پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں ; سپہ سالار کی متاثرین کی ہر ممکن معاونت کی ہدایت ……………………..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ….پاک فوج کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آرمی ہیلی کاپٹرز کی 200 پروازوں کے ذریعے امدادی سرگرمیوں کو ممکن بنایا گیا۔ اب تک 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ آرمی کے 147 ریلیف کیمپ سیلاب متاثرہ علاقوں میں سیلاب میں پھنسے1991 افراد کو نکالا گیا،جبکہ اب تک 60 ہزار سے زیادہ مریضوں کو مفت علاج، ادویات فراہم کی ہیں۔لگائے گئے ہیں۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 162 ٹن امداد سیلاب متاثرین میں تقسیم کی گئی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے روجھان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،متاثرین سے ملاقات بھی کی. پاک فوج کے جوان متاثرہ بھائیوں اوربہنوں کا بوجھ کم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں،جنرل قمرباجوہ،ڈیرہ اسماعیل خان کابھی دورہ بھی کیا. آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کی، آرمی چیف نے متاثرین کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج مشکلات پر قابو پانے کیلئے سیلاب متاثرین کی مدد کرےگی آرمی چیف نے پاک فوج کے جوانوں کو ہدایت کی کہ اس ذمہ داری کو نیک مقصد کے طور پر لیں، سیلاب متاثرہ بھائیوں اوربہنوں کے بوجھ کو کم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ علاوہ ازیں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈیرہ اسماعیل خان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کابھی دورہ کیا ۔ سپہ سالار نے سیلاب متاثرین سے ملاقات اور تفصیلی بات چیت کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیلاب متاثرین کے نقصان پر انہیں تسلی دی۔انہوں نے فرنٹیئر کور ساؤتھ کو سیلاب متاثرین کی ہر ممکن معاونت کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا کے لئے آرمی فلڈ کنٹرول ہیلپ لائن 1125 اور دیگر علاقوں کے لئے 1135 ہیلپ لائن فعال ہے، شہری کسی بھی مدد کےلئے ان ایمرجنسی نمبرز پر رابطہ کرسکتے ہیں۔پاک فوج کے 157 ہیلی کاپٹرز نے ایک ہزار 87 پھنسے ہوئے افراد کو نکالا، آرمی ایوی ایشن کے ذریعے 72 ٹن امدادی سامان پہنچایا گیا جبکہ متاثرہ علاقوں سے 50 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، مختلف میڈیکل کیمپوں میں 51 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور مفت ادویات فراہم کی گئیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں امدادی سامان جمع کرنے کے لئے 221 ریلیف پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں، ان پوائنٹس پرایک ہزار 231 ٹن امدادی اشیا،غذائی اشیا اور ادویات جمع کی گئی جو متاثرہ علاقوں کو پہنچائی جارہی ہیں۔ ایف ڈبلیو او نے نیشنل ہائی وے اتھارٹیز کے ساتھ مل کر قراقرم ہائی وے اور جگلوٹ سکردو روڈ کی بروقت بحالی کویقینی بنایا ہے، سندھ میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو بڑھانے کے لیے اضافی انجینئر اور طبی عملہ کراچی منتقل ہوگئے ہیں . اس کے علاوہ سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب ملتوی کردی ہے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ ملک میں آنے والے بدترین سیلاب سے متاثر ہونے والوں سے اظہار یکجہتی کے لیے راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں 6 ستمبر کو یوم دفاع و شہدا کی مناسبت سے ہونے والی مرکزی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج بے مثال سیلاب سے متاثرہ ہمارے بھائیوں اور بہنوں کی خدمت جاری رکھے گی۔ ۔اسی دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ 20 سے زائد ممالک کے سفارت کاروں اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا۔ترکمانستان، بحرین، سعودی عرب، آذر بائیجان، جرمنی اور سپین کے سفارتکار سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تھے۔ان کے ہمراہ امریکا، چین، فرانس، جاپان، اٹلی، جنوبی کوریا، قطر اور ترکیہ کے علاوہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے نمائندگان نے بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور عالمی اداروں کے نمائندگان کو پاکستان میں ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔سربراہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان میں بد ترین سیلاب اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، متاثرہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی پہلی ترجیح ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کی جانب سے کہا گیا کہ وبائی امراض کی روک تھام کے لیے بیمار افراد کی نگرانی کرنا ہوگی۔