پاکستان میں دھرنا سیاست یا سیاست کا دھرن تختہ۔………………………………………………۔۔۔اصغر علی مبارک کا کالم “اندر کی بات”
یہ بات اپریل 1977 کی ھے جب نو جماعتی اتحاد نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کے خلاف تحریک شروع کی موجودہ دھرنے میں شامل کئی جماعتوں کے بانیان اس تحریک کا حصہ رھے جب نو جماعتی تحریک آخرکار جولائی 1977 کے مارشل لاء پر منتج ہوئی۔نو جماعتی اتحاد پاکستان قومی اتحاد کی تحریک بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا اتحاد تھا۔ یہ تحریک مذہبی و سیاسی جماعتوں کا گھٹ جوڑ تھی” عوام کی خدمت کانعرہ لےکر اٹھنے والی تحریک کے نام پر قبل ازیں بھی سال1968 میں ایوب خان دور حکومت میں دباو ڈال کر تحریک نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بالغ حقِ رائے دہی کی بناء پر 1970 کے انتخابات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اِن تاریخی انتخابات کا ایک نتیجہ خانہ جنگی کے بعد مشرقی پاکستان کی تلخ علیحدگی کی صورت میں نکلا، جب سیاستدانوں کی ذاتی لڑائیوں کے نتیجہ میں دسمبر 1971 میں بنگلہ دیش بن گیا ۔1977 کی تحریک 1968 کے واقعات سے کافی مختلف تھی۔ نو جماعتوں کی تحریک کسی آمریت کے خلاف نہیں بلکہ یہ تحریک بھٹو صاحب کی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف تھی۔ اِس کے نتیجے میں ملک میں مارشل لگآیا گیا، موجودہ دھرنے میں شامل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نانا معزول وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی میں موجودہ جناح پارک کی جگہ پر قائم جیل میں پھانسی دی گئی جنرل ضیاء الحق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حکومت 11 سال تک قائم رہی۔جنرل ضیاء الحق کی اِس حکومت کے سماجی و سیاسی اثرات ایسے تھے کہ پاکستانی ریاست اور سیاست اب تک اِن سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ضیاء کی آمریت نے ’پاکستان کی سیاسی اور سماجی ارتقاء کو روک دیا۔‘
ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف نو جماعتی قومی اتحاد کے 9 ستاروں میں ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغرخان، پیر صاحب پگارہ،میاں طفیل محمد ،خان عبدالولی خان ،سردار عبدالقیوم خان ،مولانا شاہ احمد نورانی جیسی شخصیات شامل تھیں ۔ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نو جماعتی قومی اتحاد کا مقبول نعرہ ” نو ستارے ایک قرآن ،جیوے جیوے اصغر خان” تھا۔ جبکہ مخالف جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا”نوستارے گردش کے مارے۔تھا جنرل ضیاء الحق کے مارشل میں ہی سیاست میں روپے پیسے کے استعمال کی روایت مضبوط ہوئی اور دولت کی ریل پیل سیاسی اقدار کو گھن کی طرح چاٹتی چلی گئی موجودہ آزادی مارچ میں شامل راہنماؤں کے والدین ماضی کے سیاسی دھرنوں۔تحریکوں اور احتجاجی مارچ ریلیوں اور لاک ڈاؤن کا حصہ رھے اور دارالحکومت اسلام آباد پر چڑھائی کر کے اسے کنٹینرز کا شہر بنانے اپنا اپناحصہ ڈالا۔اس مرتبہ دھرنا سیاست کے ذریعے ایوان اقتدار میں آنے والی جماعت کو اپنی ھی دھرنا سیاست کاسامناھے جس کے لیے نو جماعتوں کا دھرنا اتحاد وزیراعظم عمرانخان کے استعفے کے مطالبے پر اسلام آباد میں خیمہ بستی بنائے بیٹھا ھے اس بابت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کا مقصد لوگوں کو اکسانا ہے، وزیراعظم کو گرفتار کرنے والی بات پر کور کمیٹی نے مولانا کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارے دروازے اپوزیشن کے لیے کھلے ہیں ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، اپوزیشن نے جو تقاریر کی ہیں ان پر بہت افسوس ہوا ہے۔ اپوزیشن کے لوگ اگر دھمکی دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اپنی بات پر قائم نہیں ہیں اور زبان کے کچے ہیں۔پرویز خٹک نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیر اعظم کے استعفےپر کوئی بات نہیں ہوگی کوئی اس کا سوچے بھی نہیں، ہم ان سے ڈبل، ڈبل ووٹ لے کر اقتدار میں آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اکرم دارنی سے رابطہ ہے، امید ہے یہ اپنے معاہدے پر رہیں گے، ورنہ انتظامیہ ایکشن لے گی۔