پاک فوج مشکل گھڑی میں سیلاب متاثرین کے شانہ بشانہ.. مثالی خدمات پر وزیراعظم کی ستائش۔۔……..کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افرادہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دن رات مثالی خدمات انجام دے کردوسرے اداروں کیلئے مثال بن چکی ھے جس پر اتحادی حکومت کے وزیراعظم نے بھی پاک فوج کے مثالی کردار پر زبردست الفاظ میں تعریف کی اور ٹیلی فونک گفتگو میں آرمی چیف سے ملک کے بیشتر علاقوں ریلیف ریسکیو آپریشن پر تبادلہ خیالات کیا. خیال رہےکہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کے دوران پاک فوج کے افسران اور جوان جان کی قربانیاں دے کر تاریخ میں امر ہوچکے ہیں پاک فوج کی ان قربانیوں کو تاقیامت یاد رکھاجائے گا ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے چھ افسروں اور جوان جن میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی،ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف ستی، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شہید ہوگئےتھے ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے چھ افسروں اور جوان کی شہادت پر پوری قوم اب بھی غمگین و سوگوار ہےشہید ہونے والے افسران اور جوان پاک فوج کا قیمتی اثاثہ تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے 1989ء میں پاک آرمی میں کمیشنڈ حاصل کیا،اُن کی آزاد کشمیر رجمنٹ میں تقرری ہوئی، انہوں نے 33 سال تک ملک میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کی، انہوں نے دو بار تمغہ بسالت حاصل کیا۔ ڈائریکٹر جنرل کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف نے آزاد کشمیر رجمنٹ میں 1994ء میں کمیشن حاصل کیا، انہوں نے 29سال پاک فوج میں خدمات سرانجام دیں۔ بریگیڈیئر محمد خالد کا تعلق انجینئرنگ بٹالین سے تھا،انہوں نے 1994ء میں کمیشن حاصل کر کے پاک فوج جائن کی،وہ انجینئرز کے کمانڈر تھے جن کی سرکردگی میں ضربِ عضب کے دوران بارودی سرنگوں کا صفایا کیا گیا اور اب وہ ریسکیو اور ریلیف کے کاموں کی نگرانی کر رہے تھے۔ پائلٹ میجر سعید احمد کا تعلق لاڑکانہ سے تھا،اُن کا شمار فوج کے مشاق پائلٹوں میں ہوتا تھا، کو پائلٹ میجر محمد طلحہ منان شادی شدہ اور دو بیٹوں کے باپ تھے جبکہ کریو چیف نائیک مدثر فیاض نے14سال پہلے پاک فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی تھی اُن کا تعلق شکر گڑھ سے تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گفتگو میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف کے لیے پاک فوج کے تعاون اور جذبے کو سراہا۔ آرمی چیف نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ کمانڈر سدرن کمانڈ کو بلوچستان میں امدادی کارروائیوں کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ۔آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے سندھ میں امدادی کارروائیوں میں بھرپورتعاون سے متعلق آگاہ کیا۔ خیال رہےکہ آرمی چیف اس عزم اعادہ کرچکے ہیں کہ کہ پاک فوج مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر بلوچستان سے رابطہ کیا، اس دوران آرمی چیف نے بلوچستان میں سیلاب کی صورتحال کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے بلوچستان میں خصوصی طور پر بھاری جانی و مالی نقصان ہوا اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ریلیف، ریسکیو اور بحالی آپریشن میں فوج سول حکومت کی بھرپور مدد کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے اور ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کی مدد کی جائے۔ آرمی چیف نے ہدایات جاری کیں کہ پاک فوج متاثرہ افراد کی مدد اور مواصلاتی اسٹرکچر کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے، پاک فوج اس مشکل وقت میں سیلاب متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کی مدد ایک قومی فریضہ ہے۔ خیال رہےکہ وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز سے بھی ٹیلی فون پرگفتگو کی۔وزیراعظم نے صوبہ سندھ میں رابطہ سڑکوں اور پلوں کی تباہی کے باعث ہیلی کاپٹرز کی فراہمی کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کو نقد رقوم کی فوری ادائیگی کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ کو ہدایت بھی جاری کردی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک خاص طورپرسندھ اور بلوچستان میں سیلاب کی صورتحال پراجلاس طلب کیاہے۔وزیراعظم نے سندھ کے سیلاب متاثرین میں فوری نقد رقوم تقسیم کرنے کا گزشتہ روز حکم دیا تھا جب کہ شہباز شریف نے گزشتہ روز آرمی چیف اور چیئرمین این ڈی ایم اے سے بھی ٹیلیفون پرگفتگو کی تھی جس میں سندھ میں امدادی کارروائیوں سے متعلق امور پر گفتگوکی گئی تھی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جب کہ وزیراعظم کو سیلاب متاثرین کو نقد رقوم اور زر تلافی کی ادائیگیوں پربریفنگ دی جائے گی۔