عید پر قوم کو تقسیم کرنےکی روایت برقرار ۔…….. (اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)پاکستان بھر میں اس بار بھی دو عیدوں کی روایت برقرار رہی کیونکہ خیبر پختون خوا میں ایک بار پھر مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے ایک بار پھر قوم کو تقسیم کرتے ہوئے عید الفطر کا ’’ چن چڑھا ‘‘ دیا , یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا ’’ چاند ‘‘ الگ سے دیکھتے ہوئے قوم کو تقسیم کیا ہے ۔ عید الفطر روزہ ،ریاضت کے بعد اللہ کا انعام ہے، عید کا مقصدپیار، محبت، ایثار، قربانی، باہمی احترام اور بھائی چارے کے فروغ کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ کئی سال سے عید کے موقع پر قوم کو ایک کرنے کے بجائے تقسیم کردیا جاتا ہے۔ ہمارے نبی کریمﷺ جب مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو وہاں کے لوگ چھوٹے چھوٹے تہواروں کے علاوہ نو روز کا جشن اور کچھ بڑے بڑے بتوں کی پوجا کا تہوار بھی مناتے تھے حضور ﷺ نے ان باتوں کو سخت نا پسند فرمایا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنی امت کے لئے دعا فرمائی اور دوعیدیں مسلمانوں کے لیے مقرر کر وا لیں، جب پہلی بار مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے تو تاریخ اسلام کے اس پہلے رمضان المبارک میں حضور ﷺ نے مدینہ کے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے تم بھی عیدیں مناتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری عیدوں کو ان دو عیدوں سے بدل دیا ہے۔ اب تم ہر سال شان سے عیدالفطر اور عیدالا لضحیٰ منایا کرو۔ صوبۂ خیبر پختونخوا میں بروزپیر 2 مئی 2022 کےروزکئی علاقوں میں لوگ عیدالفطر کا تہوار منایاگیا,۔صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے اکثر اضلاع میں عیدگاہوں اور مساجد میں نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔لیکن ملک کے دیگر حصوں کی طرح سرکاری عید مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی مطابق ممکنہ طور پر 3 مئی منگل کے روز منائی جانے کافیصلہ کیا گیا ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید عبدالخبیرآزاد نے کہا ہے کہ تمام علما مرکزی رویت کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا دوبارہ اجلاس نہیں بلایا گیاہے۔ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے سے متفق ہے۔ پوری قوم 3 مئی بروز منگل کو عیدالفطر منائے گی۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ ہاؤس خیبر پختوا خوا کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے رویت ہلال کی زونل کمیٹی اور مسجد قاسم علی خان کوموصول ہونے والی شہادتوں کی روشنی میں بروز پیر مورخہ 2 مئی کو سرکاری سطح پرعید الفطر منانے کافیصلہ کیا گیابیرسٹر سیف کا اس بارے میں کہنا ہے کہ صوبے میں مختلف علاقوں سے چاند دیکھنے کی 130 شہادتیں موصول ہوئیں ان شہادتوں کی روشنی میں خیبر پختونخوا میں عید منانے کا فیصلہ کیا .وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے ہمراہ کابینہ اراکین اور سرکاری حکام نے گورنر ہاؤس پشاور میں عید الفطر کی نماز ادا کی ,صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے اکثر اضلاع میں عیدگاہوں اور مساجد میں نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہوئے۔لیکن ملک کے دیگر حصوں کی طرح سرکاری عید مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی مطابق ممکنہ طور پر 3 مئی منگل کے روز منائی جائے گی۔واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ایک طویل عرصے سے دو عیدیں منائی جا رہی ہیں۔ پشاور کے علاوہ مردان، چارسدہ، بنوں، قبائلی علاقے خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، کُرم ایجنسی اور شمالی وزیرستان جنوبی وزیرستان، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ , ہزارہ ڈویژن میں میں عید الفطر کا تہوار منایاگیا التبہ پشاور شہر میں ہندکو بولنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں نے سرکاری اعلان کے مطابق عید 3 مئی منگل کے روز منانےکا فیصلہ کیا ۔۔شہر میں عید کی وجہ سے تمام بڑے بازار مکمل طور پر بند پڑے ہیں اور عوام نے بڑی تعداد میں تفریحی مقامات اور پارکوں کا رخ کیا.پاکستان میں عید الفطر منانے کی تاریخ پر عام طور پر تنازع رہتا ہے اور دیکھنے میں آتا ہے کہ ملک کے کچھ علاقوں بالخصوص پشاور کے چند علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے عید منائی جاتی ہے گذشتہ بر س عید الفطر کا چاند نظر آنے کا اعلان تقریباً نصف شب کے قریب کیا گیا تھا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عید کی مبارکباد اور طنز و مزاح دکھائی دے رہے ہیں.خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مفتی پوپلزئی کے ساتھ عید منانے کے اعلان عوام کی جانب سے شدید تنقید کا سامناہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی قائم کردہ کمیٹی کی موجودگی میں الگ سے عید کے اعلان سے کیا مسلمانوں میں اختلاف پیدا نہیں ہوں گے؟عید الفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید کے دن مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق ؛جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالٰیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالٰیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو ! میرے بندوں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کے لیے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاﺅ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔ نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے ) لوٹتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں.مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو عید مناتے ہیں۔ کسی بھی قمری ہجری مہینے کا آغاز مقامی مذہبی رہنماؤں کے چاند نظر آجانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ایسے ہیں جو سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں۔ ایک روایت ہے کہ جس روز حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی، اس روز دنیا میں پہلی بار عید منائی گئی تھی۔ دوسری بار عید اس وقت منائی گئی تھی جس روز ہابیل اور قابیل کی جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قوم نے اس روز عید منائی تھی، جس روز آپ یعنی حضرت ابراہیم ؑ پر نمرود کی آگ گلزار ہوئی تھی۔ حضرت یونس ؑکی امت اس روز عید مناتی ہے، جس روز حضرت یونسؑ کو مچھلی کی قید سے رہائی ملی تھی۔ حضرت موسیٰؑ کی قوم اس روز عید مناتی ہے، جس روز حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی امت آج تک اس یوم سعیدکوعید مناتی ہے۔ جس روز حضرت عیسیٰؑ کی ولادت ہوئی عید الفطر عالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو ہر سال بڑی عقیدت و جوش و خروش سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے.عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ؛ خوشی؛ جشن ؛ فرحت اور چہل پہل کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں؛ مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوام عالم امت مسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں جو ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے ؛ عید بڑے شاندار طریقے سے منائی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا ؛ عید کی تیاری میں جوش و خروش کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہے۔ عید کی تیاری میں نت نئے لباس و دیگر لوازمات کی شاپنگ دیکھنے کو آتی ہے جو ایک زندہ قوم کی روح رواں کے طور پر سامنے آتی ہے۔