پاکستان کا میزائل کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد…………………کالم اندر کی بات….:کالم نگار،اصغر علی مبارک. ..پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کا میزائل فائر کرنے کے غیر ذمہ دار اقدام پر افسران کو سزائیں غیر تسلی بخش، ناقص اور ناکافی ہیں,پاکستان کے شہر میاں چنوں میں رواں برس نو مارچ کو بھارتی براہموس میزائل گرا تھا، جو جوہری صلاحیت کا حامل ہے پاکستان فوج کے ترجمان نے واقعے کے بعد ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ ’یہ بھارتی ریاست ہریانہ سے لانچ ہونے والا براہموس میزائل ہے جس نے بھارت میں 100 کلومیٹر کا فاصلہ 30 ہزار فٹ سے 40 ہزار فٹ کی اونچائی سے طے کیا جس پر کمرشل پروازیں اڑتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل پاکستانی حدود میں داخل ہوا اور 3 منٹ 24 سیکنڈ کی پرواز کے دوران مزید 124 کلومیڑ فاصلہ طے کر کے میاں چنوں میں گرا۔ ’خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یہ میزائل دوران پرواز کسی جہاز سے بھی ٹکرا سکتا تھا یا زمین پر کسی کو ہدف بنا سکتا تھا۔‘واقعے کے بعد پاکستان نے انڈین ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان کی حدود میں بھارتی میزائل گرنے سے متعلق جاری بیان پر حکومت پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا تھا۔ پاکستان نے انڈین ناظم الامور کو وضاحت کے لیے چھ سوالات دیے تھے

• میزائل حادثاتی طور پر فائر ہونے سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات، اپنایا گیا طریقہ کار اور خاص طور پر مذکورہ واقعے کے حوالے سے اقدامات کی وضاحت کریں

• پاکستان کی حدود میں گرنے والے میزائل کی قسم اور تفصیلات کی وضاحت کریں

• حادثاتی طور پر فائر ہونے والے میزائل کا فضائی راستہ اور پاکستان میں کیسے داخل ہوا، اس کی وضاحت کریں

• کیا بھارتی میزائل معمول کی مینٹیننس کے دوران بھی فائر ہونے کے لیے تیار رکھے جاتے ہیں

• میزائل کے حادثاتی طور پر فائر ہونے کے بارے میں انڈیا نے پاکستان کو فوری طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا اور پاکستان کی جانب سے اس کا اعلان کرنے اور وضاحت طلب کرنے تک کیوں انتظار کیا گیا

