چینی شہریوں پر حملہ: نیشنل ایکشن پلان کب ان ایکشن ھوگا۔۔اندر کئ بات؛کالم نگار۔۔اصغرعلی مبارک۔۔. قومی ایکشن پلان پر سنجیدگی عمل درآمدکرانے کاوقت آچکاہے پاک فوج کی قربانیوں سے بلوچستان میں امن قائم ہوا اسے رائیگان نہیں جانےدیں گئے اس لئے ضرورت اس امر کی ھےکہ کراچی خودکش حملے کو دہشت گردوں کی عام کارروائی نہ سمجھا جائے اور قوم ایکشن پلان پر من وعن عملدرآمد کروایاجائے۔بلوچستان سازشوں میں گھراہوا ھےجبکہ ہمارے نام نہاد سیاستدان شازشوں کو اقتدار کےایوانوں میں تلاش کررہے ہیں,چینی شہریوں پر خودکش حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کامطالبہ زور پکڑ چکاہے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا تھا جس کے کچھ حصوں پر عمل درآمد کرنےکے باعث ملک میں امن برقرار ہوا تھا، کراچی میں چینی شہریوں پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے تحت نیکٹا کا اجلاس فوری بلائے جانےکا مطالبہ زورپکڑ چکاہے پاکستان کی بدقسمتی رہی ھےکہ قائداعظم کے بعد کوئی مخلص لیڈر میسر نہیں آیاپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کوششیں کافی عرصے سے جاری ہیں پاکستان دشمن شوشل میڈیاکے زریعےٹارگٹ کے حصول کیلئے منظم ہے جبکہ ہم کسی معجزے کے انتظارمیں بیٹھے ہیں۔ہمارے زمہ داروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ہماری جامعات سے شاری بلوچ جیسی اسکالرہی پیدا ہوتی رہیں گی , پاکستان کےتعلیمی اداروں میں آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے ورنہ کراچی جیسے واقعات رونماہوتے رہیںگے پاکستان بننے کے فورا بعد قائد اعظم نے بلوچستان کادورہ کرکے بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی عملی کوشش کی۔بلوچ روایت میں خواتین کو منفرد مقام حاصل ہے جہاں عورت کو عزت وناموس سمھجا جاتاہے اور اسے گھر کی چادیواری میں بلند مرتبہ حاصل ہے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ بلوچ روایتں دم توڑ چکی ہیں لیکن (شاران بلوچ) شاری بلوچ کے خود کش حملے نے کئی سولات کوجنم دیاہےشوشل میڈیاکے زریعےٹارگٹ کے حصول کیلئے دشمن منظم ہے جبکہ ہم کسی معجزے کے انتظارمیں بیٹھے ہیں۔ہمارے زمہ داروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ہماری جامعات سے شاری بلوچ جیسی اسکالرہی پیدا ہوتی رہیں گی ,پاکستان کوغیرمستحکم کرنے کوششیں کافی عرصے سے جاری ہیں پاکستان مخالف قوتوں پاکستان کوغیر مستحکم کرنے کیلئے اب اقتدارکےایوانوں میں اپنابیانیہ داخل کردیاہےبلوچستان سازشوں میں گھراہوا ھےجبکہ ہمارے نام نہاد سیاستدان شازشوں کو اقتدار کےایوانوں میں تلاش کررہے ہیں,خودکش بم دھماکوں میں عورت کو استعمال کر نے کے ہتھکنڈوں نے کچھ سوالات کو جنم دیا ہے: کیا بلوچ شورش اپنے آپ کو نئے سرے سے متعین کر رہی ہے؟ اس طرح کے حملوں میں خواتین کو اب کیوں استعمال کرتے ہیں اور پہلے نہیں؟ کیا ان خواتین کی برین واشنگ کی گئی یا زبردستی؟شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے والے اور بھڑکانے والے کسی کے لیے ناواقف نہیں ہیں، لیکن زیرِ بحث خاتون بمبار کا پس منظر کچھ اور ہے۔ یہ راتوں رات کی دعوت یا اچانک خواہش نہیں تھی بلکہ ہر ممکن طریقے سے ایک سوچی سمجھی کارروائی تھی۔24 اپریل 2022 کی ایک پوسٹ میں، اس نے لکھا “میری زمین نے مجھے دو چیزیں سکھائی ہیں: محبت اور مزاحمت۔”2 مارچ 2022 کو، اس نے جمال بلوچ کی ایک پوسٹ کو ری ٹویٹ کیا جس میں لکھا تھا: “مزاحمت ہماری ثقافت ہے، اگر آپ اسے منانا چاہتے ہیں تو مزاحمت کریں۔”23 دسمبر 2021 کو، اس نے کیپشن کے ساتھ فتح کا نشان پوسٹ کیا: “میں ایسی کہانی نہیں ہوں جو ہمیشہ رہے گی۔ میں اپنا کردار ادا کروں گی اور باہر نکلوں گی۔”دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اسی مہینے میں کم از کم دو بار اس پوسٹ کو شیئر کیا تھا۔