وزیراعظم نے سندھ میں رابطہ سڑکوں اورپلوں کی تباہی کے باعث ہیلی کاپٹرزکی فراہمی کی ہدایت کی تھی,محکہ موسمیات نے کراچی اوردیہی سندھ میں جولائی اوراگست کے دوران اب تک ہونے والی بارشوں کے اعداد و شمار جاری کردیے جس کے مطابق دیہی سندھ میں جولائی اوراگست میں اب تک سب سے زیادہ بارش پڈعیدن میں 1539.5ملی میٹرریکارڈ ہوئی۔ اس کے علاوہ موہن جودڑو میں 811.5 ملی میٹر، لاڑکانہ 721.3، ٹنڈوجام 689.9 ، خیرپور660، جیکب آباد 654، چھور 610.9 ، روہڑی 581، بدین 543.2، سکرنڈ 538، سکھر 478.5، دادو 471.9، شہید بے نظیرآباد 463، مٹھی، 329 اور میرپورخاص میں 450 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق حیدرآباد میں 407 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جب کہ کراچی میں سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں 862 ملی میٹرریکارڈ ہوئی۔اس کے علاوہ پی اے ایف بیس مسرور پر 713.9، قائد آباد 670.1، ڈی ایچ اے 612، پی اے ایف بیس فیصل 583.1، سرجانی ٹاؤن 556، ناظم آباد 477.1، اولڈائیرپورٹ 466.6، صدر 445.2، گلشن معمار 437.1، اورنگی ٹاون 426.1، یونیورسٹی روڈ 424.1، جناح ٹرمینل 379.1، سعدی ٹاؤن 388، گڈاپ ٹاؤن 351، گلشن معمار 323.1 اور کورنگی میں 306 ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی۔ سندھ بھر میں معمول سے 500 فیصد زائد بارشیں ہوئی ہیں۔ سکھر میں ایک دن میں 184 ملی میٹر بارش ہوئی، شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے جہاں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام کررہے ہیں۔ سکھر میں ایک دن میں 184 ملی میٹر بارش ہوئی، شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے جہاں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کا کام کررہے ہیں:بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث تعلیمی ادارے بند کردیے گئےہیں اعلامیے کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کل سے27 اگست تک بند رہیں گے ۔خیال رہے کہ بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک مختلف حادثات میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔سندھ اور پنجاب میں شدید بارشوں سے ریلوے ٹریک متاثر ہوگیا جس سے دونوں صوبوں کے درمیان ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔قراقرم ایکسپریس کو صادق آباد اور رحمان بابا ایکسپریس کو رحیم یار خان میں روک لیا گیاجب کہ عوام ایکسپریس کو خان پور اور گرین لائن کو لیاقت پور میں روکا گیادوسری جانب سکھر میں بھی بارشوں کے باعث ٹرین آپریشن معطل کرکے ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنوں پر روک لیا گیا ہے۔گمبٹ اور ٹنڈو مستی کے درمیان ٹریک پرپانی جمع ہے، پانی اور بارشوں کی وجہ سے ٹریک کی زمین نرم پڑ گئی ہے جس وجہ سے آپریشن معطل کیا گیا ہے۔ سکھر میں ایک دن میں 184 ملی میٹر بارش ہوئی، شہر کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہےسندھ حکومت نے صوبے کے 23 اضلاع کو آفت زدہ قراردے دیاہے۔صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیے گئے اضلاع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہ یار، جامشورو، مٹیاری، میرپورخاص , عمرکوٹ، شہید بینظیرآباد، نوشہروفیرز، سانگھڑ، سکھر، خیرپور، گھوٹکی، لاڑکانہ، کشمور اور شکار پور, قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد ,ملیر اور دادو کو آفت زدہ قرار دیا ہے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہےکہ سندھ بھر میں معمول سے 500 فیصد زائد بارشیں ہوئی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق وسطی بھارت میں موجود ایک اور بارش کا دباؤ کل سے سندھ میں پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث کراچی سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں ایک بار پھر موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگا جو 26 اگست تک جاری رہےگا۔محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ اس وقت بالائی سندھ اور بلوچستان میں انتہائی موسمی دباؤ کے سبب نوشہرو فیروز، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، گھوٹکی، کشمور، شکارپور، جیکب آباد، دادو اور قمبر شہدادکوٹ اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اس کے علاوہ تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد، مٹیاری، ٹھٹہ، سجاول کے اضلاع اور کراچی ڈویژن میں بھی ہلکی بارش اور بوندا باندی کا امکان ہے۔