اور دوسرا حملہ اس کے پالتو عمران خان نے کیا۔
















انہوں نے کہا کہ عمران کی گرفتاری پر پاکستانی عوام نہیں نکلے بلکہ اس کے تربیتی یافتہ دہشت گرد نکلے، جو 6 ماہ سے ٹانگ پر پلستر لگا کر پولیس اور عدالت سے چھپ کر بیٹھا تھا یہ اپنے ان کارکنان کو حملوں کی تربیت دے رہا تھا جن کوسرحد کھول کر پاکستان میں بلایا، جیلوں سے آزاد کروایا اور زمان پارک میں تربیتی یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے اپنے جتھوں کو ٹریننگ دی۔ مریم نواز نے کہا کہ جب 25 مئی کو لانگ مارچ ہوا تو پورے اسلام آباد کو آگ لگادی گئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالت میں کہا کہ ہو سکتا ہے عمران خان نے آگ نہ لگائی ہو، شاید آنسوں گیس کی وجہ سے آگ لگی ہو۔
انہوں نے کہا کہ تین دن قبل جو کچھ بھارت، دشمن ممالک، دہشت گرد تنظمیں نہ کر سکیں وہ ان کے پالتو عمران خان نے کرکے دکھایا جس میں دفاع تنصیبات کو جلایا گیا، ریڈیو پاکستان کو آگ لگائی گئی، ہسپتالوں کو جلایا گیا، رینجرز اور پولیس کی گاڑیاں جلائی گئیں۔ مریم نواز نے کہا کہ اس عمارت (سپریم کورٹ) سے تو مظلوم کو انصاف ملنا تھا، طاقتور کو قانون کے شکنجے میں لایا جانا تھا، جمہوریت کو مظبوط کرنا تھا، اس عمارت سے تو پارلیمان کی مضبوطی کی آواز بلند ہوتی، منتخب وزرائے اعظم کے تقدد کو برقرار رکھنا اس عمارت کا کام تھا، دہشت گردوں کو کٹھڑے میں لانا، فتنہ اور انتشار پھیلانے والوں کو سزا دینا اس عمارت کی ذمہ داری تھی لیکن یہاں سے بیٹھ کر کچھ سہولت کار انصاف کا قتل کرنے میں مصروف ہے۔مریم نواز نے کہا کہ آج جب ہماری فوج مارشل لا نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، آئین و قانون کے ساتھ کھڑی ہے تو آج پاکستان میں پانچوں مارشل لا (جوڈیشل مارشل لا) بھی یہاں سے لگا ہے۔اس سے پہلے پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی پر انصاف کی ذمہ داری ہو تو ہر فریق کو ایک جیسی توجہ دینی چاہیے۔ ہم عدالت کی قدر ومنزلت بحال کرنا چاہتے ہیں، آج اس تاریخی اجتماع نے بتادیا فیصلہ عوام کو کرنا ہے، ساری پولیس اور رینجرز ہٹ جائےہم اس سپریم کورٹ کی عمارت کی حفاظت کریں گے، کوئی مائی کا لعل میلی آنکھ سے بھی اس عمارت کو نہیں دیکھ سکےگا، اب فیصلہ پاکستان کےعوام نے کرنا ہے۔ اسلام آباد میں عوام کی عدالت لگی ہے، عدلیہ کا احترام کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اسلام نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے، پنجاب اور کے پی اسمبلیاں نہ توڑی جاتیں تو آج بحران نہ ہوتا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نیئرحسین بخاری نے تقریر میں کہا کہ قانون کے طالب علم کی حیثیت سے سمجھتا ہوں کہ میرے ملک کا آئین قانون سازی اور آئین سازی کا اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کو دیتا ہے۔
سپریم کورٹ کے باہر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے احتجاج کے دوران تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج بعض جگہ بحث ہوتی ہے کہ بنیادی اسٹرکچر تبدیل نہیں ہوسکتا ہے، یہ ایک نئی اختراع ہے، آئین عوام کے منتخب نمائندے بناتے ہیں اور یہی آئین منتخب نمائندوں کو اختیار دیتا ہے کہ وہ آئین میں ترمیم اور قانون سازی کرسکتے ہیں۔




