Pakistani mountaineer Asif Bhatti stuck on Nanga parbat peak due to bad weather………………Asghar Ali Mubarak………….. ….
Pakistani mountaineer Asif Bhatti, a professor at the University of Islamabad, was close to summiting the world’s ninth highest 8,126-meter Nanga Parbat peak, but got stuck due to bad weather.
A large number of climbers are attempting the summit this year, with 52 climbers climbing Nanga Parbat on Sunday, including 11 Pakistanis.
Nanga Parbat is one of the 5 most dangerous peaks in the world where the risk of loss of life is 21%.
ACP Secretary General Karar Hydari said that Asif Bhatti is stuck in Camp 4 due to low visibility due to snow, which is at an altitude of 7,500 to 8,000 meters, he needs help. Several aid organizations are trying to reach the summit and some of their members have sent word that Asif Bhatti is not visible because of the snow.
He said that a helicopter would be needed to evacuate them from there, but for that they would have to come down at an altitude of 6,500 to 6,000.
He said that Asif Bhatti along with other climbers Lt Col (Rtd) Dr. Jabbar Bhatti, Dr. Naveed, Saad Muhammad and Fahim Pasha had started the expedition to reach the peak a few days ago, but the other members of their team are yet to reach the summit. Did not start the journey.
The Karakoram Club, a tourism organization in Pakistan, said a group of mountaineers from the Karakoram Expedition in the north were preparing to start a rescue operation to rescue Asif Bhatti.
The organization said they are currently waiting for a helicopter to transfer them to another camp.
Young mountaineer Shahroz Kashif has also volunteered to be a part of the rescue mission and he said, “I request the concerned agencies to either take me to the base camp or to the top camp to speed up the rescue efforts.”
پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی نانگا پربت چوٹی پرخراب موسم کے باعث پھنس گئے ………………اصغر علی مبارک……………….
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے پروفیسر پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی دنیا کی نویں بلند ترین 8 ہزار 126 میٹر بلند نانگا پربت چوٹی سر کرنے کے قریب تھے لیکن خراب موسم کے باعث پھنس گئے ہیں,
رواں برس بڑی تعداد میں کوہ پیما چوٹی سر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اتوار کو 52 کوہ پیماؤں نے نانگا پربت سر کی تھی، جن میں 11 پاکستانی بھی شامل تھے۔
نانگا پربت دنیا کی ان خطرناک ترین 5 چوٹیوں میں سے ایک ہے جہاں جانی نقصان کا خدشہ 21 فیصد ہے، نانگا پربت سر کرنے کی کوشش میں اب تک 85 کوہ پیما جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
اے سی پی کے سیکریٹری جنرل کرار حیدری نے بتایا کہ آصف بھٹی برف کی وجہ سے کم نظر آنے پر کیمپ 4 میں پھنس گئے ہیں جو 7 ہزار 500 سے 8 ہزار میٹر بلندی پر ہے، انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ کئی امدادی تنطیمیں چوٹی کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے چند ارکان نے پیغام بھیجا ہے کہ آصف بھٹی کو برف کی وجہ سے کم نظر آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے ایک ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے لیے انہیں 6 ہزار 500 سے 6 ہزار کی بلندی پر نیچے آنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ آصف بھٹی دیگر کوہ پیماؤں لیفٹننٹ کرنل (ر) ڈاکٹر جبار بھٹی، ڈاکٹر نوید، سعد محمد اور فہیم پاشا کے ساتھ چند روز قبل چوٹی سر کرنے کی مہم شروع کی تھی لیکن ان کی ٹیم کے دیگر ارکان نے تاحال اپنا سفر شروع نہیں کیا۔
پاکستان میں سیاحت کے لیے کام کرنے والی تنظیم قراقرم کلب نے کہا کہ شمال میں قراقرم ایکسپڈیشن سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ تیاری کر رہا ہے کہ آصف بھٹی کو نکالنے کے لیے امدادی کام شروع کریں۔
تنظیم نے کہا کہ وہ اس وقت انہیں دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہیں۔
نوجوان کوہ پیما شہروز کاشف نے بھی امدادی مشن کا حصہ بننے کے لیے رضاکارانہ خدمات پیش کی ہیں اور انہوں نے کہا کہ میں متعلقہ اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے یا تو بیس کیمپ لے جائیں اوپر کیمپ تک لے جائیں تاکہ امدادی کوششوں میں تیزی آئے۔