وزیر دفاع نے کہنا ہے کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، حکومت لاچار نہیں ہوتی، کوئی نقصان ہوا تو ذمہ داری ان پر آئے گی اور ملک میں جو کچھ بھی ہوگا وہ ان کے گلے پڑے گا۔اپوزیشن راہنماوں نے اپنی تقریروں میں زیادہ تنقید اداروں پر کی ہے اپوزیشن کو ملک دشمنی نہیں کرنی چاہیے یہ سب کے ادارے ہيں۔ پاکستان اتنا معمولی ملک نہیں کہ پچاس ہزار لوگ آکر تختہ الٹا دیں، اگر تیس، چالیس ہزار لوگ آ کر استعفیٰ مانگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت چل ہی نہیں سکتی۔سربراہ حکومتی کمیٹی نے کہا کہ شہباز شریف کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، اقتدار میں کیسے آئے، اس دوران علی امین نے فضل الرحمان کو چیلنج دیا کہ ، وہ سیٹ چھوڑتےہیں آئیں دوبارہ الیکشن لڑیں۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائےاطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائےتو کنٹینر پر وہ پانچ خاندان ہیں جو ہمیشہ سے اس ملک پر حکمرانی کرتے رہے ہیںویسے غور کیا جائے تو بادی النظر میں جناب مفتی محمود خاندان ،جناب اچکزئی خاندان ، جناب ولی خان خاندان ، جناب ذوالفقار علی بھٹو خاندان اور جناب میاں نواز شریف خاندان کے افراد اس وقت پاکستانی سیاست کےآسمان پر نوستاروں کی کہکشاں بن جگمگا رھے ھیں جس سے پاکستان کی سیاسی صورتحال میں بھونچال آیا ھوا ہے کوئی مانے یا مانے دھرنے کی سیاست سے برسراقتدار آنے والی حکومت کو ان نو ستاروں کے اتحاد نے دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں حکومت بالکل نہیں جائے مگر اب حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا ھےکوئی شک نہیں پاکستان میں جمہوریت اب موروثیت کا دوسرا نام ہے اور عمران خان 21 سالوں سے اس کے خلاف برسرپیکار تھے آج پاکستان کی قریب قریب تمام سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت نظر نہیں آتی اور ان بڑے سیاسی جماعتوں عہدہدار بن کر ماضی کے حکمرانوں کی اولادیں ھم مسلط ھیں۔وہ لوگ حکمرانی کررھے جن کے آباواجداد ان ملک پر اقتدار کے نشے لوٹتے رھے ہیں۔ خیال رھےکہ اس وقت کنٹینر پر موجود پانچ بڑے سیاسی خاندانوں ، مفتی محمود خاندان ، اچکزئی خاندان ، ولی خان خاندان ،بھٹو خاندان اور شریف خاندان۔ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کا حصہ ہیں اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے استعفے،نئے انتخابات پر اتفاق کیاھے،اپوزیشن جماعتوں کی رہبرکمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی کاکہنا ھےکہ حکومت سے مذاکرات کیلئے ہماری پہلی شرط استعفیٰ ہے، ہم رابطہ رکھنے سے خائف نہیں ، سب سے پہلے حکومت کو اپنا لب ولہجہ درست کرنا ہوگا، آئندہ کے آپشنز میں اسمبلیوں سے استعفے، لاک ڈاؤن، ہائی ویز بلاک کی تجویز زیرغور ہے۔انکامانناھے کہ رہبرکمیٹی میں مستقبل کے فیصلے کیے گئے، تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ آزادی مارچ کے مقاصد میں وزیراعظم کا استعفیٰ ، فوج کے بغیرنئے انتخابات کروائے جائیں۔
اس مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز زیرغور ہیں۔رہبرکمیٹی برقراررہے گی۔ حکومت نے رابطے کرنے کی تجویز دی ہے۔ہم رابطہ رکھنے سے خائف نہیں ہیں، لیکن ہمارے وزیراعظم کی گلگت کی تقریر سامنے ہے، پرویز خٹک کی بات جو کہتا استعفے پر کوئی بات نہ کرے۔ انکا کہنا ھےکہ سب جمہوری جماعتیں ہیں، ہماری پہلی شرط استعفیٰ ہے، ہم رابطے سے انکاری نہیں ہے، سب سے پہلے حکومت کو اپنا لب ولہجہ درست کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ساری جماعتوں کا متفقہ فیصلہ اور زبان ہے۔ اسمبلیوں سے استعفے، لاک ڈاؤن، ہائی ویز کو بلاک کرنے کے آپشن موجود ہیں۔ ہم فیصلے کریں گے کہ کس نے ڈی چوک جانا ہے، کیسے جانا ہے،
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس میں حکومتی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم کو آزادی مارچ کے حوالے سے مختلف تجاویز سے آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرانے کی ہدایت کی۔حکومتی مذاکراتی ٹیم میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ نہ تو وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوں گے اور نہ ہی دوبارہ انتخابات ہوں گے
