..پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والوں کیخلاف کارروائی قابل ستائش اقدام ……………۔۔۔۔۔۔۔۔کالم اندر کی بات
:کالم نگار،اصغر علی مبارک …………………..پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والوں کیخلاف کارروائی قابل ستائش اقدام ہے.افواج پاکستان کے خلاف بالعموم اورھیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کے خلاف بالخصوص جاری نفرت انگیز میڈیا مہم انتہائی قابل مذمت اور ناقابل برداشت ھے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک فوج کے شہدا کا مذاق اڑانے کی سوشل میڈیا مہم شرمناک اور خوفناک ہے۔ اپنی ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کا تمسخر اڑانے اور انہیں برا بھلا کہنے کی سوشل میڈیا مہم صرف شرمناک ہی نہیں خوفناک بھی ہے. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ متکبر اور منافقانہ سیاسی نظریے کا یہی نتیجہ ہے کہ یہ کم سن ذہنوں میں زہرگھول کربدتہذیبی کوترویج دیتاہے. آخرہمارا معاشرہ کس سمت جا رہاہے؟ ہمیں شدت سےخوداحتسابی کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی ٹرولز کی طرف سے سانحہ لسبیلہ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران کا مذاق اڑانے کے ساتھ ان کی تضحیک کی گئی تھی۔ جس انداز میں تحریک انصاف کی قیادت سے لےکر اس سے وابستہ میڈیا،سوشل میڈیاکےلوگوں نےجوانداز اختیار کیاھےیہ پاکستان کےدفاع کوکمزورکرنےکےمترادف ھے فوج کے خلاف منفی اور تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کرنے والے لوگوں کی شناخت کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا اجلاس میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے حکام کو کیس میں اب تک کی گئی تحقیقات کے بارے میں بریفنگ دی گئی, سیکرٹری داخلہ، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ایف آئی اے کے علاوہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اہلکار بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں جو کہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے کہنے کے بعد بنائی گئی ہے۔ کہ پاک فوج کے افسران اور اہلکاروں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں بلوچستان کے شہر لسبیلہ میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد صوبے کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی اور امدادی کارروائیوں کے دوران جس قسم کے مواد کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا اس کے علاوہ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی سوشل میڈیا پر فوج سے متعلق تضحیک آمیز مہم کی مذمت کی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ ملکی اداروں پر الزام لگا کر غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔‘ ہیلی کاپٹر کے بدقسمت حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک منظم توہین آمیز مہم چلائی گئی اور جن لوگوں نے فوج مخالف ٹویٹس کیے ان کی باقاعدہ سرپرستی کی گئی۔مشکل گھڑی میں فوج کو قوم کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے لیکن بعض عناصر منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
افواج پاکستان اور قومی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر ملک دشمن پروپیگنڈا نفرت انگیز مواد اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کریک ڈاؤن کیا اس مہم کے دوران لاہور سے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا جو بیک وقت 22 فیک میڈیا اکاؤنٹس چلا رہا تھا اور ان اکاؤنٹس سے پاک فوج کے خلاف گمراہ کن نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کر رہا تھا قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے فیصل آباد میں کاروائی کرتے ہوئے 6 افراد کو جعلی میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جھوٹی شرانگیز مہم چلانے کے جرم میں گرفتار کرلیا معلوم ہوا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کاروائی