پاکستانی ڈینس للی نسیم شاہ کی جارحانہ بالنگ کے باوجود برسبین ٹیسٹ کا دوسرا روز آسٹریلیا کے نام رھا۔
۔۔رپورٹ؛اصغر علی مبارک سے
پاکستانی ڈینس للی نسیم شاہ کی جارحانہ بالنگ کے باوجود برسبین ٹیسٹ کا دوسرا روز آسٹریلوی بلے بازوں کے نام رھا آسٹریلیا نےاوپنرً ڈیوڈ وارنر کی شاندار بیٹنگ کی بدولت پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 312رنز بنا کر میچ پر گرفت مضبوط کر لی ہے۔ڈیوڈ وارنر کی سنچری برسبین ٹیسٹ کے دوسرےدن اھم کارنامہ رہی۔ برسبین ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم میچ کے پہلے دن 240 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی، اسد شفیق 76رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے تھے۔میچ کے دوسرے دن آسٹریلیا نے بیٹنگ شروع کی تو پاکستانی باؤلرز نے اننگز کی ابتدا میں آسٹریلین بلے بازوں کو پاکستانی بالروں نےتھوڑا پریشان کیا تاھم چند اوورز بعد دونوں اوپنرز کے سامنے پاکستانی باؤلرز بالکل بے بس نظر آئے۔نسیم شاہ نے میچ میں توقعات پر پورا اترتے ہوئے برق رفتار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا لیکن وہ بھی میزبان بلے بازوں کو زیادہ پریشان نہ کر سکے۔دونوں بیٹسمینوں نے اپنی اپنی نصف سنچریاں مکمل کر کے ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کردیا اور اس دوران کپتان اظہر علی اور ٹیم مینجمنٹ کے چہرے پر پڑنے والی شکنیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھیں۔پاکستان کو میچ میں امید اس وقت پیدا ھوئی جب ڈینس للی کے ایکشن میں بالنگ کرنے والے کم عمر بالر نسیم شاہ نے 56 کے انفرادی اسکور پر ڈیوڈ وارنر کو تقریبا آوٹ ہی کردیا لیکن 16سالہ فاسٹ باؤلر اس وقت بدقسمت ثابت ہوئے جب تھرڈ امپائر نے اس گیند کو نوبال قرار دے دیا۔
اس کے بعد انتہائی کوشش کے باوجود پاکستانی باؤلرز چائے کے وقفے تک کوئی وکٹ لینے میں ناکام رہے اور آسٹریلین اوپنرز نے نے دو سیشنز میں بغیر کسی نقصان کے 195رنز بنا لیے تھےچائے کے وقفے کے فوراً بعد ڈیوڈ وارنر نے اپنی سنچری اور اوپنرز نے اپنی ڈبل سنچری شراکت مکمل کی۔یہ آسٹریلین اوپنر کی بال ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ایک سالہ پابندی کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی سنچری ہے جہاں وہ ایشز سیریز میں بری طرح ناکام رہے تھے۔پاکستان کو اننگز میں بالآخر پہلی کامیابی اس وقت ملی جب 222 کے مجموعی اسکور پر یاسر شاہ نے جو برنز کی وکٹیں بکھیر دیں جو نروس نائنٹیز کا شکار ہو کر 97رنز پر وکٹ گنوا بیٹھے۔آسٹریلیا نے جلد ہی پاکستان کے پہلی اننگز کے اسکور تک رسائی حاصل کر کے میچ میں برتری حاصل کر لی اور ڈیوڈ وارنر نے بہترین کھیل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اپنے 150رنز مکمل کر لیے۔جب دوسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو آسٹریلیا نے ایک وکٹ کے نقصان پر 312رنز بنائے تھے اور پاکستان کے خلاف 72رنز کی برتری حاصل کر لی ہے۔اوپنر ڈیوڈ وارنر اب تک 10چوکوں کی مدد سے 151 رنز بنا چکے ہیں جبکہ مارنس لبوشین نے 55رنز بنائے ھیں۔ برسبین ٹیسٹ کے دوران بدترین امپائرنگ نے تمام تر ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان میچ کے پہلے ہی دن اس وقت امپائرنگ پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا جب پیٹ کمنز کی گیند پر محمد رضوان کو آؤٹ قرار دیا گیا۔محمد رضوان کیچ آؤٹ ہوئے تھے لیکن جب نوبال چیک کرنے کے لیے تھرڈ امپائر سے رجوع کیا گیا تو کمنز کا پیر طے شدہ حد سے متجاوز تھا لیکن اس کے باوجود امپائر نے پاکستانی بلے باز کو آؤٹ قرار دے دیا۔ابھی اس متنازع فیصلے کی گرد بیٹھی بھی نہ تھی کہ ایک نئے اور کئی زیادہ بڑے تنازع نے دنیائے کرکٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیریز کے آفیشل براڈ کاسٹر اور آسٹریلین نشریاتی ادارے چینل7 نے برسبین ٹیسٹ کے دوسرے دن چائے کے وقفے کے بعد اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ میچ کے دوسرے دن پاکستانی باؤلرز نے دو سیشنز کے دوران 21نوبال کیں لیکن فیلڈ پر موجود دونوں امپائروں نے وہ نوبال کال نہیں کی۔اپنے اس دعوے کو چابت کرنے کے لیے نشریاتی ادارے کے میزبان نے ان 21 نوبال گیندوں کی فوٹیج بھی چلائی جنہیں امپائروں نے نوبال قرار ہی نہیں دیا۔اگر یہ 21نوبال امپائروں نے کال کی ہوتیں تو ناصرف آسٹریلین ٹیم کے ہدف میں 21رنز کا اضافہ ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اضافی 3.3اوورز کرنے پڑتے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دوسرے دن کے اختتام پر 151 رنز پر ناقابل شکست ڈیوڈ وارنر پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے نسیم شاہ کو وکٹ دے بیٹھے تھے لیکن تھرڈ امپائر سے رابطہ کرنے پر پتہ چلا کہ وہ وہ گیند نوبال تھی۔کرکٹ میں امپائرنگ کے گرتے ہوئے معیار میں سب سے بڑا سوالیہ نشان امپائروں کی جانب سے نوبال قرار نہ دیا جانا ہے اور اس معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں بھی بحث کی گئی تھی۔انڈین پریمیئر لیگ کے گزشتہ ایڈیشنز کے دوران بھی یہ مسئلہ تواتر کے ساتھ پیش آنے پر اب 2020 کے ایڈیشن میں نوبال کے لیے ایک اضافی امپائر کے تقرر کی تجویز زیر غور ہے۔