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کا کوئی بھی غیر آئینی مطالبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔اپوزیشن کا احتجاج احتساب کاعمل روکنے کی کوشش ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے مارچ کے شرکاء جب تک بیٹھنا چاہیں اجازت دی جائے گی۔دھرنے کے شرکاء کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پر فوری کاروائی کی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔قارئین کرام:پاکستان کی سیاسی تاریخ میں لانگ مارچ، آزادی مارچ۔لاک ڈاون اور دھرنوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے دھرنوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ماضی کے لانگ مارچ اور دھرنوں میں سیاسی و مذہبی رہنما حکومتِ وقت کے خلاف متحد رھے۔ ان میں سے بعض کو کامیابی بھی ملی جبکہ بعض اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے 2013 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ اسلام آباد کی سخت سردی میں 14جنوری سے 17 جنوری ( چار روز ) تک جاری رہنے والے دھرنے کا اختتام حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات پر ختم ہوا۔علامہ طاہر القادری کے اس دھرنے میں 50 ہزار سے زائد مرد و خواتین نے شرکت کی، جنہیں فتح کی نوید سنائی گئی۔ جس میں مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے بعد تمام مظاہرین پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ اگست 2014 میں طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اسلام آباد کی طرف ایک مرتبہ پھر مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔2014 میں طاہر القادری کا انقلاب مارچ اور پاکستان تحریک انصاف کا آزادی مارچ اکٹھے کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے لانگ مارچ کے موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے کیے فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) کے تین ہزار اہلکاروں کو اسلام آباد میں طلب کرلیا تھا۔اسلام آباد میں تعینات پولیس اہلکاروں میں 3 سو سے زائد کمانڈو شامل تھے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں تعینات رینجرز کے اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا تھا۔طاہر القادری کے لانگ مارچ کے موقع پر چار روز لاہور میں آمد و رفت بھی معطل رہی جبکہ اس دوران ماڈل ٹاون میں علامہ طاہر القادری کی رہائشگاہ کے قریب موبائل فون سروس بھی بند رہی۔واضح رہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور میں ’یومِ شہدا‘ کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے 14 اگست کو ’انقلاب مارچ‘ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’انقلاب مارچ‘ اور ’آزادی مارچ‘ اکٹھے چلیں گے۔ طاہر القادری کے مطابق وہ عمران خان کے ساتھ چل کر ’ظلم کا خاتمہ‘ کریں گےدوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ ہر صورت میں 14 اگست کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے لیے نکلیں گے اور اس میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی اور قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہ کرائے جانے کے خلاف 14 اگست 2014 کو اسلام آباد کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔لاہور سے شروع ہونے والا یہ مارچ دو روز میں اسلام آباد پہنچا۔ جہاں اُنہیں پہلے زیرو پوائنٹ اور پھر آبپارہ چوک رُکنے کی اجازت دی گئی۔ آبپارہ چوک میں پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف الگ الگ اپنے جلسے کرتے رہے اور پھر انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جانے کا اعلان کیا۔ہزاروں کی تعداد میں پولیس، ایف سی اور کنٹینرز کی دیواریں، لیکن سب رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے عمران خان اور طاہر القادری 20 اگست کو ریڈ زون میں داخل ہوگئے۔ اس دوران حکومت نے تمام فورس کو پیچھے ہٹا لیا۔