بلوچستان میں گزشتہ روز بھی طوفانی بارشوں اور سیلاب کے سبب تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری رہاصوبے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سدرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کرنے کا حکم دیاہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو ہدایت دی کہ وہ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں صوبائی حکومت کی مدد کریں۔ آرمی چیف نے لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو متاثرہ آبادی کی مدد اور اہم مواصلاتی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوج کے وسائل کو بروئے کار لانے کی بھی ہدایت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ’پاک فوج آزمائش کی اس مشکل گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ آبادی کے ساتھ کھڑی ہے اور ان امدادی کوششوں کو قومی ذمہ داری کے طور پر سرانجام دے گی‘۔ ادھر چمن، کوہلو، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، موسیٰ خیل، نوشکی، خضدار، لسبیلہ کے اضلاع میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، صحبت پور ضلع میں سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب آنے سے بڑی تعداد میں کچے مکانات گر گئے۔سیلاب کے ایک نئے سلسلے نے تباہ حال نوشکی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں مال، بٹو اور کیشنگی سمیت متعدد رہائشی علاقے زیر آب آگئے اور سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا۔کوئٹہ-سکھر ہائی وے کے علاوہ تمام شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہونے کے بعد بلوچستان تاحال ملک کے دیگر حصوں سے تقریباً مکمل طور پر منقطع ہے۔کئی مقامات پر ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے صوبے کا ریلوے کے ذریعے رابطہ بھی کئی روز تک معطل رہا۔اتھل کے مقام پر پل بہہ جانے کے باعث کوئٹہ-لسبیلہ-کراچی شاہراہ کئی روز سے بند ہے جبکہ بلوچستان کو پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ملانے والی کوئٹہ-ژوب اور کوئٹہ-لورالی شاہراہوں پر بھی ٹریفک گزشتہ 2 روز سے معطل ہے۔نوٹل اور ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک سیلاب میں ڈوب گیا جس سے بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ریلوے سروس معطل ہوگئی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق تباہ شدہ پل کی مرمت کے بعد بیلا اور آواران کے درمیان ٹریفک بحال کر دی گئی، گوادر-رتوڈیرو (ایم-8) موٹروے خضدار کے قریب تاحال منقطع ہے، سڑک زیر آب آنے کے سبب مرمت کا کام شروع نہیں کیا جا سکا۔کوڈک کے قریب موسمی نالے بھر جانے کے باعث خضدار-بسیمہ سیکٹر (این-30) قومی شاہراہ اور دناسر کے مقام پر ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان (این-50) قومی شاہراہ پر ٹریفک کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔دریں اثنا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے امدادی سامان روانہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے اعتراف کیا کہ بلوچستان موسمی تباہ کاریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے۔پاکستان میں 2022 کا مون سون غیر معمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے جس نے ملک کے طول و عرض میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ ملک کے شمال میں گلگت بلتستان سے لے کر جنوب میں کراچی تک ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب تک نہیں رکا اور حکومت کو اس سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں مشکلات ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے 14 جون سے اب تک کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران ملک بھر میں سیلاب اور بارشوں کے باعث 780 سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور ملک کے 109 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب اور بارشوں سے ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد مکانات اور عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں پانچ لاکھ سے زیادہ مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔سیلاب اور بارش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ شامل ہیں۔ بلوچستان کے 34 اور خیبرپختونخوا کے اضلاع 33 سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سندھ کے 23 اضلاع کو صوبائی حکومت نے آفت زدہ قرار دیا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے تین اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ خیال رہےکہ پاکستان بھر میں جاری مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی آفات کے ساتھ ساتھ جان و مال کے بھاری نقصانات کے پیش نظر وزیر خارجہ نے جرمنی، ڈنمارک، سویڈن اور ناروے کے سرکاری دورے ملتوی کر دیے ہیں۔















