ملک بھر میں چہلمِ شہدائے کربلا ,حضرت امام حسین علیہ السلام کے ماتمی جلوس ,علم و ذوالجناح….

نواسہِ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفا شعار رفقاء کی عظیم قربانیوں کی یاد میں آج ملک بھر میں چہلمِ شہدائے کربلا انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں نوحہ خوانی اور ماتمی جلوس نکالے جا رہے ہیں جن کی حفاظت کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انتہائی سخت اور فول پروف سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔
راولپنڈی میں چہلم کے پیش نظر آج مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ جلوس کے راستوں میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔راولپنڈی کے ضلعی انتظامیہ کے حکام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”شہر میں مقامی تعطیل کے باوجود بورڈ اور یونیورسٹی کے قبل از وقت طے شدہ امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہو رہے ہیں تاکہ طلبا کا وقت ضائع نہ ہو“۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چہلم کا مرکزی جلوس اندرون دہلی گیٹ میں واقع تاریخی حویلی الف شاہ سے برآمد ہو رہا ہے جو اپنے قدیم راستوں سے گزرتا ہوا اختتام پذیر ہوگا۔
صوبہ بلوچستان اور سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی انتظامیہ کی جانب سے سخت تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ کوئٹہ میں شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر املاک اور شہریوں کی حفاظت کے لیے موبائل فون سروس کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جبکہ اندرونِ سندھ کے متعدد شہروں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔سیکیورٹی اداروں کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد عزاداری کے ان اجتماعات کو پرامن ماحول میں مکمل کروانا ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری راستوں پر تعینات ہے۔ملک کے معاشی مرکز کراچی میں چہلم کا مرکزی جلوس روایتی انداز میں نشتر پارک سے برآمد ہوگا جو اپنے طے شدہ مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوگا۔
کراچی میں سیکیورٹی کے پیش نظر ایم اے جناح روڈ کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں۔کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق، ”مرکزی جلوس کے راستوں اور اطراف کی گلیوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ عزادارانِ حسین کے لیے سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے“۔
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چہلم سید الشہداء امام حسین اور ان کے بہتُ٘ر جانثاروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مرکزی جلوس امام بارگاہ جی سکس ٹو سے برآمد ہوا، جلوس میں دیگر مقدسات و تبرکات کے علاوہ شبیہہ ذوالجناح، شبیہ علم غازی عباس، گہوارہ شہزادہ علی اصغر، تابوت مبارک بھی شامل تھے، ہزاروں عزاداروں نے جلوس میں شریک ہو کر ماتم و پرسہ داری میں حصہ لیا۔ اس موقع پر سیکریٹری جنرل تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ راجہ بشارت حسین امامی ، علمائے کرام، اور عمایدین بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ بشارت حسین امامی نے اربعین حسینی کی قدر ومنزلت اور بزرگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ چہلم امام حسین اس عظیم یادگار کی زندہ مثال اور زریں باب عشق ہے جسے حضرت علی ابن الحسین اور حضرت زینب بنت علی علیہ سلام نے کمال استقامت و صبر اور رضائے الہی سے رقم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرچم حسینیت و حقانیت نواسہ رسول کو اجاگر کرنا حضرت زینب اورحضرت زین العابدین کی تبلیغ کا معجزہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزائے حسین پر کسی قسم کی پابندی قبول نہیں کریں گے،۔ انہوں نے کہا پنجاب کی انتظامیہ ہے ایک جانب سہولیات کا اعلان کرتی ہے اور دوسری جانب گھروں میں بھی عزائے حسین کے انعقاد پر پابندی ہے، انہوں نے کہا کہ عزاداری ہر صورت جاری رہے گی۔ علامہ امامی نے اس موقع پر ملک وقوم کی سلامتی ایلیان وطن کی حفاظت، امن کے قیام امن عساکر پاکستان کی کامیابی کے لیے بھی خصوصی دعائیں کیں۔ جلوس شبیہ علم و ذوالجناح مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس امام بارگاہ جی سکس ٹو میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر مختار فورس کے والنٹیرز نے حفاظتی انتظامات جبکہ ابراہیم اسکاوٹس نے خدمت خلق میں ڈیوٹی سرانجام دیں۔ علاوہ ازیں ون ٹو چوک میں مختار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اسلام آباد کے زیر اہتمام مرکزی عزاداری کیمپ لگایا گیا جہاں عزاداروں کے لیے سبیل حسینی اور نیاز وتبرک کا اہتمام کیا گیا تھا,









