پاک فوج کی سیلاب زدہ علاقوں میں جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں ..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……….پاک فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایات پر پاک فوج کے دستے سندھ، بلوچستان، پنجاب، کے پی میں سول انتظامیہ کی مدد کررہے ہیں,آرمی چیف کی ہدایات پر پاک فوج کور کمانڈر بلوچستان جنرل آصف غفور کی زیر نگرانی پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں,نصیر آباد، دکی اور لسبیلہ دیگر متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ ,ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں, پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی بین الاقوامی برادری اور تنظیموں سے پاکستانی سیلاب متاثرین کی امداد کی اپیل کی ہے۔۔پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم متاثرین سے تعزیت کرتے ہیں اور ہمارے دل متاثرہ خاندانوں کے لیے غمزدہ ہیں۔‘انہوں نے مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سیلابی صورت حال پر پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے افسوس کا اظہار کیا ہےپاک چین اقتصادی راہداری کے سوشل اور لائیولی ہڈ تعاون کے تحت چین پہلے ہی چا ہزار خیمے، 50 ہزار کمبل اور 50 ہزار واٹر پروف ترپالیں پاکستان کو بھجوا چکا ہےان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے چین نے فیصلہ کیا ہے کہ 25 ہزار خیموں سمیت دیگر امدادی سامان بھی جلد از جلد بھیجا جائے۔ چین کی ریڈ کراس سوسائٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ہلال احمر کو تین لاکھ ڈالرز امداد دے گی سندھ حکومت نے صوبے میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثرہ لوگوں کی امداد کے لیے سندھ فلڈ ریلیف فنڈ قائم کردیا ہےاس فنڈ میں سندھ کی کابینہ کے اراکین ایک ماہ کی تنخواہ، گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازمین پانچ دن کی تنخواہ، گریڈ 16 اور اس سے نچلے گریڈ کے تمام ملازمین دو دن کی تنخواہ کے برابر رقم جمع کروائیں گے۔ پاک فوج کی امدادی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ ’کنا یاری‘ گلوکار عبدالوہاب بگٹی کے ہاں امدادی سامان لے کر پہنچی،کوک اسٹوڈیو پر مشہور بلوچی گانا “کناں یاری”گانے والے بلوچ فنکار عبدالوھاب بگٹی کو کیش رقم کی ادائیگی کےساتھ محفوظ مقام پر خاندان سمیت منتقل کردیا گیا. لوگوں نے پاک فوج کی ٹیموں کا شکریہ بھی ادا کیا پاک فوج کی ملک بھرمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ، حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو اور نوشہرو فیروز میں پاک فوج کی ٹیمیں موجود ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے2 ہیلی کاپٹر کراچی سے اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں ، سندھ ،بلوچستان ،خیبرپختونخوا اور پنجاب کے سیلابی علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے ۔ کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ بلوچستان کے علاقے نصیرآباد،لسبیلہ اور دکی میں ریلیف کیمپ قائم کردیئے گئے ہیں جبکہ آرمی اور ایف سی نے بھی متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی زوروشورسےجاری ہے ، ہیلی کاپٹرزکی مددسے4پروازیں کرکےامدادی سامان پہنچایاگیا،چترال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ریلیف آپریشن جاری ہے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے پاک فوج مزید اقدامات کر رہی ہے۔مزید برآں اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لیے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کیں۔آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپورتعاون سے متعلق آگاہ کیا۔ متاثرہ علاقوں میں راشن پیک اور دیگر امدادی سامان بھی تقسیم کیا جا رہا ہے، جہاں ضرورت ہو وہاں طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں پاک فوج کے دستوں کی جانب امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے پاک فوج کے دو خصوصی آرمی ہیلی کاپٹرز کراچی سے اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیے گئے ہیں۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی زوروشورسےجاری ہے ، ہیلی کاپٹرزکی مددسے4پروازیں کرکےامدادی سامان پہنچایاگیا،چترال اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ریلیف آپریشن جاری ہے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے پاک فوج مزید اقدامات کر رہی ہے۔