13 دسمبر 2021 کی ایک پوسٹ میں، اس نے ایک بار پھر سرخی کے ساتھ فتح کا نشان روشن کیا: “بہتر کل کے لیے قربانیاں…..!”8 دسمبر 2021 کو، اس نے Ursula K Le Guin کا ایک اقتباس شیئر کیا، جس میں لکھا تھا: “آپ انقلاب نہیں خرید سکتے۔ آپ انقلاب نہیں لا سکتے۔ آپ صرف انقلاب بن سکتے ہیں۔ یہ آپ کی روح میں ہے، یا یہ کہیں نہیں ہے۔”شاری بلوچ (شاران بلوچ)بلوچستان کے اپنے آبائی ضلع کیچ میں سیکنڈری اسکول کی ٹیچر تھیں۔ اس نے 2014 میں اپنا B.Ed اور 2018 میں M.Ed مکمل کیا۔ اس نے بلوچستان یونیورسٹی سے زولوجی میں ماسٹر اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل کیا۔شاری بلوچ بلوچستان کے اپنے آبائی ضلع کیچ میں سیکنڈری اسکول کی ٹیچر تھیں۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے سکول سے غیر حاضر تھی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔شاری بلوچ نے اپنے پیچھے ایک بیٹی مہروش اور ایک بیٹا میر حسن چھوڑا ہے – دونوں بچے پانچ سال کی عمر کے ہیں۔شاری بلوچ بلوچستان کے اپنے آبائی ضلع کیچ میں سیکنڈری اسکول کی ٹیچر تھیں۔ وہ پچھلے چھ ماہ سے سکول سے غیر حاضر تھی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے اسے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔شاری بلوچ نے اپنے پیچھے ایک بیٹی مہروش اور ایک بیٹا میر حسن چھوڑا ہے – دونوں بچے پانچ سال کی عمر کے ہیں۔ان کے شوہر ڈاکٹر ہیبتن بلوچ مکران میڈیکل کالج میں ڈینٹسٹ اور پروفیسر ہیں۔ اس کے والد ایک سرکاری ایجنسی میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بعد ازاں تین سال تک ضلع کونسل کے ممبر بھی رہے۔ اس کی بھابھی ایک لیکچرر ہیں۔خاندان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ اس کے ماموں میں سے ایک مصنف، سابق پروفیسر اور انسانی حقوق کی مہم چلانے والے ہیں۔یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ کس چیز نے انہیں بلوچ شورش میں شامل ہونے پر اکسایا، لیکن وہ اپنی طالب علمی کے دوران بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO-آزاد) کی رکن رہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس کے خاندان کا کوئی فرد لاپتہ یا جبری گمشدگی کا شکار نہیں ہے سوائے اس کے پانچویں کزن کے جو کیچ میں 2018 میں ایک فوجی آپریشن کے دوران مارا گیا تھا۔اس کے ٹویٹر ہینڈل کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ اسے ارنسٹو چی گویرا، ژاں جیک روسو اور کلاسیکی اور جدید ادیبوں، مصنفین اور شاعروں کے مشترکہ اقتباسات کے طور پر اچھی طرح پڑھا گیا تھا، جن میں ڈینٹ الیگھیری، مارک ٹوین، رابرٹ اے ہینلین اور پاؤلو کوئلہو شامل ہیں۔ “کتابوں کے بغیر کمرہ روح کے بغیر جسم کی طرح ہے،” وہ 30 دسمبر 2021 کی ایک ٹویٹر پوسٹ میں لکھتی ہیں۔.11 دسمبر 2021 کی ایک پوسٹ میں، اس نے کیپشن کے ساتھ کتابوں کے ڈھیر کا ایک فون شیئر کیا: “حاصل کرنے کے لیے ایک دلچسپ اور شاندار ہدف۔”خودکش بم دھماکوں میں عورت کیوں استعمال کی گئی.کچھ سوالات کو جنم دیا ہے: کیا دہشت گرد اپنے آپ کو نئے سرے سے متعین کر ر ہےہیں ؟ اس طرح کے حملوں میں خواتین کو اب کیوں استعمال کرتے ہیں اور پہلے نہیں؟ کیا ان خواتین کی برین واشنگ کی گئی یا زبردستی؟اب ناگزیر ہے کہ انتہا پسندی کے مراکز بھی ختم ہوں تاکہ دہشت گردوں کو نئے ہاتھ میسر نہ آئیں۔ اس کے لئے لازم ہے کہ ان افکار کا ابطال کیا جائے جو انتہا پسندانہ ذہن بناتے ہیں۔ ان اداروں کا خاتمہ ہو جو نوجوانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہیں۔










