وزیراعظم عمران خان آج صبح وزارت خارجہ کادورہ کریں گے ، دفترخارجہ نے وزیراعظم اور امریکی سیکریٹری خارجہ کی گفتگو پر امریکی بیان کو حقائق کے منافی قرار دے دیا

.اسلام آباد (پاکستان انٹر نیشنل پریس ایجنسی ”پی پی اے” ، رپورٹ :اصغر علی مبارک سے )وزیراعظم عمران خان آج صبح وزارت خارجہ کادورہ کریں گے، جس میں وزارت خارجہ حکام خارجہ پالیسی پر انھیں ریفنگ دیں گے۔وزارت خارجہ دورہ کے دوران چین،امریکا،روس،یورپی ممالک اور ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کاجائزہ لیاجائے گا،وزیراعظم پاکستان عمران خان اقتدار سنبھالنے کے بعد آج پہلی بار پاکستانی دفتر خارجہ کا دورہ کریں گے اور دفتر خارجہ کے اعلی افسران سے عالمی امور پر بریفنگ لینگے ،واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کے کل ہونے والے اجلاس کاوقت تبدیل کردیا گیا ہے، پہلے یہ اجلاس آج صبح 11 بجے منعقد ہونا تھا.وزیر خزانہ اسد عمر ملک کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دیں گے، نیز منی لانڈرنگ سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔اجلاس میں وزارت کیڈ ختم کرکےکابینہ ڈویژن کےماتحت کرنےکی منظوری دی جائے گی. ساتھ ہی 100روزہ پلان پرفوری عمل درآمد کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا جائے.ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانےکےاقدامات کاجائزہ لیا جائے گا، وزیراعظم کومنی لانڈرنگ سےمتعلق امورپربھی بریفنگ دی جائے گی.
ایک ہفتے کے اندر وفاقی کابینہ کا دوسرا اجلاس میں تمام وزراء کوکابینہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانےکی ہدایت کردی ہے۔ذرا ئع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم قومی معاملات زیرغورآئیں گے اور وزارتوں سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔کابینہ اجلاس اہم قومی امور زر غور ہونگے واضح رہے عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ وفاقی کابینہ کا دوسرا جلاس ہے۔ قبل ازیں 20 اگست کو وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں نواز شریف اور مریم نواز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا،پاکستانی دفترخارجہ نے وزیراعظم عمران خان اورامریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کے بعد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان کو ‘حقائق کے منافی’ قرار دے دیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹرمحمد فیصل نے ٹویٹر میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ ‘گفتگو میں پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی فعالیت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اس کی فوری درستی ہونی چاہیے’۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان ہیتھر نویرٹ نے کہا تھا کہ ‘سیکریٹری پومپیو نے پاکستان میں فعال تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے فیصلہ کن اقدامات کی اہمیت کو اٹھایا اور یہ افغان امن کی کوششوں کے لیے اہم کردار ہے’۔قبل ازیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان کو فون کرکے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابقامریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم کو گفتگو کے دوران پاک-امریکا تعلقات کی مضبوطی کی ضرورت پر زور دیا اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے لیے پاکستان کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔پومپیو نے وزیراعظم کو کامیاب انتخابی مہم اور حکومت بنانے پر مبارک باد دی اور پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے کیے گئے ان کے وعدوں کی تکمیل کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ترجمان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ افغانستان سمیت پورے خطے میں امن کا قیام ضروری ہے۔دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے تناظر میں امن کو دونوں ممالک کے لیے اولین ترجیح پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان اورپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہونے کے بعد مختلف ممالک کی جانب سےمبارک باد موصول ہوئی تھیں جبکہ وزیراعظم بننے کے بعد مختلف ممالک کے سربراہان نے نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو متوقع طور پر اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے اور وزیراعظم سے ملاقات کریں جہاں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوگی۔امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے متوقع دورہ پاکستان میں تعلقات کو مزید بہتر بنانا اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی اقدامات پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔قبل ازیں امریکی حکام نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کو تعاون کرنے پر زور دیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ انتخابات میں عمران خان کی جیت سے متعلق امریکا کے ناخوش ہونے کے تاثر کو مسترد کردتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم پاکستان کے نئے وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ 70 سال سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل رہے ہیں، امریکا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کام کرنے اور پاکستان سمیت خطے بھر میں امن اور ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے‘۔