پاکستان ;12 کروڑ سے زائد ووٹرزآ ج 8 فروری کو حق رائے دہی استعمال کریں گے….اصغرعلی مبارک…شکر الحمداللہ آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے اہم عام انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے جارہاھےپاکستان ;12 کروڑ سے زائد ووٹرزآ ج 8 فروری کو حق رائے دہی استعمال کریں گے الیکشن کے پرامن ماحول میں انعقاد کے لیے ملک بھر میں کوئیک رسپانس فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کے ایک لاکھ 30 ہزار 882 اہلکار الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہوں گے، 23 ہزار 940 سیکیورٹی اہلکار مستقل طور پر الیکشن کے دوران ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ ملک بھر میں پولیس کے 4 لاکھ 65 ہزار 736 اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ کوئیک رسپانس فورس کے ایک لاکھ 6 ہزار 942 اہلکار تعینات ہوں گے۔ مجموعی طور پر آرمی، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے 5 لاکھ 96 ہزار 618 اہلکار الیکشن ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ پنجاب میں الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے پولیس کے 2 لاکھ 16 ہزار اہلکار تعینات ہوں گے۔ صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 10 ہزار 720، خیبرپختونخوا میں 92 ہزار 535 اور بلوچستان میں 46 ہزار 481 پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں انتخابی مہم کا وقت گزشتہ شب رات 12 بجتے ہی ختم ہوگیا تھا جس کے بعد اب کسی بھی جلسے، جلوس، کارنر میٹنگ کی اجازت نہیں ۔ ملک بھر میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ 8 فروری کی صبح 8 بجے سے شروع ہوگی جو شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ پاکستان کے ساڑھے 12 کروڑ سے زائد ووٹرز 8 فروری کو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، تاہم پاکستانیوں کے علاوہ بھی دیگر 53 ممالک کے عوام رواں برس کے اختتام تک ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ پاکستان کے انتخابات کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ انتخابات کے جمہوری عمل کے بعد آنے والی حکومت نے مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھنی ھے میں اصغرعلی مبارک اور عظمت علی مبارکایڈووکیٹ, مس طاہرہ بانو مبارک ایڈوکیٹ اور مس عظمی مبارک ایڈوکیٹ گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار پھر راولپنڈی کے مختلف حلقوں سے عملی طور پر حصہ لے باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں پالیمانی نظام حکومت کے علاوہ کوئی نظام نہیں ہوسکتا. صدرارتی نظام کا لبادہ اڑھ پالیمانی نظام کے تحت ایک تانگہ پارٹی کا ٹکٹ واپس کرکے آزاد امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے56 راولپنڈی سے ساتویں بار حصہ لے کر منفرد ریکارڈ قائم کردیا ہے آنے والےدنوں حالیہ انتخابات کے مثبت اثرات مرتب ہونگے کیونکہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ بہت بہتر ریا لیکن خدشہ ہے انتخابی نتائج کو سیاسی جماعتیں قبول نہیں کریں گی اور دھاندلی کے الزامات سے انتخابات کو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ساتھ ملکر متنازعہ بنا دیں خواتین کو ان انتخابات میں بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے دور رکھا جس پر اسلام آباد ھائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عام انتخابات میں خواتین کا 5 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کا کیس معاملہ ہدایت کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے وکیل ضیغم انیس عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ایڈووکیٹ مس طاہرہ بانو مبارک امیدوار قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ایک عوامی میٹنگ میں خطاب کرتے ہوئےمطالبہ کیا تھا کہ ان سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی جائے جو عام انتخابات میں خواتین کو مواقع دینے میں ناکام رہیں۔ خواتین کا ووٹ پاکستان کے سیاسی نظام کو بدل سکتا ہے، خواتین کے ووٹ کا اثر 2024 کے الیکشن کے نتائج پر پڑے گا، انہوں نے کہا تھا کہ آبادی کے مجموعی ووٹوں کے مقابلے خواتین کے ووٹ آبادی کے نصف سے زیادہ ہے”خواتین کا ووٹ “خواتین کی مرضی” ، زیادہ تر خواتین خاندانی دباؤ اور اثر و رسوخ کے تحت ووٹ دیتی ہیں، ایڈووکیٹ مس طاہرہ بانو مبارک نے کہا کہ خواتین کے لیے کوئی سماجی تنظیم آواز نہیں اٹھا رہی، ۔درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ الیکشن کمیشن میں زیر التوا خواتین کی 5 فیصد کوٹہ سے متعلق درخواست جلد نمٹانے کا حکم دیا جائے۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر 5 فیصد خواتین کوٹہ پورا نہ کرنے کے خلاف عورت فاؤنڈیشن نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 206 کے تحت جنرل نشستوں پر خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ جاری کرنا قانونی تقاضہ ہے اور قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر صرف ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ (ن) نے خواتین کو 5 فیصد سے زائد ٹکٹ جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر خواتین کا 5 فیصد کوٹہ پورا نہ کرنے کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کل طلب کر لیا تھا۔ الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 206 کے تحت جنرل نشستوں پر خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ جاری کرنا قانونی تقاضہ ہے اور قومی اسمبلی کی 266 نشستوں پر صرف ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ (ن) نے خواتین کو 5 فیصد سے زائد ٹکٹ جاری کیے ہیں۔پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی نے خواتین کے 5 فیصد کوٹے کا قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، تحریک لبیک پاکستان نے خواتین کو 5 فیصد کوٹہ نہیں دیا۔ پنجاب اسمبلی کی نشستوں کے لیے جاری ٹکٹوں میں ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر نے خواتین کو 5 فیصد کوٹہ دینے کا قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا جبکہ سندھ اسمبلی کی نشستوں کے لیے ایم کیو ایم پاکستان اور جماعت اسلامی نے بھی 5 فیصد کوٹہ نہیں دیا۔خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے بھی ایم کیو ایم پاکستان، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور دیگر نے خواتین کو قانون کے تحت 5 فیصد کوٹہ نہیں دیا اور اسی بلوچستان اسمبلی کے لیے بھی متعدد جماعتوں نے خواتین کو 5 فیصد کوٹہ دینے کا قانونی تقاضا پورا نہیں کیا۔ فافن نے عام انتخابات 2024 کے لیے خواتین امیدواروں سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عام انتخابات 2024 کے لیے 111 سیاسی جماعتوں کی جنرل نشستوں پر 275 خواتین امیدوار ہیں۔لیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام حلقوں کے فارم 33 ویب سائٹ پر جاری کر دیے ہیں۔ فارم 33 میں ہر حلقے کے امیدواروں کی حتمی فہرست اور امیدواروں کے انتخابی نشان کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ملک بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر مجموعی طور پر 17 ہزار 816 امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ مجموعی طور پر سیاسی جماعتوں کے 6 ہزار 31 امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات لڑیں گے، جبکہ 11 ہزار 785 آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی جنرل نشستوں پر 882 خواتین اور 4 خواجہ سرا الیکشن لڑیں گے۔ اس سے قبل خواتین کو جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹ نہ دینے پر عورت فاونڈیشن نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ عورت فاونڈیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کو لکھے گئے خط میں موقف اپنایا گیا کہ پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، ٹی ایل پی اور ایم کیو ایم پاکستان خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم، اے این پی اور ٹی ایل پی خواتین کو جنرل نشست پر 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہی جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور جے یو ائی ایف خواتین کو 5 فیصد نہیں دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ(ن)، ایم کیو ایم، پاکستان پیپلز پارٹی، ٹی ایل پی، جے یو آئی(ف) خواتین کو 5 فیصد ٹکٹ دینے میں ناکام رہیں خط میں کہا گیا کہ اگر یہ جماعتیں 5 فیصد ٹکٹ خواتین کو نہیں دیتیں تو وہ قانون کے تحت انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں رہتیں۔ چیف الیکشن سے استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس لے اور خلاف ورزی کرنے والی جماعتوں کے خلاف سخت کاروئی کی جائے۔آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کرنے کی تجویز تیار کرلی گئی ہے۔ تجاویز کے مطابق تمام بجٹ دستاویزات کو مئی کے آخر تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس مئی کے دوسرے ہفتے میں جبکہ سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اجلاس مئی کے پہلے ہفتے میں منعقد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شیڈول کے مطابق بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 22 اپریل تک وفاقی کابینہ سے منظور کرانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بجٹ جائزہ کمیٹی کے اجلاس 22 مارچ سے 5 اپریل کےدوران منعقد کیے جائیں گے۔سال 2024 میں ریکارڈ 64 ممالک میں انتخابات ہوں گے اور تقریبا دنیا کی نصف آبادی حق رائی دہی کا استعمال کرے گی۔
سال 2024 میں جن 64 ممالک میں انتخابات ہونے تھے، اس میں سے 9 ممالک میں 7 فروری تک انتخابات کا انعقاد ہوگیا جب کہ پاکستان میں 8 فروری کو ووٹنگ ہوگی۔
اسلامی ملک آذر بائیجان کے عوام نے 7 فروری کو نیا صدر منتخب کرنے کے لیے حق رائی دہی کا استعمال کیا جب کہ جنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش میں گزشتہ ماہ 7 جنوری کو انتخابات ہوئء تھے۔
اسی طرح پرتگال میں 4 فروری، کوسٹا ریکا میں بھی 4 فروری جب ایل سلواڈور میں انتخابات کا پہلا مرحلہ بھی 4 فروری کو ہوا اور وہاں دوسرا اور حتمی مرحلہ آئندہ ماہ مارچ کے آغاز میں ہوگا۔
جنوبی ایشیائی ملک بھوٹان میں بھی گزشتہ ماہ 9 جنوری کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھےجب کہ تائیوان میں بھی 13 جنوری کو عوام نے ووٹ کا استعمال کیا۔
سال 2024 کے آغاز سے 8 فروری تک پاکستان سمیت مجموعی طور پر 9 ممالک کے عوام اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے ہوں گے جب کہ دیگر 53 ممالک کے عوام ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔
آئندہ چند ہفتوں میں بھارت میں بھی ریاستی اور راجیا سبھا کے انتخابات ہوں گے جب کہ ترکی سمیت دیگر ممالک میں بھی رواں برس انتخابات کا انعقاد ہوگا۔
یوں رواں برس نومبر میں امریکا میں بھی صدارتی انتخابات ہوں گے جب کہ برطانیہ سمیت یورپین یونین پارلیمنٹ کے انتخابات بھی رواں سال ہی ہوں گے۔
اسی طرح روس، اسپین، آسٹریلیا، سری لنکا، شمالی کوریا، انڈونیشیا، مالدیپ، کمبوڈیا، تیونس، الجزائر، روانڈا اور سینیگال سمیت 9 فروری سے لے کر 31 دسمبر 2024 تک مزید 53 ممالک میں انتخابات ہوں گے۔تقریباً 40 ممالک میں جوکہ تقریباً دنیا کی نصف آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں رواں سال عام انتخابات کا انعقاد ہوگا جہاں یہ یا تو اپنے نئے حکمرانوں کا انتخاب کریں گے یا پھر اپنے موجودہ حکمرانوں کو برقرار رکھیں گے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم اسے جمہوریت کی عالمی کامیابی کے طور پر دیکھیں۔
سب سے پہلے بنگلہ دیش میں انتخابات کا انعقاد ہوا ہے جبکہ دنیا بھر میں شروع ہونے والے انتخابی سلسلے کا اختتام ممکنہ طور پر 5 نومبر کو سب سے زیادہ نتیجہ خیز انتخابات کے ساتھ ہوگا جہاں امریکی عوام حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کریں گے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں واپس آتے ہیں یا نہیں۔
اس مدت کے دوران میکسیکو اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت، انڈونیشیا، پاکستان اور روس میں بھی پولنگ ہوگی۔ 2025ء تک برطانیہ میں انتخابات ہونے تو نہیں لیکن رشی سوناک کی اقتدار سے جلد بے دخلی کی توقع ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے مستقبل کے امکانات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ بن یامین نیتن یاہو غزہ میں نسل کشی کی مہم میں توسیع کرسکتے ہیں تاکہ مایوس ووٹرز نیتن یاہو کی فاشسٹ حکومت کی لاتعداد ناکامیوں کا حساب نہ لے سکیں لیکن اسرائیلی جارحیت میں توسیع ایسے حالات کو بھڑکا سکتی ہے جن میں انتخابات کی ضرورت ہو۔
اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں خونریزی کے اثرات امریکی انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ نوجوان امریکی بشمول یہودی مایوس ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں سیکڑوں شہریوں کی خونریزی کرنے والے عناصر کو امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ اس قتلِ عام میں زیادہ تر بچے اور خواتین نشانہ بن رہے ہیں، یوں ہر روز وہ بائیڈن کو دوبارہ منتخب کرنے کے اپنے فیصلے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوتے ہیں۔
دوسری جانب صیہونی حمایت یافتہ لابی اور ان کے ساتھی، کانگریس کے اُن چند ارکان کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے بات کرنے کی جرات کی یا جو اسرائیل کے جنگی جرائم کے ارتکاب میں امریکی سہولت کاری پر سوال اٹھاتے ہیں۔ البتہ اس ضمن میں گزشتہ کوششوں کی کامیابی کی شرح انتہائی کم رہی ہے لیکن اس کے باوجود یہ رجحان ایک ایسے ملک میں تشویش کا باعث ہے جہاں انتخابی مقابلوں میں اکثر پیسے کا راج ہوتا ہے۔
اس سے آگے جائیں تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ قانونی یا آئینی چیلنجز ٹرمپ کے لیے دوسری دفعہ صدر بننے کی کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔ کیا وائٹ ہاؤس میں ان کی واپسی جادو کا کام کرے گی جیسا کہ امریکی میڈیا کے کچھ حلقے تاثر پیش کرتے ہیں؟ شاید ایسا ہو۔ دنیا کی خوفناک صورتحال، اسٹیٹس کو پر اکسانے کا کام کرے گی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دورِ صدارت مزید پریشان کن امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم امکانات یہی ہیں کہ ناپسندیدہ واقعات رونما ہوں گے۔ برصغیر کی بات کی جائے تو یہاں جبر ایک عام عنصر بنتا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ (ایسا لگتا ہے کہ حسینہ واجد نے اس جبر کا انتخاب کرنے کے بعد اپنے والد کے حالات کو بھلا دیا ہے)، پاکستان میں مقتدر حلقے اور بھارت میں مودی حکومت ایک بار پھر ممکنہ طور پر دوبارہ اقتدار سنبھالیں گی۔
مختلف وجوہات کی بنا پر تینوں کے کامیاب ہونے کا امکان ہے۔ پرابوو سوبیانتو کا انڈونیشیا کے اگلے صدر بننے کا امکان ہے جوکہ سہارتو دور کے جنرل ہیں جن کے مظالم کی وجہ سے ان پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو یہ پابندی ہٹا دی جائے گا بالکل ویسے ہی جیسا کہ نریندر مودی کے معاملے میں ہوا تھا۔
جنوبی افریقہ میں افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) جو نیلسن منڈیلا کے ساتھ انمٹ طور پر وابستہ ہیں لیکن ان کے نظریات کی درست عکاسی نہیں کرتی، برسوں کی ناقص حکمرانی اور بدعنوانی کے بعد اپنی اکثریت سے محروم ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اپنی تمام خامیوں کے باوجود اے این سی نے فلسطینیوں کی آزادی کے مقصد کی مسلسل حمایت کی ہے اور اس کی حکومت بین الاقوامی عدالت میں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف مقدمہ لےجانے پر تعریف کی بھی مستحق ہے۔
یورپ میں انتخابی رجحان وسیع طور پر دائیں اور انتہائی دائیں بازو کی جانب ہے۔ اس کی جزوی طور پر یہ وجہ بھی ہے کہ بائیں بازو کا اثر ختم ہورہا ہے۔ لاطینی امریکا بائیں یا دائیں کا واضح انتخاب پیش کرتا ہے۔ جیت جس کی بھی ہو، میکسیکو میں اس سال پہلی خاتون صدر آنے والی ہیں۔ روس میں ولادیمیر پیوٹن کے تمام ممکنہ متبادل کو قید یا جلاوطن کر دیا گیا ہے، پھر بھی قانونی حیثیت فراہم کرنے کے لیے ایک جعلی انتخابی مشق کو ضروری سمجھا جارہا ہے۔ جنگ زدہ یوکرین اس سال ہونے والے انتخابات سے اثر انداز نہیں ہوگا۔ اگر اس نے فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہوتا تو یوکرین کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہوتی لیکن ولادیمیر زیلنسکی نے یہ کام پیوٹن پر چھوڑ دیا۔
مبینہ طور پر چینی مداخلت کی وجہ سے تائیوان میں اگلے ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات نہ صرف تائیوان بلکہ اس خطے کی قسمت کا تعین کرسکتے ہیں۔ اس کی بنیاد اس بات پر ہوگی کہ جیتنے والے کا چین کے حوالے سے کیسا رویہ ہوتا ہے۔
