کرووناوائرس حفاظتی اقدامات اٹھانے پر دنیا پاکستان کی معترف ۔۔۔تحریر و تحقیق؛ اصغر علی مبارک (کالم ؛اندر کی بات ۔۔صحت کے ساتھ )کرووناوائرس سے دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیل جانا ایک فطری عمل ہے اس حوالے سے مغرب نے چین کی اقتصادی ترقی کو ختم کرنے کیلئے افواہ سازی کی فیکٹریوں سے بریکنگ نیوز کے نام پر پروپیگنڈے کا بازار گرم کر رکھا ہے امریکہ اور بھارت تو چین دشمنی میں دو ہاتھ آگے نکل گئے ہیں ۔خیال کیا جارہا ہے کہ یہ سب کچھ چین بڑھتی ہوئی عالمی منڈی میں مقبولیت کا گراف نیچا کرنے کیلئے کیا گیا ہے پاکستان کے کچھ بھارت نواز اور مغرب پرست ٹی چینلز پر بھی چین مخالف پروپیگنڈہ عروج پر ہے جسے آج کی مہذب زبان میں آزادی صحافت کا لبادہ اڑھا کرمارکیٹ میں فروخت کرکے سستی شہرت حاصل کی جا رہی ہے ۔دوسری جانب موجودہ حکومت کی کرووناوائرس سے بچاو پر عالمی برادری کاوشوں کی معترف اور شکر گزار نظر آتی ہے وزیراعظم عمران خان نے خود تمام معاملات کی نگرانی شروع کررکھی ھے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا ۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ۔وزارت خارجہ کی ترجمان میڈیم عائشہ صدیقی تمام سوالات کا جواب دینے کیلئے ھمہ وقت چوکنے نظر آتے ہیں پاک کا شعبہ تعلقات عامہ بھی کسی سے پیچھے نہیں اور تمام ادارے ایک پیج پر نظر آتےہیں۔چین ھمارا وہ دوست ملک ہے جس دوستی کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی ۔پاکستان کے ہر موقف چین نے ہرفورم پرکھل کر حمایت کی ہے مسئلہ کشمیر پر ایک سال کے دوران دو مرتبہ سلامتی کونسل میں کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستان کی آواز میں اپنی آواز شامل کی۔غرض کروڑوں کتابوں کی لاکھوں جلدیں بھی لکھی جائیں تو دونوں ممالک کی محبتوں کو سمیٹنا ناممکن ہے اور یہ سچ ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی ایک لازوال حقیقت ہے مشکل کےاس دور میں پاکستان کے میڈیا کو ذمہ دار صحافت کے زریں اصولوں کی پاسداری کرنی چاہئے ۔بات پاک چین دوستی کی ھورہی ہے تو ایک بات آپ سے شیئر کرتاچلوں کہ گزشتہ روز مجھے پاک چائنا دوستی ریڈیو ایف ایم 98 کے دورے کے دوران چینی عوام کی پاکستان سے والہانہ محبت کا اظہار دیکھنے کوملا اس حقیقت سے انکار نہیں پاکستان میں کوئی بھی حکومت ھو چین پاکستان کو اپنا قابل فخر دوست تسلیم کرتا ھے راقم الحروف سے چین پاکستان ریڈیو کے ایک ذمہ دار نے حالیہ کرووناوائرس کی بابت انکشاف کیا کہ میڈیا پر اصل حقائق سے پردہ پوشی کرکے صحافتی بددیانتی کی جارہی ہے چین اس وقت تنہا کرووناوائرس کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے اور جلد کامیاب ہو گا دنیا بھر میں چینی ماہرین صحت نے نسل انسانی کے گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں افریقہ میں سارس وائرس ۔کانگو وائرس۔برڈفلو ۔میڈکاو ۔کینسر ۔ایڈز اور لاتعداد بیماریوں کا خاتمہ کر نے میں کامیابی حاصل کی اور دنیاچین کی کاوشوں کی معترف ھے انہوں نے بتایا کہ چین کے جس صوبہ وہان سے یہ بیماری کا آغاز ہوا وہاں کے سب بڑے ھسپتال کے شعبہ بخار کے انچارج ان چچا جان ہیں جو اس تحقیقی شعبہ کا حصہ ہیں جو کرووناوائرس کے بچاو اور بیماری کے خاتمے کے لئے دن رات کوشاں ہے انہوں نے بتایا کہ صرف تین باتوں کا خیال رکھ کر کرووناوائرس سے بچا جا سکتا ہے ایک یہ کہ ماسک کا اِستعمال کیا جائے دوسرے ہاتھ ملانے سے گریز کیا جائے اور تیسری بات خوف وہراس افواہ سے دور رہاجائے ان کے نزدیک جتنا پروپیگنڈہ کیا گیا ہے اس میں حقیقت نہیں ۔ ادھر پاکستان میں چین کے صوبے ووہان میں کورنا وائرس کی تشخیص اور اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر۔کی طرح پاکستان میں بھی اس وائرس سے بچاؤ اور روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔پاکستان نے ابتدائی طور چین، افغانستان،ایران اور انڈیا کے ساتھ لگنے والی سرحد کے داخلی راستوں سمیت تمام ایئر پورٹس، بندرگاہوں پر حفاظتی اقدامات کیے ہیں پاکستان میں کوئی بھی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں ہائی رسک کی صورتحال ہو۔ اس ضمن میں اگلے روز وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے راقم الحروف کے استفسار پر بتایا کہ ان کی سربراہی میں پورے ملک میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکومت نے اس حوالے سے قومی سطح پر ایک ایمرجنسی آپریشن سنٹر قائم کیا ہے جہاں پر ہر 48 گھنٹوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ابھی تک پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ کسی مریض کی لیبارٹری نے تصدیق نہیں کی ۔قارئین محترم آپ کو بتاتا چلوں کہ حکومت نے چینی زبان ۔اردو ۔انگریزی میں کرووناوائرس سے متعلق پمفلٹ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔قارئین کرام:کورونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ کے ہوتے ہیں۔ چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے یعنی کورونا کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام “کورونا وائرس” رکھا گیا ہے۔چین کے صوبے ووہان میں کورنا وائرس کی تشخیص اور اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر میں اس وائرس سے بچاؤ اور روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 132 تک پہنچ چکی ہے اس وائرس سے متاثر ہونے والے 1459 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں چار پاکستانی طلبا بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ سب سے پہلے اس وائرس کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس E229 اور OC43 کا نام دیا گیا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔عالمی ادارہ صحت کے ذریعے نامزد کردہ nCov-2019 نامی کورونا وائرس کی ایک نئی وبا 31 دسمبر 2019ء کو چین میں عام ہوئی۔ جو اب آہستہ آہستہ وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ وائرس اس لئے خطرناک ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسکے بعد 25 جنوری 2020 ء کو چین کے 13 شہروں میں ایمرجنسی لگا دی گئی کرووناوائرس کی شناخت یورپ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی ہو چکی ہے۔کورونا وائرس بنیادی طور پر ممالیہ جانوروں اور پرندوں کے نظام تنفس اور انسانوں کے نظام ہضم کو متاثر کرتا ہے۔ اس وائرس کے ذریعہ انسانوں کو ہونے والی بیماریوں کی اس وقت 4 سے پانچ قسمیں ہیں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم “انسانی کورونا سارس CoV” ہے جو سارس بیماری کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ بالکل منفرد قسم کی بیماری ہے۔ اس سے اوپری اور نچلے دونوں نظام تنفس یکساں متاثر ہوتے ہیں اور بسا اوقات آنت اور معدے کا نمونیا ہو جاتا ہے۔ یہ خیال جاتا ہے کہ کورونا وائرس عام طور پر بالغ افراد کو سردی کے نزلہ کی وجہ سے سب سے زیادہ لاحق ہوتا ہے۔عام سردی میں ہونے والے نزلہ کی طرح کورونا وائرس کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ وہ ناک وائرس (عام سردی کا نزلہ) کے برعکس ہوتا ہے۔ اسی طرح لیبارٹری میں انسانی کورونا کی تحقیق و نشو نما بھی مشکل ہے۔ کوروناوائرس نمونیا، وائرس نمونیا یا تو براہ راست یا ثانوی جرثومی نمونیا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مرغیوں میں متعدی برونکائٹس وائرس (IBV) نہ صرف نظام تنفس میں اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ پیشاب کے راستہ کو بھی متاثر کرتے ہیں اور اس کا امکان رہتا ہے کہ یہ وائرس مرغی کے تمام اعضا میں پھیل جائے۔اسی طرح کورونا وائرس کھیت کے جانوروں اور پالتو جانوروں میں بھی بہت سی بیماریوں کا ذریعہ بنتا ہے، جن میں کچھ خطرناک ہوتی ہیں اور کھیتی کو بھی نقصان پہنچا دیتی ہیں۔ کوروناوائرس عام طور پر گائے اور خنزیر دونوں پالتو فارمی جانوروں کو ہوتا ہے اور ان دونوں میں اسہال کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان میں عوامی آگاہی مہم کا آغازکیا جا چکا ہے ۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق چین میں چار پاکستانی طلبا میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تاہم وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں ۔