خیال رہے کہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوان جان کی قربانیاں دے کر تاریخ میں امر ہوچکے ہیں ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے چھ افسروں اور جوان جن میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی،ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف ستی، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شہید ہوگئےتھےآرمی چیف اس عزم اعادہ کرچکے ہیں کہ کہ پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر بلوچستان سے رابطہ کیا، اس دوران آرمی چیف نے بلوچستان میں سیلاب کی صورتحال کے متعلق معلومات حاصل کیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے بلوچستان میں خصوصی طور پر بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ریلیف، ریسکیو اور بحالی آپریشن میں فوج سول حکومت کی بھرپور مدد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے اور ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کی مدد کی جائے۔پاک فوج اس مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد ایک قومی فریضہ ہے۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بارشوں کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے، بلوچستان اور سندھ میں تباہی و بربادی سے قیامت صغری کا منظر ہے، سینکڑوں پاکستانی سیلاب کے باعث اپنے پیچھے جدائی کا غم چھوڑ گئے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ سیلاب متاثرہ سینکڑوں زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کرتے ہیں، بہت بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، مال مویشی، فصلوں، باغات اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ دن رات کام کر رہی ہیں، مجموعی طور پر37 اعشاریہ 2 ارب روپے سیلاب زدگان کیلئے دیے جا رہے ہیں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہرجاں بحق فرد کے خاندان کو10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں، گھروں کے گرنے اور دیگر نقصانات پر زرتلافی دیا جائے گا، متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد کی ادائیگی بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس امداد کیلئے 80 ارب روپے سے زائد درکار ہیں انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصانات کو پورا کرنا ہے، امداد کی کوششوں کے دوران پاک آرمی کے افسران نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ہاتھ بٹائے تو ہم کئی گنا زیادہ رفتارسے متاثرین کی جلد امداد کرسکیں گے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ایثار و قربانی میں ہماری قوم سب سے آگے ہے، سب تعاون کریں، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قائم فنڈ میں دل کھول کرعطیات جمع کرائیں، آئیں مصیبت زدہ بھائیوں کی انصار مدینہ کی طرح مدد کریں۔ چمن، کوہلو، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، موسیٰ خیل، نوشکی، خضدار، لسبیلہ کے اضلاع میں سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آنے سے بڑی تعداد میں کچے مکانات گر گئے۔سیلاب کے ایک نئے سلسلے نے تباہ حال نوشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں مال، بٹو اور کیشنگی سمیت متعدد رہائشی علاقے زیر آب آگئے اور سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔کوئٹہ-سکھر ہائی وے کے علاوہ تمام شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہونےسے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیاپل بہہ جانے کے باعث کوئٹہ-لسبیلہ-کراچی شاہراہ کئی روز سے بند ہے جبکہ بلوچستان کو پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ملانے والی کوئٹہ-ژوب اور کوئٹہ-لورالی شاہراہوں پر بھی ٹریفک گزشتہ 2 روز سے معطل ہےنیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 14 جون سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 780 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور ملک کے 109 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب اور بارشوں سے ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔سیلاب اور بارش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ شامل ہیں۔ بلوچستان کے 34 اور خیبرپختونخوا کے اضلاع 33 سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سندھ کے 23 اضلاع کو صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے تین اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیںبلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے ڈیڑھ ماہ سے نظام زندگی درہم برہم ہے۔صوبے کی بیشتر سڑکیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں،کئی علاقوں میں سڑک کچے راستے میں تبدیل ہوگئی ہے۔