وزرائے داخلہ کانفرنس اسلام آباد ، چوہدری نثار کے پراثر خطاب کے بعد بھارتی وزیرداخلہ مذاکرات چھوڑ کر بھارت بھا گ گئے

تحریر:اصغر علی مبارک۔urdu colum
وزرائے داخلہ کانفرنس اسلام آباد ، چوہدری نثار کے پراثر خطاب کے بعد بھارتی وزیرداخلہ مذاکرات چھوڑ کر بھارت بھا گ گئے۔ شیردل پاکستانی سیاستدان چوہدری نثار کی للکار سے خونی بھیڑیے کے نام سے مشہور بھارتی سیاستدان کا بھاگنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ پاکستان دنیامیں کشمیریوں کے موقف کی کھل کر حمایت کر رہا ہے
پاکستان کے دبنگ، نڈر، بے بابک اور عوام کے دلوں کی ترجمانی کرنے والے ہر دلعزیز سیاسی رہنما و وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے پراثرخطاب پر پاکستان میں چاروں طرف سے داد تحسین کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو جس انداز میں انہوں نے بین الاقوامی فورم پر اٹھایا ہے ا س سے پاکستان کے موقف کو تقویت ملی ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے جس پر کسی قسم کی سودے بازی کشمیریوں کے خون سے غداری کے مترادف ہو گا۔ راقم ساتھ میں وزرائے داخلہ کانفرنس اسلام آباد کے موقع پر سرینا ہوٹل میں موجودرہا اور چوہدری نثار علی خان کو جاندار خطاب اور دو ٹوک جواب دینے پر سب سے پہلے مبارک باد دینے والا پاکستان میں خود ہی تھا ، سرینا ہوٹل کے شمعدان ہال میں ملکی و غیرملکی صحافیوں کی سب سے بڑی تعداد کافی دیر انتظار کے بعد چائے پینے میں مصروف تھی اس دوران چوہدری نثار علی خان روایتی مسکراہٹ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کیمرے لگے ہوئے ہیں ، صحافی ہال کے پچھلی جانب چائے پینے میں مصروف ہیں، راقم الحروف نے اسٹیج پر جانے سے پہلے چوہدری نثار علی خان سے گرم جوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے گلے لگتے ہوئے مبارک باد پیش کی اور کہا کہ “چوہدری نثار صاحب چھا گئے او” جس پر انہوں نے مسکراہتے ہوئے شکریہ کہااور کہا کہ آپ کو کیا چیز اچھی لگی تو راقم نے جواب دیا کہ آپ نے جس طرح آئنہ بھارتی وزیرداخلہ کو دکھایا ہے یہ وقت کی ضرورت تھی۔ کیونکہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے روایتی مذمتی بیانات کے علاوہ تقریباً ایک ماہ سے جاری بھارتی جارحیت پر کسی بھی پاکستانی حکمران نے کھل کر بات نہیں کی تھی، چوہدری نثار علی خان ہمیشہ سے پاکستان کی عملی سیاست میں ایک نڈر سیاست دا ن کی حیثیت سے اپنا بلند مقام رکھتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کی صبح میں نے جناب وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو بتادیا تھا کہ اگر بھارتی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کے بارے میں کوئی غلط بات کی تو پھر اس کا بھرپور جواب دیاجائے گا ، وزیراعظم نواز شریف اپنی کابینہ میں صرف چوہدری نثار علی خان کی کسی بات پر بحث نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ ایک زیرک سیاستدان کی حیثیت سے وہ ملک و قوم کا کس قدر درد رکھتے ہیں ، وزیراعظم نواز شریف جو سرجری کے عمل سے گزر کر چند روز پہلے دوبارہ ایکٹو ہوئے ہیں لیکن چوہدری نثارعلی خان نے ایک کام یہ بھی کیا کہ انہوں نے جناب وزیراعظم پاکستان کو فکر نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ دنیا جیسا برتاؤ کرے گی ویسا ہی جواب دیں گے کی پالیسی پر عمل کریں گے اور پھردنیا نے دیکھا کہ راج ناتھ سنگھ پاکستانکے دبنگ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے بھرپور ٹھوس دلائل کے سامنے بے بس ہوکر رہ گئے اور سارک کانفرنس ادھوری چھوڑ کر بھاگ نکلنے میں عافیت سمجھی۔ اس تاریخی موقع پر راقم الحروف دیگر دوستوں کے ہمراہ ہال سے باہر ہونے پر بیٹھا یہ نظارہ بھی کرتارہا کہ بھارتی وزیرداخلہ سارک اجلاس کے پہلے سیشن میں چوہدری نثار علی خان کے کاری وار نہ سہہ سکے اور انہیں کم از کم9بار باتھ روم جاناپڑا اور ایک بار تو وہ کمرے میں گئے اور دھوتی تبدیل کرکے آئے جو شائد چوہدری نثار علی خان کے خطاب کے بعد گیلی ہو گئی تھی، سارک کانفرنس کے چارٹر کے تحت طے تو یہ تھا کہ آپس کے اختلافات کو نہیں چھیڑا جائے گا لیکن راج ناتھ سنگھ نے بھڑوں کے چھتے میں جب ہاتھ ڈالا تو انہیں بھاگنے کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دیا ، قارئین محترم ! چوہدری نثار علی خان کی طرف سے یہ جوابی وار ہی تھا جس میں راج ناتھ کو سارک کانفرنس چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور اس سے پاکستان کے کشمیریوں کے بارے میں موقف کی فتح ملی ، کانفرنس کے دوران راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کے خلاف زیر پلا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے اس بار بنگلہ دیش اور افغانستان کو اپنا ہمنوابنانے کی ناکام کوشش کی اور کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے ، دہشت گردوں کو شہید قرار دیاجارہا ہے وغیرہ وغیرہ جس پر جواب دینے کے لئے سیکرٹری داخلہ کے بجائے چوہدری نثارعلی خان نے خود آستین چڑھا کر چیئرمین سارک کے عہدے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وفد کو مخاطب کرتے ہوئے گرج دار آواز میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظالمانہ تشدد دہشت گردی ہے جمہوریت کا چیمپئن کہلانے والے ملک کو جدوجہد آزاد ی اور دہشت گردی میں فرق کرناہوگا پاکستان کے اندر مداخلت کی جاری ہے بلوچستان کراچی میں بدامنی کی وجہ بھارت کی پاکستان دشمن کاروائیوں میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ دار دندناتے پھررہے ہیں۔ اے پی ایس ، لاہور کراچی کے حساس مقامات پر حملوں میں بھارتی دراندازی کے ثبوت پہلے ہیں، الزامات کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا ، تاہم مذاکرات غیر مشروط ہوں گے تو پاکستان حصہ لے گا۔بھارتی ہم منصب راجہ ناتھ سنگھ کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے دبنگ وزیر کا کہناتھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہئے ، دہشت گرد قرار دے کرآزاد ی کی تحریک کو دبایاجارہا ہے ،ان کا حق آزادی تسلیم کرناچاہیے ، راج ناتھ سنگھ کا پاکستان کے خلاف الزامات سے بھرپور تقریر کا جواب دیتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ چھ عشروں سے بھارت الزامات کی آڑ میں کشمیریوں کی آواز دبانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ الزام برائے الزام کی بجائے بامقصد مذاکرات کئے جائیں، پاکستان میں دہشت گردی سرحد پار سے ہو رہی ہے جس کا ثبوت پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر مہیا کر دیے ہیں، پٹھان کوٹ، کابل، ممبئی ، ڈھاکہ دھماکوں کی طرح پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوچکے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانی پاکستان نے دی ہے اتنا کوئی اور دعویٰ نہیں کرسکتا، پاکستان تمام مسائل پر غیرمشروط مذاکرات کا حامی اور ساتھ ہی تمام معاہدوں کی حمایت کرتاہے، پاکستان نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر بھارتی افواج کا وحشیانہ تشدد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ، دنیا کا کوئی ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دہشت گردی کا الزام لگاکر نہتے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کی جائے ، ان کو شہید کیا جائے ، پاکستان عزت ووقار کے ساتھ اب بھی مذاکرات کے لئے تیار ہے تاہم دنیا جس طرح کا برتاؤ کرے گی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کیا جائے گا، ابھی وزیر داخلہ کی تقریر جاری تھی کہ بھارتی وزیرداخلہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے پہلے تو دس منٹ تک باتھ روم بیٹھے رہے پھردھوتی تبدیل کرنے اپنے کمرے میں چلے گئے اور مذاکرات کے دوسرے حصے میں آنے کی بجائے اپنا بوری بسترہ اٹھایا اور وقت سے پہلے ہی بھارت جانے کے لئے ایئرپورٹ چلے گئے اور وہاں کافی دیر تک بیٹھے چوہدری نثار کی تقریر کا سوچتے رہے کہ مودی سرکار کو بھار ت جا کر کیا جواب دیں گے۔ حالانکہ اس کے فوراً بعد کھانے کا وقفہ ہوگیا ، اس دوران راج ناتھ سنگھ نے ایک پیغام رساں کے ذریعے چوہدری نثار وزیرداخلہ پاکستان کو یہ پیغام پہنچایا کہ اگر وہ لنچ پر آتے ہیں تو میں بھی ملاقات کے لئے آجاتا ہوں جس پر چوہدری نثارعلی خان نے دو ٹوک الفاظ میں جواب بھجوایا کہ میں کسی ایسے شخص سے ہرگز نہیں ملوں گا جس کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوں سے رنگے ہوئے ہیں چوہدری نثار علی خان کو دنیا بھر سے بہترین انداز میں کشمیریوں کی وکالت کرنے پر تہنیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جس میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار علی خان لائق تحسین ہیں جنہوں نے راج ناتھ کو اپنی جاندار تقریر سے کانفرنس چھوڑنے پر اور دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا اور یہ پاکستان کے موقف کی ایک اخلاقی و سفارتی فتح ہے، چوہدری نثار نے حقیقت سے پردہ اٹھاکر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا، ا س ٹھوس موقف پر وادی کشمیرمیں کشمیروں میں خوشی کی لہردوڑگئی اور ان کے جذبہ حریت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جمعہ کے روز کشمیریوں نے پاکستانی پرچم اٹھاکر چوہدری نثار علی خان اور پاکستان کے حق میں زبردست نعرہ بازی کی ، دوسری جانب راجہ ناتھ نے جاتے ہی وزیراعظم مودی سے ملاقات کی اوردورہ پاکستان کے حوالے سے چوہدری نثار علی خان کی جوابی تقریر ی پر خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیان دیا، راج ناتھ کی روایتی الزام تراشی والی تقریر پر قرارہ جواب ملنے پر چوہدری نثار علی خان کو ہر پاکستانی خراج تحسین پیش کر رہا ہے، کسی لگی لپٹی کے بغیر پاکستان کا ٹھوس موقف جس جاندار انداز میں بیان کیا وہ ہر پاکستانی اور مقبوضہ کشمیر کے کشمیری کے دل کی آواز اور امنگوں کی ترجمان بھی ہے جس پر بھارتی میڈیا کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، میڈیا کی بات ہو رہی ہے تو قارئین کو یہ بتاتے چلیں کہ راج ناتھ سنگھ پاکستان کی راجگانی اسلام آباد میں راء کے ایجنٹوں کو پاکستان میں میڈیا کے روپ میں لائے لیکن وزیرداخلہ پاکستان نے موسم برسات میں ہونے والی ان بن بلائے مہمانوں کی سارک کانفرنس میں انٹری بین کر دی اور کہا کہ پاکستان میں آنے سے قبل انہوں نے کوئی اجازت نہ لی لہٰذا کسی میڈیا نمائندے کو اجلا س میں شرکت نہ دی جائے گی ، یہ سفارتی آداب کے بھی خلاف تھا کہ پیشگی اجازت لئے بغیر بھارتی میڈیا کی فوج ظفر موج کو سرینا ہوٹل میں اتار دیا گیا ، چوہدری نثار علی خان کو واپسی پر الوداع کہتے ہوئے جب اس حوالے سے سوال کئے گئے تو انہو ں نے کہا کہ بھارت میں ہمارے میڈیا کی عزت نہیں کی جاتی ہم بھی بھارتی میڈیا کے ساتھ ایسا برتاؤ کریں گے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی میڈیا ذمہ دار ہے جس کو اب دنیا کو یہ دکھاناہوگا کہ بھارت کا اصل چہرہ کیا ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر چوہدری نثار علی خان نے ٹھوس موقف سے پاکستان کا مقدمہ لڑا ہے اور اگر پاکستان کا ہر سیاست دان اس روش کو اپنا لے تو دنیا بھرمیں پاکستان کو سفارتی ، سیاسی اور اخلاقی محاظ پر کامیابیاں ملتی رہیں گے، سفارتکاروں کی درجنوں کی تعداد وہ کام نہیں کرسکی جو تن تنہا اس بار سارک کانفرنس میں چوہدری نثار نے کردکھایا ہے اور پاکستان دفتر خارجہ کو ایک سمت کا تعین بھی دیا ہے کہ خود مختار ریاستیں اور خوددار قومیں کس طر ح رہتی ہیں ، پاکستانی فوج کے کردار ضرب عضب، پاکستان کی قربانیوں کا تذکرہ کر کے انہوں نے شہداء ، غازیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔ ویل ڈن چوہدری نثار علی خان ہمیں آپ سے ایسی ہی امید تھی اللہ آ پ کا حامی و ناصر ہو، پاکستانی شیردل سیاستدان چوہدری نثار کی للکار سے خونی بھیڑیے کے نام سے مشہور بھارتی سیاستدان کا بھاگنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ پاکستان دنیامیں کشمیریوں کے موقف کی کھل کر حمایت کر رہا ہے اور ان کی اخلاقی، سیاسی، ثقافتی حمایت سے کبھی پیچھے نہ ہٹے گا اور انشاء اللہ جلد قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیرہو کر مقبوضہ کشمیر آزاد ہو کرپاکستان کا حصہ بنے گا۔ ویل ڈن چوہدر ی نثار علی خان ، پاکستان زندہ باد، افواج پاکستان پائندہ باد۔

urdu colum