کسی بھی انتخابی نتیجے سے کرہ ارض کو موسمیاتی تباہی سے پچانے کا امکان نہیں ہے۔ جبکہ تعیشات اور امارت کے ساتھ دنیا میں شدید غربت، بھوک اور بے گھری بھی موجود ہے۔ دائیں بازو کی قوتیں بھی یہی کچھ پیش کرسکتی ہیں جبکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں بائیں بازو کی قوتیں یا تو ختم ہوچکی ہیں یا پھر بہت کم ہیں۔ آپ کو نیا سال مبارک ہو، لیکن کیا یہ سال واقعی مبارک ہوگا؟ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر بند رہے گا۔ بارڈر بند کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ 9 فروری کو افغانستان اور ایران کے ساتھ بارڈر معمول کے مطابق کھل جائے گا۔ اسی حوالے سے بارڈر حکام کا بھی کہنا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم بارڈر کو آج رات 12 بجے سے کل رات 12 بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بارڈر حکام نے بتایا ہے کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے بارڈر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، طور خم بارڈر پر 24 گھنٹے تک ہر قسم کی آمدورفت معطل ہوگی۔ طورخم سرحد پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں ، بارڈر پر کسٹم سمیت تمام سرکاری دفاتر بھی بند رہیں گے۔ بارڈر حکام کے مطابق کسی کو بھی بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔راولپنڈی کےحلقہ این اے 56سےامیدوارقومی اسمبلی
اصغرعلی مبارک ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کیلیے عوام دوست قیادت کو منتخب کریں تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے عوام اپنے بچوں کی خاطر بہتر مستقبل کے لئے تعلیم یافتہ اور باشعور امیدوار کا انتخاب کریں آٹھ فروری پسماندہ علاقے کی قسمت بدلنے کا دن ھے عوام کےاستحصال کا بدلہ لینے کے لئے عوام ووٹ کی پرچی سے احتساب کریں.راولپنڈی کےحلقہ این اے 57سے عوامی لیگ کے نامزد امیدوار قومی اسمبلی ایڈوکیٹ عظمت علی مبارک نے کہا ہے کہ آٹھ فروری راولپنڈی کے عوام کو تھانہ کچہری کےکلچر سے نجات دلانے کا دن ہے عوام برادری ازم کے بجائے قابلیت کو ترجیح دیں انہوں نے کہا کہ راولپنڈی کے باشعور ووٹر اب بہکاوے میں آنے والے نہیں نئے نعروں سے آنے والے پرانے سیاست دانوں کو عوام مسترد کرچکے ہیں د اد کالونی میں میٹنگ سےخطاب میں انہوں نے کہا کہ عظمت علی مبارک نےکہا کہ جیت ہار سے قطع نظر میری خدمات حاضر رہیں گی عوام افواہوں پر یقین نہ کریں اور مسائل حل کرانے کے لئے نوجوان قیادت کو منتخب کریں تاکہ راولپنڈی میں عوام کےاستحصال کا بدلہ لیا جاسکےالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کو صاف اور شفاف رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے.راولپنڈی سےآزاد امیدوارقومی اسمبلی مس طاہرہ بانو مبارک ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آٹھ فروری کو خواتین ووٹ ڈالنے کے لئے گھر سے نکلیں تو مسائل ختم ہوں گے اپنے بیان انہوں نے کہا کہ پرامن انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کواپنی ذمہ داریاں سو فیصد نبھنا ہوں بلوچستان کے دہشت گردی کے واقعات کے بعد خواتین ووٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا خواتین اپنے ووٹ کی پرچی سے خوف کاماحول پیدا کرنے والی ملک دشمن قوتوں کو بھرپور جواب دیں انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی کاوشوں سے انتخابات ہوئے ہیں غیر مبصرین کوبتایا ہےکہ پاکستان میں جمہوریت کی ترقی میں خواتین کا کردار بالکل واضح ھے انہوں نے کہا کہ آج کادن کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کا دن ہے,عوام ووٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں خواتین کو ووٹ ضرور کاسٹ کرناچاہیے۔ بے روزگاری,مہنگائی , کرپشن کے کارنامے پوری قوم کے سامنے ہیں طاہرہ بانو مبارک ایڈوکیٹ نے کہاکہ ملکی معیشت و استحکام کے لئےعوام ایماندار امیدوارں کو منتخب کریں,انہوں نے کہا کہ عوام کواہل قیادت کو منتخب کرنا ہوگا،تاکہ ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے.