خیال رہےکہ محکمہ صحت پنجاب نےسیلاب متاثرین میں وبائی امراض کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس کے مطابق جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ وبائی امراض سامنے آئے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کا شکار ہیں جن میں37 ہزار سے زائد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 33 ہزار سے زائد سیلاب زدگان خارش اور جلدی امراض کا شکار ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے17ہزار سے زائد سیلاب متاثرین ڈائریا یا پیٹ کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے ہیں، متاثرہ علاقوں کے مکینوں میں ڈائریا، جلدی امراض، سینے اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے محکمہ صحت کی جانب سے کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں جہاں اب تک ایک لاکھ 14 ہزار661 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، صوبے میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 10 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا، چارسدہ میں سب سے زیادہ 42 ہزار 990 افراد کا علاج کیا گیا، ڈی آئی خان میں 23 ہزار 992 سیلاب زدگان کا علاج کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ضلع خیبر میں 10 ہزار 517 سیلاب زدگان کا علاج کیا گیا، متاثرہ 13 اضلاع میں 137 میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔یہاں ذکر کرنا اہم ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بین الاقوامی طور پر دنیا کا تیسرا خطرناک ترین ملک بن چکا ہے ۔عالمی برادری موسماتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے لاحق طویل المدتی خطرات کو بھانپ چکی ہے۔ اس لئے ’’ ورلڈ واچ انسٹی ٹیوٹ‘‘ اور برطانیہ کے چیف سائنٹیفک ایڈوائزر ڈیوڈ کنگ موسمی تبدیلیوں کو دہشت گردی سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں لیکن کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہمیں نہ تو عالمی ماہرین اور نہ ہی عالمی فورم یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو سکے ہیں کہ ہم واقعی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ’’ ریڈ زون ‘‘ میں ہیں۔ اب جب سیلاب کی شکل میں قدرتی آفات نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے31 اکتوبر 2021ء میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسکو میں اقوام متحدہ کے ’’فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج ‘‘ کے زیر اہتمام شروع ہونے والی ایک عالمی کانفرنس، جس میں دنیا بھر سے پاکستان سمیت 197ممالک نے شرکت کی تھی کا بنیادی مقصد کرہ ارض کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے سفارشات مرتب کرنا تھا۔ اس کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ممالک کو مناسب اقدامات اٹھانے کی تنبیہ کی گئی۔ اسی عرصے کے آس پاس ایک اور عالمی تھنک ٹینک ’’ جرمن واچ‘‘ نے بھی اسی موضوع پر عالمی ماہرین کی زیرنگرانی ایک رپورٹ مرتب کی جس کا محور 2000ء تا 2019ء کے موسمی حالات اور ان سے جڑی قدرتی آفات کے واقعات کا جائزہ لینا تھا۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث عالمی معیشت کو2ہزار 56ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔2010ء کے بعد تقریبا ً ہر سال پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں سیلاب آتے رہے ہیں۔2010ء میں آنے والے اس سیلاب کو ’’ پاکستان سپر فلڈ 2010ء ‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔اس سیلاب میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے ساتھ مالی نقصان بھی ہوا تھا۔ این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 80 لاکھ افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے تھے جبکہ صوبے کو 90 کروڑ روپے کا مالی نقصان بھی اٹھانا پڑا تھا۔سندھ میں 36لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ یہاں پرایک ارب30کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا تھا۔اسی طرح خیبر پختونخواہ کو ایک ہزار ہلاکتوں کے ساتھ ساڑھے 3ارب کا مالی نقصان اٹھانا پڑاتھا۔ بلوچستان کے سات لاکھ لوگ سپر فلڈ سے متاثر ہوئے تھے اور صوبہ کو 19کروڑ روپے کا مالی نقصان بھی اٹھانا پڑاتھا۔ سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے متحدہ عرب امارات سے مزید دو امدادی پروازیں پاکستان پہنچ گئیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم کیے گئے فضائی پل کے تسلسل میں دو امدادی پروازیں شیڈول کے مطابق جمعہ کو نور خان ایئر بیس راولپنڈی پہنچ گئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے اب تک 11 امدادی پروازیں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے امدادی سامان لے کر پاکستان آئی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کا اس سنگین بحران کی گھڑی میں حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔












