.پاک فوج کا سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو، ریلیف آپریشنز جاری……..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ……………….پاک فوج کے دستے سندھ، بلوچستان، کے پی اور پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سندھ میں حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، ٹھٹھہ، جامشورو، نوشہرو فیروز اور سندھ کے مختلف اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں جاری ہیں۔ بیان کے مطابق کراچی سے فوج کے 2 خصوصی ہیلی کاپٹر اندرون سندھ کے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے روانہ کیے گئے۔متاثرہ علاقوں میں راشن تقسیم کیا جا رہا ہے اور متاثرہ افراد کو طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ڈی جی خان ضلع کے دور دراز اور ناقابل رسائی علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی سامان کی تقسیم میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔ پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں نے ڈی جی خان کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے 4 پروازیں کی ہیں جن میں مبارکی، فضلہ کیچ، بستی بزدار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیمے اور راشن سیلاب متاثرین تک پہنچا دیا گیا۔بلوچستان میں فوج اور ایف سی بلوچستان کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور نوشکی میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ نصیر آباد، دکی اور لسبیلہ کے علاقوں میں ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کے میڈیکل کیمپ بھی قائم ہیں۔کے پی کے میں ایف سی کے پی کے دستے چترال اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔خیال رہےکہ پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افرادہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دن رات مثالی خدمات انجام دے کردوسرے اداروں کیلئے مثال بن چکی ھے جس پر اتحادی حکومت کے وزیراعظم نے بھی پاک فوج کے مثالی کردار پر زبردست الفاظ میں تعریف کی وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لیے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ۔آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپورتعاون سے متعلق آگاہ کیا۔ خیال رہے کہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوان جان کی قربانیاں دے کر تاریخ میں امر ہوچکے ہیں ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے چھ افسروں اور جوان جن میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی،ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف ستی، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شہید ہوگئےتھےمیں آرمی چیف سے ملک کے بیشتر علاقوں ریلیف ریسکیو آپریشن پر تبادلہ خیالات کیا. شہید ہونے والے افسران اور جوان پاک فوج کا قیمتی اثاثہ تھے آرمی چیف اس عزم اعادہ کرچکے ہیں کہ کہ پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر بلوچستان سے رابطہ کیا، اس دوران آرمی چیف نے بلوچستان میں سیلاب کی صورتحال کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے بلوچستان میں خصوصی طور پر بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ریلیف، ریسکیو اور بحالی آپریشن میں فوج سول حکومت کی بھرپور مدد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے اور ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کی مدد کی جائے۔ آرمی چیف نے ہدایات جاری کیں کہ پاک فوج متاثرہ افراد کی مدد اور مواصلاتی اسٹرکچر کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے، پاک فوج اس مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد ایک قومی فریضہ ہے۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بارشوں کا 30 سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے، بلوچستان اور سندھ میں تباہی و بربادی سے قیامت صغری کا منظر ہے، سینکڑوں پاکستانی سیلاب کے باعث اپنے پیچھے جدائی کا غم چھوڑ گئے ہیں۔وزیر اعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ سیلاب متاثرہ سینکڑوں زخمیوں کی صحتیابی کی دعا کرتے ہیں، بہت بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہیں، مال مویشی، فصلوں، باغات اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں اداروں اور مسلح افواج کے ساتھ دن رات کام کر رہی ہیں، مجموعی طور پر37 اعشاریہ 2 ارب روپے سیلاب زدگان کیلئے دیے جا رہے ہیں، ریسکیو کیلئے میں نے فوری طور پر این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کرائے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہرجاں بحق فرد کے خاندان کو10 لاکھ روپے دیے جائیں گے، زخمیوں، گھروں کے گرنے اور دیگر نقصانات پر زرتلافی دیا جائے گا، متاثرین کو 25 ہزار روپے نقد کی ادائیگی بڑے پیمانے پر جاری ہے، اس امداد کیلئے 80 ارب روپے سے زائد درکار ہیں انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصانات کو پورا کرنا ہے، امداد کی کوششوں کے دوران پاک آرمی کے افسران نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ہاتھ بٹائے تو ہم کئی گنا زیادہ رفتارسے متاثرین کی جلد امداد کرسکیں گے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ایثار و قربانی میں ہماری قوم سب سے آگے ہے، سب تعاون کریں، سیلاب زدگان کی مدد کیلئے قائم فنڈ میں دل کھول کرعطیات جمع کرائیں، آئیں مصیبت زدہ بھائیوں کی انصار مدینہ کی طرح مدد کریں۔مزید یہ کہپاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلاب سے بہت بری صورتحال ہے۔ مون سون سے لیفٹ اور رائٹ بینک پر سیلاب آیا ہےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث بہت سے علاقے مکمل ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔ خیال رہےکہ پاکستان بھر میں جاری مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی آفات کے ساتھ ساتھ جان و مال کے بھاری نقصانات کے پیش نظر وزیر خارجہ نے جرمنی، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے سرکاری دورے ملتوی کر دیے ہیں بلاول بھٹو نے کہا کہ متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں خیموں اور راشن کی ضرورت ہے۔ ہم نے وفاق اور بین الاقوامی فورم سے بھی امداد کی اپیل کی ہے۔ ہم سب کو مل کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت نے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ وزراتِ خزانہ کو فوری طور پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کوفنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیلابی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کرنے کا حکم دیا رکھاہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو ہدایت دی کہ وہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کریں۔ آرمی چیف نے لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو متاثرہ آبادی کی مدد اور اہم مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوج کے وسائل کو بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی ہے