پاکستان میں ابتدائی طور چین، افغانستان،ایران اور انڈیا کے ساتھ لگنے والی سرحد کے داخلی راستوں سمیت تمام ایئر پورٹس، بندرگاہوں اور ان مقامات پر زیادہ حفاظتی اقدامات کیے ہیں جہاں چین کے ساتھ زیادہ آمدو رفت ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سربراہی میں پورے ملک میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اس حوالے سے قومی سطح پر ایک ایمرجنسی آپریشن سنٹر قائم کیا ہے جہاں پر صورتحال کا جائزہ لیا جاتایے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ چین کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کے تناظر میں پاکستان نے ووہان سے اپنے شہریوں کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے اسلام آباد پی آئی ڈی ڈاکٹر ظفر مرزا نے ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے ھمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ ’عالمی ادارہ صحت نے تمام صورتحال کے تناظر میں یہ تجویز دی ہے کہ چین سے لوگوں کو باہر نہ نکالا جائے۔ اگر ہم غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر کے وہاں سے لوگوں کو نکالنا شروع کر دیں تو یہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی۔ انہوں نےواضح کیا کہ ’ہم چین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ عوامی صحت کے لیے چین نے جو پالیسیاں اپنائی ہوئی ہیں اس کا احترام کریں اور اس بیماری کے پھیلاؤ کا سبب نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمارا یہ خیال ہے کہ ہمارے پیاروں کو جو کہ چین میں ہیں ان کے حق میں یہ سب سے بہتر ہے۔ اور خطے، ملک اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ ہم انھیں اس وقت وہاں سے نہ نکالیں۔ یہی عالمی ادارہ صحت بھی کہہ رہا ہے۔ یہی چین کی پالیسی بھی ہے اور یہی ہماری پالیسی بھی ہے، ہم چین کے ساتھ مکمل یگانگت کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے امریکی سفارتکاروں کو ووہان سے نکلنے کی اجازت ملنے پر کہا کہ ویانا کنوینشن کے تحت سفارتکاروں کو نکالا گیا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔اس موقع پر انھوں نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے چار پاکستانیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی صحت بہتر ہے۔’ان طلبا نے ہم سے خود درخواست کی ہے کہ ہمارے خاندان کے بارے میں میڈیا پر کوئی بات نہ کریں لہذا کوئی بات نہیں کی جا ئےگی‘اس موقع پرترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس سے متعلق حکومت نے پاکستانیوں کی سہولت کے لیے چین کے ساتھ مل کر ایک ہائی پاور ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چین کے سفارتخانے کے ساتھ مل کر پاکستانی طلبا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چین میں موجود جو پاکستانی طلبا سفارتخانے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں انھیں فوری طور پر رجسٹرڈ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘اس سوال پر کہ حکومت پاکستان دیگر ممالک کی طرح چینی صوبہ ووہان میں موجود اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات کیوں نہیں کر رہی، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جن ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو متاثرہ علاقے سے نکالنے کی خبریں آ رہی ہیں وہ ابھی صرف بات چیت کر رہے ہیں، پاکستان بھی اپنے شہریوں کے حق میں بہتر اقدامات کرے گا۔واضح رہے کہ جاپان نے 29 جنوری کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے چین میں پھنسے اپنے 206 شہریوں کو واپس ٹوکیو بلا لیا ہے جبکہ 400 سے زائد مزید شہریوں کو چین کے متاثرہ صوبے ووہان سے نکالنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔جبکہ امریکہ نے بھی چین سے اپنے 201 شہریوں جن میں زیادہ تر سفارتکار اور ان کے اہلخانہ ہیں کو ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے امریکی ریاست کیلیفورنیا واپس بلا لیا ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’چین کے علاقے ارومچی سے ہمیں پروازیں لیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کو مشکلات کی اطلاعات ملی ہیں۔