اس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے 18 دسمبر تک ایک طویل دھرنا دیا گیا۔ جس میں دھرنے کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی طرف مارچ بھی کیا۔آنسو گیس کی برسات ہوئی، ہزاروں شیل فائر کیے گئے، سپریم کورٹ کے گیٹ پر کپڑے لٹکائے گئے۔ ڈی چوک میں جلیبی کی دکانیں بھی کھلیں۔ ڈی جے بٹ کے ترانے بھی چلے۔ لیکن بالاخر 70 دن کے بعد طاہر القادری اور 126 دن بعد عمران خان بھی دھرنا ختم کر کے روانہ ہوگئے۔اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی جماعت نے ختم نبوت کے حلف نامے میں متنازع ترمیم کے خلاف 5 نومبر 2017 کو دھرنا دیاتھا۔حکومت نے مذاکرات کے ذریعے دھرنا پرامن طور پر ختم کرانے کی کوششوں میں ناکامی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیض آباد خالی کرانے کے حکم کے بعد دھرنا مظاہرین کے خلاف 25 نومبر کو آپریشن کیا، جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔آپریشن کے خلاف اور مذہبی جماعت کی حمایت میں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔27 نومبر 2017 کو حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے سمیت اسلام آباد دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے، جس میں دوران آپریشن گرفتار کیے گئے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔بائیس روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے کی وجہ سے جڑواں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے لاکھوں شہری شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔ روزانہ فیض آباد میں مختلف ججز اور حکومت کو گالیاں دی جاتی رہیں۔ جس کے بعد وفاقی پولیس نے ایکشن شروع کیا اور سو سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون نے 2017 میں اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ پر لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف کنٹینر کے بلٹ پروف شیشے کے اندر سے خطاب کے دوران یہ سوال پوچھتے تھےکہ ’مجھے کیوں نکالا۔مارچ 2007 کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی۔تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور پھر جسٹس افتخار چوہدری، وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد کی قیادت میں جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ کیا گیا۔ جو باآسانی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔نواز شریف نے اعتزاز احسن سے اس احتجاج کو دھرنے میں تبدیل نہ کرنے کی درخواست کی اور لانگ مارچ کے تمام شرکا منتشر ہوگئے۔ تاہم یہ تحریک ختم نہ ہوئی اور مارچ 2009 کو ایک بار پھر لانگ مارچ کا سلسلہ شروع ہوا۔اس بار یہ مارچ لاہور سے نواز شریف کی قیادت میں شروع ہوا اور اسے روکنے کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا گیا۔ لیکن یہ مارچ ابھی گجرانوالہ ہی پہنچا تھا کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے تمام ججز کو بحال کرنے کا اعلان کردیا۔کہا جاتا ہے کہ اس معاملے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کردار ادا کیا اور نواز شریف کو لانگ مارچ روکنے کے لیے کہا تھا۔9 مارچ 2007 کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹائے جانے پر وکلا نے عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک چلائی۔تحریک کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا اور پھر جسٹس افتخار چوہدری، وکلاء رہنماؤں اعتزاز حسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد کی قیادت میں جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ کیا گیا۔ جو باآسانی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکا۔۔16 مارچ 2009 کو وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت تمام معزول ججوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا اور یوں یہ مارچ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
پاکستان میں دھرنا سیاست یا سیاست کا دھرن تختہ۔……………۔۔۔اصغر علی مبارک کا کالم “اندر کی بات”
Asghar Ali Mubarak