صوبے کی 690کلو میٹر سڑکیں اور 18پل بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہوگئے جب کہ کوئٹہ کا خضدار کے راستےکراچی، فورٹ منرو کے راستے پنجاب اورداناسرشیرانی کے راستے خیبرپختونخوا اور اسلام آباد سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا پاک فوج کی ٹیمیں انتظامیہ کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کا کام بھی جاری ہےبارشوں کے نتیجے میں معاشی طور پر بھی اربوں روپے نقصانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سندھ نے کراچی سمیت سندھ کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے کر نقصانات کا سروے شروع کر دیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی ہدایت پر کراچی میں بارش سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔پاک آرمی اور رینجرز کی 70 ٹیمیں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہیں،آرمی انجینئرز مشینری،ہیوی پلانٹ کے ذریعے ریلیف آپریشن کر رہے ہیں۔پاک فوج کو دنیا کی عظیم فوج ھے پاک فوج کے افسران ہر اول دستے کے طور پر ہر محاذپر جوانوں کے شانہ بشانہ خدمات دیتے نظر آتے ہیں ملک میں حالیہ طوفانی بارشوں سےمتاثرہ افراد کو ریسکیو کیا اور اپنی ضرورت کا دو یوم کا راشن بھی متاثرین کو عطیہ کرکے اصحاب رسول خدا کی یاد تازہ کردی پاک فوج عسکریہ پاکستان کی سب سے بڑی شاخ ہے۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدوں کا دِفاع کرنا ہے ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ پاک فوج کا نصب العین ہے. اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک و قوم کی مشکل حالات میں مدد کر کے انکی زندگیاں بچانا ھےآفت زدہ بلوچستان میں پاک فوج جنگی بنیاد پر امدادی کاموں میں مصروف ھے مگرسیاستدانوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ھےمیڈیاپر بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتےہیں پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 73 اموات ہوئی ہیں جن میں خیبر پختونخوا کے علاقے اپر دیر میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر ڈوبنے والے پانچ بچے بھی شامل ہیں۔ عداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئیں، جہاں 54 افراد بارشوں اور سیلاب کی نذر ہوئے جبکہ پنجاب میں 13 اور بلوچستان میں پانچ اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے 23 اگست کو صوبے میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی تھی جو 26 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ شدید بارشوں کا یہ سلسلہ 26 اگست کو بلوچستان کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں پہنچنے کا امکان ہے جس کی وجہ سے دادو، جامشورو اور قمبر شہداد کوٹ سمیت بلوچستان سے سندھ میں داخل ہونے والے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کی وجہ سے بدھ 24 اگست تک 903 افراد مارے گئے اور1293 افراد زخمی ہوئے ہیں مرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد 293 کا تعلق سندھ سے ہے۔ بلوچستان میں 230، خیبر پختونخوا میں 169، پنجاب میں مجموعی طور پر بارشوں کی وجہ سے 164، گلگلت بلتستان میں نو، پاکستان کی زیر انتظام کشمیر میں 37 اور اسلام آباد میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق چار لاکھ 95 ہزار سے زائد گھر اور دکانوں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ بارشوں اور سیلاب کے باعث سات لاکھ سے زائد مال مویشی بھی مرے ہیں۔ ملک میں مجموعی طور پر 150 کلومیٹر سڑکیں بھی بارشوں سے متاثر ہوئی ہیں جو اب قابل استعمال نہیں۔ اعداد و شمار میں بارشوں اور سیلاب کی صورت حال سے اب تک مجموعی طور پر 31 لاکھ ایک ہزار 525 افراد متاثر ہوئے ہیں، 45 ہزار 598 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے اور ایک لاکھ 84 ہزار افراد امدادی کیمپس میں رہ رہے ہیں۔ موجودہ سیلابی صورت حال کا حجم 2010 میں آنے والے سیلاب سے بھی زیادہ معلوم ہو رہا ہے ’سیلاب سے کھڑے پانی سے موذی وبائیں ہیضہ، اسہال، ملیریا اور ڈینگی پھوٹنے کا اندیشہ ہے اس مقصد کے لیے صحت کی ٹیمیں تمام متاثرہ علاقوں میں طلب کی گئی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر خیموں یا کم از کم واٹر پروف ترپال فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مزید بھیگنے اور سیلاب کے نتیجے میں پھوٹنے والی موزی بیماری سے خود کو محفوظ رکھ سکیں متاثرین کو مچھروں سے بچنے کے نیٹ یا مچھر بھگانے والی یا مچھر کش ادویات چاہییں تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکیں سیلاب متاثرین کو اس وقت فوری طور پر تیار یا پکی پکائی خوراک کی ضرورت ہے کیوں کہ ان کے پاس خشک خوراک کو پکانے کا کوئی بندوبست نہیں۔ فوری طور پر سیلاب متاثرین کو ہائیجین کٹس یعنی صابن، تولیے، بالٹیاں اور لوٹوں کی بھی ضرورت ہے پاک فوج کے دستے حالیہ بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال سے متاثرہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ھے کہ تمام حکومتی اور غیر سیاسی ادارے پاک فوج کے شانہ بشانہ سیلاب زدگان کی عملی خدمت میں حصہ لیں پاک فوج کی خدمات اتنا کہوں گا ویلڈن پاک فوج آپ ھمارا فخر ہیں۔۔پاک فوج زندہ باد۔۔پاکستان پائندہ باد۔