کے دوران 1000 سے زائد سوشل میڈیا پیجز کو ضائع کیا جن کو پاک فوج کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا ان کی نگرانی ایک سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا گروپ کر رہا تھا اور اس پر بھارت سے بھی مواد لوڈ کیا جا رہا تھا اداروں نے کراچی پشاور سے بھی 3 ملزمان کو گرفتار کیا ہےجب سے تحریکِ عدم اعتماد میں عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا ہے، پاک فوج کے خلاف نہ ختم ہونے والا منفی پروپیگنڈہ شروع ہوگیا ہے جس میں فوج کی اعلیٰ قیادت پر براہ راست واضح اور مختلف حوالوں سے تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات اور تجزیہ نگار غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دے رہے ہیں جو ادارے کیلئے کسی طور مناسب نہیں ہے۔فوج کے خلاف عمران خان کے توہین آمیز بیان پر قومی اسمبلی میں متفقہ طور پرمذمتی قرارداد منظور کی گئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر عمران کو اداروں کے خلاف زہر اگلنے سے نہ روکا گیا تو پاکستان، شام، لیبیا اور عراق کی بھیانک تصویر بن جائے گا۔ ترجمان پاک فوج کو اس معاملے پر بولنا پڑا اور گزشتہ دنوں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے یہ اعلان کیا کہ ملک میں جاری سیاسی گفتگو اور مباحثوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور اس کی قیادت کو منظم سازش کے تحت دانستہ طور پر گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں اور پاک فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اس سے قبل بھی صاف الفاظ میں یہ یقین دہانی کراچکے ہیں کہ پاک فوج کا حالیہ سیاسی بحران سے کوئی تعلق نہیں اور وہ نیوٹرل ہے مگر اس کے باوجود پی ٹی آئی کے سربراہ اور سینئر لیڈرشپ عوامی جلسوں میں لوگوں کو گمراہ کررہی ہے کہ فوج پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیجنے کی ذمہ دار ہے اور اسے نیوٹرل نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی پاک فوج کے سربراہ کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہے اور اس طرح جو کام ہمیشہ سے ہمارا دشمن سرحد پار بیٹھ کر کرتا آیا ہے، اس بار وہی کام ہم اپنی ناسمجھی کی وجہ سے خود کررہے ہیں اور دشمن اس مہم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ایسی صورتحال سے دشمن ملک بھارت میں خوشی کا سماں ہے اور بھارتی میڈیا عمران خان کے فوج مخالف بیانات کو مرچ مسالہ لگاکر پیش کررہا ہے اور دشمن ملک کی ایجنسیوں کے لوگ بھی فائدہ اٹھارہے ہیں اور مختلف چینلز پر پاک فوج کے خلاف تجزیے پیش کررہے ہیں۔ایک ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایک بھارتی تجزیہ نگار میجر گورے آریا جو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہے.بھارتی چینل پر عمران خان کو بھارت کا دوست قرار دیتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ بھارت کو عمران خان کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ وہ پاکستانی قوم کو فوج کے خلاف اکسا رہا ہے اور اس طرح جو کام بھارتی خفیہ ایجنسیاں لاکھوں ڈالر خرچ کرکے نہ کرسکیں، عمران خان بلا معاوضہ کررہا ہے۔ اسی طرح کی ایک اور ویڈیو میں یہی میجر گورے آریا کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی آرمی فوج نہیں بلکہ ایک گوند (Glue) ہے جس نے پاکستان کے عوام کو جوڑ رکھا ہے اور اگر عمران خان کے فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈے سے فوج کمزور ہوتی ہے تو پاکستانی قوم بھی تتر بتر ہوجائے گی اور پھر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