• وضاحت کی جائے کہ میزائل مسلح افواج کے تحت تھا یا چند ناتجربہ کار عناصر نے اس سطح کی نااہلی کا مظاہرہ کیا جن کے جواب تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔ پاکستان نے انڈیا کا پانچ ماہ قبل فائر کیے گئے میزائل کی انکوائری بند کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انڈین ایئر فورس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ رواں سال مارچ میں پاکستانی حدود میں ’حادثاتی‘ طور پر میزائل داغنے پر تین افسران کو برطرف کر دیا گیا ہے۔تاہم اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا کا میزائل فائر کرنے کے غیر ذمہ دار اقدام پر افسران کو سزائیں غیر تسلی بخش، ناقص اور ناکافی ہیں۔‘دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’انڈیا پاکستان کے مشترکہ انکوائری کے مطالبے کا جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔‘’انڈیا میزائل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، سیفٹی اور سکیورٹی پروٹوکول کا جواب دینے میں بھی ناکام رہا ہے۔‘پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ’انڈیا سٹریٹجک ہتھیاروں کو سنبھالنے میں تکنیکی خامیوں کو انسانی غلطی تلے چھپا نہیں سکتا، لہذا انڈیا کو میزائل واقعے پر مشترکہ تحقیقات کے لیے پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا چاہیے۔‘’کیونکہ نو مارچ کو انڈیا نے میزائل فائر کر کے پورے خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا، جبکہ معاملے پر پاکستان کا تحمل کا مظاہرہ ذمہ دار جوہری ریاست کا ثبوت ہے۔ ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے احتجاجی مراسلہ بھارتی ناظم الامور کے حوالے کیااسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو 6 بجکر 43 منٹ پر بھارتی علاقہ سورت گڑھ سے سپر سونک قسم کی اڑتی ہوئی چیز نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ ترجمان کے مطابق اس کے گرنے سے شہری املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ اس سپر سونک کے گرنے سے نہ صرف شہری املاک کو نقصان ہوا بلکہ انسانی جان کو بھی نقصان پہننچ سکتا تھا بھارتی سفارت کار کو کہا گیا کہ وہ فضائی حدود کی اس خلاف ورزی پر پاکستان کی مذمت اور تشویش سے اپنی حکومت کو آگاہ کریں۔ ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے اور تحقیقات کا نتیجہ پاکستان سے شیئر کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں اس حوالے سے تفصیلات سے صحافیوں کا آگاہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نو مارچ کو ایک تیز رفتار غیرمسلح میزائل بھارت سے پاکستان میں داخل ہوا اور میاں چنوں کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ پاکستان نے بھارت کو تنبہ دی کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے اجتناب کرے۔ اس اڑتی ہوئی چیز کے نتیجہ میں پاکستان میں اندرونی و غیر ملکی پروازوں کی آمدورفت متاثر یا کسی فضائی حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’نو مارچ 2022 کی شام چھ بج کر 43 منٹ پر ایک تیز رفتار چیز کو بھارتی حدود میں دیکھا گیا جو اچانک پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا اور میاں چنوں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب وہ گرا تو شہری آبادی کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے اس چیز کو بھارت سے اڑنے سے لے کر میاں چنوں میں گرنے تک ڈیٹیکٹ کیا۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئر فورس نے ایس او پیز کے مطابق کارروائی کی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس چیز خود گر کر تباہ ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس چیز نے مقامی اور غیر ملکی پروازوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی حطرے میں ڈالا۔ اس حادثے کی وجہ سے کوئی بڑا فضائی حادثہ پیش آ سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان اس کھلم کھلا بھارتی خلاف ورزی پر احتجاج کرتا ہے اور مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کی صورت میں خبردار کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس واقعے کےحوالے سے بھارت کی وضاحت کا منتظر ہے۔ اس موقع پر میجر جنرل بابر افتخار کے ہمراہ موجود ایئر وائس مارشل طارق ضیا نے کہا کہ ’ہم اس وقت صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز ممکنہ طور پر ایک سپرسانک میزائل تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل تھا مگر غیرمسلح تھا۔ ایئر وائس مارشل طارق ضیا نے اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر بھارتی حدود میں 104 کلومیٹر دور اس چیز کو دیکھا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ایئر فورس نے اس تیز رفتار چیز کو پرواز سے گرنے تک ٹریک کیا۔‘’یہ چیز پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر 50 منٹ پر میاں چنوں کے قریب گر گئی۔‘ ’انہوں نے کہا کہ یہ چیز پاکستانی حدود میں کل 124 کلومیٹر اندر آئی اور اسے پرواز سے گرنے تک چھ منٹ اور 46 سکینڈ لگے۔‘ اس حوالے سے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال کے پولیس حکام نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ تحصیل میاں چنوں کے علاقے میں ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے۔ تاہم بعد میں ان کی جانب سے تردیدی بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں بوائلر پھٹنے کا واقعہ پیش آیا ہے واضح رہے کہ ‘انڈین ایئر فورس نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’اس معاملے کے حقائق جاننے کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری قائم کی گئی تھی جس کا مقصد واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرنا تھا۔