..پاک فوج اورپاکستان کا 75واں یوم آزادی …………..۔۔کالم اندر کی بات…………………………..
:کالم نگار،اصغر علی مبارک ……………………..افواج پاکستان نے پاکستان کو مستحکم کرنے کے لیے روز اول سے لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان فوج 3 جون 1947ء کو برطانوی ہندوستانی فوج یا برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی۔ تب جلد ہی آزاد ہو جانے والی مملکت پاکستان کو6 بکتر بند، 8 توپخانے کی اور 8 پیادہ رجمنٹیں ملیں، جبکہ تقابل میں بھارت کو 12 بکتر بند، 40 توپخانے کی اور21 پیادہ فوجی رجمنٹیں ملیں۔ 1947ء میں پاکستان کو صرف تین انفینٹری ڈویژن ملے، جن میں نمبر 7،8اور 9 ڈویژن شامل تھے۔10 واں، 12 واں اور 14 واں ڈویژن 1948ء میں کھڑا کیا گیا۔ 1954ء سے پہلے کسی وقت 9 وان ڈویژن توڑ کر 6 وان ڈویژن کھڑا کیا گیا، لیکن 1954ء ہی کے بعد کسی وقت اس کو بھی ختم کر دیا گیا، جس کی وجہ امریکی امداد کا صرف ایک بکتر بند یا آرمرڈ ڈ ویژن اور 6 انفینٹری ڈویژن کے لیے مخصوص ہونا تھا۔ پاک فوج کا نصب العین ہے :“ ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ۔ اسی نصب العین کے ذریعے کشمیر کی جنگ سے لے کر ستمبر 65، اور 71 کی جنگوں تک میں پاک فوج نے بہادری، شجاعت اور عسکری مہارت کے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیے کہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین دنگ رہ گئے 1947ء میں غیر منظم لڑاکا جتھے، اسکاؤٹس اورقبائلی لشکر، کشمیر کی مسلم اکثریتی ریاست پر بھارت کے بزور قوت قبضہ کے اندیشہ سے کشمیر میں داخل ہو گئے۔ مہاراجا کشمیر نے اکثریت کی خواہش کے خلاف بھارت سے الحاق کر دیا۔ بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔ یہ اقدام بعد میں پاک بھارت جنگ 1947ء کا آغاز ثابت ہوا۔ بعد میں باقاعدہ فوجی یونٹیں بھی جنگ میں شامل ہونے لگیں، لیکن اس وقت کے پاکستانی بری افواج کے برطانوی کمانڈر انچیف جنرل سر فرینک میسروی کی قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیر میں فوج کی تعیناتی کے احکامات کی حکم عدولی کے باعث روک دی گئیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی کے بعد پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کا شمال مغربی حصہ پاکستان کے، جبکہ بقیہ حصہ بھارت کے زیر انتظام آ گیا۔ پاکستان فوج کا قیام 1947 میں پاکستان کی آزادی پر عمل میں آیا۔ یہ ایک رضاکارپیشہ ور جنگجو قوت ھے فی الوقت پاک فوج کی قیادت جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف آرمی سٹاف کر رہے ہیں، جبکہ جنرل زبیر محمود حیات چئیرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کی زمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے پہلے سربراہ ہیں جنکے نظریات کی دنیامعترف نظر آتی ھے چین۔امریکہ۔ متحدہ عرب امارات۔سعودی عرب ۔ترکی ایران سمیت تمام بڑے بڑے ممالک میں باجوہ ڈاکٹرائن کو مثال بناکر پیش کیا جاتارہاھے ابھی گزشتہ روز ہی انکی پیشہ ورانہ قابلیت کو برطانوی میڈیا میں نمایاں کوریج دیکر پاکستان کی عزت وتوقیر میں اضافہ کیاگیا انکے بارے دشمن ملک بھارت کے میڈیا میں بہت کچھ لکھاجاتارہاھے جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تو بھارتی میڈیا سابقہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے پاس جا پہنچا اور دریافت کیا کہ افریقہ میں امن مشن کے دوران جنرل باجوہ اور آپ نے اکٹھے کام کر رکھا ہے، لہذا آپ ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں، بھارتی میڈیا کے سوال پر جنرل بکرم سنگھ نے کہا کہ بھارت کو اب پہلے سے بھی زیادہ محتاط رہنا ہوگا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایک انتہائی پروفیشنل افسر ہیں۔ قمر جاوید باجوہ نہ صرف دشمنوں کے لیے قہر ثابت ہوئے بلکہ وہ ایک جمہوری سوچ رکھنے والے فوجی سربراہ ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریئر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ سے اکتوبر 1980ء میں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکا کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری اسکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ برٹش ملٹری اکیڈمی میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے ہیںجنرل باجوہ نے سوورین پریڈ فار کمیشنگ کورس 213 میں ملکہ برطانیہ کی نمائندگی کی، سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈمی میں منعقد تقریب میں درجنوں ممالک کے فوجی سربراہان بھی شریک تھے۔رائل ملٹری اکیڈمی کی بنیاد 1741 میں وُلچ میں آرٹلری اور انجنیئرز کی تربیت کے لیے قائم کی گئی تھی، دوسری جنگ عظیم کے بعد رائل ملٹری اکیڈمی اور رائل ملٹری کالج کو ضم کرکے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ قائم کردی گئی۔اگست 1947ء کو اگرچہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا لیکن اس کا باقاعدہ اعلان اس سے دو ماہ قبل 3جون 1947ء میں ہی ہوچکا تھا سینڈہرسٹ میں پہلی کمیشنگ پریڈ 14 جولائی 1948 کو منعقد ہوئی تھی۔یہ ایسا وقت تھا جب پاکستان کے حصے میں آنے والے وسائل ناکافی تھے گھمبیر مسائل تھے سب سے بڑا مسئلہ نئے ملک کی فوج کا قیام اور اسکے پاس اسلحہ کی قوت کا ہونا تھا کیوں کہ کانگرسی رہنماؤں کا خیال تھا کہ نیا ملک ہے اس کے پاس نہ فوجی اثاثے ڈھنگ کے ہوں گے اور فوج بھی اتنی نہیں ہو گی کہ یہ اس ملک کی حفاظت کر سکتے تو لا محالہ اس ملک کو ایک دن بھارت کے ساتھ جڑنا ہی ہو گا۔کیوں کہ کانگرسی قیادت خصوصا نہرو کا خیال تھا کہ نظریے کے نام پر قائم ہونے والا یہ ملک زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گا اور ایک بار تو نہرو نے یہ کہا تھا کہ نیشنل ازم کے نام پر بننے والا یہ ملک زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا کیوں کہ جب انکے پاس مطلوبہ فوج نہیں ہو گی وسائل نہیں ہوں گے اسلحہ نہیں ہو گا تو اتنی لمبی چوڑوں سرحدوں کی حفاظت کرنا پاکستان کیلئے ایک مشکل امر ہو گا۔ نہرو کی یہ بھی خواہش تھی کہ فوج تقسیم ہی نہ ہو بلکہ دونوں ملک کی ایک مشترکہ فوج ہو جس کا کنٹرول بھارت کے پاس ہو تا کہ جب چاہے پاکستان کو دبا لیا جائے لیکن قائداعظم نے روز اول سے ان کی یہ تجویز نہ مانی اور پاکستان کیلئے الگ فوج اور پاکستان کے حصے میں آنے والے فوجی اثاثوں کی حوالگی کے مطالبہ پر مضبوطی سے ڈٹے رہے۔قائداعظم جانتے تھے کہ مضبوط فوج کے بغیر پاکستان کا دفاع ممکن نہیں ہے اور اس کیلئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اپنے ہاتھ میں ہونا انتہائی ضروری ہے اسی لئے قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد کاکول ملٹری اکیڈمی قائم کرائی جس میں 26 جنوری 1948ء کو پہلے کورس کا آغاز ہوا اور پھر یہی اکیڈمی دنیا کی بہترین ملٹری اکیڈمیوں میں شمار ہونے لگی۔ قیام پاکستان کے بعد اس کا استحکام وقت کی اہم ترین ضرورت تھااور یہ استحکام بغیر فوج کے اور بغیر مضبوط دفاع کے ممکن نہ تھااور فوج ہی کسی بھی ریاست کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مہاجرین کو آباد کرنا ایک بڑا مسئلہ تھا فوج کو سازو سامان مہیا کرنا تھا اور پھر لٹے پٹے قافلوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دینا تھا یہ وہ امور تھے جن کیلئے ایک مضبوط دفاع اور فوج کیلئے قائداعظم محمد علی جناح نے روز اول سے جدوجہد کی۔ قائداعظم نے ہی پاک فوج کو ایمان، اتحاد اور تنظیم کا نعرہ دیا اور اسی نعرے کو بنیا د بنا کر افواج پاکستان نے اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو للکارا، کشمیر کے پہاڑوں پر اس کا مقابلہ کیا، آزاد کشمیر کو بھارت کے پنجہ استبداد سے چھینا، 65میں اپنے سے بڑے دشمن کے دانت کھٹے کئے، 71 میں پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں وطن عزیز کی یکجہتی کی جنگ علیحدگی پسندوں اور بھارتی فوج کے مقابلے میں جس عزیمت جرات کے ساتھ لڑی وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اگرچہ یہ جنگ نہ جیتی جا سکی اور ملک دولخت ہو گیا لیکن جن نامساعد حالات میں اور ناکافی اسلحہ اور وسائل کے ساتھ یہ جنگ لڑی گئی اس کا منطقی نتیجہ یہی ہونا تھا۔
سیاچن کی برف پوش چوٹیوں پر دشمن کو چین نہ لینے دیا۔ پاکستان کے دشمن یہ جانتے تھے کہ پاکستان میں جب تک فوج ہے تو اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی ممکن نہیں ہے اس لئے پاکستان کے دشمنوں نے اندرونی طور پر ملک کو کمزور کرنے کی سازش رچانا شروع کی اور اس کیلئے بھی پاک فوج کے خفیہ ادارے پہلے سے ہی چوکنا تھے۔ انہوں نے دشمنوں کی ان سازشوں کو بھی ناکام بنایا۔1947ء میں آزادی کے بعد سے پاک فوج بھارت سے 4 جنگوں اورمتعدد سرحدی جھڑپوں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے چکی ہے۔ عرب اسرائیل جنگ، عراق کویت جنگ اور خلیج کی جنگ میں حلیف عرب ممالک کی فوجی امداد کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں حالیہ بڑی کارروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات شامل ہیں۔لڑائیوں کے علاوہ پاک فوج، اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں میں بھی حصّہ لیتی رہی ہےپاکستانی افواج کے ایک دستے نے اقوام متحدہ امن مشن کا حصہ ہوتے ہوئے 1993ء میں موغادیشو، صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپنٹ کے دوران میں پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے میں ایک اہم کردار ادا کیاپاکستان آرمی مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، جنہیں لڑاکا بازو، امدادی بازو یا امدادی خدمتی شعبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ لڑاکا آرمز میں انفینٹری یا پیادہ فوج ،آرمر یا رسالہ/ بکتر بند فوج، آرٹلری یا توپخانہ اور ائیر ڈیفنس یا فضائی دفاعی فوج شمار کی جاتی ہیں۔پاکستان تیس سال تک دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا لیکن ایک دن بھی پاک فوج اور انکے سپاہیوں کا مورال نیچے نہیں گرا بلکہ پاک فوج کے سپاہی پہلے سے زیادہ جانفشانی کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے رہے۔ فوج کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے ان تمام تر مشکلات کے باوجود ثابت قدمی اور قومی جذبے سے وطن عزیز کی حفاظت میں جو لازوال قربانیاں دی ہیں انکی بدولت ہی آج ہم پاکستان میں آزادی کی فضا میں سانس رہے رہے ہیں۔ اسکے پیچھے شہداء کی قربانیاں ہیں جو ہمیں احساس دلاتی ہیں کہ فوج اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ قوم کا بچہ بچہ اپنے سپاہیوں سے بہت پیار کرتا ہے۔ پاکستان آرمی کے جانباز سپاہی ہماری جان ہیں، ہمارا فخر و غرور ہیں- وطن کی محبت کی مٹی سے گوندھی ہوئی یہ قوم اپنے سپاہیوں سے والہانہ محبت کرتی ہے اور یہ محبت کبھی ختم نہیں ہوگی ۔ کیونکہ جب تک یہ سپاہی وطن کے لئے قربانی دیتے رہیں گے، شہید ہوتے رہیں گے، قوم کا سر فخر سے بلند رہے گا اور بدلے میں قوم اِن سے محبت کرتی رہے گی۔ پاک فوج کے لیے دعائیں کرتی رہے گی۔ ان سپاہیوں کو اپنے ماتھے کا جھومر بناتی رہے گی جنرل موسی سے لے کر جنرل قمر جاوید باجوہ تک جو بھی سپہ سالار آیا اس نے پاک فوج کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے فریضے میں تاک کرنے میں اپنازور لگایا تا کہ جب وہ ملک اور پاک فوج کی باگ ڈور کسی دوسرے سپہ سالار کے حوالے کر کے جائے تو وہ ایک مضبوط فوج کا سپہ سالار ہونے میں فخر محسوس کرے۔پاکستان کے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاک فوج اور اسکے عوام ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط رشتوں میں جڑ ے ہوئے ہیں جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ایک دوسرے کیخلاف کرنا نا ممکن ہے لیکن دشمن پھر بھی اپنی ناپاک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افواج پاکستان آفات ارضی و سماوی میں مصیبت زدگان کی امداد، بحالی اور ملک کے اندر انتخابات اور مردم شماری میں فوج کی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں جب کہ آج دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ میں بھی پاک فوج کا کردار بھی باکمال ہے اور اس کی قربانیاں بھی بے مثال ہیں۔ آج افواج پاکستان کراچی ’خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں اور دہشتگردوں کے سر کچل رہی ہے متعصب اور احسان فراموش ”را کے پیروکار“ اپنے ہندو آقاؤں کی مانند گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے ہیں مگر آج بھی افواج پاکستان ہر محاذ پر دشمن کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں، جب پاکستان بھارت کے خلاف اسٹریٹجک مزاحمت کے طور پر کامیاب ایٹمی تجربات کر کے طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا تو بھارت کے لئے اپنی برتری برقرار رکھنے کا واحد راستہ یہ بچا کہ وہ عسکری طاقت کے علاوہ تمام شعبوں میں اپنے حریف کے اسٹریٹجک استحکام کا مقابلہ کرنے کے لئے عدم استحکام کی حوصلہ افزائی سے ایک ہائبرڈ جنگ جاری رکھے اور روایتی جنگ یا پیش بندی جوہری حملہ کے بغیر پاکستان کو شکست دینے کی کوشش کرے لیکن ہندوستان کے اس ہائبرڈ وار کو افواج پاکستان نے ناکام بنا دیا اور پیارے وطن پاکستان میں امن قائم رکھنے میں کامیاب ہوئے اور دن رات آج تک ملک کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی بحالی، بھتہ خوروں، دہشت گردوں اور دیگر ملک دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ملک کے دیگر سول اداروں کے ساتھ مل کر شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہیں پاکستان کا 75واں یوم آزادی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح قیام پاکستان کے وقت مشکل حالات میں پاک فوج کی ہمیں ضرورت تھی تا کہ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی ایک نئی مملکت کا استحکام ممکن بنایا جا سکے تو آج بھی ہمیں پاک فوج کی اتنی ہی ضرورت ہے تا کہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کیلئے فوج دشمن کے سامنے سینہ سپر کئے رکھے۔ جب تک پاک فوج اور اس کا ایک ایک سپاہی موجود ہے تو پاکستان کے عوام بلا خوف و خطر آزادی کا جشن مناتے رہیں گے ۔انشا ء اللہ…پاک فوج زندہ باد……………پاکستان پائندہ آبا