اس طرح عمران خان بھارت کا مشن پورا کررہا ہے جس پر بھارت کو اس کا احسان مند ہونا چاہئے۔یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے اور دوسری سیکورٹی ایجنسیوں نے پاک فوج کے سربراہ اور ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے کے الزام میں پی ٹی آئی کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا تھا جو ایک منظم مہم کے تحت پاک فوج اور اس کی قیادت کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں مصروف تھے اور عوام میں یہ تاثر پیدا کررہے تھے کہ پاک فوج کی لیڈرشپ تقسیم ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں، پاک فوج منظم ادارہ ہے جس کے جنرلز اور سپاہی میں کوئی اختلاف نہیں اور فوج کا ہر فرد ایک تسبیح کے دانوں کی مانند ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کرکے تمام سازشوں کا خاتمہ کردیا ہے کہ پاک فوج کی قیادت میں کوئی دراڑ نہیں اور آرمی چیف اور تمام جنرلز دشمن کے خلاف متحد ہیں جو اپنے سربراہ کے آرڈر پر عمل کرنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔حکومت اور فوج کو چاہئے کہ فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے تاکہ یہ لوگ بلا نہ بن سکیں اور فوج اور عوام کے درمیان دراڑ نہ پیدا کرسکیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے پولیس تفتیش میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فوج میں بغاوت کے حوالے سے بیان پارٹی سربراہ یعنی عمران خان نے دینے کو کہا تھا۔ شہباز گل نے مزید بتایا کہ مجھے کہا گیا تھا کہ آپ اپنا بیان مکمل کرنا آپ کو چینل کی طرف سے کوئی نہیں روکے گاوزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے خلاف منفی اور تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کی جاتی ہے تو اسے سیاسی بنیاد پر قائم مقدمہ یا سیاسی انتقام نہیں کہنا چاہیے۔ملک و قوم کے لیے جانوں کی قربانی دینے والوں موضوع بحث بنانا پستی کی انتہا ہےدشمن قوتیں ملکی دفاع کو کمزور کرنے کے درپے ہیں لیکن یہاں قومی اداروں کے خلاف ہی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے جو اداروں کی توہین کرتے اور ’شہادتوں‘ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ عمران خان ملک کی بقا کو اپنے اقتدار سے مشروط نہ کریں۔ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل سرفراز کی شہادت کو بلوچستان کی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں یاد کیے جائیں گے لیکن شہادت کا مذاق اڑانا سیاست نہیں کچھ اور چیز ہے جسے میرے جیسا سیاسی ورکر نہیں سمجھ سکتا۔ ملک کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کی حرمت کا پاس کرنا چاہیے’ملک میں ایسا کلچر فروغ دیا جارہا ہے جو ہمارے معاشرے کو تباہ کردے گا۔ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی منفی مہم پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس منفی مہم کا شہداء کے خاندان پر گہرا اثر ہوا ہے اور افواجِ پاکستان کے رینک اینڈ فائل میں بھی بہت غم وغصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی سوشل میڈیا مہم کی وجہ سے شہداء اوران کے لواحقین کی دِل آزاری ہوئی۔ یہ ایک انتہائی مشکل وقت ہے جس میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے لیکن چند بے حس و بے عقل افراد نے سوشل میڈیا پرتکلیف دہ اورتوہین آمیز مہم چلائی جو کہ قطعاً قابل قبول نہیں بلکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ہیلی کاپٹر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کے دوران حادثے کا شکار ہوا لیکن اس حساس موضوع پر بے بنیاد مہم چلائی گئی۔ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف محمد منیب کیانی نامی ایک نوجوان سمیت کئی افراد نے منفی مہم چلائی تھی اور غیر مناسب و غیر اخلاقی الفاظ میں ٹویٹس کیے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ منیب کیانی پاکستان تحریک انصاف سٹوڈنٹ ونگ کے سابق ڈپٹی کنوینر ہیں۔ کھلے عام پراپیگنڈہ کرنے پر پاک فوج نے ان صاحب کا کھوج لگایا۔ منیب کیانی نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے ”دانشوروں“ کی گفتگو سے متاثر ہوکراور مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی غیر مصدقہ اطلاعات پڑھ کر ٹویٹ کر دیے تھے۔ منیب کیانی کے والد فرحت منیب کیانی نے بھی بیٹے کی حرکت پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ محب وطن ہیں،ان کی رگوں میں بھی پاکستان آرمی کا خون دوڑ رہا ہے، وہ دِل و جان سے اس کا احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ کاش کہ اس نوجوان میں ذرا برابر بھی عقل ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ نہ صرف اس کا پتہ لگا لیا گیا بلکہ اس نے سر عام معافی بھی مانگ لی، شاید اس طرح باقی لوگوں کو بھی کچھ نصیحت ہو جائے۔ یہی نہیں بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دِل جوئی کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر صدرِ مملکت عارف علوی کی شہداء کے جنازے میں عدم شرکت کو لے کر بحث کا آغاز کر دیا گیا، مختلف ٹرینڈز چلا دیے گئے، یہاں تک کہ تحریک انصاف کو بیان جاری کرنا پڑا کہ صدرِ مملکت عارف علوی تو شہداء کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن سوشل میڈیا پر جاری پراپیگنڈے کے بعد کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اداروں نے انہیں روک دیا۔ اس کے باوجود بھی بحث نہ تھمی تو صدر عارف علوی صاحب کو میدان میں اترنا پڑا، انہوں نے بیان جاری کیا کہ شہداء کے جنازے میں ان کی عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس سوال پر کوئی بھی گفتگو کرنے سے گریز کیا تواس پر بھی لوگوں کی تسلی نہیں ہوئی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی اِس بات کو بھی اچھالنے کی کوشش کی گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈہ زور و شور سے جاری ہے، دبے الفاظ میں انگلی تو پہلے بھی اٹھائی جاتی تھی لیکن جب سے وفاق میں حکومتی منظر نامہ بدلا ہے، تب سے پاک فوج کو کھلم کھلا معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ترجمان پاک فوج کو بار بار یہ باور کرانا پڑرہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف مہم جوئی سے باز رہا جائے، شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی گفتگو میں متعدد بار اس کا ذکر بھی کیا۔ پاک فوج کا شکوہ، ان کا غصہ اور جذبات کا مجروح ہونا بالکل جائز ہے۔ ہمارے معاشرے میں کبھی یہ صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی، یہاں تو کبھی کوئی حادثہ ہو جائے تو رنگ و نسل اور امیر وغریب ہر تفریق سے بالاتر ہو کر متاثرین کی مدد میں جُت جانے کا رواج تھا، لواحقین کی دِل جوئی اور داد رسی کو فریضہ اول سمجھا جاتا تھا، دوسرے کے دکھ کو اپنا سمجھا جاتا تھا۔ شہید کا کیا مقام ہے، کیا مرتبہ ہے، اس کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، یہ سبق تو ہمیں بچپن سے پڑھایا جاتا ہے،ہر مسلمان شہادت کی آرزو رکھتا ہے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ گئی، جہالت کی انتہاء ہی ہو گئی، جو منفی پراپیگنڈہ کیا گیا،اس کی تو مثال ڈھونڈے بھی نہیں ملتی۔سابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کیا ہوئی، ان کے بعض نادان پیروکاروں نے ریاستی اداروں کو ہی نشانہ بنانا شروع کر دیا، سارا ملبہ ”نیوٹرل“ پر ڈال دیا۔ المیہ تو یہ ہے کہ اہل سیاست کی زبان بھی ان کے قابو میں نہیں ہے اورجب سیاست دان خود ہی غیر محتاط ہو جائیں تو ان کے چاہنے والے تو دو قدم آگے ہی نکلیں گے تاکہ شاہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلا سکیں۔ آئینی طریقے سے حکومت کی تبدیلی ہو یا عدالت کا رات کے وقت کھلنا، سپریم کورٹ میں زیر بحث پارلیمانی معاملات ہوں یا عدالت عظمیٰ میں ججوں کی تعیناتی کا مسئلہ، پنجاب کے ضمنی انتخابات ہوں یا کابینہ کی تشکیل، الیکشن کمیشن کی طرف سے اراکین کو ڈی سیٹ کیے جانے کا مسئلہ ہو یا سالوں بعد دیا گیا کوئی فیصلہ، سب کچھ سوشل میڈیا پر زیر بحث رہتا ہے، کوئی ادارہ یا شخصیت سوشل میڈیا کی شر انگیزی سے محفوظ نہیں ہے۔ اہل سیاست اپنے اختلافات میں ریاستی اداروں کی تکریم کو بھی نظر انداز کر چکے ہیں، آزادی رائے کے نام پر جو منہ میں آتا ہے بولتے چلے جاتے ہیں۔