‘ چین میں موجود پاکستانی شہریوں کی فلاح کے لیے جو بھی بہتر اقدامات ہوں گے وہ اٹھائے جائیں گے، اور جہاں خوراک کی قلت سمیت دیگر مسائل ہیں ان کو حل کرنے کے لیے چین سے رابطے میں ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ملک میں کوروناوائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کوروناوائرس سے متعلق چینی حکومت نے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے ہیں جن کی پاکستان مکمل حمایت کرتا ہے اور اس سلسلے میں چین کو درکار ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ چینی حکومت کے اس وائرس کی روک تھام کی لیے گیے گئے اقدامات پر پوری دنیا ان کی معترف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کا بارڈر معمول کے مطابق اپریل میں کھلے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ کسی مریض کی لیبارٹری نے تصدیق نہیں کی ہے۔کورونا وائرس ایک وائرس گروپ ہے جس کے جینوم کی مقدار تقریباً 26 سے 32 زوج قواعد تک ہوتی ہے۔ یہ وائرس ممالیہ جانوروں اور پرندوں میں مختلف معمولی اور غیر معمولی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، مثلاً: گائے اور خنزیر کے لیے اسہال کا باعث ہے، اسی طرح انسانوں میں سانس پھولنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ عموماً اس کے اثرات معمولی اور خفیف ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات کسی غیر معمولی صورت حال میں مہلک بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاج یا روک تھام کے لیے اب تک کوئی تصدیق شدہ علاج یا دوا دریافت نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری طرف
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ متاثرہ طلبا بہتر حالت میں ہیں، ان کی بہترین نگہداشت کی جارہی ہے اور ان کے خاندانوں کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔ ادھر کورونا وائرس کا پہلا اسپتال چین کے شہر ووہان کے قریب تعمیر کر دیا گیا ہے دی ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث متاثرہ مریضوں کے علاج کے لیے علیحدہ اسپتال تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے جسے مسلسل دو دن میں 5 سو سے زائد مزدور اور متعدد بھاری مشینری کی مدد سے تیار کیا گیا۔کورونا وائرس سے متعلق معلومات فراہم کر تے ہوئے ڈاکٹر ظفر بتایا گیا کہ کورونا وائرس چین کے مرکزی شہروں تک پھیل گیا ھے جبکہ اب تک 170 اموات ہوگئی ہیں ۔ادھر قابل توجہ بات یہ ھے۔کرووناوائرس سے بچاؤ کا سامان پاکستان کے حوالے کر دیا گیا ہے ، واضح رہے کہ پُراسرار کورونا وائرس نے چین کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے چین سے پھیلتے ہوئے پُراسرار کورونا وائرس کے کیسز سنگاپور، ویت نام، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا سمیت 16 ممالک میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ بھی پاکستان کے حوالے کردیاھے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا سے اموات کی شرح صرف 3 فیصد ہے لہٰذا عوام خوفزدہ نہ ہوں۔کوروناوائرس کی علامات میں کھانسی، چھینک آنا اور سانس کی کمی شامل ہے جب کہ کچھ مریضوں کو سر درد اور معدے کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حفظانِ صحت کی مشق کرنے علاوہ اپنے نظامِ قوت مدافعت کو مضبوط رکھنے کے لیے صحت مند غذاؤں کا استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تاحال کوئی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی گئی اور نہ ہی اس وائرس پر قابو پانے کے لیے کوئی دوائیاں ہیں۔ تاہم لوگوں کو ہدایت کی گئیں ہیں کہ (این نائن فائیو) ماسک کا استعمال کریں جو عام طور پر پاکستان میں اسموگ کے موسم میں استعمال کیا جاتا ہے، اس ماسک کی مدد سے وائرس کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے صفائی نصف ایمان ہےصفائی ستھرائی اور احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ھم اس موذی مرض سے بچ سکتے ہیں ۔۔۔۔
کرووناوائرس حفاظتی اقدامات اٹھانے پر دنیا پاکستان کی معترف ۔۔۔تحریر و تحقیق؛ اصغر علی مبارک (کالم ؛اندر کی بات
Asghar Ali Mubarak