‘انڈین فضائیہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا تھا کہ واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ’تین افسران کا مروجہ طریقہ کار سے ہٹنا میزائل کے حادثاتی طور پر فائر ہونے کی وجہ بنا۔‘بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ حکومت نے منگل کو ان تینوں افسران کو فوری طور پر برطرف کر دیا ہے۔نو مارچ 2022 کو پاکستان میں گرنے والے بھارتی میزائل کے بارے میں پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ عمل غلطی نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے میاں چنوں میں آن گرنے والے بھارتی میزائل سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تھا البتہ ایک ہوٹل اور مکان متاثر ہوا تھا۔ بھارت نے ایک بیان میں کہا کہ میزائل حادثاتی طور پر فائر ہو گیا تھا۔اکستان نے بھارتی بیان مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ اس واقعے کی جانب مبذول کرائی بھارت کی جانب سے میزائل فائر ہونے کو حادثہ قرار دینے پر بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں مثلاً میزائل کو داغنے کے دوران کون سے اقدامات کار فرما ہوتے ہیں؟اگر میزائل غلطی سے فائر ہو جائے تو اسے ہوا میں روکا جا سکتا تھا؟ ایک بار ٹارگٹ لاک ہونے اور فائر کرنے کے بعد کیا سمت تبدیل کی جا سکتی ہے، یا اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟سینٹر آف ایروسپیس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ڈائریکٹر سید محمد علی کے مطابق ’یہ میزائل اگر مِس فائر تھا تو بھارت کو چاہیے تھا کہ پاکستان کو بروقت آگاہ کرتا تاکہ اسے سرپرائز اٹیک نہ سمجھا جاتا بلکہ مس فائر مانا جاتا۔‘میزائل کی بہت سے قسمیں ہوتی ہیں۔ سمندر سے سمندر، فضا سے زمین، زمین سے زمین، زمین سے فضا اور سمندر سے زمین پر مار کرنے والے میزائل۔ہر میزائل کے اپنے طریقہ کار اور حفاظتی اقدامات موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضا سے فضا میزائل جو دشمن کے جہاز کو گرانے کے لیے لانچ ہوتا ہے، اس کی سیفٹی سکیورٹی مختلف ہوتی ہے کیوں کہ اس کا ہدف صرف طیارہ ہو گا۔’لیکن ایک ایسا میزائل جو پورے شہر کو تباہ کر سکتا ہے اس کی سیفٹی سکیورٹی مختلف اور زیادہ حساس نوعیت کی ہو گی۔‘ ایک ایسا میزائل جس میں ایٹمی، حیاتیاتی اور کیمیائی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت ہو، اسے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار کہا جاتا ہے۔ان کے مطابق: ایسے ہتھیاروں کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کسی ایک شخص کے کنٹرول سے وہ لانچ نہ ہو پائے’ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص نے بٹن دبایا اور میزائل لانچ ہو گیا بلکہ اس کے آٹھ دس مختلف مراحل ہوتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ اس میں قانونی اور آپریشنل پروٹوکول بھی ہوتے ہیں۔ میزائل کا بِلٹ اِن سسٹم اس انداز میں ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ اس کے کوڈز مختلف ذمہ دار عہدے داران کے پاس ہوتے ہیں جب تک وہ کوڈ اکٹھے کر کے فیڈ نہیں کیے جاتے میزائل لانچ نہیں ہو سکتا، اسے لانچ پروٹوکول کہا جاتا ہے۔ لانچ کوڈ کسی ایک شخص کے پاس نہیں ہوتے۔ ’ذمہ دار ایٹمی طاقتوں میں ملک کے سربراہ سے تحریری اجازت لینے کے بعد دو تین ذمہ داران افسران کوڈ اکٹھا کرتے ہیں اور پھر میزائل لانچ کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔‘ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے دو طرح کے میزائل ہیں۔ ایک کروز میزائل ہوتا ہے اور ایک بیلسٹک۔بیلسٹک میزائل کی رفتار کروز میزائل سے تیز ہوتی ہے، جو ایک نظام کے تحت چلتا ہے۔ جب اسے چلایا جاتا ہے تو اس میں باقاعدہ ہدف کا پتہ ڈالا جاتا ہے تاکہ میزائل ہدف کو ہٹ کرے۔ کروز میزائل کی پوری پرواز کنٹرولڈ ہوتی ہے جبکہ بیلسٹک میزائل فائر ہوتا ہے تو دورانِ پرواز راکٹ موٹر گر جاتی ہے اور وار ہیڈ ہی ہدف تک جاتا ہےانہوں نے فائر ہونے کے بعد کروز میزائل کو روکنے سے متعلق سوال پر کہا کہ یہ میزائل فائر کرنے والے عہدے دار اسے دورانِ پرواز کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔ کروز میزائل کو فائر کرنے والی ٹیم اسے دورانِ پرواز تباہ کر سکتی ہے اور اگر میزائل میں کوئی تکنیکی غلطی سامنے آئے تو اس کے اندر خودکار تباہ کاری کا نظام بھی ہوتا ہے جو بوقت ضرورت کام آتا ہے۔اس کے علاوہ کروز میزائل تقریباً جہاز کی طرح سفر کرتا ہے، جو سمت اس کے سسٹم میں شامل ہے وہ اُدھر ہی جائے گا۔یہ کہنا کہ میزائل غلطی سے پاکستان میں آیا تو یہ تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ میزائل میاں چنوں میں اس لیے گرا کیوں کہ اس میں میاں چنوں کی سمت کا ڈیٹا فیڈ کیا گیا تھا۔بھارت سے داغا جانے والے میزائل غیر مسلح (بغیر وار ہیڈ) تھا، لیکن اگر یہ مہلک ہوتا تو اس سے کتنی تباہی پھیلتی؟اس سوال کے جواب میں محمد علی نے بتایا کہ اگر میزائل میں ایٹمی وار ہیڈ ہوتا تو میاں چنوں شہر مکمل تباہ ہو جاتا۔یہ ٹیسٹنگ نہیں تھی اور اگر بالفرض ہے بھی تو میزائل نے سرحد پار ہدف طے ہونے پر کی جو یقینی طور پر حدود کی خلاف ورزی ہے، اسی لیے پاکستان نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جب یہ بتا دیا کہ وہ بھارت کے اندر سے اس میزائل کو مانیٹر کر رہے تھے اور وقت بھی بتا دیا کہ کتنی دیر وہ پاکستانی حدود میں آیا تو یہ بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگی حالات میں جب ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک سے دوسری ایٹمی طاقت کی طرف میزائل فائر کرتا ہے تو ایٹمی جنگ کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔

’چوں کہ ابھی جنگی حالات نہیں تھے۔ جنگی بندی معاہدہ بھی چل رہا ہے ایسے حالات میں حکمت عملی مختلف ہوتی ہے اور سفارتی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔‘

محمد علی نے کہا کہ باقی پاکستان کے پاس کیا تکنیکی آپشن ہیں تو یہ ایک حساس بات ہے جسے کبھی بھی عام نہیں کیا جا سکتا۔ ’کوئی بھی ملک اپنی جنگی حکمت عملی ظاہر نہیں کرتا۔‘اگر میزائل کا رخ کسی حساس تنصیب کی طرف ہوتا تو اس صورت میں کیا ایس او پیز ہیں؟

اس سوال کے جواب میں محمد علی نے کہا کہ پاکستان میزائل کو مانیٹر کر رہا تھا اور اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی تو پاکستان کا ردعمل مختلف ہو سکتا تھا۔

’ایس او پیز کیا ہیں، یہ سب حساس اور کلاسیفائیڈ معلومات ہیں جو قومی راز کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

واقعے پر بھارتی بیان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ جیسے بھارت نے کہا کہ یہ غلطی ہے تو یہ بھارت کی بہت تباہ کن غلطی ہے اور ایسا ردعمل بہت غیر ذمہ دارانہ ہے۔

’جب تک پاکستان نے معاملہ نہیں اُٹھایا بھارت چپ سادھے رہا لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ اور دفتر خارجہ کے مراسلے کے بعد بھارتی وزارت دفاع نے بیان جاری کیا۔

’یہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہی ہے کہ جب اُن کو علم تھا کہ غلطی ہو گئی تو اسی وقت ہاٹ لائن کے ذریعے پاکستان سے فوری رابطہ کرتے اور بروقت اطلاع کرتے۔‘ انہوں نے ’غلطی کے بعد‘ اور پاکستان کے ردعمل سے پہلے بھارت کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا۔

’میں سمجھتا ہوں کہ اس میزائل کو لانچ کرنے کا مقصد پاکستان کے دفاعی نظام، ریسپانس ایکشن، سفارتی ایکشن اور میڈیا ایکشن کو چیک کرنا تھا جس کے لیے ایک ٹیکنیکل غلطی کا بہانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

بھارت کی جانب سے داغے جانے والے میزائل کے بارے میں دفاعی ماہرین کا اتفاق ہے کہ یہ براہموس میزائل تھا۔

محمد علی کے مطابق برہموس کروز میزائل روس اور بھارت کا مشترکہ منصوبہ ہے تو یہ روس کے لیے بھی پریشان کُن بات ہے کہ اس کے اشتراک سے بننے والا میزائل محفوظ ہاتھوں میں نہیں ’بھارت کا سٹریٹجک پروگرام انتہائی غیر محفوظ ہے۔ وہ ممالک جو بھارت کو میزائل اور نیوکلئیر ٹیکنالوجی دے رہے ہیں ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے سٹریٹجک پروگرام کا سیفٹی ریکاڑد چیک کریں اور اس واقعے پر بھارت سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے وضاحت طلب کریں۔

یہ میزائل بھارتی ریاست ہریانہ کے مقام سرسا سے فائر ہوا اور 260 کلومیٹر کی مسافت طے کر کے میاں چنوں میں گرا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے واقعے کے بعد اپنی میڈیا بریفنگ کو ابتدائی بیان میں بتایا کہ پاکستان ایئر فورس نے لانچ سے لے کر گرنے تک میزائل کی پوری پرواز کو بروقت مانیٹر کیا۔ ڈی جی آئی ایس پر آر کے مطابق یہ ایک سپر سونک پروجیکٹائل تھا جو ممکنہ طور پر میزائل تھا اور غیر مسلح تھا۔

’یہ آبجیکٹ ابھی بھارت میں 100 کلو میٹر اندر تھا تب ہی ہم نے اسے نوٹس کر لیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں وہ چیز تین منٹ اور چند سیکنڈ تک رہی اور 260 کلومیٹر اندر تک سفر کیا، اس کے خلاف ضروری کارروائی بروقت کرلی گئی تھی۔’پاکستان نے بھارت کو سوالوں کا مسودہ بھارت کو بھجوایا ہے، جس میں بھارت کے میزائل پروگرام کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔پاکستانی وزیر خارجہ نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی خط لکھا ہے اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کے رد عمل میں کہا کہ وہ ان کے بیان سے مطمئن نہیں اور چونکہ میزائل پاکستان میں گرا ہے اس لیے اس کی یک طرفہ نہیں بلکہ مشترکہ تفتیش کی ضرورت ہے۔