دوسروں پر بغیر سوچے سمجھے حملے کرنے کی روایت ہمارے سیاستدانوں ہی نے ڈالی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے سوشل میڈیا سیل بنا لئے اور پھر انہیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیارواں سال مئی میں تحریک انصاف کینیڈا کے ایک انفارمیشن سیکرٹری طلعت کاشف کا ٹرینڈ کردہ سرگودھا کا رہائشی محمد صداقت پکڑا گیا۔ موصوف پر فوج کے سابق جنرل ہارون اسلم اور جنرل مرزا اسلم بیگ کی جعلی آڈیوز بنا کر وائرل کرنے کا الزام تھا، تحقیقات سے پتہ چلا کہ اس نے نہ صرف کئی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں بلکہ متعدد اکاؤنٹس سابق آرمی افسروں کے نام پر ہیں۔ ایک شخص درجنوں بلکہ بسا اوقات سینکڑوں اکاؤنٹس کے ذریعے سوشل میڈیا پر فیک ٹرینڈ بناتا ہے۔ یہ بات ہر ایک کو سمجھنی چاہئے کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اپنی مرضی نہیں ٹھونسی جا سکتی، کسی پر بھی بغیر ثبوت الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی جماعتیں نوجوانوں کی تربیت کرتی تھیں،رہنما مثالی کردار رکھتے تھے جیسے قائداعظمؒ اور دوسرے قومی رہنما نوجوانوں کی شخصیت سازی پر یقین رکھتے تھے لیکن اب تو ایسے رہنما اور اہل سیاست ناپید ہوتے جارہے ہیں،سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو اپنے ہتھیار کے طور پراستعمال کرتی ہیں اور یہ کچے ذہن کے لوگ اپنے سیاسی رہنماؤں اور من پسند دانشوروں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر ہر حد پار کر جاتے ہیں۔یہ نوجوان جن کا کتاب سے بمشکل ہی کوئی تعلق رہا ہو گا، جنہوں نے تاریخ کے اوراق کبھی نہ پلٹے ہوں گے، جن کے پاس معلومات کا ذریعہ صرف سوشل میڈیا ہو گا، جن کا آئیڈیل بے لگام افراد ہوں تو پھر ایسے نوجوان تو ایسی باتیں ہی کریں گے، ایسے ہی ٹرینڈ چلائیں اور ایسی ہی بے سروپا گفتگو ہی کریں گےیہ بات سمجھنا سب پر لازم ہے کہ سوشل میڈیا اپنی روح کے مطابق آزادی کا متقاضی ہے لیکن یہ مادر پدر آزاد معاشرہ ہرگز نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز کے کمیونٹی سٹینڈرڈز بنائے گئے ہیں جن پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا قوانین بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا گلا گھونٹ سکیں لیکن ان کمیونٹی سٹینڈرڈز کو خاطر میں نہیں لاتے۔اس وقت اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی تربیت کی جائے، انہیں سوشل میڈیا کے اسلوب اور استعمال کے بارے میں بتایا جائے، اخلاقیات کا سبق پڑھایا جائے، سائبر قوانین کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ کمیونٹی سٹینڈرڈز جو کہ ہر پلیٹ فارم پر انگریزی زبان میں موجود ہیں ان کا اردو ترجمہ کرایا جائے تاکہ عام لوگوں کی سمجھ میں بھی بات آ جائے۔ جن تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل میڈیا ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں، حکومت انہیں اپنے ساتھ ملائے اورمعاشرے کی بہتری کے لئے کام کرے سوشل میڈیا انفلوئینسرز سے متاثر ہونے کی بجائے انہیں موثر طریقے سے استعمال کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ ساتھ ہی ساتھ اگر کوئی بھی شخص یا جماعت ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کرے، ان کے بارے میں نازیبا گفتگو کرے تو اس کا کھوج لگانا چاہئے، اس کو جواب دہ ٹھہرانا چاہئے اور خاطر خواہ سزا بھی دی جانی چاہئے۔بلوچستان میں ہیلی کاپٹرحادثے میں شہید پاک فوج کے افسران و جوانوں کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر شہداء اور پاک فوج کے خلاف منفی مہم چلائی گئی.سوشل میڈیا پر اس منفی مہم کا حصہ بننے والےپی ٹی آئی اسٹوڈنٹ ونگ کے محمد منیب کیانی کااعترافی بیان وائرل ہے، دو سال تک انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سینئر ڈپٹی کنوینررہنے والے محمد منیب اس اقدام پر معذرت کی ہے۔اعترافی بیان میں ٹویٹس کرنے والے نے کہا کہ میرا نام محمد منیب کیانی ہے اور میرے والد کا نام فرخ نعیم کیانی ہے۔ میں پی ٹی آئی (آئی ایس ایف) انصاف یونین فیڈریشن کا دو سال تک سینئرڈپٹی کنوینررہاہوں، کل میں نے دو ٹویٹس کیے جن میں سے ایک خود جنریٹ کیا تھا اور دوسرا کاپی پیسٹ کیا تھا۔مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی اور یہ غلطی کچھ لوگوں کے اثر و رسوخ اور کچھ لوگوں سے متاثر ہوکرہوئی، جہاں سے معلومات لیں وہ سولجر اسپیک، ازمہ خان پی ٹی آئی ، سبینہ کیانی اور عمران ریاض کے نام سے پیجزتھےجہاں سے ساری معلومات لے کرٹویٹس کیں۔ وہ میری بہت بڑی غلطی تھی اس میں سے کچھ بھی سچ نہیں تھا اور میں نے تصدیق بھی نہیں کی تھی۔ملزم منیب کیانی کے والد فرخ نعیم کیانی نے معذرت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم محب وطن لوگ ہیں اورپاکستان آرمی کا خون ہماری رگوں میں ہے اور ہم اس کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ یہ غلطی جو میرے بیٹے سے ہوئی ہے میں اسے قبول کرتا ہوں اور آئندہ اسے کہوں گا کہ کبھی بھی ایسی غلطی دوبارہ نہ کرے اور میں خود اس چیزکا ذمہ دارہوں اوراقرارکررہا ہوں کہ آئندہ وہ ایسی غلطی نہیں کرے گا، پاک فوج زندہ باد۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پرمنفی مہم کے باعث شہداء اور اُن کے لواحقین کی دل آزاری ہوئی ہے۔اس مہم پر شہداء کے اہل خانہ اور افواجِ پاکستان میں شدید غم وغصہ اور اضطراب پایاجارہا ہے۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل نے کہا کہ، ” اس مشکل گھڑی میں پوری قوم پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم چند بے حس حلقوں نے سوشل میڈیا پر دل آزاری پرمبنی توہین آمیز مہم شروع کررکھی ہے، یہ رویہ ناقابل قبول اور سخت قابلِ مذمت ہے’۔مزید یہ کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کےخلاف بغاوت پراکسانے کے مقدمے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔عدالت نے شہباز گل کا طبی معائنہ اور آڈیو کی فارنزک ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق شہبازگل کے خلاف الزامات پرجسمانی ریمانڈ ضروری ہے، شہباز گل کی ریکارڈ آواز سے مشابہت کے لیے فارنزک ٹیسٹ بھی ضروری ہے۔شہباز گل کی پیشی کے موقع پرعدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور اسلام آباد پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ صحافیوں کو بھی کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا گیا تھا۔تحریک انصاف کے رہنماشہباز گل کے خلاف بغاوت کے کیس میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس نےشہباز گل سے تحقیقات کےلیے 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔ تحقیقاتی ٹیم ڈی آئی جی آپریشن کورپورٹ کرے گی۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار یونیفارم میں ہیں، اس سے قبل پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز گل کو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ لے گئے۔فوٹیج کے مطابق سیکیورٹی اہلکار شہباز گل کو گاڑی سے باہر آنے کا اشارہ کررہے ہیں، پی ٹی آئی رہنماء کے باہر نہ آنے پر گاڑی کا شیشہ توڑا گیا اور شہباز گل کو باہر لایا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق شہباز گل پولیس اہلکاروں کے ساتھ چلتے ہوئے گاڑی میں جاکر بیٹھے ۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو بغاوت کے مقدمے میں بنی گالا سے گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق شہبازگل کے خلاف تھانہ بنی گالا میں سٹی مجسٹریٹ کی مدعیت میں بغاوت پراکسانے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، انہوں نے ٹی وی ٹاک شو میں ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف بیانات دیے تھے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق شہباز گل نے ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف بیان بازی کی تھی، ان کے بیان اور تقریر کا مقصد فوج میں بغاوت پھیلانا اور سازش کرنا تھا، شہباز گل کا مقصد فوجی جوانوں کو اپنے افسران کا حکم نہ ماننے کی ترغیب دینا تھا۔پولیس کے مطابق مقدمے میں اداروں اور ان کے سربراہوں کے خلاف اکسانے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی تھیں۔