پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی ,خوابوں کی تعبیر

( اصغر علی مبارک) انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی لانچنگ اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس کے کارخانوں، سڑکوں یا عمارتوں میں نہیں، بلکہ اس کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں چھپا ہوا ہے۔ اگر اس پالیسی پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا گیا، تو یہ نہ صرف ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ کرے گی بلکہ پاکستان کو ایک بار پھر معاشی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دے گی۔ اب گیند مقتدر حلقوں اور عملدرآمد کرانے والے اداروں کے ہوم ورک پر ہے کہ وہ اس خواب کو حقیقت کا روپ کیسے دیتے ہیں۔یاد رہے کہانٹرنیشنل یوتھ ڈے ,عالمی یومِ نوجوانان ہر سال 12 اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ معاشرے کی ترقی میں نوجوانوں کے کردار کو سراہا جائے اور ان کے مسائل کی طرف عالمی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ اس تجزیہ نگار لیے بڑے اعزاز کی بات ہےکہ چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے 12 اگست 2018 کو اسلام آباد میں منعقدہ انٹرنیشنل یوتھ ڈے کی تقریب کے موقع پر پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی لانچنگ تقریب میں مدعو کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے سال 2026 کے لیے اس دن کا آفیشل تھیم “مختلف تناظر، مشترکہ خواہشات” مقرر کیا ہے۔
یہ تھیم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ دنیا بھر کے نوجوان اگرچہ الگ الگ معاشی اور سماجی حالات میں رہتے ہیں، لیکن باوقار روزگار، معیاری تعلیم اور پائیدار مستقبل کے لیے ان کی امنگیں بالکل ایک جیسی ہیں۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی سب سے بڑی طاقت—یعنی اس کی نوجوان آبادی—ایک دہرے راستے پر کھڑی ہے۔
ایک طرف یہ نوجوان ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسری طرف روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔
اس سلسلے میں سنگین صورتحال کو بھانپتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک کی پہلی باقاعدہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی منظور کی ہے۔
پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر مند اور خود کفیل بنانے کا ایک انقلابی منصوبہ ہے۔
پالیسی کے بنیادی اہداف اور ستونیہ پالیسی روایتی تعلیمی ڈگریوں کے بجائے مارکیٹ کی طلب اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس کے نمایاں ترین پہلو درج ذیل ہیں:
خواتین کے لیے 35 فیصد کوٹہ:
ملکی تاریخ میں پہلی بار ورک فورس اور روزگار کے مواقع میں خواتین کے لیے کم از کم 35 فیصد حصہ لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ انہیں معاشی دھارے میں لایا جا سکے۔
عالمی مارکیٹ تک رسائی:
اس پالیسی کا ایک بڑا ہدف ہنر مند پاکستانی نوجوانوں کے لیے خلیجی ممالک (قطر، سعودی عرب)، ترکیہ، اور امریکہ جیسے ممالک میں لاکھوں بین الاقوامی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
ڈیجیٹل یوتھ ہب (Digital Youth Hub):
ایک مرکزی آن لائن پورٹل قائم کیا گیا ہے جہاں لاکھوں نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس پورٹل پر مقامی اور بین الاقوامی ملازمتوں کے مواقع، اسکالرشپ اور ٹریننگ کورسز یکجا کیے گئے ہیں۔
آئی ٹی اور ای سپورٹس (E-Sports) کا فروغ:
پالیسی کے تحت پاکستان کی پہلی ای اسپورٹس پالیسی بھی منظور کی گئی ہے تاکہ گیمنگ اور آئی ٹی سیکٹر کے ذریعے برآمدات (Exports) کو اربوں ڈالرز تک پہنچایا جا سکے۔
گرین جابز اور ماحولیات: ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ‘گرین جابز’ (Green Jobs) کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو ماحول دوست کاروبار شروع کرنے کے لیے ترغیبات دی جائیں گی۔
ماضی کے پروگراموں سےمختلف پالیسی؟
ماضی میں بھی ‘کامیاب جوان’ یا ‘وزیراعظم لون اسکیم’ جیسے کئی منصوبے شروع کیے گئے، لیکن وہ زیادہ تر وقتی یا مخصوص پراجیکٹس تک محدود تھے۔
موجودہ یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کی انفرادیت اس کا سیسٹمیٹک اور مربوط (Whole-of-Government) فریم ورک ہے۔
اس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے اور ہر ضلع میں ‘ایمپلائمنٹ ایکسچینجز’ قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ روزگار کی فراہمی کو نچلی سطح پر یقینی بنایا جا سکے۔
علاوہ ازیں، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے ‘یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم’ کے تحت آسان شرائط پر اربوں روپے کے قرضے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
کامیابی کا دارومدار: عملدرآمد کا چیلنج ;
بے شک، یہ پالیسی کاغذ پر انتہائی شاندار اور امید افزا نظر آتی ہے، لیکن پاکستان میں اصل مسئلہ کبھی بھی پالیسیوں کی کمی نہیں رہا، بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد (Implementation) رہا ہے۔ اس پالیسی کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
سیاسی تسلسل: حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل ہو سکیں۔
صنعتی شعبے (Private Sector) کا اشتراک: صرف سرکاری نوکریاں کافی نہیں ہو سکتیں؛ پرائیویٹ سیکٹر اور انڈسٹری کو اس پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ تعلیمی اداروں سے نکلنے والے نوجوان براہِ راست ملازمت حاصل کر سکیں۔
شفافیت اور میرٹ: قرضوں اور ملازمتوں کی تقسیم میں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر صرف اور صرف میرٹ کو برقرار رکھنا ہوگا۔ حکومتِ پاکستان کا وزیراعظم یوتھ پروگرام نوجوانوں کو معاشی اور تعلیمی طور پر خودمختار بنا کر ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے کا ایک بڑا اقدام ہے۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو آسان شرائط پر مالی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے نئے کاروبار شروع کر سکیں، زرعی سرگرمیوں کو بڑھا سکیں یا بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع حاصل کر سکیں۔ اس پروگرام کے تحت 18 سے 45 سال تک کی عمر کے نوجوان پاکستان کے 21 مختلف کمرشل، اسلامی اور سرکاری بینکوں سے آسان شرائط پر قرض حاصل کر سکتے ہیں۔
چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے 5 لاکھ روپے تک کا بالکل بلاسود قرضہ دیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ اس سے بڑے کاروبار کے لیے 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کے قرضے پر صرف 5 فیصد مارک اپ لیا جاتا ہے، جبکہ 15 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک کے بڑے قرضے محض 7 فیصد مارک اپ پر دستیاب ہیں۔ ان قرضوں کی واپسی کے لیے 7 سے 8 سال کی طویل اور آسان مدت دی جاتی ہے، جس میں ایک سال کی رعایتی مدت بھی شامل ہوتی ہے تاکہ کاروبار اچھی طرح سیٹ ہو سکے۔
ایسے نوجوان جن کے پاس بیرونِ ملک سے ملازمت کی پیشکش موجود ہو، وہ ویزا، سفر اور ابتدائی اخراجات کے لیے 10 لاکھ روپے تک کا بلاسود قرضہ بھی لے سکتے ہیں۔ مالی معاونت کے ساتھ ساتھ یہ پروگرام تعلیمی شعبے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے تحت یونیورسٹی کے ہونہار طلبہ کو مفت لیپ ٹاپس دیے جاتے ہیں اور نوجوانوں کو آئی ٹی اور دیگر تکنیکی شعبوں میں بالکل مفت ہنر سکھایا جاتا ہے۔ اس پورے پروگرام میں شفافیت اور تیزی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام درخواستیں صرف آفیشل آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی وصول کی جاتی ہیں,
وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP) اور قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت پاکستان کی ورک فورس میں خواتین کی شمولیت کو 35 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو روزگار کے برابر مواقع فراہم کر کے معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے。 اس مشن کے تحت حکومت نے خصوصی طور پر “گرلز لرن، گرلز ارن” (Girls Learn, Girls Earn) نامی اقدام متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد خواتین کو جدید ہنر سکھا کر انہیں روزگار کی منڈی کا حصہ بنانا ہے۔
خواتین کی ورک فورس میں شمولیت اور روزگار کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے تحت وزیراعظم بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم میں تمام کیٹیگریز کے مجموعی بجٹ کا 25 فیصد کوٹہ صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔
اس کے علاوہ، تعلیمی اور تکنیکی شعبوں میں خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم اور مفت اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام (ہنرمندی کورسز) دونوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ رکھا گیا ہے تاکہ وہ آئی ٹی اور ہائی ٹیک شعبوں میں مہارت حاصل کر کے فری لانسنگ یا باقاعدہ ملازمتیں حاصل کر سکیں۔
ان وفاقی کوششوں کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر بھی مریم نواز کے زیرِ نگرانی “شی تھریڈز” (She Threads) جیسے بڑے روزگار منصوبے جاری ہیں، جہاں دیہی خواتین کو ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی جدید ٹریننگ کے دوران 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس دیا جاتا ہے اور تربیت مکمل ہوتے ہی گارمنٹس انڈسٹری میں فوری ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکومت کا یہ عزم اور ادارہ جاتی اصلاحات ملک کی اعلیٰ تعلیم یافتہ یا کم پڑھی لکھی خواتین کو یکساں میرٹ اور مہارت کی بنیاد پر پائیدار روزگار فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں ,
عالمی مارکیٹ تک رسائی کے لیے حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم یوتھ پروگرام نے نوجوانوں اور خواتین کو بین الاقوامی سطح پر ای کامرس، فری لانسنگ اور برآمدات (Exports) کے قابل بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں تاکہ ملکی معیشت میں ڈالر کی آمد کو بڑھایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے نیشنل ڈیجیٹل گروتھ اسٹریٹجی کے تحت پاکستان بھر کے نوجوانوں کو ایمازون (Amazon)، ای بے (eBay)، شاپائف (Shopify) اور علی بابا (Alibaba) جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے بین الاقوامی معیار کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، آئی ٹی اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوانوں کو اپ ورک (Upwork) اور فائور (Fiverr) پر خدمات فراہم کرنے کی تربیت دی گئی ہے، جس کی بدولت پاکستانی فری لانس برادری عالمی ڈیجیٹل سروسز مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر چکی ہے۔ جسمانی مصنوعات (Physical Products) تیار کرنے والی خواتین اور چھوٹے تاجروں کو بین الاقوامی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے حکومت نے “ای کامرس گیٹ وے” اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اشتراک سے نمائشیں متعارف کرائی ہیں، جہاں مقامی دستکاریوں اور ٹیکسٹائل پراڈکٹس کو عالمی خریداروں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ان کوششوں کو مالی سہولت دینے کے لیے وزیراعظم لون اسکیم کے تحت آئی ٹی، ای کامرس اور اسمارٹ ٹیک اسٹارٹ اپس کو بین الاقوامی لاجسٹکس، ویزا فیس، مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل ٹولز کی خریداری کے لیے 75 لاکھ روپے تک کے آسان قرضے ترجیحی بنیادوں پر دیے جا رہے ہیں۔
مزید برآں، حکومت اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام (Payment Gateways) کو مزید آسان بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ چھوٹے برآمد کنندگان اور فری لانسرز کو اپنی رقوم عالمی مارکیٹ سے براہِ راست اور محفوظ طریقے سے پاکستان منگوانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