پاک فوج کی قیام امن کیلئےبلوچستان میں قربانیوں کا سلسلہ جاری۔……………..۔۔کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک…………………………بلوچستان میں امن اور ترقی پاک فوج کی اولین ترجیح ہے فوج سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز نے بلوچستان کی ترقی کے لیے کوششیں مربوط کردی ہیں۔ فوج بلوچستان کے عوام کی سماجی اور اقتصادی بہتری کیلئے پُرامن ماحول فراہم کرنے کی غرض سے تمام تر ممکن اقدامات کر رہی ہے پاک فوج کا قیام امن کیلئےبلوچستان میں قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجود کئی بار اس عزم کی تجدید کر چکےہیں کہ بلوچستان کا امن اور خوشحالی پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاک فوج بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے پائیدار امن کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ بلوچستان میں امن اور خوشحالی پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے استحکام کے خلاف عناصر کو شکست دینے کے لیے ثابت قدم رہیں گے ۔پاک فوج کا ماضی ملکی سلامتی ، یکجہتی، دفاع ، آزادی، سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے بڑا سنہرا تاریخی اور شاندار رہا ہے۔ مسلح افواج نے بلوچستان کی ترقی کے لیے جو متعدد منصوبے شروع کئے ہیں ان کی مدد سے بلوچ بھائیوں کے لئے خوشحال اور بامعنی زندگی گزارنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی ان مٹ قربانیوں کے بعد بلوچستان میں امن لوٹ آیا ہے اور اس کامیابی میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔اس وقت بلوچستان میں پاکستان آرمی کے فرنٹیئر کور کی زیر نگرانی 113 سکولز چل رہے ہیں اور بلوچستان بھر میں تقریباً 40ہزار طلباء ان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ بلوچستان میں نو کیڈٹ کالج ہیں جو سوئی، پشین، مستونگ، پنجگور، جعفرآباد، کوہلو، تربت، نوشکی اور آواران میں قائم کئے گئے ہیں۔ ان کیڈٹ کالجوں میں 2500 سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ معیاری تعلیم فراہم کرنے کے علاوہ کیڈٹ کالج اور سکول مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا رہے ہیں جو اپنے بچوں کو ان اداروں میں بہتر مستقبل کے لیے بھیجتے ہیں۔ بلوچ طلباء کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوئٹہ میں نسٹ کیمپس کامیابی کے ساتھ قائم کیا گیا ہےبلوچستان کی ترقی کے لئے تربیت، صحت، انفرااسٹرکچر کی ترقی اور دیگر مالیاتی بہتری جیسے تمام شعبے شامل ہے، اسی طرح سیلاب سے نجات ،تعلیم، صحت اور کھیلوں کے میلے سمیت دیگر قدرتی آفات میں بھی پاک فوج نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان میں “ملٹری کالج سوئی” جیسا ادارہ قائم کرکے صوبے کے نوجوانوں کو پاک فوج میں افسروں کی صفوں میں بھرتی ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ ادارہ صوبے کے نوجوانوں کو پاک فوج میں آفیسررینک میں شمولیت کا موقع فراہم کرتاہے۔یہاں سے فارغ ہوکر بلوچستان کے اکثر نوجوان پاک فوج میں بطور افسر شامل ہو رہے ہیں۔چمالنگ کے تحت غریب پسماندہ علاقوں کے طالب علموں کو اسکالرشپ کے ذریعے مفت تعلیم دلانے کے مواقع پیدا کئے جار ہے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور افراتفری پھیلانےکی ناپاک کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلوچستان میں ترقی اور استحکام پاکستان کی خوشحالی کے لئے اہم ہے دہشت گردوں نے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں شدید فائرنگ کے نتیجے میں دو فوجی شہید اور ایک افسر زخمی ہوا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنانے کے بعد فرار ہونے والے دہشت گردوں کا قریبی پہاڑوں میں تعاقب کیا گیا، فرار ہونے والے دہشت گردوں کو گھیرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دہشت گرد اور گشت کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اس جھڑپ میں نائیک عاطف اور سپاہی قیوم نے جام شہادت نوش کیا جبکہ میجر عمر زخمی ہو گئے۔بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دہشت گردوں کے ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق سلولی کی سرکاری رہائش گاہ پر حملے سے لیویز کا ایک اہلکار زخمی اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔حکام کا کہنا ہے کہ دستی بم ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے عقبی حصے میں پھٹا، دھماکے کے نتیجے میں لیویز آپریٹر صغیر احمد زخمی اور ایک بلٹ پروف گاڑی سمیت چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ڈپٹی کمشنر سلسولی اور گھر میں موجود دیگر افراد محفوظ رہے، دھماکے کے فوراً بعد لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمی آپریٹر کو ہسپتال منتقل کیا۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دستی بم حملے میں ملوث موٹر سائیکل سواروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔دوسری جانب بلوچستان میں مختلف واقعات میں پاک فوج کے جوان شہید اور دو زخمی ہو گئے پاک فوج صوبے کے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے جس تیزی سے کام کر رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ بلوچستان کی محرومیاں دور ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔پاکستان کی ترقی بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے وابستہ ہے۔پاکستان کی مجموعی ترقی بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے منسلک ہے بلوچستان میں امن دشمنوں کو امن پسند نہیں۔فوج بلوچستان کے عوام کی سماجی اور اقتصادی بہتری کیلئے پُرامن ماحول فراہم کرنے کی غرض سے تمام تر ممکن اقدامات کر رہی ہےپاک فوج صوبے کے امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے جس تیزی سے کام کر رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ بلوچستان کی محرومیاں دور ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے بلوچستان ملک کا سب سے حساس علاقہ بھی ہے۔ماضی میں رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن آبادی کے حجم کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہونے کے باعث بلوچستان محرومیوں اور مایوسیوں کا شکار رہا ہے۔ سیاسی قیادت اس کی تعمیر و ترقی کیلئے باتیں تو بہت کرتی ہے لیکن عملی کاموں پر کسی حکومت نے اس پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی دینی چاہیے تھی۔ ایسے میں یہ پاک فوج ہی ہے جس نے نہ صرف یہاں بیرونی قوتوں کے ایما پر ہونے والی دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی بیخ کنی کی بلکہ تعلیم صحت مواصلات اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بھرپور کام کیا اور اب بھی کر رہی ہےیہاں کے عوام قیامِ پاکستان کے روز سے ہی حقِ حاکمیت اور ساحل و وسائل پر اختیارات کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ صوبے کی پسماندگی کا خاتمہ ہو اور وہ قومی دھارے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں,اتحادی حکومت بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی عمائدین کے بھرپور تعاون سے مستقبل کے لائحہ عمل کے تعین کیلئے پر عزم ہے۔بلوچستان میں امن دشمنوں کو امن پسند نہیں۔ پاک فوج دن رات قربانیاں دے رہی ہے۔جلد ہی وہ وقت آئیگا جب بلوچستان میں امن ایک بار پھر قائم ہو جائیگاماضی میں بلوچستان کی حالت کیا تھی یہ بات کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں۔ بلوچستان میں حکومت کی رٹ کہیں بھی نظر نہیں آتی تھی۔یہاں تک کہ کوئٹہ شہر میں بھی علیحدگی پسند اور ملک دشمن ایجنسیاں محب وطن لوگوں کو چن چن کر قتل کیے جا رہیں تھیں۔ بلوچستان میں آگ و خون کا بازار گرم تھا بلوچستان جو قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ ہے مگر قیام پاکستان کے وقت سے ہی کسی بھی حکومت نے وہاں کہ عوام کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کیا۔اگر سیاست دانوں نے بلوچستان کی ترقی کے لیے کام کیے ہوتے تو بلوچ قوم کبھی بھی امن کے دشمن کا آلہ کار نہ بن پاتے۔پاک فوج نے اپنی شب و روز کی محنت سے بلوچستان میں ملک دشمنوں کو بے نقاب کیا بھارتی دشت گرد تنظیم ’’را‘‘ کے گٹھ جوڑ کو ناکام بنایا اس سےبھارت کا مکرہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ہےوطن کی محبت سے سرشار پاک فوج کے جوانوں اور افسران نے اپنی شب و روز کی قربانیاں سے بلوچستان میں امن کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہچانے کی کامیاب کوشش کی ہے بلوچ نوجوان وطن کی محبت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔بلوچستان میں امن خراب کرنے میں شروع دن سے ہی غیر ملکی طاقتیں سرگرم عمل رہی ہیں۔بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اسی وجہ سے غیر ملک دشمن طاقتوں کی نظروں میں یہ کھٹکتا رہا ہے۔دشمن کو پتہ ہے اگر یہاں امن قائم ہوگیا تو پورے بلوچستان کے ساتھ ساتھ پورا ملک پاکستان بھی ترقی کی منازل طے کرتا چلا جائے گا۔دشمن قوتیں دیکھ لیں کہ بہت تھوڑے عرصے میں اب پورے بلوچستان کے طول و عرض میں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے بلوچستا ن میں قیام امن کیلئے پاک فوج کی بہت قربانیاں ہیں,جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خدا کرے کہ بلوچستان بھی بہت جلد ترقی کے راستوں پر سفر کرنے لگے اور بلوچ عوام کو بھی بہتر زندگی گزارنے کے برابر مواقع میسر ہوں ماضی کی وفاقی حکومتوں نے بلوچستان سے انصاف نہیں کیا اور بلوچستان کے سیاست دانوں نے بھی صوبے کے ساتھ زیادتیاں کیں، بلوچ عسکریت پسندوں سے بات چیت سے رنجشوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔دو دہائیوں سے پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغان سرزمین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے اِس مداخلت کے ٹھوس ثبوت بین الاقوامی سطح پر پیش بھی کیے ہیں۔ بلوچستان میں بغاوت کی تحریکوں کو نہ صرف بھارت نے ہوا دی بلکہ پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ بلوچستان میں عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنی چاہیے ماضی میں رنجشیں رہی ہیں لیکن اب حالات وہ نہیں ہیں۔اِس مقصد کے لیے بلوچستان کی سیاست کے بڑے نام نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی, اپنا سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 04 جون 2022 کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ گوادر کے حوالے سے کہا تھا کہ اتحادی حکومت کا مقصد بلوچستان کی صوبائی حکومت اور مقامی عمائدین کے ساتھ مل کر کام کرکے آگے بڑھنے کا راستہ طے کرنا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دورہ گوادر کے دوران دیکھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وہاں کے لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ہ گوادر کے لوگوں کے لیے کوئی بھی پانی اور بجلی کا منصوبہ مکمل نہیں کیا جاسکا تاہم ترقی دینے کے نام پر اربوں روپے اور وقت کا ضیاع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کا بھی یہی حال ہے تاہم گزشتہ روز دورے کے بعد گوادر یونیورسٹی، ایئر پورٹ کو جلد مکمل کرنے اور پینے کے صاف پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب کا حکم دے دیا گیا ہےبلوچستان میں بلوچ رہنما میر غوث بخش بزنجو، سردارعطا اللہ مینگل، نواب خیر بخش مری اور نواب اکبر خان بگٹی ماضی میں بھی اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔علیحدگی پسندی کے نام پر کام کرنے والی تنظیموں کا انحصار مکمل طور پر بیرونی طاقتوں کی حمایت پر ہےاِنھیں پاکستان مخالف بیرونی قوتوں سے سرپرستی حاصل رہی ہےجن میں بھارت سرفہرست ہے اور کسی بھی طرح سے بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکام بنا نا چاہتا ہے۔ بھارت کی اِس سازش میں پاکستان مخالف دوسری قوتیں اور سی پیک مخالف قوتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔اگر پاکستان کی موجودہ حکومت بلوچستان کے ناراض نوجوانوں سے بات چیت کر کے اُنھیں منانے میں کامیاب ہو جا تی ہے اور بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی دور ہو جا تا ہے تو پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط ہو نے سے کوئی نہیں روک سکتاپاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے علیحدگی پسندوں سے جا ملتے ہیں جنہیں بھارتی خفیہ ادارے ہرقسم کی معاونت فراہم کررہے ہیں جسکے ناقابل تردید ثبوت پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے رکھےہیں بھارت کھلے عام اعتراف کرنے لگا ہے کہ وہ بلوچستان میں نہ صرف یہ کہ مداخلت کرتے آئے ہیں بلکہ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کے لئے دہشت گردی کی کھلی معاونت بھی کرتے رہے ہیں حالیہ مزاحمتی تحریک جس کا آغاز اگست 2006ء میں نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت سے شروع ہوا جس کے بعد بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ری پبلیکن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور لشکر بلوچستان جیسی تنظیموں کو بہرحال اُبھرنے کا موقع ملا۔ اِن 4تنظیموں میں 3کے رہنما یعنی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی، نواب خیر بخش مری کے بیٹے ہربیار مری اور سردار اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل برسوں سے پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ اِس کے علاوہ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنما ڈاکٹر اللہ بخش نذربھی ایک تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں 1970 میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان کو پہلی بار صوبے کا درجہ ملنے پر حالات کو سدھارنے میں بڑی مدد لی جا سکتی تھی۔ اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں کو یہ موقع ملا تھا کہ وہ مزاحمت کار بلوچ جنگ جوئوں کو اعتماد میں لے کر ایک ایسی فضا بحال کرتے جس سے علیحدگی پسندوں اور آزادی کا نعرہ لگانے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی,بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) پہلی مرتبہ 1970 کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں بلوچستان میں ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت شروع کی گئی تھی۔یہ ستمبر 1970 کے دہائی کے اوائل کی بات ہے جب زمانہ طالب علمی کے دوران راقم الحروف کے والد محترم ڈاکٹر مبارک علی کوئٹہ میں ایک سرکاری اہلکار کی حثیت سے خدمات انجام دے رہےتھے راقم الحروف کا گھر پاور ھاوس کے بالمقابل بابومحلے میں تھا اور ریلوے اسٹیشن کوئٹہ کچھ فاصلے پر تھاکہ 6 ستمبر کے روز ہمیں بتایاگیاکہ قانون نافذ کرنے والےاداروں نے بلوچستان علیحدگی پسند تنظیم کے شرپسندوں کو بھاری اسلحہ کی کھیپ سمیت گرفتارکرلیاھے اور یوم دفاع پر پکڑے گئے اسلحے کو ریلوے اسٹیشن کوئٹہ پر عوام کیلئے نمائش کے لئے رکھاگیاھے راقم الحروف کو یاد ھےکہ تمام پکڑاگیااسلحہ ریل گاڑی کی مسافر بوگیوں کے اندر نشتوں پر رکھاگیاتھابابومحلہ میں واقع ھائی سکول کے طالب علموں اور اپنے استاد محترم عبداللہ صاحب کے ہمراہ ہمیں پہاڑوں پر مطالبات کے لئے چڑھ جانے والے بلوچ عسکریت پسندوں کے بارے میں آگاہی دی گئی۔اگر اس وقت کے زمہ داراں اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے تو بعد میں مشرقی پاکستان کی شورشوں پرقابوپایاجاسکتاتھامگر سیاست دانوں نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہ کیااگر صوبے کی ترقی پر توجہ دی جائے تو حکومت کو صوبے میں شورش کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔جب یہاں امن ہوگا اور یہاں کے لوگ سوچیں گے کہ یہ ہمارا بھی پاکستان ہے اور اِس کے لیے ہمیں بھی لڑنا مرنا چاہیے کیوں کہ یہ ہماری بنیادی ضروریات اور مشکلات کا بھی سوچتا ہےہوسکتا ہے کہ اُنھیں ماضی کے رنج ہوں اور دوسرے ممالک سے استعمال بھی ہوئے ہوں یا بھارت ان کو انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کرے لیکن اب صورت حال ویسی نہیں سی پیک کے ثمرات کے لیے بلوچستان بہت اہمیت کا حامل ہےکلبھوشن کے بعد بھارت کا دہشت گردی کا دوسرا بڑا نیٹ ورک بلوچستان میں بے نقاب ہوا پاک فوج نے بھارت کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بہت کامیابی سے توڑا ہے اور ملوث عناصر کو پکڑ لیا جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے,ناراض بلوچوں کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا کا عمل جتنی جلدی ممکن ہو شروع ہوجاناچاہے.بلوچستان کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کے لیے ضروری ہے کہ اُن اسباب پر نظر ڈالی جائے جس کے سبب بلوچستان میں محرومیوں کی سوچ پروان چڑھی, اگر اِن اسباب کو ختم کیا جائے تو بلوچستان کی محرومیوں کا بھی خاتمہ ہو گا اور ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے گا..